حدیث

جب آدمی یہ کہتا ہے کہ لوگ ہلاک ہوگیے تو سمجھ لو کہ وہ ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إذا قال الرَّجُل: هَلَكَ الناس، فهو أَهْلَكُهُم».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب آدمی یہ کہتا ہے کہ لوگ ہلاک ہوگیے تو سمجھ لو کہ وہ ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے“۔

تشریح

”جب آدمی یہ کہتا ہے کہ لوگ ہلاک ہو گئے“ اس سے اس کی مراد لوگوں کی تنقیص و تحقیر کرنا اور اپنی برتری جتانا اور اپنے آپ کو ان سے بالاتر سمجھنا ہو تو وہ خود ان سے زیادہ تباہ و برباد ہو گیا۔ یہ معنی اس صورت میں ہے جب أهلكُهم میں کاف کو پیش کے ساتھ پڑھا جائے۔اور اگر نصب کےساتھ أهلكَهم پڑھا جائے تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ :یہ لوگوں کی ہلاکت کا سبب بن گیا اور وہ اس طرح کہ اس نے لوگوں کو اللہ کی رحمت سے ناامید اور مایوس کر دیا اور ان کو توبہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے سے روک دیا اور جن کاموں پر وہ لگے ہوئے ہیں ناامیدی کی وجہ سے وہ اسی پر گامزن رہے یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو گیے۔

تشریح: العربية

إذا قال الرجل: هَلك الناس، يريد بذلك إنقاصهم وتحقيرهم والترفع عليهم، لما يَرى من نفسه فضلا عليهم، فقد صار بذلك أعظمهم هلاكًا، وهذا على رواية الرفع :"أهلكُهم"، وأما على رواية النصب: "أهلكَهم" فمعناه: كان سببًا في هلاكهم حيث قَنَّطهم وأيأسهم من رحمة الله تعالى ، وصَدَّهم عن الرجوع إليه بالتوبة، ودفعهم إلى الاستمرار فيما هم عليه من القنوط، حتى هلكوا.

  • النهي عن الإعِجاب بالنفس، واحتقار الآخرين، وعدم الأَمْن من مكر الله -تعالى-.
  • من فعل ذلك فهو أسوأ منهم بما يلحقه من الإثم في انتقاصهم، والوقيعة بهم.
  • المسلم يقوم بواجب الدعوة إلى الله -تعالى- عندما يرى فساد الناس.
  • ذِكر عيوب الناس سبب في إشاعة الفاحشة التي تأتي بالهلاك والدمار.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید