حدیث

برتنوں کو ڈھانک دیا کرو، مشکیزے کا منہ بند کر دیا کرو، دروازوں کو بھڑا دیا کرو اور چراغ کو بجھا دیا کرو۔ کیوںکہ شیطان نہ تو مشکیزے کی گرہ کھولتا ہے، نہ بند دروازے کو کھولتا ہے اور نہ ہی برتن کو کھولتا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن جابر رضي الله عنه مرفوعًا: «غَطُّوا الإِناء، وأَوْكِئُوا السِّقَاءَ، وأَغْلِقُوا الأبوابَ، وأَطْفِئُوا السِّرَاجَ؛ فإن الشيطان لا يَحُلُّ سِقَاءً، ولا يَفْتَحُ بَابًا، ولا يَكْشِفُ إِناءً، فإن لم يجد أحدكم إلا أن يَعْرُضَ على إِنَائِهِ عُودًا، ويذكر اسم الله، فَلْيَفْعَلْ؛ فإن الفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ على أهل البيت بَيْتَهُم».

ترجمہ

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”برتنوں کو ڈھانک دیا کرو، مشکیزے کا منہ بند کر دیا کرو، دروازوں کو بھڑا دیا کرو اور چراغ کو بجھا دیا کرو۔ کیوںکہ شیطان نہ تو مشکیزے کی گرہ کھولتا ہے، نہ بند دروازے کو کھولتا ہے اور نہ ہی برتن کو کھولتا ہے۔ اگر تم میں سے کسی شخص کو کچھ نہ ملے، سوائے اس کے کہ وہ اپنے برتن پر چوڑائی کے رخ ایک لکڑی ہی رکھ دے اور اللہ کا نام لے لے، تو وہ ایسا ہی کر لے۔ اس لیے کہ چوہا اہل خانہ کا گھر جلا دیتا ہے“۔

تشریح

نبی ﷺ نے برتن کو حشرات اور موذی جانوروں سے بچانے کے لیے ڈھانکنے کا حکم دیا؛ اس لیے بھی کہ ہو سکتا ہے کوئی وبا اس میں نازل ہو جائے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے مشکیزوں کو باندھ دینے اور دروازوں کو بند کر دینے کا حکم دیا؛ کیوںکہ ایسا کرنے میں دینی اور دنیاوی مصالح ہیں اور بے ہودہ کار اور فساد انگیز لوگوں سے جان و مال کا تحفظ ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے راہ نمائی فرمائی کہ چراغوں کو بجھا دیا جائے، کیوںکہ اس سے گھر اور اہل خانہ محفوظ رہتے ہیں؛ کیوںکہ اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں جلنے کا نقصان نہ ہو جائے۔ حدیث رات کو سونے کے وقت پر محمول ہے۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ شیطان بند مشکیزے اور دروازے نہیں کھولتا اور نہ ہی بند برتنوں کو کھولتا ہے۔ اگر برتن کو کسی شے سے مکمل طور پر ڈھانکنا ممکن نہ ہو، بایں طور کہ اس میں موجود شے بالکل بھی دکھائی نہ دے اور نہ ہی اسے جزوی طور پر ڈھانکا جا سکتا ہو، تو پھر بھی وہ شخص اسے کھلا نہ رہنے دے، بلکہ اس پر چوڑائی کے رخ ایک لکڑی رکھ دے اور برتن کو ڈھانکتے ہوئے، مشکیزوں کو باندھتے ہوئے اور دروازوں کو بند کرتے وقت ان پر اللہ تعالی کا نام لے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ چراغ اور اس طرح کی دیگر آتشی اشیا کو اگر ان کے حال پر رہنے دیا جائے اور سونے سے پہلے انھیں بجھایا نہ جائے، تو عموما چوہے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں اور اس وجہ سے بسا اوقات سوتے ہوئے اہل خانہ جل جاتے ہیں۔

تشریح: العربية

أمر النبي صلى الله عليه وسلم بتغطية الإناء؛ صونًا له من الحشرات، وسائر المؤذيات ولما قد ينزل فيه من الوباء، وأن تغلق الأسقية، وأن تغلق الأبواب لما في ذلك من المصالح الدينية والدنيوية، وحراسة الأنفس والأموال، من أهل العبث والفساد. وأرشد إلى أن تطفأ السرج لما في ذلك من حفظ البيت وأهله لما قد يخشى عليهم من ضرر الاحتراق. والحديث محمول على وقت النوم ليلا، وأخبر أن الشيطان لا يفتح سِقاء مغلقا، ولا بابا ولا يَكشف عن الأواني المغلقة. فإذا لم يمكن تغطية الإناء بما يستوعبه بحيث لا يظهر ما بداخله أو بعضه فلا يدعه مشكوفا، بل يجعل عليه عودا عرضًا، ويسمي الله تعالى عند تغطية الإناء، وإيكاء الأسقية، وإغلاق الأبواب، وذكر أن السِّراج وغيره من المواد المشتعلة إذا تركت على حالها ولم تطفأ قبل النوم؛ فإن الغالب على الفويسقة العَبَث به؛ وقد يكون ذلك سببا لإحراق أهل البيت وقت نومهم.

  • تغطية أوعية الطعام، وسد أفواه أوعية الماء، وتغطيتها أيضاً؛ وذلك صونًا لها من الحشرات والأوساخ، وكل ما يؤذي ويستقذر.
  • يجزئ تغطية بعض الإناء، إذا لم يمكن تغطيته كله.
  • إغلاق أبواب البيوت والغرف؛ احتياطا من الفُسَّاق واللصوص والشياطين، وكل خطر يتوقع.
  • الشيطان يعبث بشؤون الناس حين غفلتهم، ويغري هوام الأرض بالإيذاء؛ لذا يجب الأخذ بالحيطة والحذر من كل شرٍّ متوقع.
  • أن ذكر الله -تعالى- يمنع الشيطان من العَبَث.
  • استحباب التسمية عند وضع الأشياء واستعمالها.
  • نُصح النبي -صلى الله عليه وسلم- لأمته.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید