حدیث

رسول الله آ اپنی اونٹنی پر نفل نماز سر کے اشاروں سے پڑھتے تھے، چاہے اس کا رخ جس جانب بھی ہوتا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يُسَبِّحُ على ظَهرِ رَاحِلَتِه حَيثُ كان وَجهُهُ، يُومِئُ بِرَأسِهِ، وكَان ابنُ عُمرَ يَفعَلُهُ». وفي رواية: «كان يُوتِرُ على بَعِيرِه». ولمسلم: «غَيرَ أنَّه لا يُصَلِّي عَليهَا المَكتُوبَة». وللبخاري: «إلا الفَرَائِض».

ترجمہ

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: ”رسول الله ﷺ اپنی اونٹنی پر نفل نماز سر کے اشاروں سے پڑھتے تھے، چاہے اس کا رخ جس جانب بھی ہوتا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: آپ ﷺ اپنے اونٹ پر ہی وتر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے: ”تاہم آپ ﷺ فرض نماز سواری پر نہیں پڑھا کرتے تھے“۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے: ”سواے فرائض کے“۔

تشریح

نبی ﷺ صرف نفل نماز اپنی سواری پر پڑھا کرتے تھے، چاہے وہ آپ ﷺ کوجس جانب بھی لے جا رہی ہوتی اور اگرچہ وہ قبلہ رخ نہ بھی ہوتی۔ اپنے سر کے اشارے سے رکوع و سجدہ کرلیتے۔ رکوع، سجدہ اور قبلہ رو ہونے کے لیے اپنی سواری سے نیچے کا تکلف نہیں فرماتے تھے۔ چاہے نماز مطلق نفل ہوتی، سنت موکدہ ہوتی یا پھر کسی سبب کی وجہ سے پڑھی جانے والی کوئ نماز ہوتی۔ البتہ فرض نمازوں میں آپ ﷺ ایسا نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ وتر بھی اپنے اونٹ پر ہی ادا کر لیا کرتے تھے۔

تشریح: العربية

كان صلى الله عليه وسلم يصلي النافلة فقط على ظهر راحلته حيث توجَّهت به، ولو لم تكن تجاه القبلة، ويومئ برأسه إشارة إلى الركوع والسجود، ولا يتكلف النزول إلى الأرض؛ ليركع ويسجد ويستقبل القبلة، ولا فرق بين أن تكون نفلا مطلقا، أو من الرواتب أو من الصلوات ذوات الأسباب، ولم يكن يفعل ذلك في صلوات الفريضة، وكذلك كان يوتر على بعيره.

  • جواز صلاة النافلة في السفر على الراحلة، وفعل ابن عمر -رضي الله عنهما- لذلك أقوى من مجرد الرواية.
  • عدم جواز أداء الفريضة، وهي الصلوات الخمس، على الراحلة بلا ضرورة، قال العلماء: لئلا يفوته الاستقبال، فإنه يفوته ذلك وهو راكب، أما عند الضرورة من خوف أو سيل؛ فيصح، كما صحت به الأحاديث.
  • جهة الطريق هي البدل عن القبلة، فلا ينحرف عنها لغير حاجة المسير.
  • أنَّ الإيماء هنا، يقوم مقام الركوع والسجود.
  • الوتر ليس بواجب، حيث صلاه -صلى الله عليه وسلم- على الراحلة.
  • أنَّه كلما احتِيجَ إلى شيء دخله التيسير والتسهيل، وهذا من بعض ألطاف الله -تعالى- المتوالية على عباده.
  • سماحة هذه الشريعة، وترغيب العباد في الازدياد من الطاعات، بتسهيل سبلها، ولله الحمد والمنة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید