الفرقان

فرقان

77 آیاتمکیپارہ 18

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 19

    فَقَدْ كَذَّبُوكُم بِمَا تَقُولُونَ فَمَا تَسْتَطِيعُونَ صَرْفًا وَلَا نَصْرًا ۚ وَمَن يَظْلِم مِّنكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِيرًا

    تو انہوں نے تو تمہیں تمہاری تمام باتوں میں جھٹلایا، اب نہ تو تم میں عذابوں کے پھیرنے کی طاقت ہے، نہ مدد کرنے کی[1] ، تم میں سے جس جس نے ﻇلم کیا ہے[2] ہم اسے بڑا عذاب چکھائیں گے.

    حواشی

    [1] یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے جو مشرکین سے مخاطب ہو کر اللہ تعالیٰ کہے گا کہ تم جن کو اپنا معبود گمان کرتے تھے، انہوں نے تو تمہیں تمہاری باتوں میں جھوٹا قرار دے دیا ہے اور تم نے دیکھ لیا ہے کہ انہوں نے تم سے براءت کا اعلان کردیا ہے۔ گویا جن کو تم اپنا مددگار سمجھتے تھے، وہ مددگار ثابت نہیں ہوئے۔ اب کیا تمہارے اندر یہ طاقت ہے کہ تم میرے عذاب کو اپنے سے پھیر سکو اور اپنی مدد کرسکو؟ [2] ظلم سے مراد وہی شرک ہے، جیسا کہ سیاق سے بھی واضح ہے اور قرآن میں دوسرے مقام پر شرک کو ظلم عظیم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» (لقمان: 13)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 19 کی تفسیر

    [19] پس جب ان مشرکین کے معبود ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے تو اللہ تعالیٰ معاندین حق کی زجروتوبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ فَقَدْ كَذَّبُوْؔكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ﴾ ’’انھوں نے تو تمھیں تمھاری باتوں میں جھٹلا دیا۔‘‘ یعنی وہ اس بات کا انکار کریں گے کہ انھوں نے تمھیں اپنی عبادت کا حکم دیا تھا یا تمھارے اس شرک پر راضی تھے یا یہ کہ وہ تمھارے رب کے پاس تمھاری سفارش کریں گے۔ وہ تمھارے اس زعم باطل کی تکذیب کریں گے اور وہ تمھارے سب سے بڑے دشمن بن جائیں گے۔ پس تم پر عذاب واجب ہو جائے گا۔ ﴿ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ۠ صَرْفًا ﴾ ’’پس نہیں طاقت رکھو گے تم اس کو پھیرنے کی۔‘‘ یعنی تم بالفعل اپنے سے اس عذاب کو ہٹا سکو گے نہ فدیہ وغیرہ کے ذریعے اس کو دور کر سکو گے﴿ وَّلَا نَصْرًا﴾ ’’اور نہ مدد کرنے کی۔‘‘ یعنی تم اپنے عجز اور کسی حامی و ناصر کے نہ ہونے کی وجہ سے، اپنی مدد نہ کر سکو گے۔ یہ گمراہ اور جاہل مقلدین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور یہ، جیسا کہ آپ نے دیکھا، ان کے حق میں انتہائی برا فیصلہ اور ان کا بدترین ٹھکانا ہے۔ رہا ان میں سے حق کے ساتھ عناد رکھنے والا شخص، جس نے حق کو پہچان کر اس سے منہ موڑ لیا تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنْ یَّظْلِمْ مِّؔنْكُمْ ﴾ یعنی تم میں سے جو کوئی ظلم اور عناد کی بنا پر حق کو چھوڑ دیتا ہے تو ﴿ نُذِقْهُ عَذَابً٘ا كَبِیْرًا ﴾ ہم اس کو اتنے بڑے عذاب کا مزا چکھائیں گے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 19 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتشعراءالشعراء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید