الشعراء

شعراء

227 آیاتمکیپارہ 19

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)

تفسیر سورۂ شعراء

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 1

    طسٓمٓ

    طٰسم.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 1 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  2. 2

    تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱلْكِتَـٰبِ ٱلْمُبِينِ

    یہ آیتیں روشن کتاب کی ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 2 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  3. 3

    لَعَلَّكَ بَـٰخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا۟ مُؤْمِنِينَ

    ان کے ایمان نہ ﻻنے پر شاید آپ تو اپنی جان کھودیں گے.[1]

    حواشی

    [1] نبی (صلى الله عليه وسلم) کو انسانیت سے جو ہمدردی اور ان کی ہدایت کے لیے جو تڑپ تھی ، اس میں اس کااظہار ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 3 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  4. 4

    إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ءَايَةً فَظَلَّتْ أَعْنَـٰقُهُمْ لَهَا خَـٰضِعِينَ

    اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں خم ہو جاتیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی جسے مانے اور جس پر ایمان لائے بغیر چارہ نہ ہوتا۔ لیکن اس طرح جبر کا پہلو شامل ہو جاتا، جب کہ ہم نے انسان کو ارادہ واختیار کی آزادی دی ہے تاکہ اس کی آزمائش کی جائے۔ اس لیے ہم نے ایسی نشانی بھی اتارنے سے گریز کیا، جس سے ہمارا یہ قانون متاثر ہو۔ اور صرف انبیا ورسل بھیجنے اور کتابیں نازل کرنے پر ہی اکتفا کیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  5. 5

    وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّنَ ٱلرَّحْمَـٰنِ مُحْدَثٍ إِلَّا كَانُوا۟ عَنْهُ مُعْرِضِينَ

    اور ان کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آئی یہ اس سے روگردانی کرنے والے بن گئے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 5 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  6. 6

    فَقَدْ كَذَّبُوا۟ فَسَيَأْتِيهِمْ أَنۢبَـٰٓؤُا۟ مَا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

    ان لوگوں نے جھٹلایا ہے اب ان کے پاس جلدی سے اس کی خبریں آجائیں گی جس کے ساتھ وه مسخرا پن کر رہے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی تکذیب کے نتیجے میں ہمارا عذاب عنقریب انہیں اپنی گرفت میں لے لے گا، جسے وہ ناممکن سمجھ کر استہزا ومذاق کرتے ہیں۔ یہ عذاب دنیا میں بھی ممکن ہے، جیسا کہ کئی قومیں تباہ ہوئیں، بصورت دیگرآخرت میں تو اس سےکسی صورت چھٹکارا نہیں ہوگا۔ «مَا كَانُوا عَنْهُ مُعْرِضِين» َ نہیں کہا بلکہ «مَا كَانُوا بِه يَسْتَهْزِءُونَ» کہا۔ کیوں کہ استہزا ایک تو اعراض و تکذیب کوبھی مستلزم ہے۔ دوسرے، یہ اعراض و تکذیب سے زیادہ بڑاجرم ہے (فتح القدیر)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 6 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  7. 7

    أَوَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَى ٱلْأَرْضِ كَمْ أَنۢبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ

    کیا انہوں نے زمین پر نظریں نہیں ڈالیں؟ کہ ہم نے اس میں ہر طرح کے نفیس جوڑے کس قدر اگائے ہیں؟[1]

    حواشی

    [1] زَوْجٌ کے دوسرے معنی یہاں صنف اور نوع کے کیے گئے ہیں۔ یعنی ہر قسم کی چیزیں ہم نے پیدا کیں جو کریم ہیں یعنی انسان کےلیے بہتر اور فائدے مند ہیں جس طرح غلہ جات ہیں، پھل میوےہیں اور حیوانات وغیرہ ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 7 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  8. 8

    إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ

    بے شک اس میں یقیناً نشانی ہے[1] اور ان میں کے اکثر لوگ مومن نہیں ہیں.[2]

    حواشی

    [1] یعنی جب اللہ تعالیٰ مردہ زمین سے یہ چیزیں پیدا کرسکتا ہے، تو کیا وہ انسانوں کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا۔ [2] یعنی اس کی یہ عظیم قدرت دیکھنے کے باوجود اکثر لوگ اللہ اور رسول کی تکذیب ہی کرتے ہیں، ایمان نہیں لاتے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 8 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  9. 9

    وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ

    اور تیرا رب یقیناً وہی غالب اور مہربان ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی ہر چیز پر اس کا غلبہ اور انتقام لینے پر وہ ہر طرح قادر ہے لیکن چوں کہ وہ رحیم بھی ہے اس لیے فوراً گرفت نہیں فرماتا بلکہ پوری مہلت دیتا ہے اور اس کے بعد مواخذ ہ کرتا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 9 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  10. 10

    وَإِذْ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱئْتِ ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ

    اور جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی کہ تو ﻇالم قوم کے پاس جا.[1]

    حواشی

    [1] یہ رب کی اس وقت کی ندا ہے جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) مدین سے اپنی اہلیہ کے ہمراہ واپس آرہے تھے، راستے میں انہیں حرارت حاصل کرنے کے لیے آگ کی ضرورت محسوس ہوئی تو آگ کی تلاش میں کوہ طور پہنچ گئے، جہاں ندائے غیبی نے ان کااستقبال کیا اورانہیں نبوت سے سرفراز کردیاگیا اور ظالموں کواللہ کاپیغام پہنچانے کا فریضہ ان کو سونپ دیاگیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 10 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  11. 11

    قَوْمَ فِرْعَوْنَ ۚ أَلَا يَتَّقُونَ

    قوم فرعون کے پاس، کیا وه پرہیزگاری نہ کریں گے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 11 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  12. 12

    قَالَ رَبِّ إِنِّىٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ

    موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میرے پروردگار! مجھے تو خوف ہے کہ کہیں وه مجھے جھٹلا (نہ) دیں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 12 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  13. 13

    وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِى فَأَرْسِلْ إِلَىٰ هَـٰرُونَ

    اور میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے[1] میری زبان چل نہیں رہی[2] پس تو ہارون کی طرف بھی وحی بھیج.[3]

    حواشی

    [1] اس خوف سے کہ وہ نہایت سرکش ہے، میری تکذیب کرے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ طبعی خوف انبیا کو بھی لاحق ہوسکتا ہے۔ [2] یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) زیادہ فصیح اللسان نہیں تھے۔ یا اس طرف کہ زبان پر انگارہ رکھنے کی وجہ سے لکنت پیدا ہوگئی تھی، جسے اہل تفسیر بیان کرتےہیں۔ [3] یعنی ان کی طرف جبرائیل (عليه السلام) کو وحی دے کر بھیج اور انہیں بھی وحی و نبوت سے سرفراز فرما کر میرا معاون بنا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 13 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  14. 14

    وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنۢبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ

    اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا (دعویٰ) بھی ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں وه مجھے مار نہ ڈالیں.[1]

    حواشی

    [1] یہ اشارہ ہے اس قتل کی طرف، جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) سے غیر ارادی طور پر ہوگیا تھا اور مقتول قبطی یعنی فرعون کی قوم سے تھا، اس لیے فرعون اس کےبدلے میں حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو قتل کرنا چاہتا تھا، جس کی اطلاع پاکر حضرت موسیٰ (عليه السلام) مصر سے مدین چلے گئے تھے۔ اس واقعے پر اگرچہ کئی سال گزر چکے تھے، مگر فرعون کے پاس جانے میں واقعی یہ امکان موجود تھا کہ فرعون ان کو اس جرم میں پکڑ کر قتل کی سزا دینےکی کوشش کرے۔ اس لیے یہ خوف بھی بلا جواز نہیں تھا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 14 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  15. 15

    قَالَ كَلَّا ۖ فَٱذْهَبَا بِـَٔايَـٰتِنَآ ۖ إِنَّا مَعَكُم مُّسْتَمِعُونَ

    جناب باری نے فرمایا! ہرگز ایسا نہ ہوگا، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ[1] ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں.[2]

    حواشی

    [1] اللہ تعالیٰ نےتسلی دی کہ تم دونوں جاؤ، میرا پیغام اس کو پہنچاؤ، تمہیں جو اندیشے لاحق ہیں ان سے ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔ آیات سے مراد وہ دلائل و براہین ہیں جن سے ہر پیغمبر کو آگاہ کیا جاتا ہے یا وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو دیئے گئے تھے، جیسے یدبیضا اور عصا۔ [2] یعنی تم جو کچھ کہو گے اور اس کے جواب میں وہ جو کچھ کہے گا، ہم سن رہے ہوں گے۔ اس لیے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم تمہیں فریضۂ رسالت سونپ کر تمہاری حفاظت سے بے پرواہ نہیں ہو جائیں گے۔ بلکہ ہماری مدد تمہارے ساتھ ہے۔ معیت کامطلب مصاحبت نہیں، بلکہ نصرت و معاونت ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 15 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  16. 16

    فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولُ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

    تم دونوں فرعون کے پاس جاکر کہو کہ بلاشبہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 16 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  17. 17

    أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ

    کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی ایک بات یہ کہو کہ ہم تیرے پاس اپنی مرضی سے نہیں آئے بلکہ رب العالمین کے نمائندے اور اس کے رسول کی حیثیت سے آئے ہیں اور دوسری بات یہ کہ تو نے (چار سو سال سے) بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے، ان کو آزاد کردے تاکہ میں انہیں شام کی سرز مین پر لے جاؤں، جس کا اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہوا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 17 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  18. 18

    قَالَ أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ

    فرعون نے کہا کہ کیا ہم نے تجھے تیرے بچپن کے زمانہ میں اپنے ہاں نہیں پاﻻ تھا؟[1] اور تو نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہم میں نہیں گزارے؟[2]

    حواشی

    [1] فرعون نے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی دعوت اور مطالبے پر غور کرنے کے بجائے ، ان کی تحقیر و تنقیص کرنی شروع کر دی اور کہا کہ کیا تو وہی نہیں ہے جو ہماری گود میں اور ہمارے گھر میں پلا ، جب کہ ہم بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کر ڈالتے تھے؟ [2] بعض کہتے ہیں کہ 18 سال فرعون کے محل میں بسر کیے، بعض کے نزدیک 30 اور بعض کے نزدیک چالیس سال۔ یعنی اتنی عمر ہمارے پاس گزارنے کے بعد، چند سال ادھر ادھر رہ کر اب تو نبوت کا دعویٰ کرنے لگا ہے؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 18 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  19. 19

    وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ ٱلَّتِى فَعَلْتَ وَأَنتَ مِنَ ٱلْكَـٰفِرِينَ

    پھر تو اپنا وه کام کر گیا جو کر گیا اور تو ناشکروں میں ہے.[1]

    حواشی

    [1] پھر ہمارا ہی کھا کر ہماری ہی قوم کے ایک آدمی کو قتل کرکے ہماری ناشکری بھی کی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 19 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  20. 20

    قَالَ فَعَلْتُهَآ إِذًا وَأَنَا۠ مِنَ ٱلضَّآلِّينَ

    (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں نے اس کام کو اس وقت کیا تھا جبکہ میں راه بھولے ہوئے لوگوں میں سے تھا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی یہ قتل ارادتاً نہیں تھا بلکہ ایک گھونسہ ہی تھا جو اسے مارا گیا تھا، جس سے اس کی موت ہی واقع ہوگئی۔ علاوہ ازیں یہ واقعہ بھی نبوت سے قبل کا ہے جب کہ مجھ کو علم کی یہ روشنی نہیں دی گئی تھی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 20 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  21. 21

    فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْمًا وَجَعَلَنِى مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ

    پھر تم سے خوف کھا کر میں تم میں سے بھاگ گیا، پھر مجھے میرے رب نے حکم و علم عطا فرمایا اور مجھے اپنے پیغمبروں میں سے کر دیا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی پہلے جو کچھ ہوا، اپنی جگہ، لیکن اب میں اللہ کا رسول ہوں، اگر میری اطاعت کرے گا تو بچ جائے گا، بصورت دیگر ہلاکت تیرا مقدر ہوگی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 21 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  22. 22

    وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ

    مجھ پر تیرا کیا یہی وه احسان ہے؟ جسے تو جتا رہا ہے جبکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی یہ اچھا احسان ہے جو تو مجھے جتلا رہاہے کہ مجھے تو یقیناً تو نے غلام نہیں بنایا اور آزاد چھوڑے رکھا لیکن میری پوری قوم کو غلام بنا رکھا ہے۔ اس ظلم عظیم کے مقابلے میں اس احسان کی آخر حیثیت کیا ہے؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 22 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  23. 23

    قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

    فرعون نے کہا رب العالمین کیا (چیز) ہے؟[1]

    حواشی

    [1] یہ اس نے بطور استفہام کے نہیں ، بلکہ استکبار اور استنکار کے طور پر کہا ، کیونکہ اس کا دعوی تو یہ تھا«مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرِي» (القصص۔ 38) «میں اپنے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود جانتا ہی نہیں»۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 23 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  24. 24

    قَالَ رَبُّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَآ ۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ

    (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم یقین رکھنے والے ہو.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 24 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  25. 25

    قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُۥٓ أَلَا تَسْتَمِعُونَ

    فرعون نے اپنے اردگرد والوں سے کہا کہ کیا تم سن نہیں رہے؟[1]

    حواشی

    [1] یعنی کیا تم اس بات پر تعجب نہیں کرتے کہ میرے سوا بھی کوئی اور معبود ہے؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 25 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  26. 26

    قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ ٱلْأَوَّلِينَ

    (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا پروردگار ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 26 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  27. 27

    قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ ٱلَّذِىٓ أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ

    فرعون نے کہا (لوگو!) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقیناً دیوانہ ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 27 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  28. 28

    قَالَ رَبُّ ٱلْمَشْرِقِ وَٱلْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَآ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ

    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا! وہی مشرق ومغرب کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب[1] ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو.

    حواشی

    [1] یعنی جس نے مشرق کو مشرق بنایا، جس سے کواکب طلوع ہوتے ہیں اور مغرب کو مغرب بنایا جس میں کواکب غروب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان کے درمیان جو کچھ ہے، ان سب کا رب اور ان کاانتظام کرنے والابھی وہی ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 28 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  29. 29

    قَالَ لَئِنِ ٱتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِى لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ ٱلْمَسْجُونِينَ

    فرعون کہنے لگا سن لے! اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا.[1]

    حواشی

    [1] فرعون نے جب دیکھا کہ موسیٰ (عليه السلام) مختلف انداز سے رب العالمین کی ربوبیت کاملہ کی وضاحت کر رہے ہیں، جس کا کوئی معقول جواب اس سےنہیں بن پارہا ہے۔ تو اس نے دلائل سے صرف نظر کرکے دھمکی دینی شروع کردی اور موسیٰ (عليه السلام) کو حوالۂ زنداں کرنے سے ڈرایا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 29 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  30. 30

    قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَىْءٍ مُّبِينٍ

    موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی کھلی چیز لے آؤں؟[1]

    حواشی

    [1] یعنی ایسی کوئی چیز یا معجزہ جس سے واضح ہو جائے کہ میں سچا اور واقعی اللہ کا رسول ہوں، تب بھی تو میری صداقت کو تسلیم نہیں کرے گا؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 30 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  31. 31

    قَالَ فَأْتِ بِهِۦٓ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ

    فرعون نے کہا اگر تو سچوں میں سے ہے تو اسے پیش کر.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 31 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  32. 32

    فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ

    آپ نے (اسی وقت) اپنی ﻻٹھی ڈال دی جو اچانک کھلم کھلا (زبردست) اﮊدہا بن گئی.[1]

    حواشی

    [1] بعض جگہ ثُعْبَانٌ کو حَيَّةٌ اور بعض جگہ جَانٌّ کہا گیاہے۔ ثُعْبَانٌ وہ سانپ ہوتا ہے جو بڑا ہو اور جَانٌّ چھوٹے سانپ کو کہتے ہیں اور حَيَّةٌ چھوٹے بڑے دونوں قسم کےسانپوں پر بولا جاتا ہے۔ (فتح القدیر) گویا لاٹھی نے پہلے چھوٹے سانپ کی شکل اختیار کی پھر دیکھتے دیکھتے اژدھا بن گئی۔ وَاللهُ أَعْلَمُ۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 32 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  33. 33

    وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّـٰظِرِينَ

    اور اپنا ہاتھ کھینچ نکالا تو وه بھی اسی وقت ہر دیکھنے والے کو سفید چمکیلا نظر آنے لگا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی گریبان سے ہاتھ نکالا تو وہ چاند کےٹکڑے کی طرح چمکتا تھا۔ یہ دوسرا معجزہ موسیٰ (عليه السلام) نے پیش کیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 33 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  34. 34

    قَالَ لِلْمَلَإِ حَوْلَهُۥٓ إِنَّ هَـٰذَا لَسَـٰحِرٌ عَلِيمٌ

    فرعون اپنے آس پاس کے سرداروں سے کہنے لگا بھئی یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے.[1]

    حواشی

    [1] فرعون بجائے اس کے کہ ان معجزات کو دیکھ کر، حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی تصدیق کرتا اور ایمان لاتا، اس نے تکذیب و عناد کا راستہ اختیار کیا اور حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی بابت کہا کہ یہ تو کوئی بڑا فنکار جادوگر ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 34 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  35. 35

    يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِۦ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ

    یہ تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے ہی نکال دے، بتاؤ اب تم کیا حکم دیتے ہو.[1]

    حواشی

    [1] پھر اپنی قوم کو مزید بھڑکانے کے لیے کہاکہ وہ ان شعبدہ بازیوں کے ذریعے سے تمہیں یہاں سے نکال کر خود اس پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ اب بتلاؤ ! تمہاری کیا رائے ہے؟ یعنی اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 35 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  36. 36

    قَالُوٓا۟ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَٱبْعَثْ فِى ٱلْمَدَآئِنِ حَـٰشِرِينَ

    ان سب نے کہا آپ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیجئے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 36 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  37. 37

    يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ

    جو آپ کے پاس ذی علم جادو گروں کو لے آئیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی ان دونوں کو فی الحال اپنے حال پر چھوڑ دو، اور تمام شہروں سے جادوگروں کو جمع کرکے ان کا باہمی مقابلہ کیا جائے تاکہ ان کے کرتب کا جواب اور تیری تائید و نصرت ہوجائے۔ اور یہ اللہ ہی کی طر ف سے تکوینی انتظام تھا تاکہ لوگ ایک ہی جگہ جمع ہوجائیں اور ان دلائل و براہین کا بہ چشم سرخود مشاہدہ کریں، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو عطا فرمائے تھے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 37 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  38. 38

    فَجُمِعَ ٱلسَّحَرَةُ لِمِيقَـٰتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ

    پھر ایک مقرر دن کے وعدے پر تمام جادوگر جمع کیے گئے.[1]

    حواشی

    [1] چنانچہ جادوگروں کی ایک بہت بڑی تعداد مصر کے اطراف وجوانب سے جمع کر لی گئی، ان کی تعداد 12 ہزار ، 17 ہزار ، 19 ہزار ،30 ہزار اور80 ہزار (مختلف اقوال کے مطابق) بتلائی جاتی ہے۔ اصل تعداد اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ کیونکہ کسی مستند ماخذ میں تعداد کاذکر نہیں ہے۔ اس کی تفصیلات اس سے قبل سورۂ اعراف، سورۂ طہ میں بھی گزر چکی ہیں۔ گویا فرعون کی قوم، قبط، نے اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سےبجھانا چاہا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ کفروایمان کے معرکے میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ جب بھی کفر خم ٹھونک کر ایمان کےمقابلے میں آتا ہے، تو ایمان کو اللہ تعالیٰ سرخروئی اور غلبہ عطا فرماتا ہے۔ جس طرح فرمایا، «بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ» (الأنبياء۔ 18) ”بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں، پس وہ اس کا سر توڑ دیتا ہےاور جھوٹ اسی وقت نابود ہو جاتا ہے“۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 38 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  39. 39

    وَقِيلَ لِلنَّاسِ هَلْ أَنتُم مُّجْتَمِعُونَ

    اور عام لوگوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ تم بھی مجمع میں حاضر ہوجاؤ گے؟[1]

    حواشی

    [1] یعنی عوام کو بھی تاکید کی جارہی ہے کہ تمہیں بھی یہ معرکہ دیکھنے کے لیے ضرور حاضر ہونا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 39 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  40. 40

    لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ ٱلسَّحَرَةَ إِن كَانُوا۟ هُمُ ٱلْغَـٰلِبِينَ

    تاکہ اگر جادوگر غالب آجائیں تو ہم ان ہی کی پیروی کریں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 40 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  41. 41

    فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالُوا۟ لِفِرْعَوْنَ أَئِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِن كُنَّا نَحْنُ ٱلْغَـٰلِبِينَ

    جادوگر آکر فرعون سے کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 41 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  42. 42

    قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذًا لَّمِنَ ٱلْمُقَرَّبِينَ

    فرعون نے کہا ہاں! (بڑی خوشی سے) بلکہ ایسی صورت میں تم میرے خاص درباری بن جاؤ گے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 42 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  43. 43

    قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلْقُوا۟ مَآ أَنتُم مُّلْقُونَ

    (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے فرمایا جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈال دو.[1]

    حواشی

    [1] حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی طرف سےجادوگروں کو پہلے اپنے کرتب دکھانے کےلیے کہنے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ ایک تو ان پر یہ واضح ہو جائے کہ اللہ کا پیغمبر اتنی بڑی تعداد میں نامی گرامی جادوگروں کے اجتماع اور ان کی ساحرانہ شعبدہ بازیوں سےخوف زدہ نہیں ہے۔ دوسرا یہ مقصد بھی ہوسکتا ہے کہ جب بعد میں اللہ کے حکم سے یہ ساری شعبدہ بازیاں آن واحد میں ختم ہوجائیں گی تو دیکھنے والوں پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور شاید اس طرح زیادہ لوگ اللہ پر ایمان لے آئیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، بلکہ جادوگر ہی سب سے پہلےایمان لے آئے۔ جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 43 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  44. 44

    فَأَلْقَوْا۟ حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا۟ بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ ٱلْغَـٰلِبُونَ

    انہوں نے اپنی رسیاں اور ﻻٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے عزت فرعون کی قسم! ہم یقیناً غالب ہی رہیں گے.[1]

    حواشی

    [1] جیسا کہ سورۂ اعراف اور طٰہ میں گزرا کہ ان جادوگروں نے اپنے خیال میں بہت بڑا جادو پیش کیا «سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» (سورة الأعراف۔:116) حتیٰ کہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے بھی اپنے دل میں خوف محسوس کیا، «فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُوسَى» (طه۔ 67) چنانچہ ان جادوگروں کو اپنی کامیابی اور برتری کابڑا یقین تھا، جیسا کہ یہاں ان الفاظ سے ظاہر ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو تسلی دی، کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ذرا اپنی لاٹھی زمین پر پھینکو اور پھر دیکھو۔ چنانچہ لاٹھی کا زمین پر پھینکنا تھا کہ اس نے ایک خوفناک اژدھے کی شکل اختیار کرلی اور ایک ایک کرکے ان کے سارے کرتبوں کو وہ نگل گیا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 44 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  45. 45

    فَأَلْقَىٰ مُوسَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ

    اب (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی ﻻٹھی میدان میں ڈال دی جس نے اسی وقت ان کے جھوٹ موٹ کے کرتب کو نگلنا شروع کردیا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 45 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  46. 46

    فَأُلْقِىَ ٱلسَّحَرَةُ سَـٰجِدِينَ

    یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 46 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  47. 47

    قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

    اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 47 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  48. 48

    رَبِّ مُوسَىٰ وَهَـٰرُونَ

    یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 48 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  49. 49

    قَالَ ءَامَنتُمْ لَهُۥ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّهُۥ لَكَبِيرُكُمُ ٱلَّذِى عَلَّمَكُمُ ٱلسِّحْرَ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَـٰفٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ

    فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا (سردار) ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے[1] ، سو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا، قسم ہے میں ابھی تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے طور پر کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا.[2]

    حواشی

    [1] فرعون کے لیے یہ واقعہ بڑا عجیب اور نہایت حیرت ناک تھا کہ جن جادوگروں کے ذریعے سے وہ فتح و غلبے کی آس لگائے بیٹھا تھا، وہی نہ صرف مغلوب ہوگئے بلکہ موقع پر ہی وہ اس رب پر ایمان لے آئے، جس نے حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کو دلائل و معجزات دے کر بھیجا تھا۔ لیکن بجائے اس کے کہ فرعون بھی غوروفکر سےکام لیتا اور ایمان لاتا، اس نے مکابرہ اور عناد کا راستہ اختیار کیا اور جادوگروں کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا اورکہاکہ تم سب اسی کے شاگرد لگتے ہو اورتمہارا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سازش کے ذریعے سے تم ہمیں یہاں سے بے دخل کردو، «إِنَّ هَذَا لَمَكْرٌ مَكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا» (الأعراف: 123) ۔ [2] الٹے طور پر ہاتھ پاؤں کاٹنے کا مطلب، دایاں ہاتھ اور بایاں پیر یا بایاں ہاتھ اور دایاں پیر ہے۔ اس پر سولی مستزاد۔ یعنی ہاتھ پیر کاٹنے سے بھی اس کی آتش غضب ٹھنڈی نہ ہوئی، مزید اس نے سولی پر لٹکانے کا اعلان کیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 49 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  50. 50

    قَالُوا۟ لَا ضَيْرَ ۖ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ

    انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں[1] ، ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ہی.

    حواشی

    [1] لا ضَيْرَ کوئی حرج نہیں یا ہمیں کوئی پروا نہیں۔ یعنی اب جو سزا چاہے دے لے، ایمان سے نہیں پھر سکتے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 50 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  51. 51

    إِنَّا نَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَـٰيَـٰنَآ أَن كُنَّآ أَوَّلَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

    اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلےایمان والے بنے ہیں[1] ہمیں امید پڑتی ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا.

    حواشی

    [1] أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ اس اعتبار سے کہا کہ فرعون کی قوم مسلمان نہیں ہوئی اور انہوں نے قبول ایمان میں سبقت کی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 51 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  52. 52

    ۞ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِىٓ إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ

    اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو نکال لے چل تم سب پیچھا کیے جاؤ گے.[1]

    حواشی

    [1] جب بلاد مصر میں حضرت موسیٰ (عليه السلام) کا قیام لمبا ہوگیا اور ہر طرح سےانہوں نے فرعون اور اس کے درباریوں پر حجت قائم کردی۔ لیکن اس کےباوجود وہ ایمان لانے پر تیار نہیں ہوئے، تو اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا کہ انہیں عذاب و نکال سے دوچار کرکے سامان عبرت بنادیا جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (عليه السلام) کو حکم دیا کہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر یہاں سے نکل جائیں، اور فرمایاکہ فرعون تمہارے پیچھے آئے گا، گھبرانا نہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 52 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  53. 53

    فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِى ٱلْمَدَآئِنِ حَـٰشِرِينَ

    فرعون نے شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 53 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  54. 54

    إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ

    کہ یقیناً یہ گروه بہت ہی کم تعداد میں ہے.[1]

    حواشی

    [1] یہ بطور تحقیرکے کہا، ورنہ ان کی تعداد چھ لاکھ بتلائی جاتی ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 54 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  55. 55

    وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُونَ

    اور اس پر یہ ہمیں سخت غضب ناک کر رہے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی میری اجازت کے بغیران کا یہاں سے فرار ہونا ہمارے لیے غیظ و غضب کا باعث ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 55 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  56. 56

    وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَـٰذِرُونَ

    اور یقیناً ہم بڑی جماعت ہیں ان سے چوکنا رہنے والے.[1]

    حواشی

    [1] اس لیے ان کی اس سازش کو ناکام بنانے کےلیے ہمیں مستعد ہونے کی ضرورت ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 56 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  57. 57

    فَأَخْرَجْنَـٰهُم مِّن جَنَّـٰتٍ وَعُيُونٍ

    بالآخر ہم نےانہیں باغات سے اور چشموں سے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 57 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  58. 58

    وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ

    اور خزانوں سے۔ اور اچھے اچھے مقامات سے نکال باہر کیا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی فرعون اور اس کا لشکر بنی اسرائیل کے تعاقب میں کیا نکلا، کہ پھرپلٹ کر اپنے گھروں اور باغات میں آنا نصیب ہی نہیں ہوا۔ یوں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت و مشیت سےانہیں تمام نعمتوں سے محروم کرکے ان کا وارث دوسروں کو بنادیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 58 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  59. 59

    كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَـٰهَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ

    اسی طرح ہوا اور ہم نےان (تمام) چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی جو اقتدار اوربادشاہت فرعون کو حاصل تھی، وہ اس سے چھین کر ہم نےبنی اسرائیل کو عطا کردی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مصر جیسا اقتدار اور دنیوی جاہ و جلال ہم نے بنی اسرائیل کو بھی عطاکیا۔ کیوں کہ بنی اسرائیل، مصر سے نکل جانے کے بعد مصر واپس نہیں آئے۔ نیز سورۂ دخان میں فرمایا گیا ہے«وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ» کہ ”ہم نے اس کا وارث کسی دوسری قوم کو بنایا“ (ایسر التفاسیر) اول الذکر اہل علم کہتے ہیں کہ قوما آخرين میں قوم کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں سورۂ شعراء میں جب بنی اسرائیل کو وارث بنانےکی صراحت آگئی ہے، تو اس سے مراد بھی قوم بنی اسرائیل ہی ہوگی۔ مگر خود قرآن کی صراحت کے مطابق مصر سے نکلنے کے بعد بنو اسرائیل کو ارض مقدس میں داخل ہونےکا حکم دیا گیا۔ اور ان کےانکار پر چالیس سال کے لیے یہ داخلہ موخر کرکے میدان تیہ میں بھٹکایا گیا۔ پھر وہ ارض مقدس میں داخل ہوئے چنانچہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی قبر، حدیث اسراء کے مطابق بیت المقدس کے قریب ہی ہے۔ اس لیے صحیح معنی یہی ہے کہ جیسی نعمتیں آل فرعون کو مصر میں حاصل تھیں، ویسی ہی نعمتیں اب بنو اسرائیل کو عطا کی گئیں۔ لیکن مصر میں نہیں بلکہ فلسطین میں، وَاللهُ أَعْلَمُ۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 59 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  60. 60

    فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ

    پس فرعونی سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکلے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی جب صبح ہوئی اور فرعون کو پتہ چلا کہ بنی اسرائیل راتوں رات یہاں سےنکل گئے ہیں، تو اس کے پندار اقتدار کو بڑی ٹھیس پہنچی۔ اور سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 60 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  61. 61

    فَلَمَّا تَرَٰٓءَا ٱلْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـٰبُ مُوسَىٰٓ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ

    پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی فرعون کے لشکر کو دیکھتے ہی وہ گھبرا اٹھے کہ آگےسمندر ہے اور پیچھے فرعون کا لشکر، اب بچاؤ کس طرح ممکن ہے؟ اب پھر دوبارہ وہی فرعون اور اس کی غلامی ہوگی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 61 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  62. 62

    قَالَ كَلَّآ ۖ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ

    موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں۔ یقین مانو، میرا رب میرے ساتھ ہے جو ضرور مجھے راه دکھائے گا.[1]

    حواشی

    [1] حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے تسلی دی کہ تمہارا اندیشہ صحیح نہیں، اب دوبارہ تم فرعون کی گرفت میں نہیں جاؤ گے۔ میرا رب یقیناً نجات کے راستے کی نشاندہی فرمائے گا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 62 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  63. 63

    فَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْبَحْرَ ۖ فَٱنفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَٱلطَّوْدِ ٱلْعَظِيمِ

    ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی ﻻٹھی مار[1] ، پس اسی وقت دریا پھٹ گیا اور ہر ایک حصہ پانی کا مثل بڑے پہاڑ کے ہوگیا.[2]

    حواشی

    [1] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ رہنمائی اور نشاندہی فرمائی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو، جس سے دائیں طرف کا پانی دائیں اور بائیں طرف کا بائیں طرف رک گیا اور دونوں کے بیچ میں راستہ بن گیا۔ کہا جاتا ہے کہ بارہ قبیلوں کے حساب سے بارہ راستے بن گئے تھے، واللہ اعلم۔ [2] فِرْقٍ : قطعہ بحرسمندر کا حصہ، طَوْدٌ ،پہاڑ یعنی پانی کا ہر حصہ بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہو گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزے کا صدور ہوا تاکہ موسیٰ (عليه السلام) اور ان کی قوم فرعون سے نجات پالے، اس تائید الٰہی کے بغیر فرعون سے نجات ممکن نہیں تھی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 63 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  64. 64

    وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ ٱلْـَٔاخَرِينَ

    اور ہم نے اسی جگہ دوسروں کو نزدیک ﻻ کھڑا کر دیا.[1]

    حواشی

    [1] اس سے مراد فرعون اور اس کا لشکر ہے یعنی ہم نے دوسروں کو سمندر کے قریب کردیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 64 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  65. 65

    وَأَنجَيْنَا مُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ أَجْمَعِينَ

    اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اور اس کے تمام ساتھیوں کو نجات دے دی.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 65 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  66. 66

    ثُمَّ أَغْرَقْنَا ٱلْـَٔاخَرِينَ

    پھر اور سب دوسروں کو ڈبو دیا.[1]

    حواشی

    [1] موسیٰ (عليه السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو ہم نے نجات دی اور فرعون اور اس کا لشکر جب انہی راستوں سے گزرنے لگا تو ہم نے سمندر کو دوبارہ حسب دستور رواں کردیا، جس سے فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہوگیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 66 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  67. 67

    إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ

    یقیناً اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں کےاکثر لوگ ایمان والے نہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی اگرچہ اس واقعے میں، جو اللہ کی نصرت و معونت کا واضح مظہر ہے، بڑی نشانی ہے لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 67 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  68. 68

    وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ

    اور بیشک آپ کا رب بڑا ہی غالب اور مہربان ہے؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 68 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  69. 69

    وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَٰهِيمَ

    انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنادو.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 69 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  70. 70

    إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِۦ مَا تَعْبُدُونَ

    جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 70 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  71. 71

    قَالُوا۟ نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَـٰكِفِينَ

    انہوں نے جواب دیا کہ عبادت کرتے ہیں بتوں کی، ہم تو برابر ان کے مجاور بنے بیٹھے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی رات دن ان کی عبادت کرتے ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 71 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  72. 72

    قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ

    آپ نے فرمایا کہ جب تم انہیں پکارتے ہو تو کیا وه سنتے بھی ہیں؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 72 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  73. 73

    أَوْ يَنفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ

    یا تمہیں نفع نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی اگر تم ان کی عبادت ترک کردو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچاتے ہیں؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 73 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  74. 74

    قَالُوا۟ بَلْ وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا كَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ

    انہوں نے کہا یہ (ہم کچھ نہیں جانتے) ہم تو اپنے باپ دادوں کو اسی طرح کرتے پایا.[1]

    حواشی

    [1] جب وہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے سوال کا کوئی معقول جواب نہیں دے سکتے تو یہ کہہ کر چھٹکارا حاصل کرلیا۔ جیسے آج بھی لوگوں کو قرآن و حدیث کی بات بتلائی جائے تو یہی عذر پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے خاندان میں تو ہمارے آباواجداد سے یہی کچھ ہوتا آرہا ہے، ہم اسے نہیں چھوڑ سکتے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 74 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  75. 75

    قَالَ أَفَرَءَيْتُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ

    آپ نے فرمایا کچھ خبر بھی[1] ہے جنہیں تم پوج رہے ہو.

    حواشی

    [1] أَفَرَأَيْتُمْ؟ کے معنی ہیں فَهَلْ أَبْصَرْتُمْ وَتَفَكَّرْتُمْ؟ کیا تم نے غوروفکر کیا؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 75 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  76. 76

    أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُمُ ٱلْأَقْدَمُونَ

    تم اور تمہارے اگلے باپ دادا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 76 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  77. 77

    فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّىٓ إِلَّا رَبَّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

    وه سب میرے دشمن ہیں.[1] بجز سچے اللہ تعالیٰ کے جو تمام جہان کا پالنہار ہے.[2]

    حواشی

    [1] اس لیے کہ تم سب اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرنے والے ہو۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہےکہ جن کی تم اور تمہارے باپ دادا عبادت کرتے رہے ہیں، وہ سب معبود میرے دشمن ہیں یعنی میں ان سے بیزار ہوں۔ [2] یعنی وہ دشمن نہیں، بلکہ وہ تو دنیا و آخرت میں میرا ولی اور دوست ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 77 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  78. 78

    ٱلَّذِى خَلَقَنِى فَهُوَ يَهْدِينِ

    جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی دین و دنیا کے مصالح اور منافع کی طرف۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 78 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  79. 79

    وَٱلَّذِى هُوَ يُطْعِمُنِى وَيَسْقِينِ

    وہی ہے جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی انواع و اقسام کے رزق پیدا کرنے والا اور جو پانی ہم پیتے ہیں، اسے مہیا کرنے والا بھی وہی اللہ ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 79 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  80. 80

    وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ

    اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے.[1]

    حواشی

    [1] بیماری کو دور کرکے شفا عطا کرنے والا بھی وہی ہے۔ یعنی دواؤں میں شفا کی تاثیر بھی اسی کے حکم سے ہوتی ہے۔ ورنہ دوائیں بھی بےاثر ثابت ہوتی ہیں۔ بیماری بھی اگرچہ اللہ کے حکم اور مشیت سے ہی آتی ہے۔ لیکن اس کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی۔ بلکہ اپنی طرف کی۔ یہ گویا اللہ کے ذکر میں اس کے ادب و احترام کے پہلو کو ملحوظ رکھا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 80 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  81. 81

    وَٱلَّذِى يُمِيتُنِى ثُمَّ يُحْيِينِ

    اور وہی مجھے مار ڈالے گا پھر زنده کردے گا[1]

    حواشی

    [1] یعنی قیامت والے دن، جب وہ سارے لوگوں کو زندہ فرمائے گا، مجھے بھی زندہ کرے گا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 81 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  82. 82

    وَٱلَّذِىٓ أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِى خَطِيٓـَٔتِى يَوْمَ ٱلدِّينِ

    اور جس سے امید بندھی ہوئی ہے کہ وه روز جزا میں میرے گناہوں کو بخش دے گا.[1]

    حواشی

    [1] یہاں امید، یقین کےمعنی میں ہے۔ کیونکہ کسی بڑی شخصیت سے امید، یقین کے مترادف ہی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ تو کائنات کی سب سے بڑی ہستی ہے، اس سے وابستہ امید، یقینی کیوں نہیں ہوگی۔ اسی لیے مفسرین کہتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی اللہ کے لیے عَسَى کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ یقین ہی کے مفہوم میں ہے۔ خَطِيْئَتِي، خَطِيئَةٌ واحد کا صیغہ ہے لیکن خَطَايَا (جمع) کے معنی میں ہے۔ انبیا علیہم السلام اگرچہ معصوم ہوتے ہیں۔ اس لیے ان سے کسی بڑے گناہ کا صدور ممکن نہیں۔ پھر بھی اپنے بعض افعال کو کوتاہی پر محمول کرتے ہوئےبارگاہ الٰہی میں عفو طلب ہوں گے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 82 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  83. 83

    رَبِّ هَبْ لِى حُكْمًا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّـٰلِحِينَ

    اے میرے رب! مجھے قوت فیصلہ[1] عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں میں ملا دے.

    حواشی

    [1] حکم یا حکمت سے مراد علم و فہم، قوت فیصلہ، یانبوت و رسالت یا اللہ کے حدود و احکام کی معرفت ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 83 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  84. 84

    وَٱجْعَل لِّى لِسَانَ صِدْقٍ فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ

    اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ.[1]

    حواشی

    [1] یعنی جو لوگ میرے بعد قیامت تک آئیں گے، وہ میرا ذکر اچھے لفظوں میں کرتے رہیں، اس سےمعلوم ہوا کہ نیکیوں کی جزا اللہ تعالیٰ دنیا میں ذکر جمیل اور ثنائے حسن کی صورت میں بھی عطا فرماتا ہے۔ جیسے حضرت ابراہیم (عليه السلام) کا ذکر خیر ہرمذہب کے لوگ کرتے ہیں، کسی کو بھی ان کی عظمت و تکریم سےانکار نہیں ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 84 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  85. 85

    وَٱجْعَلْنِى مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ ٱلنَّعِيمِ

    مجھے نعمتوں والی جنت کے وارﺛوں میں سے بنادے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 85 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  86. 86

    وَٱغْفِرْ لِأَبِىٓ إِنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلضَّآلِّينَ

    اور میرے باپ کو بخش دے یقیناً وه گمراہوں میں سے تھا.[1]

    حواشی

    [1] یہ دعا اس وقت کی تھی، جب ان پر یہ واضح نہیں تھا کہ مشرک (اللہ کے دشمن) کے لیے دعائے مغفرت جائز نہیں ،جب اللہ نے یہ واضح کردیا، تو انہوں نے اپنے باپ سے بھی بیزاری کا اظہار کردیا۔ (التوبة: 114)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 86 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  87. 87

    وَلَا تُخْزِنِى يَوْمَ يُبْعَثُونَ

    اور جس دن کے لوگ دوباره جلائے جائیں مجھے رسوا نہ کر.[1]

    حواشی

    [1] یعنی تمام مخلوق کے سامنے میرا مواخذہ کرکے یا عذاب سے دوچار کرکے حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن جب حضرت ابراہیم (عليه السلام) اپنے والد کو برے حال میں دیکھیں گے، تو ایک مرتبہ پھر اللہ کی بارگاہ میں ان کے لیے مغفرت کی درخواست کریں گے اورفرمائیں گے یا اللہ ! اس سے زیادہ میرے لیے رسوائی اور کیا ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گاکہ میں نے جنت کافروں پر حرام کردی ہے۔ پھر ان کے باپ کو نجاست میں لتھڑے ہوئے بجو کی شکل میں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحيح بخاري، سورة الشعراء وكتاب الأنبياء ، باب قول الله واتخذ الله إبراهيم خليلا)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 87 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  88. 88

    يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ

    جس دن کہ مال اور اوﻻد کچھ کام نہ آئے گی.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 88 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  89. 89

    إِلَّا مَنْ أَتَى ٱللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ

    لیکن فائده واﻻ وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے.[1]

    حواشی

    [1] قلب سلیم یا بے عیب دل سے مراد وہ دل ہے جو شرک سے پاک ہو۔ یعنی قلب مومن۔ اس لیے کہ کافر اور منافق کا دل مریض ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں، بدعت سے خالی اور سنت پر مطمئن دل، بعض کے نزدیک، دنیا کے مال و متاع کی محبت سے پاک دل اور بعض کے نزدیک، جہالت کی تاریکیوں اور اخلاقی رذالتوں سےپاک دل۔ یہ سارے مفہوم بھی صحیح ہوسکتے ہیں۔ اس لیے کہ قلب مومن مذکورہ تمام ہی برائیوں سے پاک ہوتا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 89 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  90. 90

    وَأُزْلِفَتِ ٱلْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ

    اور پرہیزگاروں کے لیے جنت بالکل نزدیک ﻻدی جائے گی.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 90 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  91. 91

    وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ

    اور گمراه لوگوں کے لیے جہنم ﻇاہر کردی جائے گی.[1]

    حواشی

    [1] مطلب یہ ہے کہ جنت اور دوزخ میں دخول سے پہلے ان کو سامنے کردیا جائے گا۔ جس سےکافروں کے غم میں اور اہل ایمان کے سرور میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 91 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  92. 92

    وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ

    اور ان سے پوچھا جائے گا کہ جن کی تم پوجا کرتے رہے وه کہاں ہیں؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 92 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  93. 93

    مِن دُونِ ٱللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ

    جو اللہ تعالیٰ کے سوا تھے[1] ، کیاوه تمہاری مدد کرتے ہیں؟ یا کوئی بدلہ لے سکتے ہیں.

    حواشی

    [1] یعنی تم سے عذاب ٹال دیں یا خود اپنے نفس کو اس سے بچالیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 93 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  94. 94

    فَكُبْكِبُوا۟ فِيهَا هُمْ وَٱلْغَاوُۥنَ

    پس وه سب اور کل گمراه لوگ جہنم میں اوندھے منھ ڈال دیے جائیں گے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی معبودین اور عابدین سب کو مال ڈنگر کی طرح ایک دوسرے کے اوپر ڈال دیا جائے گا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 94 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  95. 95

    وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ

    اور ابلیس کے تمام کے تمام لشکر[1] بھی، وہاں.

    حواشی

    [1] اس سے مراد وہ لشکر ہیں جو لوگوں کو گمراہ کرتے تھے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 95 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  96. 96

    قَالُوا۟ وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ

    آپس میں لڑتے جھگڑتے ہوئے کہیں گے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 96 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  97. 97

    تَٱللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ

    کہ قسم اللہ کی! یقیناً ہم تو کھلی غلطی پر تھے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 97 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  98. 98

    إِذْ نُسَوِّيكُم بِرَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

    جبکہ تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھ بیٹھے تھے.[1]

    حواشی

    [1] دنیا میں تو ہر ترشا ہوا پتھر اور قبر پر بنا ہوا خوش نما قبہ، مشرکوں کو خدائی اختیارات کاحامل نظر آتا ہے۔ لیکن قیامت کو پتہ چلے گا کہ یہ تو کھلی گمراہی تھی کہ وہ انہیں رب کے برابر سمجھتے رہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 98 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  99. 99

    وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلَّا ٱلْمُجْرِمُونَ

    اور ہمیں تو سوا ان بدکاروں کے کسی اور نے گمراه نہیں کیا تھا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی وہاں جاکر احساس ہوگا کہ ہمیں دوسرے مجرموں نے گمراہ کیا۔ دنیا میں انہیں متوجہ کیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں کام گمراہی ہے، بدعت ہے، شرک ہے تو نہیں مانتے، نہ غور وفکر سے کام لیتے ہیں کہ حق و باطل ان پر واضح ہوسکے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 99 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  100. 100

    فَمَا لَنَا مِن شَـٰفِعِينَ

    اب تو ہمارا کوئی سفارشی بھی نہیں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 100 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  101. 101

    وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ

    اور نہ کوئی (سچا) غم خوار دوست.[1]

    حواشی

    [1] گناہ گار اہل ایمان کی سفارش تو اللہ کی اجازت کے بعد انبیا وصلحا بالخصوص حضرت نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) فرمائیں گے۔ لیکن کافروں اور مشرکوں کے لیے سفارش کرنے کی کسی کو اجازت ہوگی نہ حوصلہ، اور نہ وہاں کوئی دوستی ہی کام آئے گی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 101 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  102. 102

    فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

    اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا تو ہم پکے سچے مومن بن جاتے.[1]

    حواشی

    [1] اہل کفروشرک، قیامت کے روز دوبارہ دنیا میں آنے کی آرزو کریں گے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرکے اللہ کو خوش کرلیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا ہےکہ اگر انہیں دوبارہ بھی دنیا میں بھیج دیا جائے تو وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے رہے تھے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 102 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  103. 103

    إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ

    یہ ماجرا یقیناً ایک زبردست نشانی ہے[1] ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے نہیں.[2]

    حواشی

    [1] یعنی حضرت ابراہیم (عليه السلام) کا بتوں کے بارے میں اپنی قوم سے مناظرہ و محاجہ اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل، یہ اس بات کی واضح نشانی ہےکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ [2] بعض نے اس کا مرجع مشرکین مکہ یعنی قریش کو قرار دیا ہے۔ یعنی ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 103 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  104. 104

    وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ

    یقیناً آپ کا پروردگار ہی غالب مہربان ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 104 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  105. 105

    كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ ٱلْمُرْسَلِينَ

    قوم نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا.[1]

    حواشی

    [1] قوم نوح (عليه السلام) نے اگرچہ صرف اپنے پیغمبر حضرت نوح (عليه السلام) کی تکذیب کی تھی۔ مگر چونکہ ایک نبی کی تکذیب، تمام نبیوں کی تکذیب کے مترادف اور اس کو مستلزم ہے۔ اس لیے فرمایا کہ قوم نوح (عليه السلام) نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 105 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  106. 106

    إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ نُوحٌ أَلَا تَتَّقُونَ

    جبکہ ان کے بھائی[1] نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں!

    حواشی

    [1] بھائی اس لیے کہا کہ حضرت نوح (عليه السلام) ان ہی کی قوم کےایک فرد تھے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 106 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  107. 107

    إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ

    سنو! میں تمہاری طرف اللہ کا امانتدار رسول ہوں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی اللہ نے جو پیغام دے کر مجھے بھیجا ہے، وہ بلاکم و کاست تم تک پہنچانے والا ہوں، اس میں کمی بیشی نہیں کرتا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 107 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  108. 108

    فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ

    پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری بات ماننی چاہئے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی میں تمہیں جو ایمان باللہ اور شرک نہ کرنے کی دعوت دے رہا ہوں، اس میں میری اطاعت کرو۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 108 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  109. 109

    وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

    میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں چاہتا، میرا بدلہ تو صرف رب العالمین کے ہاں ہے.[1]

    حواشی

    [1] میں تمہیں جو تبلیغ کر رہا ہوں ، اس کا کوئی اجر تم سے نہیں مانگتا، بلکہ اس کا اجر رب العالمین ہی کے ذمے ہے جو قیامت کو وہ عطا فرمائے گا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 109 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  110. 110

    فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ

    پس تم اللہ کا خوف رکھو اور میری فرمانبرداری کرو.[1]

    حواشی

    [1] یہ تاکید کے طور پر بھی ہے اور الگ الگ سبب کی بنا پر بھی، پہلے اطاعت کی دعوت، امانت داری کی بنیاد پر تھی اور اب یہ دعوت اطاعت عدم طمع کی وجہ سے ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 110 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  111. 111

    ۞ قَالُوٓا۟ أَنُؤْمِنُ لَكَ وَٱتَّبَعَكَ ٱلْأَرْذَلُونَ

    قوم نے جواب دیا کہ ہم تجھ پر ایمان ﻻئیں! تیری تابعداری تو رذیل لوگوں نے کی ہے.[1]

    حواشی

    [1] الأَرْذَلُونَ، أَرْذَلُ کی جمع ہے جاہ و مال نہ رکھنے والے، اور اس کی وجہ سےمعاشرے میں کمتر سمجھے جانے والے اور ان ہی میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو حقیرسمجھے جانے والے پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 111 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  112. 112

    قَالَ وَمَا عِلْمِى بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

    آپ نے فرمایا! مجھے کیا خبر کہ وه پہلے کیا کرتے رہے؟[1]

    حواشی

    [1] یعنی مجھے اس بات کا مکلف نہیں ٹھہرایا گیا ہے کہ میں لوگوں کے حسب و نسب، امارت و غربت اور ان کے پیشوں کی تفتیش کروں بلکہ میری ذمہ داری صرف یہ ہےکہ ایمان کی دعوت دوں اور جو اسے قبول کرلے، چاہے وہ کسی حیثیت کا حامل ہو، اسے اپنی جماعت میں شامل کر لوں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 112 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  113. 113

    إِنْ حِسَابُهُمْ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّى ۖ لَوْ تَشْعُرُونَ

    ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ[1] ہے اگر تمہیں شعور ہو تو.

    حواشی

    [1] یعنی ان کے ضمائر اور اعمال کی تفتیش یہ اللہ کا کام ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 113 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  114. 114

    وَمَآ أَنَا۠ بِطَارِدِ ٱلْمُؤْمِنِينَ

    میں ایمان والوں کو دھکے دینے واﻻ نہیں.[1]

    حواشی

    [1] یہ ان کی اس خواہش کا جواب ہےکہ کمتر حیثیت کے لوگوں کو اپنے سے دور کردے، پھر ہم تیری جماعت میں شامل ہوجائیں گے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 114 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  115. 115

    إِنْ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ

    میں تو صاف طور پر ڈرا دینے واﻻ ہوں.[1]

    حواشی

    [1] پس جو اللہ سے ڈر کر میری اطاعت کرے گا، وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں، چاہے دنیا کی نظر میں وہ شریف ہو یا رذیل، جلیل ہو یا حقیر۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 115 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  116. 116

    قَالُوا۟ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَـٰنُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمَرْجُومِينَ

    انہوں نے کہاکہ اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تجھے سنگسار کردیا جائے گا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 116 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  117. 117

    قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوْمِى كَذَّبُونِ

    آپ نے کہا اے میرے پروردگار! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 117 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  118. 118

    فَٱفْتَحْ بَيْنِى وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَنَجِّنِى وَمَن مَّعِىَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

    پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے با ایمان ساتھیوں کو نجات دے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 118 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  119. 119

    فَأَنجَيْنَـٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِى ٱلْفُلْكِ ٱلْمَشْحُونِ

    چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں (سوار کراکر) نجات دے دی.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 119 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  120. 120

    ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ ٱلْبَاقِينَ

    بعد ازاں باقی کے تمام لوگوں کو ہم نے ڈبو دیا.[1]

    حواشی

    [1] یہ تفصیلات کچھ پہلے بھی گزر چکی ہیں اور کچھ آئندہ بھی آئیں گی کہ حضرت نوح (عليه السلام) کی ساڑھے نو سو سالہ تبلیغ کے باوجود ان کی قوم کے لوگ بداخلاقی اور اعراض پر قائم رہے، بالآخر حضرت نوح (عليه السلام) نےبد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے کشتی بنانے کا اور اس میں مومن انسانوں،جانوروں اور ضروری سازوسامان رکھنے کا حکم دیا اور یوں اہل ایمان کو تو بچالیاگیا اور باقی سب لوگوں کو، حتیٰ کہ بیوی اور بیٹے کو بھی، جو ایمان نہیں لائے تھے، غرق کردیا گیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 120 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  121. 121

    إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ

    یقیناً اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے تھے بھی نہیں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 121 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  122. 122

    وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ

    اور بیشک آپ کا پروردگار البتہ وہی ہے زبردست رحم کرنے واﻻ.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 122 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  123. 123

    كَذَّبَتْ عَادٌ ٱلْمُرْسَلِينَ

    عادیوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا.[1]

    حواشی

    [1] عاد، ان کے جداعلیٰ کا نام تھا، جس کے نام پر قوم کا نا م پڑ گیا۔ یہاں عاد کوقبیلہ تصور کرکے كَذَّبَتْ (صغیہ مونث) لایاگیا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 123 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  124. 124

    إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ

    جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود[1] نے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں؟

    حواشی

    [1] ہود (عليه السلام) کو بھی عاد کا بھائی اسی لیےکہا گیا ہےکہ ہر نبی اسی قوم کا ایک فرد ہوتا تھا، جس کی طرف سے اسےمبعوث کیاجاتا تھا اور اسی اعتبار سےانہیں اس قوم کا بھائی قرار دیاگیا ہے، جیسا کہ آگے بھی آئے گا اور انبیا و رسل کی یہ (بشریت) بھی ان کی قوموں کے ایمان لانے میں رکاوٹ بنی رہی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ نبی کو بشر نہیں، مافوق البشر ہونا چاہیے۔ آج بھی اس مسلمہ حقیقت سے بے خبر لوگ پیغمبر اسلام حضرت نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو مافوق البشر باور کرانےپر تلے رہتے ہیں۔ حالانکہ وہ بھی خاندان قریش کے ایک فرد تھے جن کی طرف اولاً ان کو پیغمبر بناکر بھیجا گیا تھا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 124 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  125. 125

    إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ

    میں تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 125 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  126. 126

    فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ

    پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو!

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 126 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  127. 127

    وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

    میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا ﺛواب تو تمام جہان کے پروردگار کے پاس ہی ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 127 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  128. 128

    أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ

    کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطور کھیل تماشا یادگار (عمارت) بنا رہے ہو.[1]

    حواشی

    [1] رِيعٍ، رِيعَةٌ کی جمع ہے۔ ٹیلہ، بلند جگہ، پہاڑ، دریا یا گھاٹی یہ ان گزرگاہوں پر کوئی عمارت تعمیر کرتے جو ارتفاع اور علو میں ایک نشانی یعنی ممتاز ہوتی۔ لیکن اس کا مقصد اس میں رہنا نہیں ہوتا بلکہ صرف ایک کھیل کود ہوتا تھا۔ حضرت ہود (عليه السلام) نے منع فرمایا کہ یہ تم ایسا کام کرتےہو، جس میں وقت اور وسائل کا بھی ضیاع ہے اور اس کا مقصد بھی ایسا ہے جس سے دین اور دنیاکا کوئی مفاد وابستہ نہیں۔ بلکہ اس کے بیکار محض اور عبث ہونے میں کوئی شک نہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 128 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  129. 129

    وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ

    اور بڑی صنعت والے (مضبوط محل تعمیر) کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے.[1]

    حواشی

    [1] اسی طرح وہ بڑی مضبوط اور عالی شان رہائشی عمارتیں تعمیر کرتے تھے، جیسے وہ ہمیشہ انہی محلات میں رہیں گے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 129 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  130. 130

    وَإِذَا بَطَشْتُم بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ

    اور جب کسی پر ہاتھ، ڈالتے ہو تو سختی اور ﻇلم سے پکڑتے ہو.[1]

    حواشی

    [1] یہ ان کےظلم و تشدد اور قوت و طاقت کی طرف اشارہ ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 130 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  131. 131

    فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ

    اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو.[1]

    حواشی

    [1] جب ان کے اوصاف قبیحہ بیان کیے جو ان کے دنیا میں انہماک اور ظلم و سرکشی پر دلالت کرتے ہیں توپھر انہیں دوبارہ تقویٰ اور اپنی اطاعت کی دعوت دی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 131 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  132. 132

    وَٱتَّقُوا۟ ٱلَّذِىٓ أَمَدَّكُم بِمَا تَعْلَمُونَ

    اس سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہاری امداد کی جنہیں تم جانتے ہو.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 132 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  133. 133

    أَمَدَّكُم بِأَنْعَـٰمٍ وَبَنِينَ

    اس نے تمہاری مدد کی مال سے اور اوﻻد سے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 133 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  134. 134

    وَجَنَّـٰتٍ وَعُيُونٍ

    باغات سے اور چشموں سے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 134 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  135. 135

    إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ

    مجھے تو تمہاری نسبت بڑے دن کےعذاب کا اندیشہ ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی اگر تم نے اپنے کفر پر اصرار جاری رکھا اور اللہ نے تمہیں جو یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں، ان کا شکر ادا نہیں کیا، تو تم عذاب الٰہی کے مستحق قرار پاجاؤ گے۔ یہ عذاب دنیا میں بھی آسکتا ہے اور آخرت تو ہے ہی عذاب وثواب کے لیے۔ وہاں تو عذاب سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں ہوگا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 135 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  136. 136

    قَالُوا۟ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُن مِّنَ ٱلْوَٰعِظِينَ

    انہوں نے کہا کہ آپ وعﻆ کہیں یا وعﻆ کہنے والوں میں نہ ہوں ہم پر یکساں ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 136 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  137. 137

    إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا خُلُقُ ٱلْأَوَّلِينَ

    یہ تو بس پرانے لوگوں کی عادت ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی وہی باتیں ہیں جو پہلے بھی لوگ کرتے آئے ہیں یایہ مطلب ہے کہ ہم جس دین اور عادات و روایات پر قائم ہیں، وہ وہی ہیں جن پر ہمارے آباواجداد کار بند رہے، مطلب دونوں صورتوں میں یہ ہے کہ ہم آبائی مذہب کو نہیں چھوڑ سکتے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 137 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  138. 138

    وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ

    اور ہم ہرگز عذاب نہیں دیے جائیں گے.[1]

    حواشی

    [1] جب انہوں نے اس امر کا اظہار کیاکہ ہم تو اپنا آبائی دین نہیں چھوڑیں گے، تو اس میں عقیدۂ آخرت کا انکار بھی تھا۔ اس لیےانہوں نے عذاب میں مبتلا ہونے کا بھی انکار کیا۔ کیونکہ عذاب الٰہی کااندیشہ تو اسے ہوتا ہے جو اللہ کو مانتا اور روز جزا کو تسلیم کرتا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 138 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  139. 139

    فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَـٰهُمْ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ

    چونکہ عادیوں نے حضرت ہود کو جھٹلایا، اس لیے ہم نے انہیں تباه کردیا[1] یقیناً اس میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر بے ایمان تھے.

    حواشی

    [1] قوم عاد، دنیا کی مضبوط ترین اور قوی ترین قوم تھی، جس کی بابت اللہ نے فرمایا ہے۔«الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلادِ» (الفجر) ”اس جیسی قوم پیدا ہی نہیں کی گئی“ یعنی جو قوت اور شدت و جبروت میں اس جیسی ہو۔ اسی لیے یہ کہا کرتی تھی۔ «مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً» (حم السجدة: 15) ”کون قوت میں ہم سے زیادہ ہے؟“ لیکن جب اس قوم نے بھی کفر کا راستہ چھوڑ کر ایمان و تقویٰ اختیار نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا کی صورت میں ان پر عذاب نازل فرمایا جو مکمل سات راتیں اور آٹھ دن ان پر مسلط رہا۔ باد تند آتی اور آدمی کو اٹھا کر فضا میں بلند کرتی اور پھر زور سے سر کے بل زمین پر پٹخ دیتی۔ جس سے اس کا دماغ پھٹ اور ٹوٹ جاتا اور بغیر سر کے ان کے لاشے اس طرح زمین پر پڑے ہوتے گویا وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں۔ انہوں نے پہاڑوں، کھووں اور غاروں میں بڑی بڑی مضبوط عمارتیں بنارکھی تھیں، پینے کے لیے گہرے کنوئیں کھود رکھے تھے، باغات کی کثرت تھی۔ لیکن جب اللہ کا عذاب آیا تو کوئی چیز ان کے کام نہ آئی اور انہیں صفحۂ ہستی سےمٹا کر رکھ دیاگیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 139 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  140. 140

    وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ

    بیشک آپ کا رب وہی غالب مہربان.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 140 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  141. 141

    كَذَّبَتْ ثَمُودُ ٱلْمُرْسَلِينَ

    ﺛمودیوں[1] نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا.

    حواشی

    [1] ثمود کامسکن حجر تھا جو حجاز کے شمال میں ہے، آج کل اسے مدائن صالح کہتے ہیں۔ (ایسرالتفاسیر) یہ عرب تھے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) تبوک جاتے ہوئے ان بستیوں سے گزر کر گئے تھے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 141 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  142. 142

    إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ صَـٰلِحٌ أَلَا تَتَّقُونَ

    ان کے بھائی صالح نے ان سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 142 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  143. 143

    إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ

    میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار پیغمبر ہوں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 143 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  144. 144

    فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ

    تو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا کرو.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 144 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  145. 145

    وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

    میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میری اجرت تو بس پرودگار عالم پر ہی ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 145 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  146. 146

    أَتُتْرَكُونَ فِى مَا هَـٰهُنَآ ءَامِنِينَ

    کیا ان چیزوں میں جو یہاں ہیں تم امن کے ساتھ چھوڑ دیے جاؤ گے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی یہ نعمتیں کیا تمہیں ہمیشہ حاصل رہیں گی، نہ تمہیں موت آئے گی نہ عذاب؟ استفہام انکاری اور تو بیخی ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوگا بلکہ عذاب یا موت کے ذریعے سے، جب اللہ چاہے گا، تم ان نعمتوں سے محروم ہو جاؤ گے۔ اس میں ترغیب ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اس پر ایمان لاؤ اور ترہیب ہے کہ اگر ایمان و شکر کا راستہ اختیار نہیں کیا تو پھر تباہی و بربادی تمہارا مقدر ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 146 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  147. 147

    فِى جَنَّـٰتٍ وَعُيُونٍ

    یعنی ان باغوں اور ان چشموں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 147 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  148. 148

    وَزُرُوعٍ وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ

    اور ان کھیتوں اور ان کھجوروں کے باغوں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یہ ان نعمتوں کی تفصیل ہے جن سے وہ بہرہ ور تھے، طلع، کھجور کے اس شگوفے کو کہتے ہیں جو پہلے پہل نکلتا یعنی طلوع ہوتا ہے، اس کے بعد کھجور کایہ پھل بلح، پھر بسر، پھر رطب اور اس کےبعد تمر کہلاتا ہے۔ (ایسر التفاسیر) باغات میں دیگر پھلوں کے ساتھ کھجور کا پھل بھی آجاتا ہے۔ لیکن عربوں میں چونکہ کھجور کی بڑی اہمیت ہے، اس لیے اس کا خصوصی طور پر بھی ذکر کیا۔ هَضِيمٌ کے اور بھی کئی معانی بیان کیے گئے ہیں۔ مثلاً لطیف اور نرم و نازک۔ تہہ بہ تہہ وغیرہ۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 148 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  149. 149

    وَتَنْحِتُونَ مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتًا فَـٰرِهِينَ

    اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر پر تکلف مکانات بنا رہے ہو.[1]

    حواشی

    [1] فَارِهِينَ یعنی ضرورت سےزیادہ تصنع، تکلف اور فنکارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یا اتراتے اور فخروغرور کرتے ہوئے۔ جیسے آج کل لوگوں کا حال ہے۔ آج بھی عمارتوں پر بھی غیر ضروری آرائشوں اور فن کارانہ مہارتوں کا خوب خوب مظاہرہ ہو رہا ہے اور اس کے ذریعے سے ایک دوسرے پر برتری اور فخروغرور کا اظہار بھی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 149 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  150. 150

    فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ

    پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 150 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  151. 151

    وَلَا تُطِيعُوٓا۟ أَمْرَ ٱلْمُسْرِفِينَ

    بے باک حد سے گزر جانے والوں کی[1] اطاعت سے باز آجاؤ.

    حواشی

    [1] مُسْرِفِينَ سے مراد وہ رؤسا اورسردار ہیں جو کفروشرک کے داعی اور مخالفت حق میں پیش پیش تھے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 151 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  152. 152

    ٱلَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ

    جو ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 152 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  153. 153

    قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلْمُسَحَّرِينَ

    وه بولے کہ بس تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا گیا ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 153 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  154. 154

    مَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا فَأْتِ بِـَٔايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ

    تو تو ہم جیسا ہی انسان ہے۔ اگر تو سچوں سے ہے تو کوئی معجزه لے آ.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 154 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  155. 155

    قَالَ هَـٰذِهِۦ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ

    آپ نے فرمایا یہ ہے اونٹنی، پانی پینے کی ایک باری اس کی اور ایک مقرره دن کی باری پانی پینے کی تمہاری.[1]

    حواشی

    [1] یہ وہی اونٹنی تھی جو ان کے مطالبے پر پتھر کی ایک چٹان سے بطور معجزہ ظاہر ہوئی تھی۔ ایک دن اونٹنی کے لیےاور ایک دن ان کے لیے پانی مقرر کردیاگیا تھا، اور ان سےکہہ دیا گیا تھا کہ جو دن تمہارا پانی لینے کا ہوگا، اونٹنی گھاٹ پر نہیں آئے گی اور جو دن اونٹنی کے پانی پینے کا ہوگا، تمہیں گھاٹ پر آنے کی اجازت نہیں ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 155 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  156. 156

    وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ

    (خبردار!) اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تمہاری گرفت کر لے گا.[1]

    حواشی

    [1] دوسری بات انہیں یہ کہی گئی کہ اس اونٹنی کو کوئی بری نیت سے ہاتھ نہ لگائے، نہ اسے نقصان پہنچایا جائے۔ چنانچہ یہ اونٹنی اسی طرح ان کے درمیان رہی۔ گھاٹ سے پانی پیتی اور گھاس چارہ کھاکر گزارہ کرتی۔ اور کہا جاتا ہےکہ قوم ثمود اس کا دودھ دوہتی اور اس سے فائدہ اٹھاتی۔ لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد انہوں نے اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 156 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  157. 157

    فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُوا۟ نَـٰدِمِينَ

    پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں[1]، بس وه پشیمان ہوگئے.[2]

    حواشی

    [1] یعنی باوجود اس بات کے کہ وہ اونٹنی،اللہ کی قدرت کی ایک نشانی اور پیغمبر کی صداقت کی دلیل تھی، قوم ثمود ایمان نہیں لائی اور کفروشرک کے راستے پر گامزن رہی اور اس کی سرکشی یہاں تک بڑھی کہ بالآخر قدرت کی زندہ نشانی (اونٹنی) کی کوچیں کاٹ ڈالیں یعنی اس کے ہاتھوں اور پیروں کو زخمی کردیا، جس سے وہ بیٹھ گئی اور پھر اسے قتل کردیا۔ [2] یہ اس وقت ہوا جب اونٹنی کےقتل کے بعد حضرت صالح (عليه السلام) نے کہا کہ اب تمہیں صرف تین دن کی مہلت ہے، چوتھے دن تمہیں ہلاک کردیا جائے گا۔ اس کے بعد جب واقعی عذاب کی علامتیں ظاہر ہونی شروع ہوگئیں، تو پھر ان کی طرف سے بھی اظہار ندامت ہونے لگا۔ لیکن علامات عذاب دیکھ لینے کے بعد ندامت اور توبہ کا کوئی فائدہ نہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 157 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  158. 158

    فَأَخَذَهُمُ ٱلْعَذَابُ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ

    اور عذاب نے انہیں آ دبوچا[1] ۔ بیشک اس میں عبرت ہے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے.

    حواشی

    [1] یہ عذاب زمین سے بھونچال (زلزلے) اور اوپر سے سخت چنگھاڑ کی صورت میں آیا، جس سے سب کی موت واقع ہوگئی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 158 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  159. 159

    وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ

    اور بیشک آپ کا رب بڑا زبردست اور مہربان ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 159 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  160. 160

    كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ ٱلْمُرْسَلِينَ

    قوم لوط[1] نے بھی نبیوں کو جھٹلایا.

    حواشی

    [1] حضرت لوط (عليه السلام) ، حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے بھائی ھاران بن آذر کے بیٹے تھے۔ ان کو حضرت ابراہیم (عليه السلام) ہی کی زندگی میں نبی بنا کر بھیجا گیا تھا۔ ان کی قوم (سدوم) اور (عموریہ) میں رہتی تھی۔ یہ بستیاں شام کے علاقے میں تھیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 160 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  161. 161

    إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ لُوطٌ أَلَا تَتَّقُونَ

    ان سے ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اللہ کا خوف نہیں رکھتے؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 161 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  162. 162

    إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ

    میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 162 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  163. 163

    فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ

    پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 163 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  164. 164

    وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

    میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں مانگتا میرا اجر تو صرف اللہ تعالیٰ پر ہے جو تمام جہان کا رب ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 164 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  165. 165

    أَتَأْتُونَ ٱلذُّكْرَانَ مِنَ ٱلْعَـٰلَمِينَ

    کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 165 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  166. 166

    وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُم مِّنْ أَزْوَٰجِكُم ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ

    اور تمہاری جن عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا جوڑا بنایا ہے ان کو چھوڑ دیتے ہو[1] ، بلکہ تم ہو ہی حد سے گزر جانے والے.[2]

    حواشی

    [1] یہ قوم لوط کی سب سے بری عادت تھی، جس کی ابتدا اسی قوم سے ہوئی تھی، اسی لیے اس فعل بد کو لواطت سے تعبیر کیا جاتا ہے یعنی وہ بدفعلی جس کا آغاز قوم لوط سے ہوا لیکن اب یہ بدفعلی پوری دنیا میں عام ہے بلکہ یورپ میں تو اسے قانوناً جائز تسلیم کرلیاگیا ہے یعنی ان کے ہاں اب یہ سرے سے گناہ ہی نہیں ہے۔ جس قوم کا مزاج اتنا بگڑ گیا ہو کہ مرد و عورت کا ناجائز جنسی ملاپ (بشرطیکہ باہمی رضا مندی سے ہو) ان کے نزدیک جرم نہ ہو، تو وہاں دو مردوں کا آپس میں بدفعلی کرنی کیونکر گناہ اور ناجائز ہوسکتا ہے؟ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهُ۔ [2] عَادُونَ، عاد کی جمع ہے۔ عربی میں عاد کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنے والا۔ یعنی حق کو چھوڑ کر باطل کو اور حلال کو چھوڑ کر حرام کو اختیار کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح شرعی کے ذریعے سے عورت کی فرج سے اپنی جنسی خواہش کی تسکین کو حلال قرار دیا ہے اور اس کام کے لیے مرد کی دبر کو حرام۔ قوم لوط نے عورتوں کی شرم گاہوں کو چھوڑ کر مردوں کی دبر اس کام کے لیے استعمال کی اور یوں اس نے اس حد سے تجاوز کیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 166 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  167. 167

    قَالُوا۟ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَـٰلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُخْرَجِينَ

    انہوں نے جواب دیاکہ اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً نکال دیا جائے گا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی حضرت لوط (عليه السلام) کے وعظ و نصیحت کے جواب میں اس نے کہاکہ تو بڑا پاک باز بنا پھرتا ہے۔ یاد رکھنا اگر تو باز نہ آیا تو ہم اپنی بستی میں تجھے رہنے ہی نہ دیں گے۔ آج بھی بدیوں کا اتنا غلبہ اور بدوں کا اتنا زور ہے کہ نیکی منہ چھپائے پھرتی ہے، اور نیکوں کے لیےعرصہ حیات تنگ کردیاگیا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 167 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  168. 168

    قَالَ إِنِّى لِعَمَلِكُم مِّنَ ٱلْقَالِينَ

    آپ نے فرمایا، میں تمہارے کام سے سخت ناخوش ہوں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی میں اسے پسند نہیں کرتا اور اس سے سخت بیزار ہوں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 168 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  169. 169

    رَبِّ نَجِّنِى وَأَهْلِى مِمَّا يَعْمَلُونَ

    میرے پروردگار! مجھے اور میرے گھرانے کو اس (وبال) سے بچالے جو یہ کرتے ہیں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 169 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  170. 170

    فَنَجَّيْنَـٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ أَجْمَعِينَ

    پس ہم نے اسے اور اس کے متعلقین کو سب کو بچالیا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 170 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  171. 171

    إِلَّا عَجُوزًا فِى ٱلْغَـٰبِرِينَ

    بجز ایک بڑھیا کے کہ وه پیچھے ره جانے والوں میں ہوگئی.[1]

    حواشی

    [1] اس سے مراد حضرت لوط (عليه السلام) کی بوڑھی بیوی ہے جو مسلمان نہیں ہوئی تھی، چنانچہ وہ بھی اپنی قوم کے ساتھ ہی ہلاک کردی گئی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 171 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  172. 172

    ثُمَّ دَمَّرْنَا ٱلْـَٔاخَرِينَ

    پھر ہم نے باقی اور سب کو ہلاک کر دیا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 172 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  173. 173

    وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا ۖ فَسَآءَ مَطَرُ ٱلْمُنذَرِينَ

    اور ہم نے ان پر ایک خاص قسم کا مینہ برسایا، پس بہت ہی برا مینہ تھا جو ڈرائے گئے ہوئے لوگوں پر برسا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی نشان زندہ کنکر پتھروں کی بارش سے ہم نے ان کو ہلاک کیا اور ان کی بسیتوں کو ان پر الٹ دیاگیا، جیسا کہ سورۂ ہود۔ 83،82 میں بیان ہوا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 173 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  174. 174

    إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ

    یہ ماجرا بھی سراسر عبرت ہے۔ ان میں سے بھی اکثر مسلمان نہ تھے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 174 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  175. 175

    وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ

    بیشک تیرا پروردگار وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 175 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  176. 176

    كَذَّبَ أَصْحَـٰبُ لْـَٔيْكَةِ ٱلْمُرْسَلِينَ

    اَیکہ والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا[1]

    حواشی

    [1] أَيْكَةَ، جنگل کو کہتے ہیں۔ اس سے حضرت شعیب (عليه السلام) کی قوم اور بستی (مدین) کے اطراف کے باشندے مراد ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ ایکہ کے معنی ہیں گھنا درخت اور ایسا ایک درخت مدین کی نواحی آبادی میں تھا۔ جس کی پوجا پاٹ ہوتی تھی۔ حضرت شعیب (عليه السلام) کا دائرۂ نبوت اور حدود دعوت و تبلیغ، مدین سے لے کر اس نواحی آبادی تک تھا، جہاں ایکہ درخت کی پوجا ہوتی تھی۔ وہاں کے رہنے والوں کو اصحاب الایکہ کہاگیا ہے۔ اس لحاظ سے اصحاب الایکہ اور اہل مدین کے پیغمبر ایک ہی یعنی حضرت شعیب (عليه السلام) تھے اور یہ ایک ہی پیغمبر کی امت تھی۔ ایکہ، چونکہ قوم نہیں، بلکہ درخت تھا۔ اس لیے اخوت نسبی کا یہاں ذکر نہیں کیا، جس طرح کہ دوسرے انبیا کے ذکر میں ہے۔ البتہ جہاں مدین کے ضمن میں حضرت شعیب (عليه السلام) کا نام لیاگیا ہے، وہاں ان کے اخوت نسبی کا ذکر بھی ملتا ہے، کیونکہ مدین، قوم کا نام ہے۔«وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا» (الأعراف: 85) بعض مفسرین نے اصحاب الایکہ اور مدین کو الگ الگ بستیاں قرار دے کر کہا ہے کہ یہ مختلف دو امتیں ہیں، جن کی طرف باری باری حضرت شعیب (عليه السلام) کو بھیجا گیا۔ ایک مرتبہ مدین کی طرف اور دوسری مرتبہ اصحاب الایکہ کی طرف۔ لیکن امام ابن کثیر نے فرمایا ہے کہ صحیح بات یہی ہے کہ یہ ایک ہی امت ہے، «أَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ» کا جو وعظ اہل مدین کو کیا گیا، یہی وعظ یہاں اصحاب الایکہ کو کیاجارہا ہے، جس سے صاف واضح ہے کہ یہ ایک ہی امت ہے، دو نہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 176 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  177. 177

    إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلَا تَتَّقُونَ

    جبکہ ان سے شعیب (علیہ السلام) نے کہاکہ کیا تمہیں ڈر خوف نہیں؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 177 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  178. 178

    إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ

    میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 178 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  179. 179

    فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ

    اللہ کا خوف کھاؤ اور میری فرمانبرداری کرو.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 179 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  180. 180

    وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

    میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا، میرا اجر تمام جہانوں کے پالنے والے کے پاس ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 180 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  181. 181

    ۞ أَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ وَلَا تَكُونُوا۟ مِنَ ٱلْمُخْسِرِينَ

    ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شمولیت نہ کرو.[1]

    حواشی

    [1] یعنی جب تم لوگوں کوناپ کردو تو اسی طرح پورا دو، جس طرح لیتے وقت تم پورا ناپ کر لیتے ہو۔ لینے اور دینے کے پیمانے الگ الگ مت رکھو، کہ دیتے وقت کم دو اور لیتے وقت پورا لو !۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 181 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  182. 182

    وَزِنُوا۟ بِٱلْقِسْطَاسِ ٱلْمُسْتَقِيمِ

    اور سیدھی صحیح ترازو سے توﻻ کرو.[1]

    حواشی

    [1] اسی طرح تول میں ڈنڈی مت مارو، بلکہ پورا صحیح تول کردو !۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 182 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  183. 183

    وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ

    لوگوں کو ان کی چیزیں کمی سے نہ دو[1] بے باکی کے ساتھ زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو.[2]

    حواشی

    [1] یعنی لوگوں کو دیتے وقت ناپ یا تول میں کمی مت کرو۔ [2] یعنی اللہ کی نافرمانی مت کرو، اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ بعض نے اس سے مراد وہ رہزنی لے لی ہے، جس کا ارتکاب بھی یہ قوم کرتی تھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے، «وَلا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ» (الأعراف: 86) ”راستوں میں لوگوں کو ڈرانے کے لیے مت بیٹھو“۔ (ابن کثیر)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 183 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  184. 184

    وَٱتَّقُوا۟ ٱلَّذِى خَلَقَكُمْ وَٱلْجِبِلَّةَ ٱلْأَوَّلِينَ

    اس اللہ کا خوف رکھو جس نے خود تمہیں اور اگلی مخلوق کو پیدا کیا ہے.[1]

    حواشی

    [1] جِبِلَّةٌ اور جِبِلٌّ، مخلوق کے معنی میں ہے، جس طرح دوسرے مقام پر شیطان کے بارے میں فرمایا «وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلا كَثِيرًا» (سورة يس: 62) ”اس نے تم میں سے بہت ساری مخلوق کو گمراہ کیا“ اس کا استعمال بڑی جماعت کے لیے ہوتا ہے۔ وَهُوَ الْجَمْعُ ذُو الْعَدَدِ الْكَثِيرِ مِنَ النَّاسِ (فتح القدير)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 184 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  185. 185

    قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلْمُسَحَّرِينَ

    انہوں نے کہا تو تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا جاتا ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 185 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  186. 186

    وَمَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ ٱلْكَـٰذِبِينَ

    اور تو تو ہم ہی جیسا ایک انسان ہے اور ہم تو تجھے جھوٹ بولنے والوں میں سے ہی سمجھتے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی تو جو دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے اللہ نے وحی و رسالت سے نوازا ہے، ہم تجھے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتے ہیں، کیونکہ تو بھی ہم جیسا ہی انسان ہے۔ پھر تو اس شرف سے مشرف کیونکر ہوسکتا ہے؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 186 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  187. 187

    فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ

    اگر تو سچے لوگوں میں سے ہے تو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرادے.[1]

    حواشی

    [1] یہ حضرت شعیب (عليه السلام) کی تہدید کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر تو واقعی سچا ہے تو جاہم تجھے نہیں مانتے، ہم پر آسمان کا ٹکڑا گراکر دکھا!۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 187 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  188. 188

    قَالَ رَبِّىٓ أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ

    کہاکہ میرا رب خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کر رہے ہو.[1]

    حواشی

    [1] یعنی تم جو کفروشرک کر رہے ہو، سب اللہ کے علم میں ہے اور وہی اس کی جزا تمہیں دے گا، اگر چاہے گا تو دنیا میں بھی دے دے گا، یہ عذاب اور سزا اس کے اختیار میں ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 188 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  189. 189

    فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ ٱلظُّلَّةِ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ

    چونکہ انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا[1] ۔ وه بڑے بھاری دن کا عذاب تھا.

    حواشی

    [1] انہوں نے بھی کفار مکہ کی طرح آسمانی عذاب مانگا تھا، اللہ نے اس کے مطابق ان پر عذاب نازل فرمادیا اور وہ اس طرح کہ بعض روایات کے مطابق سات دن تک ان پر سخت گرمی اور دھوپ مسلط کردی، اس کے بعد بادلوں کا ایک سایہ آیا اور یہ سب گرمی اور دھوپ کی شدت سے بچنے کے لیے اس سائے تلے جمع ہوگئے اور کچھ سکھ کا سانس لیا۔ لیکن چند لمحے بعد ہی آسمان سے آگ کے شعلے برسنے شروع ہوگئے، زمین زلزلے سے لرز اٹھی اور ایک سخت چنگھاڑ نے انہیں ہمیشہ کے لیے موت کی نیند سلادیا۔ یوں تین قسم کا عذاب ان پر آیا اور یہ اس دن آیا جس دن ان پر بادل سایہ فگن ہوا، اس لیے فرمایا کہ سائے والے دن کے عذاب نے انہیں پکڑ لیا۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تین مقامات پر قوم شعیب (عليه السلام) کی ہلاکت کا ذکر کیا ہے اور تینوں جگہ موقع کی مناسبت سے الگ الگ عذاب کا ذکر کیا ہے۔ سورۂ اعراف ، 88 میں زلزلہ کا ذکر ہے، سورۂ ہود، 94 میں صيحة(چیخ) کا اور یہاں شعراء میں آسمان سے ٹکڑے گرانے کا۔ یعنی تین قسم کا عذاب اس قوم پر آیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 189 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  190. 190

    إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ

    یقیناً اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں کےاکثر مسلمان نہ تھے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 190 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  191. 191

    وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ

    اور یقیناً تیرا پروردگار البتہ وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 191 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  192. 192

    وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

    اور بیشک و شبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 192 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  193. 193

    نَزَلَ بِهِ ٱلرُّوحُ ٱلْأَمِينُ

    اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے.[1]

    حواشی

    [1] کفار مکہ نے قرآن کےوحی الٰہی اور منزل من اللہ ہونے کا انکار کیا اور اسی بنا پر رسالت محمدیہ اور دعوت محمدیہ کا انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انبیا علیہم السلام کے واقعات بیان کرکے یہ واضح کیاکہ یہ قرآن یقیناً وحی الٰہی ہے اور محمد (صلى الله عليه وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ پیغمبر جو پڑھ سکتا نہ لکھ سکتا ہے۔ گزشتہ انبیا اور قوموں کے واقعات کس طرح بیان کرسکتا تھا؟ اس لیے یہ قرآن یقیناً اللہ رب العالمین ہی کی طرف سے نازل کردہ ہے جسے ایک امانت دار فرشتہ یعنی جبرائیل (عليه السلام) لے کر آئے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 193 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  194. 194

    عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ ٱلْمُنذِرِينَ

    آپ کے دل پر اترا ہے[1] کہ آپ آگاه کر دینے والوں میں سے ہو جائیں.[2]

    حواشی

    [1] دل کا بطور خاص اس لیے ذکر فرمایا کہ حواس باطنہ میں دل ہی سب سے زیادہ ادراک او رحفظ کی قوت رکھتا ہے۔ [2] یہ نزول قرآن کی علت ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 194 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  195. 195

    بِلِسَانٍ عَرَبِىٍّ مُّبِينٍ

    صاف عربی زبان میں ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 195 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  196. 196

    وَإِنَّهُۥ لَفِى زُبُرِ ٱلْأَوَّلِينَ

    اگلے نبیوں کی کتابوں میں بھی اس قرآن کا تذکره ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی جس طرح پیغمبرآخرالزماں (صلى الله عليه وسلم) کے ظہور و بعثت کا اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کی صفات جمیلہ کا تذکرہ پچھلی کتابوں میں ہے، اسی طرح اس قرآن کے نزول کی خوشخبری بھی صحف سابقہ میں دی گئی تھی۔ ایک دوسرے معنی یہ کیے گئے ہیں کہ یہ قرآن مجید، بہ اعتبار ان احکام کے، جن پر تمام شریعتوں کا اتفاق رہا ہے، پچھلی کتابوں میں بھی موجود رہا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 196 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  197. 197

    أَوَلَمْ يَكُن لَّهُمْ ءَايَةً أَن يَعْلَمَهُۥ عُلَمَـٰٓؤُا۟ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ

    کیا انہیں یہ نشانی کافی نہیں کہ حقانیت قرآن کو تو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] کیونکہ ان کتابوں میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کا اور قرآن کا ذکر موجود ہے۔ یہ کفار مکہ، مذہبی معاملات میں یہود کی طرف رجوع کرتے تھے، اس اعتبار سے فرمایاکہ کیاان کا یہ جاننا اوربتلانا اس بات کی دلیل نہیں کہ محمد (صلى الله عليه وسلم) ،اللہ کے سچے رسول اور یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ پھر یہ یہود کی اس بات کو مانتے ہوئے پیغمبر پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 197 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  198. 198

    وَلَوْ نَزَّلْنَـٰهُ عَلَىٰ بَعْضِ ٱلْأَعْجَمِينَ

    اور اگر ہم اسے کسی عجمی شخص پر نازل فرماتے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 198 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  199. 199

    فَقَرَأَهُۥ عَلَيْهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ مُؤْمِنِينَ

    پس وه ان کے سامنے اس کی تلاوت کرتا تو یہ اسے باور کرنے والے نہ ہوتے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی کسی عجمی زبان میں نازل کرتے تو یہ کہتے کہ یہ تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ جیسے حٰم السجدۃ۔ 44 میں ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 199 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  200. 200

    كَذَٰلِكَ سَلَكْنَـٰهُ فِى قُلُوبِ ٱلْمُجْرِمِينَ

    اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی سَلَكْنَاهُ میں ضمیر کا مرجع کفروتکذیب اور جحود و عناد ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 200 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  201. 201

    لَا يُؤْمِنُونَ بِهِۦ حَتَّىٰ يَرَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَلِيمَ

    وه جب تک دردناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کرلیں ایمان نہ ﻻئیں گے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 201 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  202. 202

    فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

    پس وه عذاب ان کو ناگہاں آجائے گا انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو گا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 202 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  203. 203

    فَيَقُولُوا۟ هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ

    اس وقت کہیں گے کہ کیا ہمیں کچھ مہلت دی جائے گی؟[1]

    حواشی

    [1] لیکن مشاہدۂ عذاب کے بعد مہلت نہیں دی جاتی، نہ اس وقت کی توبہ ہی مقبول ہے، «فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا» (المؤمن: 85)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 203 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  204. 204

    أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ

    پس کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟[1]

    حواشی

    [1] یہ اشارہ ہے ان کے مطالبے کی طرف جو اپنے پیغمبر سے کرتے رہے ہیں کہ اگر تو سچا ہےتو عذاب لے آ۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 204 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  205. 205

    أَفَرَءَيْتَ إِن مَّتَّعْنَـٰهُمْ سِنِينَ

    اچھا یہ بھی بتاؤ کہ اگر ہم نے انہیں کئی سال بھی فائده اٹھانے دیا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 205 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  206. 206

    ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُوا۟ يُوعَدُونَ

    پھر انہیں وه عذاب آ لگا جن سے یہ دھمکائے جاتے تھے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 206 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  207. 207

    مَآ أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يُمَتَّعُونَ

    تو جو کچھ بھی یہ برتتے رہے اس میں سے کچھ بھی فائده نہ پہنچا سکے گا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی اگر ہم انہیں مہلت دے دیں اور پھر انہیں اپنے عذاب کی گرفت میں لیں، تو کیا دنیا کا مال و متاع ان کے کچھ کام آئے گا؟ یعنی انہیں عذاب سے بچاسکے گا؟ نہیں، یقیناً نہیں۔ «وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ» (البقرة: 96) «وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى» (الليل: 11)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 207 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  208. 208

    وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنذِرُونَ

    ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا ہے مگر اسی حال میں کہ اس کے لیے ڈرانے والے تھے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 208 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  209. 209

    ذِكْرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَـٰلِمِينَ

    نصیحت کے طور پر اور ہم ﻇلم کرنے والے نہیں ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی ارسال رسل اور انذار کے بغیر اگر ہم کسی بستی کو ہلاک کردیتے تو یہ ظلم ہوتا، ہم نے ایسا ظلم نہیں کیا بلکہ عدل کے تقاضوں کے مطابق ہم نے پہلے ہر بستی میں رسول بھیجے، جنہوں نے اہل قریہ کو عذاب الٰہی سے ڈرایا اور اس کےبعد جب انہوں نے پیغمبر کی بات نہیں مانی، تو ہم نے انہیں ہلاک کیا۔ مضمون بنی اسرائیل: 15 اور قصص: 59 وغیرہ بھی بیان کیاگیا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 209 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  210. 210

    وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ ٱلشَّيَـٰطِينُ

    اس قرآن کو شیطان نہیں ﻻئے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 210 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  211. 211

    وَمَا يَنۢبَغِى لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ

    نہ وه اس کے قابل ہیں، نہ انہیں اس کی طاقت ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 211 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  212. 212

    إِنَّهُمْ عَنِ ٱلسَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ

    بلکہ وه تو سننے سے بھی محروم کردیے گئے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] ان آیات میں قرآن کی، شیطانی دخل اندازیوں سے،محفوظیت کا بیان ہے۔ ایک تو اس لیے کہ شیاطین کا قرآن لیکر نازل ہونا، ان کے لائق نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا مقصد شروفساد اور منکرات کی اشاعت ہے، جب کہ قرآن کا مقصد نیکی کا حکم اور فروغ اور منکرات کا سدباب ہے۔ گویا دونوں ایک دوسرے کی ضد اور باہم منافی ہیں۔ دوسرے، یہ کہ شیاطین اس کی طاقت بھی نہیں رکھتے، تیسرے، نزول قرآن کے وقت شیاطین اس کے سننے سے دور اور محروم رکھے گئے، آسمانوں پر ستاروں کو چوکیدار بنادیاگیا تھا اور جو بھی شیطان اوپر جاتا یہ ستارے اس پر برق خاطف بن کر گرتے اور بھسم کر دیتے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کو شیاطین سے بچانے کا خصوصی اہتمام فرمایا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 212 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  213. 213

    فَلَا تَدْعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَـٰهًا ءَاخَرَ فَتَكُونَ مِنَ ٱلْمُعَذَّبِينَ

    پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار کہ تو بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجائے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 213 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  214. 214

    وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ ٱلْأَقْرَبِينَ

    اپنے قریبی رشتہ والوں کو ڈرا دے.[1]

    حواشی

    [1] پیغمبر کی دعوت صرف رشتے داروں کے لیے نہیں، بلکہ پوری قوم کے لیے ہوتی ہے اور نبی (صلى الله عليه وسلم) تو پوری نسل انسانی کے لیے ہادی اور رہبر بن کر آئے تھے۔ قریبی رشتے داروں کو دعوت ایمان، دعوت عام کے منافی نہیں، بلکہ اسی کا ایک حصہ یا اس کا ایک ترجیحی پہلو ہے۔ جس طرح حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے بھی سب سے پہلے اپنے باپ آزر کو توحید کی دعوت دی تھی۔ اس حکم کےبعد نبی (صلى الله عليه وسلم) صفاپہاڑی پر چڑھ گئے اور يَا صَبَاحَاهُ کہہ کر آواز دی۔ یہ کلمہ اس وقت بولا جاتا ہے جب دشمن اچانک حملہ کردے، اس کے ذریعے سے قوم کو خبردار کیا جاتا ہے۔ یہ کلمہ سن کر لوگ جمع ہوگئے، آپ نے قریش کے مختلف قبیلوں کے نام لے لے کر فرمایا، بتلاؤ اگر میں تمہیں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر دشمن کا لشکر موجود ہے جو تم پر حملہ آور ہواچاہتا ہے، تو کیا تم مانو گے؟ سب نےکہا ہاں، یقیناً ہم تصدیق کریں گے۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے نذیربنا کربھیجا ہے، میں تمہیں ایک سخت عذاب سے ڈراتا ہوں، اس پر ابو لہب نے کہا تَبًّا لَكَ أَمَا دَعَوْتَنَا إِلا لِهَذَا ”تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تو نے ہمیں اسی لیے بلایا تھا؟“ اس کے جواب میں سورۂ تبت نازل ہوئی (صحيح بخاري، تفسير سورة المسد) آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اپنی بیٹی فاطمہ (رضی الله عنها) اور اپنی پھوپھی حضرت صفیہ (رضی الله عنها) کو بھی فرمایا، تم اللہ کے ہاں بچاؤ کا بندوبست کر لو، میں وہاں تمہارے کام نہیں آسکوں گا (صحيح مسلم كتاب الإيمان، باب وأنذر عشيرتك الأقربين)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 214 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  215. 215

    وَٱخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

    اس کے ساتھ فروتنی سے پیش آ، جو بھی ایمان ﻻنے واﻻ ہو کر تیری تابعداری کرے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 215 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  216. 216

    فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّى بَرِىٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ

    اگر یہ لوگ تیری نافرمانی کریں تو تو اعلان کردے کہ میں ان کاموں سے بیزار ہوں جو تم کر رہے ہو.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 216 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  217. 217

    وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱلْعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ

    اپنا پورا بھروسہ غالب مہربان اللہ پر رکھ.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 217 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  218. 218

    ٱلَّذِى يَرَىٰكَ حِينَ تَقُومُ

    جو تجھے دیکھتا رہتا ہے جبکہ تو کھڑا ہوتا ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 218 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  219. 219

    وَتَقَلُّبَكَ فِى ٱلسَّـٰجِدِينَ

    اور سجده کرنے والوں کے درمیان تیرا گھومنا پھرنا بھی.[1]

    حواشی

    [1] یعنی جب تو تنہا ہوتا ہے، تب بھی اللہ دیکھتا ہے اور جب لوگوں میں ہوتا ہے تب بھی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 219 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  220. 220

    إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

    وه بڑا ہی سننے واﻻ اور خوب ہی جاننے واﻻ ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 220 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  221. 221

    هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ ٱلشَّيَـٰطِينُ

    کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 221 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  222. 222

    تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ

    وه ہر ایک جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی اس قرآن کے نزول میں شیطان کا کوئی دخل نہیں ہے، کیونکہ شیطان تو جھوٹوں اور گناہ گاروں (یعنی کاﮨنوں،نجومیوں وغیرہ) پر اترتے ہیں نہ کہ انبیا و صالحین پر۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 222 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  223. 223

    يُلْقُونَ ٱلسَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَـٰذِبُونَ

    (اچٹتی) ہوئی سنی سنائی پہنچا دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی ایک آدھ بات، جو کسی طرح وہ سننے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، ان کاہنوں کو آکر بتلادیتے ہیں، جن کے ساتھ وہ جھوٹی باتیں اور ملالیتے ہیں (جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے۔) ملاحظہ ہو (صحيح بخاري، كتاب التوحيد ، باب قراءة الفاجر والمنافق وبدء الخلق ، باب صفة إبليس وجنوده، صحيح مسلم، كتاب السلام باب تحريم الكهانة وإتيان الكهان)، «يُلْقُونَ السَّمْعَ» شیاطین آسمان سے سنی ہوئی بعض باتیں کاﮨنوں کو پہنچا دیتے ہیں، اس صورت میں سمع کے معنی مسموع کے ہوں گے۔ لیکن اگر اس کا مطلب حاسۂ سماعت (کان) ہے، تو مطلب ہوگا کہ شیاطین آسمانوں پر جاکر کان لگاکر چوری چھپے بعض باتیں سن آتےہیں اور پھر انہیں کاہنوں تک پہنچادیتے ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 223 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  224. 224

    وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلْغَاوُۥنَ

    شاعروں کی پیروی وه کرتے ہیں جو بہکے ہوئے ہوں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 224 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  225. 225

    أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ

    کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ایک ایک بیابان میں سر ٹکراتے پھرتے ہیں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 225 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  226. 226

    وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ

    اور وه کہتے ہیں جو کرتے نہیں.[1]

    حواشی

    [1] شاعروں کی اکثریت چونکہ ایسی ہوتی ہے کہ وہ مدح و ذم میں، اصول و ضابطے کے بجائے، ذاتی پسند و ناپسند کےمطابق اظہار رائے کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں غلو اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں اور شاعرانہ تخیلات میں کبھی ادھر اور کبھی ادھر بھٹکتے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ ان کے پیچھے لگنے والے بھی گمراہ ہیں۔ اسی قسم کے اشعار کے لیے حدیث میں بھی فرمایا گیا ہے کہ ”پیٹ کو لہو پیپ سے بھر جانا، جو اسے خراب کردے، شعر سے بھرجانے سے بہتر ہے“۔ (ترمذی، ابواب الآداب و مسلم وغیرہ) یہاں اس کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا پیغمبر کاﮨﻦ ہے نہ شاعر۔ اس لیے کہ یہ دونوں ہی جھوٹے ہیں۔ چنانچہ دوسرےمقامات پر بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) کے شاعر ہونے کی نفی کی گئی ہے۔ مثلاً سورۂ یٰسین:69 ،سورۃ الحاقہ: 40 - 43۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 226 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  227. 227

    إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَذَكَرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِيرًا وَٱنتَصَرُوا۟ مِنۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا۟ ۗ وَسَيَعْلَمُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ

    سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے[1] اور نیک عمل کیے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اپنی مظلومی کے بعد انتقام لیا[2]، جنہوں نے ﻇلم کیا ہے وه بھی عنقریب جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں.[3]

    حواشی

    [1] اس سے ان شاعروں کو مستثنیٰ فرما دیا گیا، جن کی شاعری صداقت اور حقائق پر مبنی ہے اور استثنا ایسے الفاظ سے فرمایا جن سے واضح ہو جاتا ہے کہ مومن، عمل صالح پر کاربند اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والا شاعر غلط شاعری، جس میں جھوٹ، غلو اور افراط و تفریط ہو، کر ہی نہیں سکتا۔ یہ ان ہی لوگوں کا کام ہے جو مومنانہ صفات سےعاری ہوں۔ [2] یعنی ایسے مومن شاعر، ان کافر شعراء کا جواب دیتے ہیں، جس میں انہوں نے مسلمانوں کی ہجو (برائی) کی ہو۔ جس طرح حضرت حسان بن ثابت (رضي الله عنه) کافروں کی ہجویہ شاعری کا جواب دیا کرتے تھے اور خود نبی (صلى الله عليه وسلم) ان کو فرماتے کہ ”ان (کافروں) کی ہجو بیان کرو، جبرائیل (عليه السلام) بھی تمہارے ساتھ ہیں“۔ (صحيح بخاري، كتاب بدء الخلق، باب ذكر الملائكة، مسلم، فضائل حسان بن ثابت) اس سے معلوم ہوا کہ ایسی شاعری جائز ہے جس میں کذب و مبالغہ نہ ہو اور جس کے ذریعے سے مشرکین و کفار اور مبتدعین و اہل باطل کو جواب دیاجائے اور مسلک حق اور توحید و سنت کا اثبات کیاجائے۔ [3] یعنی أَيَّ مَرْجَع يَرْجِعُونَ یعنی کون سی جگہ وہ لوٹتے ہیں؟ اور وہ جہنم ہے۔ اس میں ظالموں کے لیے سخت وعید ہے۔ جس طرح حدیث میں بھی فرمایا گیا ہے ”تم ظلم سے بچو! اس لیے کہ ظلم قیامت والے دن اندھیروں کا باعث ہوگا“۔ (صحيح مسلم، كتاب البر، باب تحريم الظلم)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 227 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنملالنمل

قرآن کا متن: تنزیل

غلطی کی اطلاع دیں

مزید