الفرقان

فرقان

77 آیاتمکیپارہ 18

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 48

    وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ ٱلرِّيَـٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهِۦ ۚ وَأَنزَلْنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً طَهُورًا

    اور وہی ہے جو باران رحمت سے پہلے خوش خبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] طَهُورٌ (بِفَتْحِ الطَّاءِ) فعول کے وزن پر آلے کے معنی میں ہے یعنی ایسی چیز جس سے پاکیزگی حاصل کی جاتی ہے۔ جیسے وضو کے پانی کو وضو اورایندھن کو وقود کہا جاتا ہے، اس معنی میں پانی طاہر (خود بھی پاک) اور مطہر (دوسروں کو پاک کرنے والا) بھی ہے۔ حدیث میں بھی ہے «إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لا يُنَجِّسُه شَيْءٌ» (أبو داود والترمذي ـ نمبر 66 النسائي و ابن ماجه وصححه الألباني في السنن) ”پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی“ ہاں اگر اس کا رنگ یابو یاذائقہ بدل جائے تو ایسا پانی ناپاک ہے۔ كَمَا فِي الحَدِيثِ۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 48 - 49 کی تفسیر

    [49,48] یعنی اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت سے ڈھانپ لیا ہے اور اپنے رزق کی ان پر اس طرح فراوانی کی کہ اس نے اپنی رحمت یعنی بارش کے آگے آگے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجیں اور اس کے ذریعے سے اس نے بادلوں پر اپنے رزق کے دروازے کھول دیے … ان ہواؤں کے ذریعے سے بادل اٹھتا ہے پھر اکٹھا ہو کر گھٹا کے ٹکڑے بن جاتا ہے، ہوائیں اسے بار آور کرتی ہیں اور پھر اپنے رب اور تصرف کرنے والے کے حکم سے اس گھٹا کو کھینچ کر لاتی ہیں … تاکہ بارش برسنے سے پہلے بندے بارش کی آمد کی نوید پر خوش ہو جائیں اور بارش کے اچانک آجانے سے پہلے بارش کے لیے تیار ہو جائیں ۔ ﴿وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًا ﴾ ’’اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی پاک کرنے والا۔‘‘ جو بندوں کو حدث اور گندگی سے پاک اور میل کچیل کو صاف کرتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی برکت یہ ہے کہ اس نے بارش برسا کر مردہ زمین کو زندہ کیا، پھر اس سے مختلف قسم کی نباتات اور درخت اگائے جنھیں انسان اور مویشی کھاتے ہیں : ﴿وَّنُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّاَنَاسِیَّ كَثِیْرًا ﴾ یعنی ہم تمھیں اور تمھارے مویشیوں کو اس پانی سے سیراب کرتے ہیں ۔ کیا وہ ہستی جس نے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجیں ، ان کو متنوع امور پر مامور کیا، جس نے آسمان سے پاک اور بابرکت پانی برسایا، جس میں بندوں اور ان کے جانوروں کا رزق ہے اس بات کی مستحق نہیں کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہرایا جائے؟

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 48 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتشعراءالشعراء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید