الفرقان

فرقان

77 آیاتمکیپارہ 18

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 60

    وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱسْجُدُوا۟ لِلرَّحْمَـٰنِ قَالُوا۟ وَمَا ٱلرَّحْمَـٰنُ أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُورًا ۩

    ان سے جب بھی کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجده کرو تو جواب دیتے ہیں رحمٰن ہے کیا؟ کیا ہم اسے سجده کریں جس کا تو ہمیں حکم دے رہا ہے اور اس (تبلیﻎ) نےان کی نفرت میں مزید اضافہ کردیا.[1]

    حواشی

    [1] رَحْمَن، رَحِيمٌ اللہ کی صفات اور اسمائے حسنٰی میں سے ہیں لیکن اہل جاہلت، اللہ کو ان ناموں سے نہیں پہچانتے تھے۔ جیسا کہ صلح حدیبیہ کے موقعے پر جب نبی (صلى الله عليه وسلم) نےمعاہدے کے آغاز پر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لکھوایا، تو مشرکین مکہ نے کہا، ہم رحمٰن و رحیم کو نہیں جانتے۔ بِاسْمكَ اللَّهُمَّ! لکھو۔ (سیرت ابن ہشام: 2 / 317) مزید دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل:110۔ الرعد:30۔ یہاں بھی ان کا رحمٰن کےنام سے بدکنے اور سجدہ کرنے سے گریز کرنے کا ذکر ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 60 کی تفسیر

    [60] بنابریں فرمایا: ﴿ وَاِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ ﴾ ’’جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمان کو سجدہ کرو۔‘‘ یعنی صرف رحمن کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ جس نے تمھیں تمام نعمتوں سے نواز رکھا ہے اور تم سے تمام سختیوں کو دور کیا ہے ﴿قَالُوْا﴾ ’’تو انھوں نے (انکار کرتے ہوئے) کہا:‘‘ ﴿وَمَا الرَّحْمٰنُ﴾ ’’اور رحمان کیا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے زعم فاسد کے مطابق کہتے ہیں کہ وہ ’’رحمن‘‘ کو نہیں پہچانتے۔ رسول (e)کے بارے میں ان کی جملہ جرح وقدح یہ بھی ہے کہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت سے روکتا ہے اور خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک اور معبود کو پکارتا ہے اور کہتا ہے )یارحمٰن( جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُ٘لِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰؔى ﴾ (بنی اسرائیل:17؍110) ’’کہہ دیجیے کہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر پکارو۔ اسے جس نام سے بھی پکارو اس کے سب نام بہت اچھے ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے کثرت اوصاف اور تعدد کمال کی بنا پر اس کے نام بھی بکثرت ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ہر نام اس کی ایک صفت کمال پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا ﴾ ’’کیا جس کے لیے تم ہمیں کہتے ہو کہ ہم اس کے آگے سجدہ کریں ۔‘‘ یعنی مجرد تیرے حکم دینے سے اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں ۔ ان کا یہ قول رسول (e)کی تکذیب اور اللہ کی اطاعت کے بارے میں ان کے تکبر پر مبنی ہے۔ ﴿ وَزَادَهُمْ ﴾ ’’اور زیادہ کیا ان کو‘‘ یعنی رحمن کو سجدہ کرنے کی دعوت نے ﴿ نُفُوْرًا ﴾ ’’بدکنے میں ‘‘ یعنی ان کے حق سے باطل کی طرف بھاگنے، ان کے کفر اور ان کی بدبختی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 60 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتشعراءالشعراء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید