النمل

نمل

93 آیاتمکیپارہ 19

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 15

    وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَـٰنَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ ٱلْمُؤْمِنِينَ

    اور ہم نے یقیناً داؤد اور سلیمان کو علم دے رکھا تھا[1] ۔ اور دونوں نے کہا، تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے.

    حواشی

    [1] سورت کے شروع میں فرمایا گیا تھا کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے سکھلایا جاتا ہے، اس کی دلیل کے طور پر حضرت موسیٰ (عليه السلام) کا قصہ مختصراً بیان فرمایا اور اب دوسری دلیل حضرت داود (عليه السلام) وسلیمان (عليه السلام) کا یہ قصہ ہے۔ انبیا علیہم السلام کے یہ واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں۔ علم سے مراد نبوت کے علم کے علاوہ وہ علم ہے جن سے حضرت حضرت داود (عليه السلام) اور سلیمان (عليه السلام) کو بطور خاص نوازا گیا تھا جیسے حضرت داود (صلى الله عليه وسلم) کو لوہے کی صنعت کاعلم اور حضرت سلیمان (عليه السلام) کو جانورون کی بولیوں کا علم عطا کیاگیا تھا۔ ان دونوں باپ بیٹوں کو اور بھی بہت کچھ عطا کیا گیا تھا، لیکن یہاں صرف علم کا ذکر کیاگیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہےکہ علم اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 15 کی تفسیر

    [15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَ٘یْمٰنَ اِذْ یَحْكُ٘مٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ۰۰فَفَهَّمْنٰهَا سُلَ٘یْمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّعِلْمًا ﴾ (الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا: ﴿ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 15 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقصصالقصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید