النمل

نمل

93 آیاتمکیپارہ 19

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 17

    وَحُشِرَ لِسُلَيْمَـٰنَ جُنُودُهُۥ مِنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ وَٱلطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ

    سلیمان کے سامنے ان کے تمام لشکر جنات اور انسان اور پرند میں سے جمع کیے گئے[1] (ہر ہر قسم کی) الگ الگ درجہ بندی کردی گئی.[2]

    حواشی

    [1] اس میں حضرت سلیمان (عليه السلام) کی اس انفرادی خصوصیت و فضیلت کاذکر ہے، جس میں وہ پوری تاریخ انسانیت میں ممتاز ہیں کہ ان کی حکمرانی صرف انسانوں پر ہی نہیں بلکہ جنات، حیوانات اور چرند و پرند حتیٰ کہ ہوا تک ان کے ماتحت تھی، اس میں کہا گیا ہے کہ سلیمان (عليه السلام) کے تمام لشکر یعنی جنوں، انسانوں اور پرندوں سب کو جمع کیاگیا۔ یعنی کہیں جانے کے لیے یہ لاؤ لشکر جمع کیاگیا۔ [2] یہ ترجمہ (توزیع بمعنی تفریق) کےاعتبار سے ہے۔ یعنی سب کو الگ الگ گروہوں میں تقسیم (قسم وار) کردیا جاتا تھا، مثلاً انسانوں، جنوں کا گروہ، پرندوں اور حیوانات کے گروہ۔ وغیرہ وغیرہ۔ دوسرے معنی اس کے (پس وہ روکے جایا کرتے تھے) یعنی یہ لشکر اتنی بڑی تعداد میں ہوتا تھا کہ راستے میں روک روک کر ان کو درست کیا جاتا تھا کہ شاہی لشکر بدنظمی اور انتشار کا شکار نہ ہو یہ وَزَعَ يَزَعُ سے ہے، جس کے معنی روکنے کے ہیں۔ اسی مادے میں ہمزۂ سلب کا اضافہ کرکے أَوْزِعْنِي بنایا گیا ہے۔ جو اگلی آیت نمبر 19 میں آرہا ہے یعنی ایسی چیزیں مجھ سے دور فرمادے، جو مجھے تیری نعمتوں پر تیرا شکر کرنے سے روکتی ہیں۔ اس کو اردو میں ہم الہام و توفیق سے تعبیر کر لیتے ہیں۔ (فتح القدیر، ایسرالتفاسیر وابن کثیر)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 17 کی تفسیر

    [17] ﴿ وَحُشِرَ لِسُلَ٘یْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْ٘سِ وَالطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُ٘نْ اَوْ اَمْسِكْ ﴾ (صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 17 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقصصالقصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید