النمل

نمل

93 آیاتمکیپارہ 19

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 18

    حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَوْا۟ عَلَىٰ وَادِ ٱلنَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّمْلُ ٱدْخُلُوا۟ مَسَـٰكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَـٰنُ وَجُنُودُهُۥ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

    جب وه چینوٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو! اپنے اپنے گھروں میں گھس جاؤ، ایسا نہ ہو کہ بیخبری میں سلیمان اور اس کا لشکر تمہیں روند ڈالے.[1]

    حواشی

    [1] اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ حیوانات میں بھی ایک خاص قسم کا شعور موجود ہے۔ گویا وہ انسانوں سے بہت کم اور مختلف ہے۔ دوسرا، یہ کہ حضرت سلیمان (عليه السلام) اتنی عظمت و فضیلت کے باوجود عالم الغیب نہیں تھے، اسی لیے چیونٹیوں کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں بے خبری میں ہم روند نہ دیئے جائیں۔ تیسرا، یہ کہ حیوانات بھی اسی عقیدۂ صحیحہ سے بہرور تھے اور ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عالم الغب نہیں۔ جیسا کہ آگے آنے والے ہدہد کے واقعے سے بھی اس کی مزید تائید ہوتی ہے۔ چوتھا، یہ کہ حضرت سلیمان (عليه السلام) پرندوں کے علاوہ دیگر جانوروں کی بولیاں بھی سمجھتے تھے۔ یہ علم بطور اعجاز اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا تھا، جس طرح تسخیر جنات وغیرہ اعجازی شان تھی۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 18 کی تفسیر

    [18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَ٘یْمٰنُ وَجُنُوْدُهٗ وَهُمْ لَا یَشْ٘عُرُوْنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 18 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقصصالقصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید