النمل

نمل

93 آیاتمکیپارہ 19

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 23

    إِنِّى وَجَدتُّ ٱمْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَىْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ

    میں نے دیکھا کہ ان کی بادشاہت ایک عورت کر رہی ہے[1] جسے ہر قسم کی چیز سے کچھ نہ کچھ دیا گیا ہے اور اس کا تخت بھی بڑی عظمت واﻻ ہے.[2]

    حواشی

    [1] یعنی ہدہد کے لئے بھی یہ امر باعث تعجب تھا کہ سبا میں ایک عورت حکمران ہے۔ لیکن آج کل کہا جاتا ہے کہ عورتیں بھی ہر معاملے میں مردوں کے برابر ہیں۔ اگر مرد حکمران ہو سکتاہے تو عورت کیوں نہیں ہوسکتی؟ حالانکہ یہ نظریہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ بعض لوگ ملکہ سبا (بلقیس) کے اس ذکر سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عورت کی سربراہی جائز ہے۔ حالانکہ قرآن نے ایک واقعے کے طور پر اس کا ذکر کیا ہے ، اس سے اس کے جواز یا عدم جواز کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ عورت کی سربراہی کے عدم جواز پر قرآن و حدیث میں واضح دلائل موجود ہیں۔ [2] کہا جاتا ہے کہ اس کا طول 80 ہاتھ عرض 40 ہاتھ اور اونچائی 30 ہاتھ تھی اور اس میں موتی ، سرخ یاقوت اور سبز زمرد جڑے ہوئےتھے ، واللہ اعلم (فتح القدیر) ویسے یہ قول مبالغے سے خالی نہیں معلوم ہوتا۔ یمن میں بلقیس کا جو محل ٹوٹی پھوٹی شکل میں موجود ہے اس میں اتنے بڑے تخت کی گنجائش نہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 23 کی تفسیر

    [23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُ٘هُمْ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوْتِیَتْ مِنْ كُ٘لِّ شَیْءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرْشٌ٘ عَظِیْمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 23 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقصصالقصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید