النمل

نمل

93 آیاتمکیپارہ 19

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 36

    فَلَمَّا جَآءَ سُلَيْمَـٰنَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَآ ءَاتَىٰنِۦَ ٱللَّهُ خَيْرٌ مِّمَّآ ءَاتَىٰكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ

    پس جب قاصد حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا کیا تم مال سے مجھے مدد دینا چاہتے ہو[1] ؟ مجھے تو میرے رب نے اس سے بہت بہتر دے رکھا ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے پس تم ہی اپنے تحفے سے خوش رہو.[2]

    حواشی

    [1] یعنی تم دیکھ نہیں رہے، کہ اللہ نے مجھے ہر چیز سے نوازا ہوا ہے۔ پھر تم اپنے اس ہدیے سے میرے مال و دولت میں کیا اضافہ کرسکتے ہو؟ یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی کوئی اضافہ نہیں کرسکتے۔ [2] یہ بطور توبیخ کے کہاکہ تم ہی اس ہدیے پر فخر کرو اور خوش ہو، میں تو اس سے خوش ہونے سے رہا، اس لیے کہ ایک تو دنیا میرا مقصود ہی نہیں ہے۔ دوسرے اللہ نے مجھے وہ کچھ دیا ہے جو پورے جہان میں کسی کو نہیں دیا۔ تیسرے، مجھے نبوت سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 36 کی تفسیر

    [36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَ٘یْمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمْ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 36 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقصصالقصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید