النمل

نمل

93 آیاتمکیپارہ 19

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 38

    قَالَ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَؤُا۟ أَيُّكُمْ يَأْتِينِى بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِى مُسْلِمِينَ

    آپ نے فرمایا اے سردارو! تم میں سے کوئی ہے جو ان کے مسلمان ہو کر پہنچنے سے پہلے ہی اس کا تخت مجھے ﻻدے.[1]

    حواشی

    [1] حضرت سلیمان (عليه السلام) کے اس جواب سے ملکہ نے اندازہ لگالیا کہ وہ سلیمان (عليه السلام) کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ چنانچہ انہوں نے مطیع و منقاد ہو کر آنے کی تیاری شروع کردی۔ سلیمان (عليه السلام) کو بھی ان کی آمد کی اطلاع مل گئی تو آپ نے نہیں مزید اپنی اعجازی شان دکھانے کا پروگرام بنایا اور ان کے پہنچنے سے قبل ہی اس کا تخت شاہی اپنے پاس منگوانے کا بندوبست کیا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 38 - 40 کی تفسیر

    [40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَیُّكُمْ یَ٘اْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّ٘رُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُ٘رْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي) ﴿ قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَمَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 38 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقصصالقصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید