النمل

نمل

93 آیاتمکیپارہ 19

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 42

    فَلَمَّا جَآءَتْ قِيلَ أَهَـٰكَذَا عَرْشُكِ ۖ قَالَتْ كَأَنَّهُۥ هُوَ ۚ وَأُوتِينَا ٱلْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ

    پھر جب وه آگئی تو اس سے کہا (دریافت کیا) گیا کہ ایسا ہی تیرا (بھی) تخت ہے؟ اس نے جواب دیا کہ یہ گویا وہی ہے[1] ، ہمیں اس سے پہلے ہی علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے.

    حواشی

    [1] ردوبدل سے چونکہ اس کی وضع وہیئت میں کچھ تبدیلی آگئی تھی، اس لیے اس نے صاف الفاظ میں اس کے اپنے ہونے کا اقرار بھی نہیں کیا اور ردوبدل کے باوجود انسان پھر بھی اپنی چیز کو پہچان ہی لیتا ہے، اس لیے اپنے ہونے کی نفی بھی نہیں کی۔ اور یہ کہا (یہ گویا وہی ہے) اس میں اقرار ہے نہ نفی۔ بلکہ نہایت محتاط جواب ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 42 کی تفسیر

    [42] ﴿ فَلَمَّا جَآءَتْ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِیْلَ اَهٰؔكَذَا عَرْشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا: ﴿وَاُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسْلِمِیْنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 42 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقصصالقصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید