النمل

نمل

93 آیاتمکیپارہ 19

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 59

    قُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَـٰمٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ ٱلَّذِينَ ٱصْطَفَىٰٓ ۗ ءَآللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ

    تو کہہ دے کہ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے برگزیده بندوں پر سلام ہے[1] ۔ کیا اللہ تعالیٰ بہتر ہے یا وه جنہیں یہ لوگ شریک ٹھہرا رہے ہیں.[2]

    حواشی

    [1] جن کو اللہ نے رسالت اور بندوں کو رہنمائی کے لیے چنا تاکہ لوگ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔ [2] یہ استفہام تقریری ہے۔ یعنی اللہ ہی کی عبادت بہتر ہے کیونکہ جب خالق، رازق اور مالک وہی ہے تو عبادت کا مستحق کوئی دوسرا کیوں کر ہوسکتا ہے؟ جو نہ کسی چیز کا خالق ہے نہ رازق اور مالک خَيْرٌ اگرچہ تفضیل کا صیغہ ہے لیکن یہاں تفضیل کے معنی میں نہیں ہے، مطلق بہتر کے معنی میں ہے، اس لیے کہ معبود ان باطلہ میں تو سرے سے کوئی خیر ہے ہی نہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 59 کی تفسیر

    [59] یعنی کہہ دیجیے ﴿ الْحَمْدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’حمدوستائش اللہ ہی کے لیے ہے‘‘ جو اپنے کمال اوصاف، اپنے جمال عطا و بخشش، اہل تکذیب کو سزا دینے اور ظالموں کو عذاب دینے میں عدل و حکمت کی بنا پر کامل حمدوستائش اور مدح و ثنا کا مستحق ہے۔ نیز اس کے بندوں انبیاء و مرسلین پر سلام بھیجئے جن کو اس نے تمام جہانوں میں سے منتخب فرمایا جو رب کائنات کے چنے ہوئے اور محبوب بندے تھے اور یہ اس لیے ہے تاکہ ان کا ذکر اور ان کی تعظیم اور زیادہ ہو نیز اس لیے بھی کہ وہ شر اور گندگی سے پاک ہیں ، اپنے رب کے بارے میں جو کہتے ہیں وہ نقائص و عیوب سے محفوظ ہے۔ ﴿آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَ﴾ ’’بھلا اللہ بہتر ہے یا جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں ؟‘‘ یہ استفہام متحقق اور معروف ہے، یعنی اللہ، رب عظیم، جو کامل اوصاف اور عظیم الطاف کا مالک ہے، بہتر ہے یا یہ اصنام و اوثان بہتر ہیں ، جن کی یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کرتے ہیں ، جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان، جو خود اپنے لیے اور اپنے عبادت گزاروں کے لیے ذرہ بھر بھلائی کے مالک نہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ ان ہستیوں سے بہتر ہے جن کو یہ اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 59 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقصصالقصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید