النمل

نمل

93 آیاتمکیپارہ 19

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 61

    أَمَّن جَعَلَ ٱلْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَـٰلَهَآ أَنْهَـٰرًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَٰسِىَ وَجَعَلَ بَيْنَ ٱلْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا ۗ أَءِلَـٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

    کیا وه جس نے زمین کو قرار گاه بنایا[1] اور اس کے درمیان نہریں جاری کر دیں اور اس کے لیے پہاڑ بنائے اور دو سمندروں کے درمیان روک بنا دی[2] کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ ان میں سے اکثر کچھ جانتے ہی نہیں.

    حواشی

    [1] یعنی ساکن اور ثابت، نہ ہلتی ہے، نہ ڈولتی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو زمین پر رہنا ممکن ہی نہ ہوتا۔ زمین پر بڑے بڑے پہاڑ بنانے کا مقصد بھی زمین کو حرکت کرنے سے اور ڈولنے سے روکنا ہی ہے۔ [2] اس کی تشریح کے لیے دیکھیں سورۃ الفرقان ، 53 کا حاشیہ۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 61 کی تفسیر

    [61] یعنی کیا یہ بت اور اصنام جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں ، جن سے کوئی فعل صادر نہیں ہوتا، جو رزق دینے پر قادر ہیں نہ کوئی نفع پہچانے کی قدرت رکھتے ہیں ، وہ بہتر ہیں یا اللہ تعالیٰ؟ جس نے ﴿ اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَ٘رَارًا ﴾ ’’زمین کو قرار گاہ بنایا۔‘‘ جہاں بندے گھر اور ٹھکانا بناتے ہیں ، کھیتی باڑی کرتے ہیں ، عمارتیں تعمیر کرتے ہیں اور ادھر ادھر آتے جاتے ہیں ۔ ﴿ وَّجَعَلَ خِلٰ٘لَهَاۤ اَنْ٘هٰرًا ﴾ یعنی ا س نے زمین کے اندر دریا جاری كيے جن سے اس کے بندے اپنے کھیتیوں اور باغات میں فائدہ اٹھاتے ہیں ، ان سے خود پانی پیتے ہیں اور اپنے جانوروں کو پلاتے ہیں ۔ ﴿ وَّجَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ ﴾ ’’اور رکھ دیے اس کے اندر بوجھ۔‘‘ یعنی زمین کے اندر پہاڑ جما دیے جو اسے مضبوط رکھتے ہیں تاکہ یہ کہیں ڈھلک نہ جائے اور پہاڑ میخوں کا کام دیں تاکہ زمین نہ ہلے۔ ﴿ وَجَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ ﴾ ’’دو دریاؤں کے مابین بنائی۔‘‘ یعنی نمکین اور کھاری سمندر اور میٹھے سمندر کے درمیان ﴿حَاجِزًا﴾ ’’رکاوٹ۔‘‘ جو ان دونوں کو خلط ملط ہونے سے روکے ہوئے ہے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دونوں پانیوں کی منفعت مقصود ضائع ہو جائے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان زمین کی رکاوٹ حائل کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے دریاؤں کی گزر گاہوں کو سمندر سے بہت دور رکھا ہے تاکہ دریاؤں سے مصالح اور مقاصد کا حصول ممکن ہو۔ ﴿ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ﴾ ’’کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے‘‘ جو یہ تمام افعال سرانجام دیتا ہو اور یوں اسے اللہ تعالیٰ کا ہمسر قرار دے کر اسے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا جائے؟ ﴿ بَلْ اَ كْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴾ ’’بلکہ اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ اس لیے وہ اپنے سرداروں کی تقلید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ورنہ اگر انھیں پوری طرح علم ہوتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کبھی شرک نہ کرتے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 61 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقصصالقصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید