النمل

نمل

93 آیاتمکیپارہ 19

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 80

    إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْا۟ مُدْبِرِينَ

    بیشک آپ نہ مُردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں[1] ، جبکہ وه پیٹھ پھیرے روگرداں جا رہے ہوں.[2]

    حواشی

    [1] یہ ان کافروں کی پروا نہ کرنے اور صرف اللہ پر بھروسہ رکھنے کی دوسری وجہ ہے کہ یہ لوگ مردہ ہیں جو کسی کی بات سن کر فائدہ نہیں اٹھا سکتے یا بہرے ہیں جو سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں اور نہ راہ یاب ہونے والے ہیں۔ گویا کافروں کو مردوں سے تشبیہ دی جن میں حس ہوتی ہے نہ عقل اور بہروں سے، جو وعظ ونصیحت سنتے ہیں نہ دعوت الی اللہ قبول کرتے ہیں۔ [2] یعنی وہ حق سے مکمل طور پر گریزاں اور متنفر ہیں کیونکہ بہرہ آدمی رو در رو بھی کوئی بات نہیں سن پاتا چہ جائیکہ اس وقت سن سکے جب وہ منہ موڑ لے اور پیٹھ پھیرے ہوئے ہو۔ قرآن کریم کی اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سماع موتی کا عقیدہ قرآن کے خلاف ہے۔ مردے کسی کی بات نہیں سن سکتے۔ البتہ اس سے صرف وہ صورتیں مستثنیٰ ہوں گی جہاں سماعت کی صراحت کسی نص سے ثابت ہوگی۔ جیسے حدیث میں آتا ہے کہ مردے کو جب دفنا کر واپس جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے (صحيح بخاري نمبر 338 ، صحيح مسلم نمبر 2201) یا جنگ بدر میں کافر مقتولین کو جو قلیب بدر میں پھینک دیئے گئے تھے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے خطاب فرمایا، جس پر صحابہ نے کہا ”آپ (صلى الله عليه وسلم) بے روح جسموں سے گفتگو فرما رہے ہیں“۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ ”یہ تم سے زیادہ میری بات سن رہے ہیں“۔ یعنی معجزانہ طور پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی بات مردہ کافروں کو سنوا دی (صحيح بخاري نمبر 1307)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 80 کی تفسیر

    [80] جب آپ حق کی خاطر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں تو کسی کا گمراہ ہونا آپ کو کوئی نقصان نہیں دے سکتا اور ان کو ہدایت دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ لَا تُ٘سْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُ٘سْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ آپ مردوں کو سنا سکتے ہیں نہ بہروں کو۔‘‘ یعنی جب آپ ان کو پکارتے اور ندا دیتے ہیں اور خاص طور پر ﴿ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ﴾ ’’اس وقت جبکہ وہ منہ پھیر کر جا رہے ہوں ‘‘ تب یہ عدم سماع کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 80 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقصصالقصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید