يس

یس

83 آیاتمکیپارہ 22

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 18

    قَالُوٓا۟ إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ ۖ لَئِن لَّمْ تَنتَهُوا۟ لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ

    انہوں نے کہا کہ ہم تو تم کو منحوس سمجھتے ہیں[1] ۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم پتھروں سے تمہارا کام تمام کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی.

    حواشی

    [1] ممکن ہے کچھ لوگ ایمان لے آئے ہوں اور ان کی وجہ سے قوم دو گروہوں میں بٹ گئی ہو، جس کو انہوں نے رسولوں کی نَعُوذُ بِالله ِ نحوست قرار دیا۔ یا بارش کا سلسلہ موقوف رہا، تو وہ سمجھے ہوں کہ یہ ان رسولوں کی نحوست ہے۔ نَعُوذُ بِالله ِ مِنْ ذَلِكَ، جیسے آج کل بھی بد نہاد اور دین و شریعت سے بےبہرہ لوگ، اہل ایمان وتقویٰ کو ہی (منحوس) سمجھتے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 18 کی تفسیر

    [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا: ﴿لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَـنَرْجُمَنَّـكُمْ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَیَمَسَّنَّـكُمْ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 18 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتصافاتالصافات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید