الصافات

صافات

182 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)

تفسیر سورۂ صافات

تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 1

    وَٱلصَّـٰٓفَّـٰتِ صَفًّا

    قسم ہے صف باندھنے والے (فرشتوں) کی.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 1 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  2. 2

    فَٱلزَّٰجِرَٰتِ زَجْرًا

    پھر پوری طرح ڈانٹنے والوں کی.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 2 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  3. 3

    فَٱلتَّـٰلِيَـٰتِ ذِكْرًا

    پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 3 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  4. 4

    إِنَّ إِلَـٰهَكُمْ لَوَٰحِدٌ

    یقیناً تم سب کا معبود ایک ہی ہے.[1]

    حواشی

    [1] صَافَّاتٌ، زَاجِرَاتٌ، تَالِياتٌ فرشتوں کی صفات ہیں۔ آسمانوں پر اللہ کی عبادت کے لئے صف باندھنے والے، یا اللہ کے حکم کے انتظار میں صف بستہ، وعظ ونصیحت کے ذریعے سے لوگوں کوڈانٹنے والے یا بادلوں کو، جہاں اللہ کا حکم ہو، وہاں ہانک کر لےجانے والے۔ اللہ کا ذکر یا قرآن کی تلاوت کرنے والے۔ ان فرشتوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے مضمون یہ بیان فرمایا کہ تمام انسانوں کا معبود ایک ہی ہے۔ متعدد نہیں، جیسا کہ مشرکین بنائےہوئے ہیں۔ عرف عام میں قسم تاکید اور شک دور کرنے کے لئےکھائی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں قسم اسی شک کو دور کرنے کے لئےکھائی ہے جو مشرکین اس کی وحدانیت والوہیت کے بارے میں پھیلاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر چیز اللہ کی مخلوق اور مملوک ہے، اس لئے وہ جس چیز کو بھی گواہ بنا کر اس کی قسم کھائے، اس کے لئے جائز ہے۔ لیکن انسانوں کےلئے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھانا بالکل ناجائز اور حرام ہے، کیونکہ قسم میں، جس کی قسم کھائی جاتی ہے، اسے گواہ بنانا مقصود ہوتا ہے۔ اور گواہ اللہ کے سوا کوئی نہیں بن سکتا، کہ عالم الغیب صرف وہی ہے، اس کےسوا کوئی عالم الغیب نہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  5. 5

    رَّبُّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَرَبُّ ٱلْمَشَـٰرِقِ

    آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں اور مَشرقوں کا رب وہی ہے.[1]

    حواشی

    [1] مطلب ہے مشارق ومغارب کا رب۔ جمع کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیاہے جیسا کہ، بعض کہتے ہیں کہ سال کے دنوں کی تعداد کے برابر مشرق ومغرب ہیں۔ سورج ہر روز ایک مشرق سے نکلتا اور ایک مغرب میں غروب ہوتا ہے اور سورۂ رحمٰن میں مَشْرِقَيْنِ اور مَغْرِبَيْنِ، تثنیہ کے ساتھ ہیں یعنی دو مشرق اور دو مغرب۔ اس سے مراد وہ مشرقین اور مغربین ہیں جن سے سورج گرمی اور سردی میں طلوع وغروب ہوتا ہے یعنی ایک انتہائی آخری مشرق ومغرب اور دوسرا مختصر یا قریب ترین مشرق ومغرب اور جہاں مشرق ومغرب کو مفرد ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد وہ جہت ہے جس سے سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔ (فتح القدیر)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 5 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  6. 6

    إِنَّا زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنْيَا بِزِينَةٍ ٱلْكَوَاكِبِ

    ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 6 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  7. 7

    وَحِفْظًا مِّن كُلِّ شَيْطَـٰنٍ مَّارِدٍ

    اور حفاﻇت کی سرکش شیطان سے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی آسمان دنیا پر، زینت کے علاوہ، ستاروں کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ سرکش شیاطین سے حفاظت ہو۔ چنانچہ شیطان آسمان پرکوئی بات سننے کے لئے جاتے ہیں تو ستارے ان پر ٹوٹ کر گرتے ہیں جس سے بالعموم شیطان جل جاتے ہیں۔ جیسا کہ اگلی آیات اور احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ ستاروں کا ایک تیسرا مقصد رات کی تاریکیوں میں رہنمائی بھی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں دوسرے مقام پر بیان فرمایا گیا ہے۔ ان مقاصد سہ گانہ کے علاوہ ستاروں کا اور کوئی مقصد بیان نہیں کیا گیا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 7 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  8. 8

    لَّا يَسَّمَّعُونَ إِلَى ٱلْمَلَإِ ٱلْأَعْلَىٰ وَيُقْذَفُونَ مِن كُلِّ جَانِبٍ

    عالم باﻻ کے فرشتوں (کی باتوں) کو سننے کے لئے وه کان بھی نہیں لگا سکتے، بلکہ ہر طرف سے وه مارے جاتے ہیں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 8 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  9. 9

    دُحُورًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ

    بھگانے کے لئے اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 9 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  10. 10

    إِلَّا مَنْ خَطِفَ ٱلْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُۥ شِهَابٌ ثَاقِبٌ

    مگر جو کوئی ایک آدھ بات اچک لے بھاگے تو (فوراً ہی) اس کے پیچھے دہکتا ہوا شعلہ لگ جاتا ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 10 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  11. 11

    فَٱسْتَفْتِهِمْ أَهُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَم مَّنْ خَلَقْنَآ ۚ إِنَّا خَلَقْنَـٰهُم مِّن طِينٍ لَّازِبٍۭ

    ان کافروں سے پوچھو تو کہ آیا ان کا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا (ان کا) جنہیں ہم نے (ان کے علاوه) پیدا کیا[1] ؟ ہم نے (انسانوں) کو لیس دار مٹی سے پیدا کیا ہے.[2]

    حواشی

    [1] یعنی ہم نےجو زمین، ملائکہ اور آسمان جیسی چیزیں بنائی ہیں جو اپنے حجم اور وسعت کے لحاظ سے نہایت انوکھی ہیں۔ کیا ان لوگوں کی پیدائش اور دوبارہ ان کو زندہ کرنا، ان چیزوں کی تخلیق سےزیادہ سخت اور مشکل ہے؟ یقیناً نہیں۔ [2] یعنی ان کے باپ آدم (عليه السلام) کو تو ہم نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ انسان آخرت کی زندگی کو اتنا مستبعد کیوں سمجھتے ہیں دراں حالیکہ ان کی پیدائش ایک نہایت ہی حقیر اور کمزور چیز سے ہوئی ہے۔ جب کہ خلقت میں ان سے زیادہ قوی، عظیم اور کامل واتم چیزوں کی پیدائش کا ان کو انکار نہیں۔ (فتح القدیر)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 11 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  12. 12

    بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ

    بلکہ تو تعجب کر رہا ہے اور یہ مسخرا پن کر رہے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی آپ کو تو منکرین آخرت کے انکار پر تعجب ہو رہا ہے کہ اس کے امکان بلکہ وجوب کےاتنے واضح دلائل کے باوجود وہ اسے مان کر نہیں دے رہے اور وہ آپ کے دعوائے قیامت کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ یہ کیوں کر ممکن ہے؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 12 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  13. 13

    وَإِذَا ذُكِّرُوا۟ لَا يَذْكُرُونَ

    اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے یہ نہیں مانتے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 13 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  14. 14

    وَإِذَا رَأَوْا۟ ءَايَةً يَسْتَسْخِرُونَ

    اور جب کسی معجزے کو دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 14 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  15. 15

    وَقَالُوٓا۟ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ

    اور کہتے ہیں کہ یہ تو بالکل کھلم کھلا جادو ہی ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی یہ ان کا شیوہ ہے کہ نصیحت قبول نہیں کرتے اور کوئی واضح دلیل یا معجزہ پیش کیا جائے تو استہزا کرتے اور انہیں جادو باور کراتے ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 15 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  16. 16

    أَءِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَـٰمًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ

    کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک اور ہڈی ہو جائیں گے پھر کیا (سچ مچ) ہم اٹھائے جائیں گے؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 16 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  17. 17

    أَوَءَابَآؤُنَا ٱلْأَوَّلُونَ

    کیا ہم سے پہلے کے ہمارے باپ دادا بھی؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 17 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  18. 18

    قُلْ نَعَمْ وَأَنتُمْ دَٰخِرُونَ

    آپ جواب دیجئے! کہ ہاں ہاں اور تم ذلیل (بھی) ہوں گے.[1]

    حواشی

    [1] جس طرح دوسرے مقام پر بھی فرمایا «وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ» (النمل: 87) ”سب اس کی بارگاہ میں ذلیل ہو کر آئیں گے“۔ «إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ» (المؤمن: 60) ”جو لوگ میری عبادت سے انکار کرتے ہیں، عنقریب وہ جہنم میں ذلیل وخوار ہو کر داخل ہوں گے“۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 18 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  19. 19

    فَإِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌ وَٰحِدَةٌ فَإِذَا هُمْ يَنظُرُونَ

    وه تو صرف ایک زور کی جھڑکی ہے[1] کہ یکایک یہ دیکھنے لگیں گے.[2]

    حواشی

    [1] یعنی وہ اللہ کے ایک ہی حکم اور اسرافیل (عليه السلام) کی ایک ہی پھونک (نفخۂ ثانیہ) سے قبروں سے زندہ ہو کر نکل کھڑے ہوں گے۔ [2] یعنی ان کے سامنے قیامت کے ہولناک مناظر اور میدان حشر کی سختیاں ہوں گی جنہیں وہ دیکھیں گے۔ نفخے یا چیخ کو زجرہ (ڈانٹ) سے تعبیر کیا، کیونکہ اس سے مقصود ڈانٹ ہی ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 19 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  20. 20

    وَقَالُوا۟ يَـٰوَيْلَنَا هَـٰذَا يَوْمُ ٱلدِّينِ

    اور کہیں گے کہ ہائے ہماری خرابی یہی جزا (سزا) کا دن ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 20 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  21. 21

    هَـٰذَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ

    یہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلاتے رہے.[1]

    حواشی

    [1] وَيْلٌ کا لفظ ہلاکت کے موقع پر بولا جاتا ہے، یعنی معاینۂ عذاب کے بعد انہیں اپنی ہلاکت صاف نظر آرہی ہوگی اور اس سے مقصود ندامت کا اظہار اور اپنی کوتاہیوں کا اعتراف ہے لیکن اس وقت ندامت اور اعتراف کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اسی لئے ان کےجواب میں فرشتے اور اہل ایمان کہیں گے کہ یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم مانتے نہیں تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو کہیں گے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 21 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  22. 22

    ۞ ٱحْشُرُوا۟ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ وَأَزْوَٰجَهُمْ وَمَا كَانُوا۟ يَعْبُدُونَ

    ﻇالموں کو[1] اور ان کے ہمراہیوں کو[2] اور (جن) جن کی وه اللہ کے علاوه پرستش کرتے تھے.[3]

    حواشی

    [1] یعنی جنہوں نے کفر وشرک اور معاصی کا ارتکاب کیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوگا۔ [2] اس سے مراد کفر وشرک اور تکذیب رسل کے ساتھی یا بعض کےنزدیک جنات وشیاطین ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں کہ وہ بیویاں ہیں جو کفر وشرک میں ان کی ہمنوا تھیں۔ [3] مَا، عام ہے، تمام معبودین کو چاہے، وہ مورتیاں ہوں یا اللہ کے نیک بندے، سب کو ان کی تذلیل کے لئے جمع کیا جائے گا۔ تاہم نیک لوگوں کو تو اللہ جہنم سے دور ہی رکھے گا، اور دوسرے معبودوں کو ان کے ساتھ ہی جہنم میں ڈال دیا جائے گا تاکہ وہ دیکھ لیں کہ یہ کسی کو نفع نقصان پہنچانے پر قادر نہیں ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 22 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  23. 23

    مِن دُونِ ٱللَّهِ فَٱهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلْجَحِيمِ

    (ان سب کو) جمع کرکے انہیں دوزخ کی راه دکھا دو.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 23 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  24. 24

    وَقِفُوهُمْ ۖ إِنَّهُم مَّسْـُٔولُونَ

    اور انہیں ٹھہرا لو[1] ، (اس لئے) کہ ان سے (ضروری) سوال کیے جانے والے ہیں.

    حواشی

    [1] یہ حکم جہنم میں لے جانے سے قبل ہوگا، کیونکہ حساب کے بعد ہی وہ جہنم میں جائیں گے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 24 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  25. 25

    مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ

    تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ (اس وقت) تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 25 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  26. 26

    بَلْ هُمُ ٱلْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ

    بلکہ وه (سب کے سب) آج فرمانبردار بن گئے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 26 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  27. 27

    وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَآءَلُونَ

    وه ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال وجواب کرنے لگیں گے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 27 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  28. 28

    قَالُوٓا۟ إِنَّكُمْ كُنتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ ٱلْيَمِينِ

    کہیں گے کہ تم تو ہمارے پاس ہماری دائیں طرف سے آتے تھے.[1]

    حواشی

    [1] اس کا مطلب یہ ہے کہ دین اور حق کے نام سے آتے تھے یعنی باور کراتے تھے کہ یہی اصل دین اور حق ہے۔ اور بعض کے نزدیک مطلب ہے، ہر طرف سے آتے تھے، وَالشِّمَالِ محذوف ہے۔ جس طرح شیطان نے کہا تھا ”میں ان کے آگے، پیچھے سے، ان کے دائیں بائیں سے ہر طرف سے ان کے پاس آؤں گا اور انہیں گمراہ کروں گا“۔ (الأعراف: 17)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 28 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  29. 29

    قَالُوا۟ بَل لَّمْ تَكُونُوا۟ مُؤْمِنِينَ

    وه جواب دیں گے کہ نہیں بلکہ تم ہی ایمان والے نہ تھے.[1]

    حواشی

    [1] لیڈر کہیں گے کہ ایمان تم اپنی مرضی سے نہیں لائے اور آج ذمے دار ہمیں ٹھہرا رہے ہو؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 29 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  30. 30

    وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُم مِّن سُلْطَـٰنٍۭ ۖ بَلْ كُنتُمْ قَوْمًا طَـٰغِينَ

    اور کچھ ہمارا زور تو تم پر تھا (ہی) نہیں۔ بلکہ تم (خود) سرکش لوگ تھے.[1]

    حواشی

    [1] تابعین اور متبوعین کی یہ باہمی تکرار قرآن کریم میں کئی جگہ بیان کی گئی ہے۔ ان کی ایک دوسرے کو یہ ملامت عرصۂ قیامت (میدان محشر) میں بھی ہوگی اور جہنم میں جانے کے بعد جہنم کے اندر بھی۔ ملاحظہ ہو۔ المؤمن: 48-47، سبا: 32-31، الاحزاب:68-67 ، الاعراف:39- 38 وَغَيْرهَا مِنَ الآيَاتِ۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 30 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  31. 31

    فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَآ ۖ إِنَّا لَذَآئِقُونَ

    اب تو ہم (سب) پر ہمارے رب کی یہ بات ﺛابت ہو چکی کہ ہم (عذاب) چکھنے والے ہیں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 31 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  32. 32

    فَأَغْوَيْنَـٰكُمْ إِنَّا كُنَّا غَـٰوِينَ

    پس ہم نے تمہیں گمراه کیا ہم تو خود بھی گمراه ہی تھے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی جس بات کی پہلے، انہوں نے نفی کی، کہ ہمارا تم پر کون سا زور تھا کہ تمہیں گمراہ کرتے۔ اب اس کا یہاں اعتراف ہے کہ ہاں واقعی ہم نے تمہیں گمراہ کیا تھا۔ لیکن یہ اعتراف اس تنبیہ کے ساتھ کیا کہ ہمیں اس ضمن میں مورد طعن مت بناؤ، اس لئے کہ ہم خود بھی گمراہ ہی تھے، ہم نے تمہیں بھی اپنے جیسا ہی بنانا چاہا اور تم نے آسانی سے ہماری راہ اپنالی۔ جس طرح شیطان بھی اس روز کہے گا۔ «وَمَا كَانَ لِي عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ» (إبراهيم: 22)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 32 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  33. 33

    فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِى ٱلْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ

    سو اب آج کے دن تو (سب کے سب) عذاب میں شریک ہیں.[1]

    حواشی

    [1] اس لئے کہ ان کا جرم بھی مشترکہ ہے، شرک، معصیت اور شر وفساد ان سب کا وطیرہ تھا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 33 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  34. 34

    إِنَّا كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِٱلْمُجْرِمِينَ

    ہم گناه گاروں کے ساتھ اسی طرح کیا کرتے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی ہر قسم کے گناہ گاروں کے ساتھ ہمارا یہی معاملہ ہے اور اب وہ سب ہمارا عذاب بھگتیں گے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 34 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  35. 35

    إِنَّهُمْ كَانُوٓا۟ إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ

    یہ وه (لوگ) ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی دنیا میں، جب ان سے کہا جاتا تھا کہ جس طرح مسلمانوں نے یہ کلمہ پڑھ کر شرک ومعصیت سے توبہ کر لی ہے، تم بھی یہ پڑھ لو، تاکہ تم دنیا میں بھی مسلمان کے قہر وغضب سےبچ جاؤ اور آخرت میں بھی عذاب الٰہی سے تمہیں دوچار ہونا نہ پڑے، تو وہ تکبر کرتے اور انکار کرتے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے۔ «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لا إِلَه إِلا اللهُ ، فَمَنْ قَالَ (لا إِلَه إِلا اللهُ) فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ» (متفق عليه ، مشكاة، كتاب الإيمان بحواله ابن كثير) ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے قتال کروں جب تک وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کر لیں۔ جس نے یہ اقرار کر لیا، اس نے اپنی جان اور مال کی حفاظت کر لی“۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 35 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  36. 36

    وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوٓا۟ ءَالِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍۭ

    اور کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں؟[1]

    حواشی

    [1] یعنی انہوں نے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو شاعر اور مجنون کہا اور آپ کی دعوت کو جنون (دیوانگی) اور قرآن کو شعر سے تعبیر کیا اور کہا کہ ایک دیوانے کی دیوانگی پر ہم اپنے معبودوں کو کیوں چھوڑ دیں؟ حالانکہ یہ دیوانگی نہیں، فرزانگی تھی، شاعری نہیں، حقیقت تھی اور اس دعوت کے اپنانے میں ان کی ہلاکت نہیں، نجات تھی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 36 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  37. 37

    بَلْ جَآءَ بِٱلْحَقِّ وَصَدَّقَ ٱلْمُرْسَلِينَ

    (نہیں نہیں) بلکہ (نبی) تو حق (سچا دین) ﻻئے ہیں اور سب رسولوں کو سچا جانتے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی تم ہمارے پیغمبر کو شاعر اور مجنون کہتے ہو، جب کہ واقعہ یہ ہے کہ وہ جو کچھ لایا اور پیش کر رہا ہے، وہ سچ ہے اور وہی چیز ہے جو اس سے قبل تمام انبیا بھی پیش کرتے رہے ہیں۔ کیا یہ کام کسی دیوانے کا یا کسی شاعر کے تخیلات کا نتیجہ ہو سکتا ہے؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 37 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  38. 38

    إِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا۟ ٱلْعَذَابِ ٱلْأَلِيمِ

    یقیناً تم دردناک عذاب (کا مزه) چکھنے والے ہو.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 38 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  39. 39

    وَمَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

    تمہیں اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے.[1]

    حواشی

    [1] یہ جہنمیوں کو اس وقت کہا جائے گا جب وہ کھڑے ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوں گے اور ساتھ ہی وضاحت کر دی جائے گی کہ یہ ظلم نہیں ہے بلکہ عین عدل ہے کیونکہ یہ سب تمہارے اپنے عملوں کا بدلہ ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 39 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  40. 40

    إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ

    مگر اللہ تعالیٰ کے خالص برگزیده بندے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی یہ عذاب سے محفوظ ہوں گے، ان کی کوتاہیوں سے بھی درگزر کر دیا جائے گا، اگر کچھ ہوں گی اور ایک ایک نیکی کا اجر انہیں کئی کئی گنا دیا جائے گا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 40 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  41. 41

    أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُومٌ

    انہیں کے لئے مقرره روزی ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 41 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  42. 42

    فَوَٰكِهُ ۖ وَهُم مُّكْرَمُونَ

    (ہر طرح کے) میوے، اور وه باعزت واکرام ہوں گے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 42 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  43. 43

    فِى جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ

    نعمتوں والی جنتوں میں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 43 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  44. 44

    عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَـٰبِلِينَ

    تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے (بیٹھے) ہوں گے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 44 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  45. 45

    يُطَافُ عَلَيْهِم بِكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍۭ

    جاری شراب کے جام کا ان پر دور چل رہا ہوگا.[1]

    حواشی

    [1] كَأْسٌ ، شراب کے بھرے ہوئے جام کو اور قدح خالی جام کو کہتے ہیں۔ مَعِينٍ کےمعنی ہیں۔ جاری چشمہ۔ مطلب یہ ہے کہ جاری چشمے کی طرح، جنت میں شراب ہر وقت میسر رہے گی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 45 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  46. 46

    بَيْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشَّـٰرِبِينَ

    جو صاف شفاف اور پینے میں لذیذ ہوگی.[1]

    حواشی

    [1] دنیا میں شراب عام طور پر بد رنگ ہوتی ہے، جنت میں وہ جس طرح لذیذ ہوگی خوش رنگ بھی ہوگی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 46 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  47. 47

    لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ

    نہ اس سے درد سر ہو اور نہ اس کے پینے سے بہکیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی دنیا کی شراب کی طرح اس میں قے، سر درد، بدمستی اور بہکنے کا اندیشہ نہیں ہوگا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 47 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  48. 48

    وَعِندَهُمْ قَـٰصِرَٰتُ ٱلطَّرْفِ عِينٌ

    اور ان کے پاس نیچی نظروں، بڑی بڑی آنکھوں والی (حوریں) ہوں گی.[1]

    حواشی

    [1] بڑی اور موٹی آنکھیں حسن کی علامت ہے یعنی حسین آنکھیں ہوں گی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 48 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  49. 49

    كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُونٌ

    ایسی جیسے چھپائے ہوئے انڈے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی شتر مرغ اپنے پروں کے نیچے چھپائے ہوئے ہوں، جس کی وجہ سے وہ ہوا اور گرد وغبار سے محفوظ ہوں گے۔ کہتے ہیں شتر مرغ کے انڈے بہت خوش رنگ ہوتے ہیں، جو زردی مائل سفید ہوتے ہیں اور ایسا رنگ حسن وجمال کی دنیا میں سب سے عمدہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ تشبیہ، صرف سفیدی میں نہیں ہے بلکہ خوش رنگی اور حسن ورعنائی میں ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 49 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  50. 50

    فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَآءَلُونَ

    (جنتی) ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے پوچھیں گے.[1]

    حواشی

    [1] جنتی، جنت میں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہوئے، دنیا کے واقعات یاد کریں گے اور ایک دوسرے کو سنائیں گے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 50 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  51. 51

    قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ إِنِّى كَانَ لِى قَرِينٌ

    ان میں سے ایک کہنے واﻻ کہے گا کہ میرا ایک ساتھی تھا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 51 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  52. 52

    يَقُولُ أَءِنَّكَ لَمِنَ ٱلْمُصَدِّقِينَ

    جو (مجھ سے) کہا کرتا تھا کہ کیا تو (قیامت کے آنے کا) یقین کرنے والوں میں سے ہے؟[1]

    حواشی

    [1] یعنی یہ بات وہ استہزا اور مذاق کے طور پر کہا کرتا تھا، مقصد اس کا یہ تھا کہ یہ تو ناممکن ہے کیا ایسی ناممکن الوقوع بات پر تو یقین رکھتا ہے؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 52 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  53. 53

    أَءِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَـٰمًا أَءِنَّا لَمَدِينُونَ

    کیا جب کہ ہم مر کر مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے کیا اس وقت ہم جزا دیئے جانے والے ہیں؟[1]

    حواشی

    [1] یعنی ہمیں زندہ کرکے ہمارا حساب لیاجائے گا اور پھر اس کے مطابق جزا دی جائے گی؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 53 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  54. 54

    قَالَ هَلْ أَنتُم مُّطَّلِعُونَ

    کہے گا تم چاہتے ہو کہ جھانک کر دیکھ لو؟[1]

    حواشی

    [1] یعنی وہ جنتی، اپنے جنت کے ساتھیوں سے کہے گا کہ کیا تم پسند کرتے ہو کہ ذرا جہنم میں جھانک کر دیکھیں، شاید مجھے یہ باتیں کہنے والا وہاں نظر آجائے تو تمہیں بتلاؤں کہ یہ شخص تھا جو یہ باتیں کرتا تھا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 54 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  55. 55

    فَٱطَّلَعَ فَرَءَاهُ فِى سَوَآءِ ٱلْجَحِيمِ

    جھانکتے ہی اسے بیچوں بیچ جہنم میں (جلتا ہوا) دیکھے گا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 55 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  56. 56

    قَالَ تَٱللَّهِ إِن كِدتَّ لَتُرْدِينِ

    کہے گا واللہ! قریب تھا کہ تو مجھے (بھی) برباد کر دے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 56 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  57. 57

    وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّى لَكُنتُ مِنَ ٱلْمُحْضَرِينَ

    اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی دوزخ میں حاضر کئے جانے والوں میں ہوتا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی جھانکنے پر اسے جہنم کے وسط میں وہ شخص نظر آجائے گا اور اسے یہ جنتی کہے گا کہ مجھے بھی تو گمراہ کرکے ہلاکت میں ڈالنے لگا تھا، یہ تو مجھ پر اللہ کا احسان ہوا، ورنہ آج میں بھی تیرے ساتھ جہنم میں ہوتا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 57 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  58. 58

    أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ

    کیا (یہ صحیح ہے) کہ ہم مرنے والے ہی نہیں؟[1]

    حواشی

    [1] جہنمیوں کاحشر دیکھ کر جنتی کے دل میں رشک کا جذبہ مزید بیدار ہو جائے گا اور کہے گا کہ ہمیں جو جنت کی زندگی اور اس کی نعمتیں ملی ہیں، کیا یہ دائمی نہیں؟ اور اب ہمیں موت آنے والی نہیں ہے؟ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اب یہ زندگیاں دائمی ہیں، جنتی ہمیشہ جنت میں اور جہنمی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، نہ انہیں موت آئے گی کہ جہنم کے عذاب سے چھوٹ جائیں اور نہ ہمیں، کہ جنت کی نعمتوں سے محروم ہو جائیں، جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں جنت اور دوزخ کے درمیان لا کر ذبح کر دیاجائے گا کہ اب کسی کوموت نہیں آئے گی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 58 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  59. 59

    إِلَّا مَوْتَتَنَا ٱلْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ

    بجز پہلی ایک موت[1] کے، اور نہ ہم عذاب کیے جانے والے ہیں.

    حواشی

    [1] جو دنیا میں آچکی۔ اب ہمارے لئے موت ہے نہ عذاب۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 59 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  60. 60

    إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

    پھر تو (ﻇاہر بات ہے کہ) یہ بڑی کامیابی ہے.[1]

    حواشی

    [1] اس لئے کہ جہنم سے بچ جانے اور جنت کی نعمتوں کا مستحق قرار پا جانے سے بڑھ کر اور کیا کامیابی ہوگی؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 60 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  61. 61

    لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ ٱلْعَـٰمِلُونَ

    ایسی (کامیابی) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی اس جیسی نعمت اور اس جیسے فضل عظیم ہی کے لئے محنت کرنے والوں کو محنت کرنی چاہئے، اس لئے کہ یہی سب سے نفع بخش تجارت ہے۔ نہ کہ دنیا کے لئے جو عارضی ہے۔ اور خسارے کا سودا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 61 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  62. 62

    أَذَٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا أَمْ شَجَرَةُ ٱلزَّقُّومِ

    کیا یہ مہمانی اچھی ہے یا سینڈھ (زقوم) کا درخت؟[1]

    حواشی

    [1] زَقُّومٌ، تَزَقُّمٌ سے مشتق ہے، جس کےمعنی بدبودار اور کریہ چیز کے نگلنے کے ہیں۔ اس درخت کا پھل بھی کھانا اہل جہنم کے لئےسخت ناگوار ہوگا۔ کیوں کہ یہ سخت بدبو دار، کڑوا اور نہایت کریہ ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ دنیا کے درختوں میں سے ہے اور عربوں میں متعارف ہے، یہ قطرب درخت ہے جو تہامہ میں پایا جاتا ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ کوئی دنیاوی درخت نہیں ہے، اہل دنیا کے لئے یہ غیر معروف ہے۔ (فتح القدیر) لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ اور یہ وہی درخت ہے جسے اردو میں سینڈھ یا تھوہر کہتے ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 62 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  63. 63

    إِنَّا جَعَلْنَـٰهَا فِتْنَةً لِّلظَّـٰلِمِينَ

    جسے ہم نے ﻇالموں کے لئے سخت آزمائش بنا رکھا ہے.[1]

    حواشی

    [1] آزمائش، اس لئے کہ اس کا پھل کھانا بجائے خود ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ بعض نے اسے اس اعتبار سے آزمائش کہا کہ اس کے وجود کا انہوں نے انکار کیا کہ جہنم میں جب ہر طرف آگ ہی آگ ہوگی تو وہاں درخت کس طرح موجود رہ سکتا ہے؟ یہاں ظالمین سے مراد وہ اہل جہنم ہیں جن پر جہنم واجب ہوگی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 63 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  64. 64

    إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِىٓ أَصْلِ ٱلْجَحِيمِ

    بے شک وه درخت جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی اس کی جڑ جہنم کی گہرائی میں ہوگی البتہ اس کی شاخیں ہر طرف پھیلی ہوئی ہوں گی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 64 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  65. 65

    طَلْعُهَا كَأَنَّهُۥ رُءُوسُ ٱلشَّيَـٰطِينِ

    جس کے خوشے شیطانوں کے سروں جیسے ہوتے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] اسے شناعت وقباحت میں شیطانوں کےسروں سے تشبیہ دی، جس طرح اچھی چیز کے بارے میں کہتے ہیں گویا کہ وہ فرشتہ ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 65 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  66. 66

    فَإِنَّهُمْ لَـَٔاكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِـُٔونَ مِنْهَا ٱلْبُطُونَ

    (جہنمی) اسی درخت سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے.[1]

    حواشی

    [1] یہ انہیں نہایت کراہت سے کھانا پڑے گا جس سے ظاہر بات ہے پیٹ بوجھل ہی ہوں گے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 66 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  67. 67

    ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِيمٍ

    پھر اس پر گرم جلتے جلتے پانی کی ملونی ہوگی.[1]

    حواشی

    [1] یعنی کھانے کے بعد انہیں پانی کی طلب ہوگی تو کھولتا ہوا گرم پانی انہیں دیا جائے گا،جس کے پینے سے ان کی انتڑیاں کٹ جائیں گی۔ (سورۂ محمد: 15)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 67 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  68. 68

    ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى ٱلْجَحِيمِ

    پھر ان سب کا لوٹنا جہنم کی (آگ کے ڈھیرکی) طرف ہوگا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی زقوم کےکھانے اور گرم پانی کے پینے کے بعد انہیں دوبارہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 68 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  69. 69

    إِنَّهُمْ أَلْفَوْا۟ ءَابَآءَهُمْ ضَآلِّينَ

    یقین مانو! کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو بہکا ہوا پایا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 69 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  70. 70

    فَهُمْ عَلَىٰٓ ءَاثَـٰرِهِمْ يُهْرَعُونَ

    اور یہ انہی کے نشان قدم پر دوڑتے رہے.[1]

    حواشی

    [1] یہ جہنم کی مذکورہ سزاوں کی علت ہے کہ اپنے باپ دادوں کو گمراہی پر پانے کے باوجود یہ انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے اور دلیل وحجت کے مقابلے میں تقلید کو اپنائے رکھا، إِهْرَاعٌ إِسْرَاعٌ کے معنی میں ہے یعنی دوڑنا اور نہایت شوق سے اور لپک کر پکڑنا اور اختیار کرنا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 70 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  71. 71

    وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ ٱلْأَوَّلِينَ

    ان سے پہلے بھی بہت سے اگلے بہک چکے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی یہی گمراہ نہیں ہوئے۔ ان سے پہلے لوگ بھی اکثر گمراہی ہی کےراستے پر چلنے والے تھے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 71 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  72. 72

    وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا فِيهِم مُّنذِرِينَ

    جن میں ہم نے ڈرانے والے (رسول) بھیجے تھے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی ان سے پہلے لوگوں میں۔ انہوں نے حق کا پیغام پہنچایا اور عدم قبول کی صورت میں انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا، لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوا نتیجتاً انہیں تباہ کر دیا گیا، جیسا کہ اگلی آیت میں ان کے عبرت ناک انجام کی طرف اشارہ فرمایا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 72 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  73. 73

    فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلْمُنذَرِينَ

    اب تو دیکھ لے کہ جنہیں دھمکایا گیا تھا ان کا انجام کیسا کچھ ہوا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 73 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  74. 74

    إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ

    سوائے اللہ کے برگزیده بندوں کے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی عبرت ناک انجام سے صرف وہ محفوظ رہے جن کو اللہ نے ایمان وتوحید کی توفیق سے نواز کر بچا لیا۔ مُخْلِصِينَ، وہ لوگ جو عذاب سے بچے رہے، مُنْذَرِينَ (تباہ ہونے والی قوموں) کے اجمالی ذکر کے بعد اب چند مُنْذِرِينَ (پیغمبروں) کاذکر کیا جا رہا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 74 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  75. 75

    وَلَقَدْ نَادَىٰنَا نُوحٌ فَلَنِعْمَ ٱلْمُجِيبُونَ

    اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے باوجود جب قوم کی اکثریت نے ان کی تکذیب ہی کی اور انہوں نے محسوس کر لیا کہ ایمان لانے کی کوئی امید نہیں ہے تو اپنے رب کو پکارا«فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ» (سورة القمر: 10) ”یا اللہ میں مغلوب ہوں، میری مدد فرما“۔ چنانچہ ہم نے نوح (عليه السلام) کی دعا قبول کی اور ان کی قوم کو طوفان بھیج کر ہلاک کر دیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 75 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  76. 76

    وَنَجَّيْنَـٰهُ وَأَهْلَهُۥ مِنَ ٱلْكَرْبِ ٱلْعَظِيمِ

    ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو[1] اس زبردست مصیبت سے بچا لیا.

    حواشی

    [1] أَهْلٌ سے مراد، حضرت نوح (عليه السلام) پر ایمان لانے والے ہیں، جن میں ان کے گھر کے افراد بھی ہیں جو مومن تھے۔ بعض مفسرین نے ان کی کل تعداد 8۔ بتلائی ہے۔ اس میں آپ کی بیوی اور ایک لڑکا شامل نہیں، جو مومن نہیں تھے، وہ بھی طوفان میں غرق ہو گئے۔ کرب عظیم (زبردست مصیبت) سے مراد وہی سیلاب عظیم ہے جس میں یہ قوم غرق ہوئی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 76 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  77. 77

    وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُۥ هُمُ ٱلْبَاقِينَ

    اور اس کی اوﻻد کو ہم نے باقی رہنے والی بنا دی.[1]

    حواشی

    [1] اکثر مفسرین کے قول کے مطابق حضرت نوح (عليه السلام) کے تین بیٹے تھے۔ حام، سام، یافث۔ انہی سے بعد کی نسل انسانی چلی۔ اسی لئے حضرت نوح (عليه السلام) کو آدم ثانی بھی کہا جاتا ہے یعنی آدم (عليه السلام) کی طرح، آدم (عليه السلام) کے بعد یہ دوسرے ابوالبشر ہیں۔ سام کی نسل سے عرب، فارس، روم اور یہود ونصاریٰ ہیں۔ حام کی نسل سےسوڈان (مشرق سے مغرب تک) یعنی سندھ، ہند، نوب، زنج، حبشہ قبط اور بربر وغیرہم ہیں اور یافث کی نسل سے صقالبہ، ترک، خزر اور یاجوج ماجوج وغیرہم ہیں۔ (فتح القدیر) وَاللهُ أَعْلَمُ۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 77 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  78. 78

    وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ

    اور ہم نے اس کا (ذکر خیر) پچھلوں میں باقی رکھا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی قیامت تک آنے والے اہل ایمان میں ہم نے نوح (عليه السلام) کا ذکر خیر باقی چھوڑ دیا ہے اور وہ سب نوح (عليه السلام) پر سلام بھیجتے ہیں اور بھیجتے رہیں گے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 78 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  79. 79

    سَلَـٰمٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِى ٱلْعَـٰلَمِينَ

    نوح (علیہ السلام) پر تمام جہانوں میں سلام ہو

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 79 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  80. 80

    إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ

    ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی جس طرح نوح (عليه السلام) کی دعا قبول کرکے، ان کی ذریت کو باقی رکھ اور پچھلوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھ کے ہم نے نوح (عليه السلام) کو عزت وتکریم بخشی۔ اسی طرح جو بھی اپنے اقوال وافعال میں محسن اور اس باب میں راسخ اور معروف ہوگا، اس کے ساتھ بھی ہم ایسا معاملہ کریں گے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 80 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  81. 81

    إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ

    وه ہمارے ایمان والے بندوں میں سے تھا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 81 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  82. 82

    ثُمَّ أَغْرَقْنَا ٱلْـَٔاخَرِينَ

    پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 82 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  83. 83

    ۞ وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِۦ لَإِبْرَٰهِيمَ

    اور اس (نوح علیہ السلام کی) تابعداری کرنے والوں میں سے (ہی) ابراہیم (علیہ السلام بھی) تھے.[1]

    حواشی

    [1] شِيعَةٌ کے معنی گروہ اور پیروکار کے ہیں۔ یعنی ابراہیم (عليه السلام) بھی اہل دین واہل توحید کے اسی گروہ سے ہیں جن کو نوح (عليه السلام) ہی کی طرح انابت الی اللہ کی توفیق خاص نصیب ہوئی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 83 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  84. 84

    إِذْ جَآءَ رَبَّهُۥ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ

    جبکہ اپنے رب کے پاس بے عیب دل ﻻئے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 84 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  85. 85

    إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِۦ مَاذَا تَعْبُدُونَ

    انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کیا پوج رہے ہو؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 85 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  86. 86

    أَئِفْكًا ءَالِهَةً دُونَ ٱللَّهِ تُرِيدُونَ

    کیا تم اللہ کے سوا گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو؟[1]

    حواشی

    [1] یعنی اپنی طرف سے ہی جھوٹ گھڑ کے کہ یہ معبود ہیں، تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو، دراں حالیکہ یہ پتھر اور مورتیاں ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 86 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  87. 87

    فَمَا ظَنُّكُم بِرَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

    تو یہ (بتلاؤ کہ) تم نے رب العالمین کو کیا سمجھ رکھا ہے؟[1]

    حواشی

    [1] یعنی اتنی قبیح حرکت کرنے کے باوجودکیا وہ تم پر ناراض نہیں ہوگا اور تمہیں سزا نہیں دے گا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 87 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  88. 88

    فَنَظَرَ نَظْرَةً فِى ٱلنُّجُومِ

    اب ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک نگاه ستاروں کی طرف اٹھائی.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 88 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  89. 89

    فَقَالَ إِنِّى سَقِيمٌ

    اور کہا میں تو بیمار ہوں.[1]

    حواشی

    [1] آسمان پر غور وفکر کے لئے دیکھا جیسا کہ بعض لوگ ایسا کرتے ہیں۔ یا اپنی قوم کے لوگوں کو مغالطے میں ڈالنے کے لئے ایسا کیا، جو کہ ستاروں کی گردش کو حوادث زمانہ میں موثر مانتے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ جب ان کی قوم کا وہ دن آیا، جسے وہ باہر جا کر بطور عید اور قومی تہوار منایا کرتی تھی۔ قوم نے حضرت ابراہیم (عليه السلام) کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ لیکن ابراہیم (عليه السلام) تنہائی اور موقعے کی تلاش میں تھے، تاکہ ان کے بتوں کا تیاپانچہ کیا جا سکے۔ چنانچہ انہوں نے یہ موقع غنیمت جانا کہ کل ساری قوم باہر میلے میں چلی جائے گی تو میں اپنا منصوبہ بروئے کار لے آؤں گا۔ اور کہہ دیا کہ میں بیمار ہوں یا آسمانوں کی گردش بتلاتی ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں۔ یہ بات بالکل جھوٹی تو نہیں تھی، ہر انسان کچھ نہ کچھ بیمار ہوتا ہی ہے، علاوہ ازیں قوم کا شرک حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے دل کا ایک مستقل روگ تھا، جسے دیکھ کر وہ کڑھتے رہتے تھے۔ یوں حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے تعریض اور توریے کا اظہار فرمایا جو اگرچہ جھوٹ نہیں ہوتا لیکن مخاطب اس کے متبادر مفہوم سے مغالطے کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لئے حدیث ثلاث کذبات میں اسے جھوٹ سے تعبیر کیا گیا ہے، جیسا کہ اس کی ضروری تفصیل سورۂ انبیاء: 63 میں گزر چکی ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 89 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  90. 90

    فَتَوَلَّوْا۟ عَنْهُ مُدْبِرِينَ

    اس پر وه سب اس سے منھ موڑے ہوئے واپس چلے گئے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 90 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  91. 91

    فَرَاغَ إِلَىٰٓ ءَالِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ

    آپ (چﭗ چپاتے) ان کے معبودوں کے پاس گئے اور فرمانے لگے تم کھاتے کیوں نہیں؟[1]

    حواشی

    [1] یعنی جو حلویات بطور تبرک وہاں پڑی ہوئی تھیں، وہ انہیں کھانے کے لئے پیش کیں، جو ظاہر بات ہے انہیں نہ کھانی تھیں نہ کھائیں بلکہ وہ جواب دینے پر بھی قادر نہ تھے، اس لئے جواب بھی نہیں دیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 91 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  92. 92

    مَا لَكُمْ لَا تَنطِقُونَ

    تمہیں کیا ہو گیا کہ بات تک نہیں کرتے ہو.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 92 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  93. 93

    فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًۢا بِٱلْيَمِينِ

    پھر تو (پوری قوت کے ساتھ) دائیں ہاتھ سے انہیں مارنے پر پل پڑے.[1]

    حواشی

    [1] رَاغَ کے معنی ہیں، مَالَ، ذَهَبَ، أَقْبَلَ، یہ سب متقارب المعنی ہیں، ان کی طرف متوجہ ہوئے ضَرْبٌ بِالْيَمِينِ کا مطلب ہے ان کو زور سے مار مار کر توڑ ڈالنا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 93 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  94. 94

    فَأَقْبَلُوٓا۟ إِلَيْهِ يَزِفُّونَ

    وه (بت پرست) دوڑے بھاگے آپ کی طرف متوجہ[1] ہوئے.

    حواشی

    [1] يَزِفُّونَ، يُسْرِعُونَ، یسرعون کے معنی میں ہے، دوڑتے ہوئے آئے۔ یعنی جب میلے سے آئے تو دیکھا کہ ان کے معبود ٹوٹے پھوٹے پڑے ہیں تو فوراً ان کا ذہن ابراہیم (عليه السلام) کی طرف گیا، کہ یہ کام اسی نے کیا ہوگا،جیسا کہ سورۂ انبیاء میں تفصیل گزر چکی ہے چنانچہ انہیں پکڑ کر عوام کی عدالت میں لے آئے۔ وہاں حضرت ابراہیم (عليه السلام) کو اس بات کا موقع مل گیا کہ وہ ان پر ان کی بے عقلی اور ان کے معبودوں کی بے اختیاری واضح کریں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 94 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  95. 95

    قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ

    تو آپ نے فرمایا تم انہیں پوجتے ہو جنہیں (خود) تم تراشتے ہو.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 95 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  96. 96

    وَٱللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ

    حاﻻنکہ تمہیں اور تمہاری بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی وہ مورتیاں اور تصویریں بھی جنہیں تم اپنے ہاتھوں سے بناتے اور انہیں معبود سمجھتے ہو، یا مطلق تمہارا عمل جو بھی تم کرتے ہو، ان کا خالق بھی اللہ ہے۔ اس سے واضح ہے کہ بندوں کے افعال کا خالق اللہ ہی ہے، جیسا کہ اہل سنت کا عقیدہ ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 96 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  97. 97

    قَالُوا۟ ٱبْنُوا۟ لَهُۥ بُنْيَـٰنًا فَأَلْقُوهُ فِى ٱلْجَحِيمِ

    وه کہنے لگے اس کے لئے ایک مکان بناؤ اور اس (دہکتی ہوئی) آگ میں اسے ڈال دو.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 97 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  98. 98

    فَأَرَادُوا۟ بِهِۦ كَيْدًا فَجَعَلْنَـٰهُمُ ٱلْأَسْفَلِينَ

    انہوں نے تو اس (ابراہیم علیہ السلام) کے ساتھ مکر کرنا چاہا لیکن ہم نے انہی کو نیچا کر دیا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی آگ کو گلزار بنا کر ان کے مکرو حیلے کو ناکام بنا دیا، پس پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندوں کی چارہ سازی فرماتا ہے، اور آزمائش کو عطا میں اور شر کو خیر میں بدل دیتا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 98 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  99. 99

    وَقَالَ إِنِّى ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّى سَيَهْدِينِ

    اور اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میں تو ہجرت کر کے اپنے پروردگار کی طرف جانے واﻻ ہوں[1] ۔ وه ضرور میری رہنمائی کرے گا.

    حواشی

    [1] حضرت ابراہیم (عليه السلام) کا یہ واقعہ بابل (عراق) میں پیش آیا، بالآخر یہاں سے ہجرت کی اور شام چلے گئے اور وہاں جاکر اولاد کے لئےدعا کی۔(فتح القدیر)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 99 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  100. 100

    رَبِّ هَبْ لِى مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ

    اے میرے رب! مجھے نیک بخت اوﻻد عطا فرما.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 100 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  101. 101

    فَبَشَّرْنَـٰهُ بِغُلَـٰمٍ حَلِيمٍ

    تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی.[1]

    حواشی

    [1] حَلِيمٍ کہہ کر اشارہ فرما دیا کہ بچہ بڑا ہو کر بردبار ہوگا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 101 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  102. 102

    فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ ٱلسَّعْىَ قَالَ يَـٰبُنَىَّ إِنِّىٓ أَرَىٰ فِى ٱلْمَنَامِ أَنِّىٓ أَذْبَحُكَ فَٱنظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَـٰٓأَبَتِ ٱفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّـٰبِرِينَ

    پھر جب وه (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے[1] ، تو اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے[2]؟ بیٹے نے جواب دیا کہ ابا! جو حکم ہوا ہے اسے بجا ﻻئیے انشاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے.

    حواشی

    [1] یعنی دوڑ دھوپ کےلائق ہوگیا یا بلوغت کے قریب پہنچ گیا، بعض کہتے ہیں کہ اس وقت یہ بچہ 13 سال کا تھا۔ [2] پیغمبر کا خواب، وحی اور حکم الٰہی ہی ہوتا ہے۔جس پر عمل ضروری ہوتا ہے۔ بیٹے سے مشورے کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ بیٹا بھی امتثال امر الہٰی کے لئے کس حد تک تیار ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 102 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  103. 103

    فَلَمَّآ أَسْلَمَا وَتَلَّهُۥ لِلْجَبِينِ

    غرض جب دونوں مطیع ہوگئے اور اس نے (باپ نے) اس کو (بیٹے کو) پیشانی[1] کے بل گرا دیا.

    حواشی

    [1] ہر انسان کے منہ (چہرے) پر دو جبینیں (دائیں اور بائیں) ہوتی ہیں اور درمیان میں پیشانی (جَبْهَةٌ) اس لئے لِلْجَبِينِ کا زیادہ صحیح ترجمہ (کروٹ پر) ہے یعنی اس طرح کروٹ پر لٹا لیا، جس طرح جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخ پر لٹایا جاتا ہے۔ (پیشانی یا منہ کے بل لٹانے کاﹿ ترجمہ اس لئے کیا جاتا ہے کہ مشہور ہے حضرت اسماعیل (عليه السلام) نے وصیت کی کہ انہیں اس طرح لٹایا جائے کہ چہرہ سامنے نہ رہے جس سے پیار وشفقت کا جذبہ امر الہٰی پر غالب آنےکا امکان نہ رہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 103 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  104. 104

    وَنَـٰدَيْنَـٰهُ أَن يَـٰٓإِبْرَٰهِيمُ

    تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم!

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 104 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  105. 105

    قَدْ صَدَّقْتَ ٱلرُّءْيَآ ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ

    یقیناً تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا[1] ، بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں.

    حواشی

    [1] یعنی دل کےپورےارادے سے بچے کو ذبح کرنے کے لئے زمین پر لٹا دینے سے ہی تو نے اپنا خواب سچا کر دکھایا ہے، کیونکہ اس سے واضح ہو گیا کہ اللہ کے حکم کے مقابلے میں تجھے کوئی چیز بھی عزیز تر نہیں ہے، حتیٰ کہ اکلوتا بیٹا بھی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 105 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  106. 106

    إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ ٱلْبَلَـٰٓؤُا۟ ٱلْمُبِينُ

    درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی لاڈلے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم، یہ ایک بڑی آزمائش تھی جس میں تو سرخرو رہا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 106 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  107. 107

    وَفَدَيْنَـٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ

    اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا.[1]

    حواشی

    [1] یہ بڑا ذبیحہ ایک مینڈھا تھا جو اللہ تعالیٰ نے جنت سے حضرت جبرائیل (عليه السلام) کے ذریعے سے بھیجا۔ (ابن کثیر) اسماعیل (عليه السلام) کی جگہ اسے ذبح کیا گیا اور پھر اس سنت ابراہمی کو قیامت تک قرب الہٰی کے حصول کے لئے ایک ذریعہ اور عیدالاضحیٰ کا سب سے پسندیدہ عمل قرار دے دیا گیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 107 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  108. 108

    وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ

    اور ہم نے ان کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 108 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  109. 109

    سَلَـٰمٌ عَلَىٰٓ إِبْرَٰهِيمَ

    ابراہیم (علیہ السلام) پر سلام ہو.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 109 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  110. 110

    كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ

    ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 110 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  111. 111

    إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ

    بیشک وه ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 111 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  112. 112

    وَبَشَّرْنَـٰهُ بِإِسْحَـٰقَ نَبِيًّا مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ

    اور ہم نے اس کو اسحاق (علیہ السلام) نبی کی بشارت دی جو صالح لوگوں میں سے ہوگا.[1]

    حواشی

    [1] حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے مذکورہ واقعے کے بعد اب ایک بیٹے اسحاق (عليه السلام) کی اور اس کے نبی ہونے کی خوش خبری دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ اسماعیل (عليه السلام) تھے۔ جو اس وقت ابراہیم (عليه السلام) کے اکلوﺗے بیٹے تھے، اسحاق (عليه السلام) کی ولادت ان کے بعد ہوئی ہے۔ مفسرین کے درمیان اس کی بابت اختلاف ہے کہ ذبیح کون ہے، اسماعیل (عليه السلام) یا اسحاق (عليه السلام) ؟ امام ابن جریر نے حضرت اسحاق (عليه السلام) کو اور ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے حضرت اسماعیل (عليه السلام) کو ذبیح قرار دیا ہے اور یہی بات صحیح ہے۔ امام شوکانی نے اس میں توقف اختیار کیا ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر فتح القدیر اور تفسیر ابن کثیر)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 112 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  113. 113

    وَبَـٰرَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَىٰٓ إِسْحَـٰقَ ۚ وَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِهِۦ مُبِينٌ

    اور ہم نے ابراہیم واسحاق (علیہ السلام) پر برکتیں نازل فرمائیں[1] ، اور ان دونوں کی اوﻻد میں بعضے تو نیک بخت ہیں اور بعض اپنے نفس پر صریح ﻇلم کرنے والے ہیں.[2]

    حواشی

    [1] یعنی ان دونوں کی اولاد کو بہت پھیلایا اور انبیا ورسل کی زیادہ تعداد انہی کی نسل سے ہوئی۔ حضرت اسحاق (عليه السلام) کے بیٹے یعقوب (عليه السلام) ہوئے، جن کے بارہ بیٹوں سے بنی اسرائیل کے 12 قبیلے بنے اور ان سے بنی اسرائیل کی قوم بڑھی اور پھیلی اور اکثر انبیا ان ہی میں سے ہوئے۔ حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے دوسرے بیٹے اسماعیل (عليه السلام) سے عربوں کی نسل چلی اور ان میں آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ہوئے۔ [2] شرک ومعصیت اور ظلم وفساد کا ارتکاب کرکے۔ خاندان ابراہیمی میں برکت کے باوجود نیک وبد کے ذکر سے اس طرف اشارہ کر دیا کہ خاندان اور آبا کی نسبت، اللہ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ وہاں تو ایمان اور عمل صالح کی اہمیت ہے۔ یہود ونصاریٰ اگرچہ حضرت اسحاق (عليه السلام) کی اولاد سے ہیں۔ اسی طرح مشرکین عرب حضرت اسماعیل (عليه السلام) کی اولاد سے ہیں۔ لیکن ان کے جو اعمال ہیں وہ کھلی گمراہی یا شرک ومعصیت پر مبنی ہیں۔ اس لئے یہ اونچی نسبتیں ان کے لئے عمل کا بدل نہیں ہو سکتیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 113 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  114. 114

    وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَـٰرُونَ

    یقیناً ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) پر بڑا احسان کیا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی انہیں نبوت ورسالت اور دیگر انعامات سے نوازا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 114 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  115. 115

    وَنَجَّيْنَـٰهُمَا وَقَوْمَهُمَا مِنَ ٱلْكَرْبِ ٱلْعَظِيمِ

    اور انہیں اور ان کی قوم کو بہت بڑے دکھ درد سے نجات دے دی.[1]

    حواشی

    [1] یعنی فرعون کی غلامی اور اس کے ظلم واستبداد سے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 115 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  116. 116

    وَنَصَرْنَـٰهُمْ فَكَانُوا۟ هُمُ ٱلْغَـٰلِبِينَ

    اور ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 116 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  117. 117

    وَءَاتَيْنَـٰهُمَا ٱلْكِتَـٰبَ ٱلْمُسْتَبِينَ

    اور ہم نے انہیں (واضح اور) روشن کتاب دی.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 117 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  118. 118

    وَهَدَيْنَـٰهُمَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ

    اور انہیں سیدھے راستہ پرقائم رکھا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 118 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  119. 119

    وَتَرَكْنَا عَلَيْهِمَا فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ

    اور ہم نے ان دونوں کے لئے پیچھے آنے والوں میں یہ بات باقی رکھی.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 119 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  120. 120

    سَلَـٰمٌ عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَـٰرُونَ

    کہ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر سلام ہو.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 120 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  121. 121

    إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ

    بے شک ہم نیک لوگوں کو اسی طرح بدلے دیا کرتے ہیں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 121 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  122. 122

    إِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ

    یقیناً یہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 122 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  123. 123

    وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ

    بے شک الیاس (علیہ السلام) بھی پیغمبروں میں سے تھے[1]

    حواشی

    [1] یہ حضرت ہارون (عليه السلام) کی اولاد میں سے ایک اسرائیلی نبی تھے۔ یہ جس علاقے میں بھیجے گئے تھے اس کا نام بعلبک تھا، بعض کہتے ہیں اس جگہ کا نام سامرہ ہے جوفلسطین کا مغربی وسطی علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگ بعل نامی بت کے پجاری تھے۔(بعض کہتے ہیں یہ دیوی کا نام تھا)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 123 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  124. 124

    إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَلَا تَتَّقُونَ

    جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟[1]

    حواشی

    [1] یعنی اس کے عذاب اور گرفت سے، کہ اسے چھوڑ کر تم غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 124 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  125. 125

    أَتَدْعُونَ بَعْلًا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ ٱلْخَـٰلِقِينَ

    کیا تم بعل (نامی بت) کو پکارتے ہو؟ اور سب سے بہتر خالق کو چھوڑ دیتے ہو؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 125 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  126. 126

    ٱللَّهَ رَبَّكُمْ وَرَبَّ ءَابَآئِكُمُ ٱلْأَوَّلِينَ

    اللہ جو تمہارا اور تمہارے اگلے تمام باپ دادوں کا رب ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی اس کی عبادت وپرستش کرتے ہو، اس کے نام کی نذر نیاز دیتے اور اس کو حاجت روا سمجھتے ہو، جو پتھر کی مورتی ہے اور جو ہر چیز کا خالق اور اگلوں پچھلوں سب کا رب ہے، اس کو تم نے فراموش کر رکھا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 126 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  127. 127

    فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ

    لیکن قوم نے انہیں جھٹلایا، پس وه ضرور (عذاب میں) حاضر رکھے[1] جائیں گے.

    حواشی

    [1] یعنی توحید وایمان سے انکار کی پاداش میں جہنم کی سزا بھگتیں گے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 127 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  128. 128

    إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ

    سوائے اللہ تعالی کے مخلص بندوں کے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 128 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  129. 129

    وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ

    ہم نے (الیاس علیہ السلام) کا ذکر خیر پچھلوں میں بھی باقی رکھا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 129 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  130. 130

    سَلَـٰمٌ عَلَىٰٓ إِلْ يَاسِينَ

    کہ الیاس پر سلام ہو.[1]

    حواشی

    [1] الیاسین، الیاس (عليه السلام) ہی کا ایک تلفظ ہے، جیسے طور سینا کو طور سینین بھی کہتے ہیں۔ حضرت الیاس (عليه السلام) کو دوسری کتابوں میں (ایلیا) بھی کہا گیا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 130 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  131. 131

    إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ

    ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 131 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  132. 132

    إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ

    بیشک وه ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے.[1]

    حواشی

    [1] قرآن نے نبیوں اور رسولوں کا ذکر کرکے، ان کے لئے اکثر جگہ پر الفاظ استعمال کیے ہیں کہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سےتھا۔ جس سےدو مقصد ہیں۔ ایک ان کے اخلاق وکردار کی رفعت کا اظہار جو ایمان کا لازمی جز ہے۔ تاکہ ان لوگوں کی تردید ہو جائے جو بہت سے پیغمبروں کے بارے میں اخلاقی کمزوریوں کا اثبات کرتے ہیں، جیسے تورات وانجیل کے موجودہ نسخوں میں متعدد پیغمبروں کے بارے میں ایسے من گھڑت قصے کہانیاں درج ہیں۔ دوسرا مقصد ان لوگوں کی تردید ہے جو بعض انبیا کی شان میں غلو کرکے ان کے اندر الہی صفات واختیارات ثابت کرتے ہیں۔ یعنی وہ پیغمبر ضرور تھے لیکن تھے بہرحال اللہ کے بندے اور اس کے غلام نہ کہ الٰہ یا اس کے جز یا اس کے شریک۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 132 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  133. 133

    وَإِنَّ لُوطًا لَّمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ

    بیشک لوط (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے تھے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 133 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  134. 134

    إِذْ نَجَّيْنَـٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ أَجْمَعِينَ

    ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو سب کو نجات دی.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 134 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  135. 135

    إِلَّا عَجُوزًا فِى ٱلْغَـٰبِرِينَ

    بجز اس بڑھیا کے جو پیچھے ره جانے والوں میں سے ره گئی.[1]

    حواشی

    [1] اس سے مراد حضرت لوط (عليه السلام) کی بیوی ہے جو کافرہ تھی، یہ اہل ایمان کے ساتھ بستی سے باہر نہیں گئی تھی، کیونکہ اسےاپنی قوم کے ساتھ ہلاک ہونا تھا، چنانچہ وہ بھی ہلاک کر دی گئی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 135 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  136. 136

    ثُمَّ دَمَّرْنَا ٱلْـَٔاخَرِينَ

    پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کر دیا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 136 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  137. 137

    وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِم مُّصْبِحِينَ

    اور تم تو صبح ہونے پر ان کی بستیوں کے پاس سے گزرتے ہو.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 137 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  138. 138

    وَبِٱلَّيْلِ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

    اور رات کو بھی، کیا پھر بھی نہیں سمجھتے؟[1]

    حواشی

    [1] یہ اہل مکہ سے خطاب ہے جو تجارتی سفر میں ان تباہ شدہ علاقوں سے آتے جاتے، گزرتے تھے۔ ان کو کہا جا رہا ہے کہ تم صبح کے وقت بھی اور رات کے وقت بھی ان بستیوں سےگزرتے ہو، جہاں اب مردار بحیرہ ہے، جو دیکھنے میں بھی نہایت کریہ ہے اور سخت متعفن اور بدبو دار۔ کیا تم انہیں دیکھ کر یہ بات نہیں سمجھتے کہ تکذیب رسل کی وجہ سے ان کا یہ بدانجام ہوا، تو تمہاری اس روش کا انجام بھی اس سے مختلف کیوں کر ہوگا؟ جب تم بھی وہی کام کر رہے ہو، جو انہوں نے کیا تو پھر اللہ کے عذاب سے کیوں کر محفوظ رہو گے؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 138 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  139. 139

    وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ

    اور بلاشبہ یونس (علیہ السلام) نبیوں میں سے تھے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 139 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  140. 140

    إِذْ أَبَقَ إِلَى ٱلْفُلْكِ ٱلْمَشْحُونِ

    جب بھاگ کر پہنچے بھری کشتی پر.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 140 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  141. 141

    فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ ٱلْمُدْحَضِينَ

    پھر قرعہ اندازی ہوئی تو یہ مغلوب ہوگئے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 141 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  142. 142

    فَٱلْتَقَمَهُ ٱلْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ

    تو پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وه خود اپنے آپ کو ملامت[1] کرنے لگ گئے.

    حواشی

    [1] حضرت یونس (عليه السلام) عراق کے علاقے نینوی (موجودہ موصل) میں نبی بنا کر بھیجے گئے تھے، یہ آشوریوں کا پایۂ تخت تھا، انہوں نے ایک لاکھ بنو اسرائیلیوں کو قیدی بنایا ہوا تھا، چنانچہ ان کی ہدایت ورہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت یونس (عليه السلام) کو بھیجا، لیکن یہ قوم آپ پر ایمان نہیں لائی۔ بالآخر اپنی قوم کو ڈرایا کہ عنقریب تم عذاب الٰہی کی گرفت میں آجاؤ گے۔ عذاب میں تاخیر ہوئی تو اللہ کی اجازت کے بغیر ہی اپنے طور پر وہاں سے نکل گئے اور سمندر پر جا کر ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ اپنے علاقے سے نکل کر جانے کو ایسے لفظ سے تعبیر کیا جس طرح ایک غلام اپنے آقا سے بھاگ کر چلا جاتا ہے۔ کیونکہ آپ بھی اللہ کی اجازت کے بغیر ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ کشتی سواروں اور سامانوں سے بھری ہوئی تھی۔ کشتی سمندر کی موجوں میں گھر گئی اور کھڑی ہوگئی۔ چنانچہ اس کا وزن کم کرنے کے لئے ایک آدھ آدمی کو کشتی سے سمندر میں پھینکنے کی تجویزسامنے آئی تاکہ کشتی میں سوار دیگر انسانوں کی جانیں بچ جائیں۔ لیکن یہ قربانی دینے کے لئے کوئی تیار نہیں تھا۔ اس لئے قرعہ اندازی کرنی پڑی، جس میں حضرت یونس (عليه السلام) کا نام آیا۔ اور وہ مغلوبین میں سے ہو گئے، یعنی طوعاً وکرھاً اپنے کو بھاگے ہوئے غلام کی طرح سمندر کی موجوں کے سپرد کرنا پڑا۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ انہیں ثابت نگل لے اور یوں حضرت یونس (عليه السلام) اللہ کے حکم سے مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 142 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  143. 143

    فَلَوْلَآ أَنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلْمُسَبِّحِينَ

    پس اگر یہ پاکی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 143 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  144. 144

    لَلَبِثَ فِى بَطْنِهِۦٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ

    تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ میں ہی رہتے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی توبہ واستغفار اور اللہ کی تسبیح بیان نہ کرتے، جیسا کہ انہوں نے «لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» (الأنبياء: 87) کہا تو قیامت تک وہ مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 144 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  145. 145

    ۞ فَنَبَذْنَـٰهُ بِٱلْعَرَآءِ وَهُوَ سَقِيمٌ

    پس انہیں ہم نے چٹیل میدان میں ڈال دیا اور وه اس وقت بیمار تھے.[1]

    حواشی

    [1] جیسے ولادت کے وقت بچہ یا جانور کا چوزہ ہوتا ہے، مضمحل، کمزور اور ناتواں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 145 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  146. 146

    وَأَنۢبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّن يَقْطِينٍ

    اور ان پر سایہ کرنے واﻻ ایک بیل دار درخت[1] ہم نے اگا دیا.

    حواشی

    [1] يَقْطِين ہر اس بیل کو کہتے ہیں جو اپنے تنے پر کھڑی نہیں ہوتی، جیسے لوکی، کدو وغیرہ کی بیل۔ یعنی اس چٹیل میدان میں جہاں کوئی درخت تھا نہ عمارت۔ ایک سایہ دار بیل اگا کر ہم نے ان کی حفاظت فرمائی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 146 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  147. 147

    وَأَرْسَلْنَـٰهُ إِلَىٰ مِا۟ئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ

    اور ہم نے انہیں ایک لاکھ بلکہ اور زیاده آدمیوں کی طرف بھیجا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 147 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  148. 148

    فَـَٔامَنُوا۟ فَمَتَّعْنَـٰهُمْ إِلَىٰ حِينٍ

    پس وه ایمان ﻻئے[1] ، اور ہم نے انہیں ایک زمانہ تک عیش وعشرت دی.

    حواشی

    [1] ان کے ایمان لانے کی کیفیت کا بیان سورۂ یونس 98 میں گزر چکا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 148 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  149. 149

    فَٱسْتَفْتِهِمْ أَلِرَبِّكَ ٱلْبَنَاتُ وَلَهُمُ ٱلْبَنُونَ

    ان سے دریافت کیجئے! کہ کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 149 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  150. 150

    أَمْ خَلَقْنَا ٱلْمَلَـٰٓئِكَةَ إِنَـٰثًا وَهُمْ شَـٰهِدُونَ

    یا یہ اس وقت موجود تھے جبکہ ہم نے فرشتوں کو مؤنﺚ پیدا کیا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی فرشتوں کو جویہ اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں تو کیا جب ہم نےفرشتے پیدا کیے تھے، یہ اس وقت وہاں موجود تھے اور انہوں نے فرشتوں کے اندر عورتوں والی خصوصیات کا مشاہدہ کیا تھا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 150 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  151. 151

    أَلَآ إِنَّهُم مِّنْ إِفْكِهِمْ لَيَقُولُونَ

    آگاه رہو! کہ یہ لوگ صرف اپنی افترا پردازی سے کہہ رہے ہیں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 151 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  152. 152

    وَلَدَ ٱللَّهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـٰذِبُونَ

    کہ اللہ تعالی کی اوﻻد ہے۔ یقیناً یہ محض جھوٹے ہیں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 152 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  153. 153

    أَصْطَفَى ٱلْبَنَاتِ عَلَى ٱلْبَنِينَ

    کیا اللہ تعالی نے اپنے لیے بیٹیوں کو بیٹوں پر ترجیح دی.[1]

    حواشی

    [1] جب کہ یہ خود اپنے لئے بیٹیاں نہیں، بیٹے پسند کرتے ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 153 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  154. 154

    مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ

    تمہیں کیا ہو گیا ہے کیسے حکم لگاتے پھرتے ہو؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 154 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  155. 155

    أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

    کیا تم اس قدر بھی نہیں سمجھتے؟[1]

    حواشی

    [1] کہ اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو ذکور ہوتی، جس کو تم بھی پسند کرتے اور بہتر سمجھتے ہو، نہ کہ بیٹیاں، جو تمہاری نظروں میں کمتر اور حقیر ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 155 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  156. 156

    أَمْ لَكُمْ سُلْطَـٰنٌ مُّبِينٌ

    یا تمہارے پاس اس کی کوئی صاف دلیل ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 156 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  157. 157

    فَأْتُوا۟ بِكِتَـٰبِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ

    تو جاؤ اگر سچے ہو تو اپنی ہی کتاب لے آؤ.[1]

    حواشی

    [1] یعنی عقل تو اس عقیدے کی صحت کو تسلیم نہیں کرتی کہ اللہ کی اولاد ہے اور وہ بھی مونث، چلو کوئی نقلی دلیل ہی دکھا دو، کوئی کتاب جو اللہ نے اتاری ہو، اس میں اللہ کی اولاد کا اعتراف یا حوالہ ہو؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 157 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  158. 158

    وَجَعَلُوا۟ بَيْنَهُۥ وَبَيْنَ ٱلْجِنَّةِ نَسَبًا ۚ وَلَقَدْ عَلِمَتِ ٱلْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ

    اور ان لوگوں نے تو اللہ کے اور جنات کے درمیان بھی قرابت داری ٹھہرائی[1] ہے، اور حاﻻنکہ خود جنات کو معلوم ہے کہ وه (اس عقیده کے لوگ عذاب کے سامنے) پیش کیے جائیں گے.[2]

    حواشی

    [1] یہ اشارہ ہے مشرکین کے اس عقیدے کی طرف کہ اللہ نےجنات کے ساتھ رشتہ ازدواج قائم کیا، جس سے لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ یہی بنات اللہ، فرشتے ہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان قرابت داری (سسرالی رشتہ) قائم ہوگیا۔ [2] حالانکہ یہ بات کیوں کر صحیح ہو سکتی ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ جنات کو عذاب میں کیوں ڈالتا؟ کیا وہ اپنی قرابت داری کا لحاظ نہ کرتا؟ اور اگر ایسا نہیں ہے بلکہ خود جنات بھی جانتے ہیں کہ انہیں عقاب وعذاب الٰہی بھگتنے کے لئے ضرور جہنم میں جانا ہوگا، تو پھر اللہ اور جنوں کے درمیان قرابت داری کس طرح ہو سکتی ہے؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 158 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  159. 159

    سُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ

    جو کچھ یہ (اللہ کے بارے میں) بیان کر رہے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ بالکل پاک ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 159 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  160. 160

    إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ

    سوائے! اللہ کے مخلص بندوں کے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی یہ اللہ کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کہتے جن سے وہ پاک ہے۔ یہ مشرکین ہی کا شیوہ ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جہنم میں جنات اور مشرکین ہی حاضر کیے جائیں گے، اللہ کے مخلص (چنے ہوئے) بندے نہیں۔ ان کے لئے تو اللہ نےجنت تیار کر رکھی ہے۔ اس صورت میں یہ لَمُحْضَرُون سے استثنا ہے اور تسبیح جملہ معترضہ ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 160 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  161. 161

    فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ

    یقین مانو کہ تم سب اور تمہارے معبودان (باطل).

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 161 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  162. 162

    مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ بِفَـٰتِنِينَ

    کسی ایک کو بھی بہکا نہیں سکتے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 162 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  163. 163

    إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ ٱلْجَحِيمِ

    بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی تم اور تمہارے معبودان باطلہ کسی کو گمراہ کرنے پر قادر نہیں ہیں،سوائے ان کے جو اللہ کے علم میں پہلے ہی جہنمی ہیں۔ اور اسی وجہ سے وہ کفر وشرک پر مصر ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 163 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  164. 164

    وَمَا مِنَّآ إِلَّا لَهُۥ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ

    (فرشتوں کا قول ہے کہ) ہم میں سے تو ہر ایک کی جگہ مقرر ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی اللہ کی عبادت کے لئے۔ یہ فرشتوں کا قول ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 164 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  165. 165

    وَإِنَّا لَنَحْنُ ٱلصَّآفُّونَ

    اور ہم تو (بندگیٴ الٰہی میں) صف بستہ کھڑے ہیں.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 165 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  166. 166

    وَإِنَّا لَنَحْنُ ٱلْمُسَبِّحُونَ

    اور اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] مطلب یہ ہے کہ فرشتے بھی اللہ کی مخلوق اور اس کے خاص بندے ہیں جو ہر وقت اللہ کی عبادت میں اور اس کی تسبیح وتقدیس میں مصروف رہتے ہیں، نہ کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 166 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  167. 167

    وَإِن كَانُوا۟ لَيَقُولُونَ

    کفار تو کہا کرتے تھے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 167 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  168. 168

    لَوْ أَنَّ عِندَنَا ذِكْرًا مِّنَ ٱلْأَوَّلِينَ

    کہ اگر ہمارے سامنے اگلے لوگوں کا ذکر ہوتا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 168 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  169. 169

    لَكُنَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ

    تو ہم بھی اللہ کے چیده بندے بن جاتے.[1]

    حواشی

    [1] ذکر سے مراد کوئی کتاب الٰہی یا پیغمبر ہے۔ یعنی یہ کفار نزول قرآن سے پہلے کہا کرتے تھے کہ ہمارے پاس بھی کوئی آسمانی کتاب ہوتی، جس طرح پہلے لوگوں پر تورات وغیرہ نازل ہوئیں۔ یا کوئی ہادی اور منذر ہمیں وعظ ونصیحت کرنے والا ہوتا، تو ہم بھی اللہ کے خالص بندے بن جاتے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 169 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  170. 170

    فَكَفَرُوا۟ بِهِۦ ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ

    لیکن پھر اس قرآن کے ساتھ کفر کر گئے[1] ، پس اب عنقریب جان لیں گے.[2]

    حواشی

    [1] یعنی ان کی آرزو کے مطابق جب رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ہادی بن کر آگئے،قرآن مجید بھی نازل کر دیا گیا تو ان پر ایمان لانے کے بجائے، ان کا انکار کر دیا۔ [2] یہ تہدید و وعید ہے کہ اس تکذیب کا انجام عنقریب ان کو معلوم ہو جائے گا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 170 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  171. 171

    وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا ٱلْمُرْسَلِينَ

    اور البتہ ہمارا وعده پہلے ہی اپنے رسولوں کے لئے صادر ہو چکا ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 171 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  172. 172

    إِنَّهُمْ لَهُمُ ٱلْمَنصُورُونَ

    کہ یقیناً وه ہی مدد کیے جائیں گے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 172 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  173. 173

    وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ ٱلْغَـٰلِبُونَ

    اور ہمارا ہی لشکر غالب (اور برتر) رہے گا.[1]

    حواشی

    [1] جیسے دوسرے مقام پر فرمایا، «كَتَبَ اللَّهُ لأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي» (المجادلة: 21)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 173 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  174. 174

    فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ

    اب آپ کچھ دنوں تک ان سے منھ پھیر لیجئے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی ان کی باتوں اور ایذاؤں پر صبر کیجئے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 174 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  175. 175

    وَأَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ

    اور انہیں دیکھتے رہیئے[1] ، اور یہ بھی آگے چل کر دیکھ لیں گے.

    حواشی

    [1] کہ کب ان پر اللہ کا عذاب آتا ہے؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 175 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  176. 176

    أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ

    کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 176 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  177. 177

    فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَآءَ صَبَاحُ ٱلْمُنذَرِينَ

    سنو! جب ہمارا عذاب ان کے میدان میں اتر آئے گا اس وقت ان کی جن کو متنبہ کر دیا گیا تھا[1] بڑی بری صبح ہوگی.

    حواشی

    [1] مسلمان جب خیبر پر حملہ کرنے گئے، تو یہودی انہیں دیکھ کر گھبرا گئے، جس پر نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی اللہ اکبر کہہ کر فرمایا تھا ”خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحِةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ“ (صحيح بخاري ، كتاب الصلاة، باب ما يذكر في الفخذ، مسلم ، كتاب الجهاد باب غزوة خيبر)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 177 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  178. 178

    وَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ

    آپ کچھ وقت تک ان کا خیال چھوڑ دیجئے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 178 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  179. 179

    وَأَبْصِرْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ

    اور دیکھتے رہئیے یہ بھی ابھی ابھی دیکھ لیں گے.[1]

    حواشی

    [1] یہ بطور تاکید دوبارہ فرمایا۔ یا پہلے جملے سےمراد دنیا کا وہ عذاب ہے جو اہل مکہ پر بدر واحد اور دیگر جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں کے قتل وسلب کی صورت میں آیا۔ اور دوسرے جملے میں اس عذاب کا ذکر ہے جس سے یہ کفار ومشرکین آخرت میں دوچار ہوں گے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 179 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  180. 180

    سُبْحَـٰنَ رَبِّكَ رَبِّ ٱلْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ

    پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت واﻻ ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] اس میں عیوب ونقائص سےاللہ کے پاکیزہ ہونے کا بیان ہےجو مشرکین اللہ کے لئےبیان کرتے ہیں، مثلاً اس کی اولاد ہے، یا اس کا کوئی شریک ہے۔ یہ کوتاہیاں بندوں کے اندر ہیں اور اولاد یا شریکوں کے ضرورت مند بھی وہی ہیں، اللہ ان سب باتوں سے بہت بلند اور پاک ہے۔ کیونکہ وہ کسی کا محتاج ہی نہیں ہے کہ اسے اولادکی یا کسی شریک کی ضرورت پیش آئے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 180 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  181. 181

    وَسَلَـٰمٌ عَلَى ٱلْمُرْسَلِينَ

    پیغمبروں پر سلام ہے.[1]

    حواشی

    [1] کہ انہوں نے اللہ کا پیغام اہل دنیا کی طرف پہنچایا، جس پر یقیناً وہ سلام وتبریک کے مستحق ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 181 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  182. 182

    وَٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

    اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے.[1]

    حواشی

    [1] یہ بندوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ اللہ نے تم پر احسان کیا ہے، پیغمبر بھیجے، کتابیں نازل کیں اورپیغمبروں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچایا ، اس لئے تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ بعض کہتے ہیں کہ کافروں کو ہلاک کرکےاہل ایمان اور پیغمبروں کو بچایا، اس پر شکر الٰہی کرو۔ حمد کے معنی ہیں بہ قصد تعظیم ثناء جمیل، ذکر خیر اور عظمت شان بیان کرنا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 182 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتصص

قرآن کا متن: تنزیل

غلطی کی اطلاع دیں

مزید