يس

یس

83 آیاتمکیپارہ 22

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 75

    لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَهُمْ وَهُمْ لَهُمْ جُندٌ مُّحْضَرُونَ

    (حاﻻنکہ) ان میں ان کی مدد کی طاقت ہی نہیں، (لیکن) پھر بھی (مشرکین) ان کے لئے حاضر باش لشکری ہیں.[1]

    حواشی

    [1] جُنْدٌ سےمراد بتوں کےحمایتی اور ان کی طرف سے مدافعت کرنے والے، مُحْضَرُونَ دنیا میں ان کے پاس حاضرہونے والے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جن بتوں کو معبود سمجھتے ہیں، وہ ان کی مدد کیا کریں گے؟ وہ تو خود اپنی مدد کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ انہیں کوئی برا کہے، ان کی مذمت کرے، تو یہی ان کی حمایت ومدافعت میں سرگرم ہوتے ہیں، نہ کہ خود ان کے وہ معبود۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 74 - 75 کی تفسیر

    [74، 75] یہ مشرکین کے خود ساختہ معبودوں کے بطلان کا بیان ہے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور ان سے مدد اور سفارش کی امید رکھتے ہیں، حالانکہ وہ انتہائی عاجز ہیں ﴿لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ۠ نَصْرَهُمْ ﴾ ’’نہ وہ ان کی مدد کر سکتے ہیں‘‘ اور نہ خود اپنی مدد پر قادر ہیں۔ جب وہ اپنی مدد نہیں کر سکتے تو وہ ان کی مدد کیسے کر سکتے ہیں۔ مدد کرنا دو امور سے مشروط ہے، استطاعت اور ارادہ۔ جب کوئی مدد کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو ایک چیز باقی رہ جاتی ہے کہ آیا وہ اپنے عبادت گزار بندے کی مدد کرنا چاہتا بھی ہے یا نہیں۔ استطاعت کی نفی سے دونوں امور کی نفی ہو جاتی ہے۔ ﴿وَهُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ ﴾ ’’اور وہ ان کی فوج ہوکر حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ ان کے حاضر باش لشکر ہوں گے۔ وہ سب عذاب میں ڈالے جائیں گے اور ایک دوسرے سے براء ت کا اظہار کریں گے۔ انھوں نے دنیا میں ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے براء ت کا اظہار کر کے اپنی عبادت کو اسی ہستی کے لیے خالص کیوں نہیں کیا جس کے ہاتھ میں نفع و نقصان ہے، عطا کرنا اور محروم کرنا اسی کے اختیار میں ہے اور وہی والی اور مددگار ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 75 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتصافاتالصافات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید