ص

ص

88 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 11

    جُندٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِّنَ ٱلْأَحْزَابِ

    یہ بھی (بڑے بڑے) لشکروں میں سے شکست پایا ہوا (چھوٹا سا) لشکر ہے.[1]

    حواشی

    [1] جُنْدٌ، مبتدا محذوف هُمْ کی خبر ہے اور ما بطور تاکید تعظیم یا تحقیر کے لئے ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی (صلى الله عليه وسلم) کی مدد اور کفار کی شکست کا وعدہ ہے۔ یعنی کفار کا یہ لشکر جو باطل کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے، بڑا ہے۔ یا حقیر، اس کی قطعاً پروا نہ کریں نہ اس سے خوف کھائیں، شکست اس کا مقدر ہے۔ هُنَالِكَ مکان بعید کی طرف اشارہ ہے جو جنگ بدر اور یوم فتح مکہ کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔ جہاں کافر عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 11 کی تفسیر

    [11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَ٘هْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 11 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتزمرالزمر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید