ص

ص

88 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 24

    قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِۦ ۖ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ ٱلْخُلَطَآءِ لَيَبْغِى بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَقَلِيلٌ مَّا هُمْ ۗ وَظَنَّ دَاوُۥدُ أَنَّمَا فَتَنَّـٰهُ فَٱسْتَغْفَرَ رَبَّهُۥ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ ۩

    آپ نے فرمایا! اس کا اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری ایک دنبی ملا لینے کا سوال بیشک تیرے اوپر ایک ﻇلم ہے اور اکثر حصہ دار اور شریک (ایسے ہی ہوتے ہیں کہ) ایک دوسرے پر ﻇلم کرتے[1] ہیں، سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں[2] اور (حضرت) داؤد (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے، پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور (پوری طرح) رجوع کیا.

    حواشی

    [1] البتہ اس اخلاقی کوتاہی سے اہل ایمان محفوظ ہیں، کیونکہ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے اور عمل صالح کے وہ پابند ہوتے ہیں۔ اس لئےکسی پر زیادتی کرنا اور دوسرے کا مال ہڑپ کر جانے کی سعی کرنا، ان کے مزاج میں شامل نہیں ہوتا۔ وہ تو دینے والے ہوتے ہیں، لینے والے نہیں۔ تاہم ایسے بلند کردار لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ [2] وَخَرَّ رَاكِعًا کا مطلب یہاں سجدے میں گر پڑنا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 24 کی تفسیر

    [24] جب داؤ دu نے اس کی بات سنی… فریقین کی باتوں کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا تھا کہ فی الواقع ایسا ہوا ہے، اس لیے حضرت داؤ دu نے ضرورت نہ سمجھی کہ دوسرا فریق بات کرے ، لہٰذا اعتراض کرنے والے کے لیے اس قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حضرت داؤ دu نے فریق ثانی کا موقف سننے سے پہلے فیصلہ کیوں کیا؟ تو فرمایا: ﴿لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ﴾ ’’یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بے شک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔‘‘ اکثر ساتھ اور مل جل کر رہنے والوں کی یہی عادت ہے، بنا بریں فرمایا: ﴿وَاِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْؔخُلَطَآءِ لَ٘یَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ ﴾ ’’اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔‘‘ کیونکہ ظلم کرنا نفوس کا وصف ہے ﴿اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔‘‘ کیونکہ انھیں ایمان اور عمل صالح کی معیت حاصل ہوتی ہے جو انھیں ظلم سے باز رکھتے ہیں۔ ﴿وَقَلِیْلٌ مَّا هُمْ ﴾ ’’اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ ﴾ (سبا: 34؍13) ’’اور میرے بندوں میں کم لوگ ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ ﴿وَظَ٘نَّ دَاوٗدُ ﴾ جب حضرت داؤ دu نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا تو آپ سمجھ گئے کہ ﴿اَنَّمَا فَتَنّٰهُ ﴾ یعنی ہم نے حضرت داؤ دu کی آزمائش کے لیے یہ مقدمہ بنا کر ان کے سامنے پیش کیا ہے۔ ﴿فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ﴾ جب آپ سے لغزش سرزد ہوئی تو آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا ﴾ ’’اور جھک کر گر پڑے۔‘‘ یعنی سجدے میں گر پڑے ﴿وَّاَنَابَ﴾ اور سچی توبہ اور عبادت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 24 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتزمرالزمر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید