ص

ص

88 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 31

    إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِٱلْعَشِىِّ ٱلصَّـٰفِنَـٰتُ ٱلْجِيَادُ

    جب ان کے سامنے شام کے وقت تیز رو خاصے گھوڑے پیش کیے گئے.[1]

    حواشی

    [1] صَافِنَاتٌ، صَافِنٌ یا صَافِنَةٌ کی جمع ہے، وہ گھوڑے جو تین ٹانگوں پر کھڑے ہوں۔ جِيَادٌ جَوَادٌ کی جمع ہے جو تیز رو گھوڑے کو کہتے ہیں۔ یعنی حضرت سلیمان (عليه السلام) نے بغرض جہاد جو گھوڑے پالے ہوئے تھے، وہ عمدہ اصیل تیز رو گھوڑے حضرت سلیمان پر معاینے کے لئے پیش کیے گئے۔ عَشِيٌّ، ظہر یا عصر سے لےکر آخر دن تک کے وقت کو کہتے ہیں، جسے ہم شام سے تعبیر کرتے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 31 - 33 کی تفسیر

    [33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوْهَا عَلَیَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 31 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتزمرالزمر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید