ص

ص

88 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 36

    فَسَخَّرْنَا لَهُ ٱلرِّيحَ تَجْرِى بِأَمْرِهِۦ رُخَآءً حَيْثُ أَصَابَ

    پس ہم نے ہوا کو ان کے ماتحت کر دیا اور آپ کے حکم سے جہاں آپ چاہتے نرمی سے پہنچا دیا کرتی تھی.[1]

    حواشی

    [1] یعنی ہم نے سلیمان (عليه السلام) کی یہ دعا قبول کر لی اور ایسی بادشاہی عطا کی جس میں ہوا بھی ان کے ماتحت تھی، یہاں ہوا کو نرمی سے چلنے والا بتایا ہے، جب کہ دوسرے مقام پر اسے تند وتیز کہا ہے، (الانبیاء: 81) جس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا پیدائشی قوت کے لحاظ سے تند ہے۔ لیکن سلیمان (عليه السلام) کے لئے اسے نرم کر دیا گیا، حسب ضرورت وہ کبھی تند ہوتی کبھی نرم، جس طرح حضرت سلیمان (عليه السلام) چاہتے۔ (فتح القدیر)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 35 - 39 کی تفسیر

    [39-35] ﴿قَالَ رَبِّ اغْ٘فِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْ٘كًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا: ﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامْنُ٘نْ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوْ اَمْسِكْ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَیْرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 36 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتزمرالزمر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید