ص

ص

88 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 62

    وَقَالُوا۟ مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُم مِّنَ ٱلْأَشْرَارِ

    اور جہنمی کہیں گے کیا بات ہے کہ وه لوگ ہمیں دکھائی نہیں دیتے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے.[1]

    حواشی

    [1] أَشْرَارٌ سے مراد فقراء مومنین ہیں۔ جیسے عمار، خباب، صہیب، بلال وسلیمان وغیرہم۔ (رضي الله عنهم) ، انہیں روسائے مکہ ازراہ خبث (برےلوگ) کہتے تھے اور اب بھی اہل باطل حق پر چلنے والوں کو بنیاد پرست، دہشت گرد، انتہا پسند وغیرہ القاب سے نوازتے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 62 کی تفسیر

    [62] ﴿وَقَالُوْا﴾ اور وہ جہنم کے اندر کہیں گے: ﴿مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِ﴾ یعنی ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ جن کے بارے میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ برے لوگ ہیں اور جہنم کے عذاب کے مستحق ہیں وہ آج ہمیں نظر نہیں آرہے؟ مراد اہل ایمان ہیں، جہنمی ان کو جہنم میں تلاش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، کیا وہ ان کو جہنم میں نظر آئیں گے؟

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 62 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتزمرالزمر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید