ص

ص

88 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 63

    أَتَّخَذْنَـٰهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ ٱلْأَبْصَـٰرُ

    کیا ہم نے ہی ان کا مذاق بنا رکھا تھا[1] یا ہماری نگاہیں ان سے ہٹ گئی ہیں.[2]

    حواشی

    [1] یعنی دنیا میں، جہاں ہم غلطی پر تھے؟ [2] یا وہ بھی ہمارے ساتھ ہی یہیں کہیں ہیں، ہماری نظریں انہیں نہیں دیکھ پا رہی ہیں؟

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 63 کی تفسیر

    [63] ﴿اَتَّؔخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ ﴾ ’’کیا ہم نے ان سے مذاق کیا تھا یا ہماری آنکھیں پھر گئی ہیں۔‘‘ یعنی ان کا ہمیں نظر نہ آنا دو اسباب میں سے ایک سبب پر مبنی ہے یا تو ہم ان کو اشرار شمار کرنے میں غلطی پر تھے، حالانکہ وہ اچھے لوگ تھے۔ تب ان کے بارے میں ہماری باتیں تمسخر و استہزا کے زمرے میں آئیں گی۔ حقیقت فی الواقع یہی ہے جیسا کہ جہنمیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌؔ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْ٘فِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ۰۰ فَاتَّؔخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْؔكُمْ ذِكْرِیْ وَؔكُنْتُمْ مِّؔنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ ﴾ (المؤمنون: 23؍109-110) ’’بے شک میرے بندوں میں سے کچھ لوگ جب یہ کہتے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور تو سب سے اچھا رحم فرمانے والا ہے، تو تم نے ان کا تمسخر اڑایا اور انھیں نشانۂ تضحیک بنایا کرتے تھے۔‘‘ دوسری بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید وہ ہمارے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوں مگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ گئے ہوں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ ان کا اہل ایمان کے بارے میں یہ موقف، دنیا میں ان کے دلوں میں جڑ پکڑ کر عقائد میں ڈھل گیا تھا، انھوں نے اہل ایمان کے بارے میں نہایت کثرت سے جہنمی ہونے کا حکم لگایا، وہ ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا اور ان کے دل اسی رنگ میں رنگے گئے تھے۔ اسی حال میں انھوں نے متذکرہ بالا الفاظ کہے۔ یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا کلام، خلاف واقعہ اور ملمّع سازی کے زمرے میں آتا ہے، جیسا کہ وہ دنیا میں ملمع سازی کیا کرتے تھے، حتی کہ انھوں نے جہنم میں بھی ملمع سازی کی اسی لیے اہل اعراف اہل جہنم سے کہیں گے: ﴿اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَ٘قْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَلَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ ﴾ (الاعراف: 7؍49) ’’کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کے بارے میں تم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے بہرہ مند نہیں کرے گا۔ ان کو یوں حکم ہوگا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر کوئی خوف ہے نہ تم غمگین ہوگے۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 63 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتزمرالزمر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید