الإنسان

انسان (دہر)

31 آیاتمدنیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 16

    قَوَارِيرَا۟ مِن فِضَّةٍ قَدَّرُوهَا تَقْدِيرًا

    شیشے بھی چاندی [1]کے جن کو (ساقی نے) اندازے سے ناپ رکھا ہوگا.[2]

    حواشی

    [1] یعنی یہ برتن اور آب خورے چاندی اور شیشے سے بنے ہونگے، نہایت نفیس اور نازک۔ گویا یہ صنعت ایسی ہے کہ جس کی کوئی نظیر دنیا میں نہیں ہے۔ [2] یعنی ان میں شراب ایسے اندازے سے ڈالی گئی ہوگی کہ جس سے وہ سیراب بھی ہو جائیں، تشنگی محسوس نہ کریں اور برتنوں اور جاموں میں بھی زائد نہ بچی رہے۔ مہمان نوازی کے اس طریقے میں بھی مہمانوں کی عزت افزائی ہی کا اہتمام ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 15 - 16 کی تفسیر

    [15 - 16] خدمت گار لڑکے اور خدام، اہل جنت کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے ﴿ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّاَكْوَابٍ كَانَتْ قَ٘ؔوَارِیْرَاۡۙ۰۰ قَ٘ؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ ﴾ ’’چاندی کے برتن لیے، ہوئے اور شیشے کے (شفاف) گلاس لیے ہوئے، شیشے بھی چاندی کے ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کا مادہ چاندی ہو گا ان کی صفائی شیشے کی سی ہو گی۔ یہ ایک عجیب ترین چیز ہو گی کہ چاندی جو کہ کثیف ہوتی ہے اپنے جوہر کی صفائی اور اچھے معدن کی بنا پر شیشے کے صاف و شفاف ہونے کی مانند صاف و شفاف ہو گی۔ ﴿ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا ﴾ ’’جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں۔‘‘ یعنی ان مذکور برتنوں (کے حجم) کو اپنی سیرابی کی مقدار کے مطابق بنائیں گے، اس سے کم ہوں گے نہ زیادہ کیونکہ اگر حجم میں زیادہ ہوں تو ان کی لذت کم ہوجائے گی اگر کم ہوں گے تو ان کی سیرابی کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ اہل جنت ان برتنوں کو ایسی مقدار پر بنائیں گے جو ان کی لذات کے موافق ہو گی، وہ برتن ان کے پاس ایسے حجم اور مقدار پر آئیں گے جس کا اندازہ انھوں نے اپنے دلوں میں کیا ہو گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 16 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمرسلاتالمرسلات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید