الإنسان

انسان (دہر)

31 آیاتمدنیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 7

    يُوفُونَ بِٱلنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُۥ مُسْتَطِيرًا

    جو نذر پوری کرتے ہیں[1] اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے.[2]

    حواشی

    [1] یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت و اطاعت کرتے ہیں نذر بھی مانتے ہیں تو اسی کے لیے اور پھر اسے پورا کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نذر کا پورا کرنا بھی ضروری ہے۔ بشرطیکہ معصیت کی نہ ہو۔ چنانچہ حدیث میں ہے ”جس شخص نے نذر مانی کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا، تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جس نے معصیت الٰہی کی نذر مانی ہے تو، وہ اللہ کی نافرمانی نہ کرے“، یعنی اسے پورا نہ کرے۔ (صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب النذر فی الطاعة) [2] یعنی اس دن سے ڈرتے ہوئے محرمات اور معصیات کا ارتکاب نہیں کرتے۔ برائی پھیل جانے کا مطلب ہے کہ اس روز اللہ کی گرفت صرف وہی بچے گا جسے اللہ اپنے دامن عفو و رحمت میں ڈھانک لے گا۔ باقی سب اس کے شر کی لپیٹ میں ہونگے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 7 کی تفسیر

    [7] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں ان کے جملہ اعمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ ﴾ یعنی وہ جن نذروں اور معاہدوں کو اپنے آپ پر لازم کر لیتے تھے، انھیں پورا کرتے تھے۔ جب وہ نذر کو پورا کرتے تھے، جو اصل میں ان پر واجب نہیں الّا یہ کہ وہ اسے خود اپنے آپ پر واجب کر لیں، تب فرائض اصلیہ کو تو بدرجہ اولیٰ قائم کرتے اور ان کو بجا لاتے ہوں گے ﴿ وَیَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا ﴾ یعنی اس دن خوف رکھتے تھے جس کی برائی نہایت سخت اور پھیل جانے والی ہے۔ پس انھیں خوف تھا کہ اس دن کی برائی کہیں انھیں نہ پہنچ جائے، اس لیے انھوں نے ہر وہ سبب چھوڑ دیا جو اس کا موجب تھا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 7 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمرسلاتالمرسلات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید