الإنسان

انسان (دہر)

31 آیاتمدنیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 8

    وَيُطْعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا

    اور اللہ تعالیٰ کی محبت[1] میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین، یتیم اور قیدیوں کو.

    حواشی

    [1] یا طعام کی محبت کے باوجود وہ اللہ کی رضا کے لیے ضرورت مندوں کو کھانا کھلاتے ہیں، قیدی اگر غیر مسلم ہو تب بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ہے جیسے جنگ بدر کے کافر قیدیوں کی بابت نبی (صلى الله عليه وسلم) نے صحابہ کو حکم دیا کہ ان کی تکریم کرو۔ چنانچہ صحابہ پہلے ان کو کھانا کھلاتے، خود بعد میں کھاتے۔ (ابن کثیر) اسی طرح غلام اور نوکر چاکر بھی اسی ذیل میں آتے ہیں جن کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ہے۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی آخری وصیت یہی تھی کہ ”نماز اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا“۔ (ابن ماجه، کتاب الوصایا، باب هل أوصی رسول الله صلى الله عليه وسلم)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 8 - 10 کی تفسیر

    [8 - 10] ﴿وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ ﴾ یعنی وہ اس حال میں ہوتے ہیں کہ جس میں وہ خود مال اور طعام کو پسند کرتے ہیں مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو اپنے نفس کی محبت پر مقدم رکھا اور وہ لوگوں میں سب سے زیادہ مستحق اور سب سے زیادہ حاجت مند کو کھانا کھلانے کی کوشش کرتے ہیں ﴿ مِسْكِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا ﴾ ’’مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو۔‘‘ ان کے کھانا کھلانے اور خرچ کرنے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہوتی ہے۔ وہ اپنی زبان حال سے کہتے ہیں: ﴿ اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءًؔ وَّلَا شُكُوْرًا ﴾ ’’ہم تو تمھیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے کسی بدلے کے خواست گار ہیں اور نہ شکر گزاری کے۔‘‘ یعنی نہ کوئی مالی جزا چاہتے ہیں اور نہ قولی ثنا۔ ﴿ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا ﴾ ’’ہم اپنے پرودگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو اداسی والا ہوگا۔‘‘ جو نہایت سخت اور شر والا دن ہوگا ﴿قَ٘مْطَرِیْرًا ﴾ اور نہایت تنگ دن ہوگا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 8 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمرسلاتالمرسلات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید