النبأ

نبا

40 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 22

    لِّلطَّـٰغِينَ مَـَٔابًا

    سرکشوں کا ٹھکانہ وہی ہے.

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 17 - 25 کی تفسیر

    [17 - 25] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِیْقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ یَّوْمَ یُنْفَ٘خُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔ جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّلَا شَرَابً٘ا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِیْمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 22 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنازعاتالنازعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید