النبأ

نبا

40 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 29

    وَكُلَّ شَىْءٍ أَحْصَيْنَـٰهُ كِتَـٰبًا

    ہم نے ہر ایک چیز کو لکھ کر شمار کر رکھا ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی لوح محفوظ میں۔ یا وہ ریکارڈ مراد ہے جو فرشتے لکھتے رہے۔ پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا وَكُلَّ شَيْءٍ أحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ ( يس:12) ۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 26 - 30 کی تفسیر

    [26 - 30] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابً٘ا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابً٘ا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُ٘لَّ شَیْءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحْصَیْنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَوُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْ٘مُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُؔ صَغِیْرَةً وَّلَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَلَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾ (الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوْقُوْا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَ٘نْ نَّزِیْدَؔكُمْ اِلَّا عَذَابً٘ا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 29 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنازعاتالنازعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید