النبأ

نبا

40 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 38

    يَوْمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا

    جس دن روح اور فرشتے صفیں باندھ کر کھڑے ہوں گے[1] تو کوئی کلام نہ کر سکے گا مگر جسے رحمٰن اجازت دے دے اور وه ٹھیک بات زبان سے نکالے.[2]

    حواشی

    [1] یہاں جبرائیل (عليه السلام) سمیت رُوحٌ کے کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں، امام ابن کثیر نے بنو آدم ( انسان ) کو اشبہ ( قرین قیاس ) قرار دیا ہے۔ [2] یہ اجازت اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کو اور اپنے پیغمبروں کو عطا فرمائے گا اور وہ جو بات کریں گی حق وصواب ہی ہوگی، یا یہ مفہوم ہے کہ، اجازت صرف اسی کےبارے میں دی جائے گی جس نے درست بات کہی ہو۔ یعنی کلمہ توحید کا اقراری رہا ہو۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 37 - 39 کی تفسیر

    [37 - 39] یعنی جس نے انھیں یہ عطیات عطا کیے وہ ان کا رب ہے ﴿ رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کارب ہے۔‘‘ جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کی تدبیر کی ﴿ الرَّحْمٰنِ﴾ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، پس اس نے ان کی نشوونما کی، ان پر رحم کیا اور ان کو لطف و کرم سے نوازا حتیٰ کہ انھوں نے بہت کچھ پا لیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اپنی عظمت اور اپنی عظیم بادشاہی کا ذکر فرمایا۔ اس روز تمام مخلوق خاموش ہو گی، کوئی بات نہیں کر سکے گا ﴿ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابً٘ا﴾ ’’اس سے بات چیت کرنے کا انھیں اختیار نہیں ہوگا۔‘‘ ﴿ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابً٘ا﴾یعنی کوئی شخص بات نہیں کر سکے گا مگر ان دو شرطوں کے ساتھ: اول: جسے اللہ تعالیٰ بات کی اجازت دے۔ ثانی: اور وہ جو بات کرے وہ ٹھیک ہو۔ اس لیے کہ﴿ ذٰلِكَ الْیَوْمُ ﴾ ’’یہ دن ۔‘‘ ﴿ الْحَقُّ ﴾ ’’ہی سچا (دن) ہے‘‘ جس میں باطل رائج ہو سکتا ہے نہ جھوٹ فائدہ دے سکتا ہے۔ اور یہ وہ دن ہے ﴿ یَقُوْمُ الرُّوْحُ ﴾ ’’جس میں روح (الامین) کھڑا ہو گا۔‘‘ روح سے مراد جبریل uہیں جو تمام فرشتوں میں افضل ہیں۔ ﴿ وَالْمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ اور تمام فرشتے بھی کھڑے ہوں گے ﴿ صَفًّا﴾ صف باندھے، اللہ تعالیٰ کے حضور سرافگندہ ہو کر ﴿ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ﴾ ’’وہ کلام نہیں کرسکیں گے‘‘ سوائے اس بات کے جس کی اللہ تعالیٰ اجازت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ترغیب وترہیب اور تبشیر و انذار کے بعد فرمایا: ﴿ فَ٘مَنْ شَآءَؔ اتَّؔخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبً٘ا﴾ ’’ پس جو شخص چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنالے۔‘‘ یعنی عمل اور اچھی بات کرے جو قیامت کے دن اس کی طرف لوٹے گی۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 38 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنازعاتالنازعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید