النازعات

نازعات

46 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 2

    وَٱلنَّـٰشِطَـٰتِ نَشْطًا

    بند کھول کر چھڑا دینے والوں کی قسم![1]

    حواشی

    [1] نَشْطٌ کے معنی، گرہ کھول دینا، یعنی مومن کی جان فرشتے بہ سہولت نکالتے ہیں، جیسے کسی چیز کی گرہ کھول دی جائے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 - 5 کی تفسیر

    [1 - 5] مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی یہ قسمیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں، اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔اس میں (دوسرا) احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت، موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں، اس لیے فرمایا: ﴿وَ الـنّٰ٘زِعٰتِ غَ٘رْقًا﴾ ’’ان کی قسم! جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔ ﴿وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا﴾ ’’اور ان کو جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔‘‘اس سے بھی فرشتے مراد ہیں، جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔ ﴿وَّالسّٰؔبِحٰؔتِ﴾ یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم ﴿فَالسّٰؔبِقٰتِ ﴾ دوسروں پر سبقت لے جانے والے ﴿سَبْقًا﴾ ’’سبقت لے جانا۔‘‘ پس فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی ٔالٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔ ﴿فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًا﴾ یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلاً: بارشوں، نباتات، ہواؤ ں، سمندروں، ماؤ ں کے پیٹ میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 2 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتعبسعبس

غلطی کی اطلاع دیں

مزید