النازعات

نازعات

46 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 42

    يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا

    لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی قیامت کب واقع اور قائم ہوگی ؟ جس طرح کشتی اپنے آخری مقام پر پہنچ کر لنگر انداز ہوتی ہے اسی طرح قیامت کے وقوع کا صحیح وقت کیا ہے؟

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 42 - 44 کی تفسیر

    [42 - 44] قیامت کو جھٹلانے والے اور لغزش کے خواہاں لوگ آپ سے پوچھتے ہیں: ﴿ عَنِ السَّاعَةِ﴾ ’’قیامت کے متعلق‘‘ کہ اس کا وقوع اور ﴿اَیَّانَ مُرْسٰہَا﴾’’اس کا قیام کب ہوگا؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَا﴾ ’’پس تم اس کے ذکر کی فکر میں ہو؟‘‘ یعنی اس کے ذکر اور اس کی آمد کے وقت کی معرفت حاصل کرنے میں آپ کو اور ان کو کیا فائدہ؟ پس اس کا کوئی نتیجہ نہیں۔ اس لیے، کہ قیامت کے وقت کے بارے میں بندوں کے علم میں کوئی دینی مصلحت ہے نہ دنیاوی مصلحت، بلکہ قیامت کے وقت کے اخفاء ہی میں مصلحت ہے، اس لیے اس کے علم کو تمام مخلوق سے مخفی رکھا اور اس کے علم کو صرف اپنے لیے مخصوص رکھا۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَا﴾ یعنی اس کا علم اللہ تعالیٰ پر منتہی ہوتا ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّ٘انَ مُرْسٰؔىهَا١ؕ قُ٘لْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔ ۘ ؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْـَٔلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُ٘لْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۰۰﴾ (الاعراف:7؍187) ’’یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا، آپ کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے اس کو اس وقت پر صرف وہی ظاہر کرے گا ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا۔ وہ تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں۔ فرمادیجیے کہ اُس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 42 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتعبسعبس

غلطی کی اطلاع دیں

مزید