الغاشية

غاشیہ

26 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 17

    أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى ٱلْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ

    کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وه کس طرح پیدا کیے گئے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] اونٹ عرب میں عام تھے اور ان عربوں کی غالب سواری یہی تھی، اس لئے اللہ نے اسی کا ذکر کر کے فرمایا کہ اس کی خلقت پر غور کرو، اللہ نے اسے کتنا بڑا وجود عطا کیا ہے اور کتنی قوت وطاقت اس کے اندر رکھی ہے۔ اس کے باوجود وہ تمہارے لئے نرم اور تابع ہے، تم اس پر جتنا چاہو بوجھ لاد دو، وہ انکار نہیں کرے گا، تمہارا ماتحت ہو کر رہے گا۔ علاوہ ازیں اس کا گوشت تمہارے کھانے کے، اس کا دودھ تمہارے پینے کے اور اس کی اون، گرمی حاصل کرنے کے کام آتی ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 17 - 20 کی تفسیر

    [17 - 20] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولe کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے: ﴿ اَفَلَا یَنْظُ٘رُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْ﴾ ’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔ ﴿ وَاِلَى الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 17 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفجرالفجر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید