البلد

بلد

20 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 5

    أَيَحْسَبُ أَن لَّن يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ

    کیا یہ گمان کرتا ہے کہ یہ کسی کے بس میں ہی نہیں؟[1]

    حواشی

    [1] یعنی کوئی اس کی گرفت کرنے پر قادر نہیں؟

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 4 - 7 کی تفسیر

    [4 - 7] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔ اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا: ﴿اَیَحْسَبُ اَنْ لَّ٘نْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے: ﴿اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 5 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتشمسالشمس

غلطی کی اطلاع دیں

مزید