حدیث

جب آدم علیہ السلام وفات پا گئے تو فرشتوں نے انہیں پانی سے طاق مرتبہ غسل دیا اور ان کے لیے قبر تیار کی اور کہا کہ یہی سنت ان کی اولاد میں باقی رہے گی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي بن كعب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لما تُوُفِّيَ آدمُ غَسَّلَتْه الملائكةُ بالماء وِتْرًا، وأَلْحَدُوا له، وقالوا: هذه سُنَّةُ آدَمَ في وَلَدِه».

ترجمہ

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب آدم علیہ السلام وفات پا گئے تو فرشتوں نے انہیں پانی سے طاق مرتبہ غسل دیا اور ان کے لیے قبر تیار کی اور کہا کہ یہی سنت ان کی اولاد میں باقی رہے گی“۔

تشریح

جب آدم علیہ السلام وفات پا گئے تو فرشتوں نے انہیں پانی سے طاق مرتبہ غسل دیا، ایک مرتبہ، یا تین مرتبہ ،یا پانچ مرتبہ۔ ان کے لیے قبر کھودی گئی اور اس میں ہی ایک جانب شگاف کر کے اسی میں انہیں دفن کر دیا اور فرشتوں نے کہا کہ یہی سنت ان کی اولاد میں باقی رہے گی“۔ یعنی غسل اور مذکورہ کیفیت پر تدفین ان کی اولاد کے ساتھ بھی کی جائے گی جیسا کہ ان کے باپ کے ساتھ کیا گیا ہے اور یہی طریقہ ان کے ہدایت یافتہ اولاد اختیار کریں گے ۔

تشریح: العربية

لما مات آدم -عليه السلام- غسلته الملائكة بالماء وترًا، مرة واحدة، أو ثلاثة، أو خمسة، وشقوا له في جانب حفرة القبر شقًّا ودفنوه فيه، وقالوا: «هذه سُنَّةُ آدَمَ في وَلَدِه» أي: يُفعل بولد آدم ما فُعل بأبيهم من الغسل والدفن على الكيفية المذكورة، وإنما يلتزم بذلك المهديون من ولده.

  • الإيمان بالملائكة وأنها غسلت آدم -عليه السلام-.
  • مشروعية غسل الميت، وأنه فرض كفاية.
  • مشروعية دفن الميت، وأنه فرض كفاية.
  • استحباب أن يكون غسل الميت وترا.
  • استحباب اللحد في القبر.
  • فضيلة عظيمة لآدم -عليه السلام-؛ لأن الملائكة هي التي تولت تغسيله ودفنه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید