حدیث

قرآن کے معاملے میں جھگڑا نہ کیا کرو کیونکہ اس میں جھگڑنا کفر ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابو داؤد الطیالسی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا تُجادِلوا في القرآن؛ فإنَّ جِدالًا فيه كُفرٌ».

ترجمہ

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ”قرآن کے معاملے میں جھگڑے نہ کیا کرو کیونکہ اس میں جھگڑنا کفر ہے“۔

تشریح

نبی کریم ﷺ نے قرآن کریم کے معاملے میں جھگڑنے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ یہ کفر کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ اس طرح ہوتا ہے کہ کسی شخص نے کسی آیت کی تلاوت یا کلمے کو سنا جو اس کے پاس نہیں یا اس کا اسے علم نہیں تو جلدبازی کرتے ہوئے پڑھنے والے کو خطا کار گردان دے اور جو اس نے پڑھا ہے اسے غیرِقرآن سے منسوب کر دے، یا پھر وہ کسی آیت کے معنی میں جھگڑتا ہے جس کا اسے علم نہیں تو اسے گمراہ قرار دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ جھگڑا اس کے سامنے حق کے ظاہر ہونے کے باوجود اس کو حق سے پھیر دیتا ہے۔ اسی لیے اس کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اس کا نام کفر رکھا گیا ہے کیونکہ یہ معاملہ صاحبِ جدال کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ کوئی بھی انسان اس سے اسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے یا یہ مباح اور محمود اس وقت ہی ہو سکتا ہے جب سوال کرنے والا حصولِ علم یا اظہارِ حق کے لیے سوال کرے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ ”ان سے اچھے انداز میں بحث ومباحثہ کیجیے“۔

تشریح: العربية

نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الجدال في القرآن؛ لأنه يؤدي إلى كفر؛ وذلك لأن الإنسان قد يسمع قراءة آية أو كلمة لم تكن عنده، ولا علم له بها فيتسرع ويخطِّئ القارئ وينسِب ما يقرؤه إلى أنه غير قرآن، أو يجادله في معنى آية لا علم له بها ويضلله، والجدال ربما صرفه عن الحق وإن ظهر له وجهه، فلذلك حُرِّم وسُمِّي كفرًا؛ لأنه يؤدي بصاحبه إلى الكفر، ومتى سلم الإنسان من ذلك كله فهو مباح أو محمود، كمن يسأل للتعلم أو لإظهار الحق، كما قال تعالى : {وجادلهم بالتي هي أحسن}.

  • النهي عن الجدال في القرآن.
  • الجدال في القرآن بما يؤدي إلى رده أو رد بعضه أو تكذيب ما جاء فيه من الحق يؤدي بصاحبه إلى الكفر.
  • المراد بالجدل المنهي عنه في الحديث: الجدال على الباطل, وأما طلب المغالبة لإظهار الحق, فإنه محمود كما قال -تعالى-: {وجادلهم بالتي هي أحسن}.
  • ينبغي على صاحب القرآن والسنة صيانتهما عن ذكر أدلتهما لمن لا يُنصِفُ من كافرٍ ومبتدع, ولا يعرضهما لمن هو أحذقُ منه بالجدل، وأبرعُ في المراء؛ لأن ذلك قد يكون سببًا في خذلان الحق.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید