حدیث

مجھے اپنی امّت کے بارے میں دو چیزوں کا خوف ہے: قرآن اور دودھ، رہی بات دودھ کی تو لوگ اسے دیہات میں تلاش کرتے ہیں اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتے ہیں اور نماز کو ترک کر دیتے ہیں اور جہاں تک قرآن کا تعلق ہے تو اسے منافقین سیکھتے ہیں اور اس کے ذریعہ مومنوں سے بحث وتکرار کرتے ہیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عقبة بن عامر، يقول: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إنِّي أخاف على أُمَّتي اثنَتَيْن: القرآنَ واللَّبَن، أما اللَّبَن فيَبْتَغُون الرِّيفَ ويتَّبِعون الشَّهَوَاتِ ويَتْركون الصلوات، وأما القرآن فيتعلَّمه المنافقون فيُجادِلون به المؤمنين».

ترجمہ

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اپنی امّت کے بارے میں دو چیزوں کا خوف ہے: قرآن اور دودھ؛ رہی بات دودھ کی تو اسے لوگ دیہات میں تلاش کرتے ہیں اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتے ہیں اور نماز کو ترک کر دیتے ہیں اور جہاں تک قرآن کا تعلق ہے تو اسے منافقین سیکھتے ہیں اور اس کے ذریعہ مومنوں سے بحث وتکرار کرتے ہیں“۔

تشریح

اس حدیث میں نبی ﷺ اپنی امّت کے بارے میں ان دو چیزوں کے متعلق خدشے کا اظہار کر رہے ہیں جن کا تعلق قرآن اور دودھ سے ہے، جہاں تک دودھ کی بات ہےتو بعض لوگ اسے چراگاہوں اور کھیتوں میں طلب کرتے ہیں اور اپنی خواہشات ولذات کی پیروی کرتے ہیں، اور ان شہروں سے دور رہتے ہیں جہاں پر جمعہ وجماعت قائم کی جاتی ہے، پھر نتیجتاً دودھ کی کھوج میں نماز کو ترک کر دیتے ہیں۔ رہی بات قرآن کی تو اسے منافقین سیکھتے ہیں (اخروی) فائدہ حاصل کرنے اور اس پرعمل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس لیے سیکھتے ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعہ مومنوں سے باطل حجّت کرسکیں اور مومنین کے پاس موجود حق کی تردید کر سکیں۔ بذاتِ خود دودھ اور قرآن خوف ونقصان کا محل نہیں ہیں، لیکن ان دونوں کے ذریعہ اس چیز کی تعبیر کی گئی ہے جو مجازاً ان دونوں سے متعلق ہیں۔ واللہ اعلم۔

تشریح: العربية

يبين النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الحديث خوفه على أمته من شيئين متعلقين بالقرآن وباللبن، أما بالنسبة للبن فإن بعض الناس يطلبون مواضعه في المراعي والزروع، ويتبعون شهواتهم وملذاتهم، ويتباعدون عن المدن التي تقام فيها صلاة الجمعة والجماعة، ثم يتركون الصلاة بعد ذلك طلبًا للبن، وأما القرآن فيتعلمه المنافقون لا لينتفعوا به ويعملوا به، ولكن ليجادلوا به المؤمنين بالباطل؛ ليردوا الحق الذي عندهم. فليس اللبن في ذاته ولا القرآن هو محل الخوف والضرر، وإنما عَبَّر بهما عن الشيء المتعلق بهما مجازًا، والله أعلم.

  • المنافق يتعلم القرآن ليجادل به المؤمنين.
  • التحذير من اتباع الشهوات والملذات وترك صلاة الجمعة والجماعة.
  • خوف النبي -صلى الله عليه وسلم- على أمته وشفقته عليهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید