حدیث

ہر پینے والی چیز جو نشہ آور ہو، حرام ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها: «أَنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم سُئِل عن الْبِتْعِ؟ فقال: كل شَرَابٍ أَسْكَر فهو حَرَامٌ».

ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے شہد کی شراب (الْبِتْعِ) کے بارے میں سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”ہر پینے والی چیز جو نشہ آور ہو، حرام ہے“۔

تشریح

نبی کریم ﷺ سے شہد کی شراب پینے کا حکم دریافت کیا گیا، تو آپ ﷺ نے ایک ایسا جواب مرحمت فرمایا، جو عام نوعیت کا حامل اور اس جیسے ہر مسئلے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے، جس کا لب لباب یہ ہے کہ عنوان اور تعبیرات کی تبدیلی سے حقائق نہیں بدل سکتے، جب تک کہ معنی اور حقیقت ایک ہو۔ لہٰذا ہر وہ پینے والی چیز جو نشہ آور ہو، حرام ہی ہوگی؛ چاہے کسی بھی نوع سے اسے تیار کیا گیا ہو۔ نبی کریم ﷺ کا یہ مختصر سا جملہ آپ کے جامع کلمات (دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف) اور اپنے پروردگار کی جانب سےآپ کو عطا کردہ عمدہ و دل نشین اندازِبیان کا ایک نمونہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی بعثت کی مدت میں اس قدر علم عام فرمایا کہ تمام نوع انسانی کو دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں نصیب ہوجائیں۔

تشریح: العربية

سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن شرب البتع الذي هو نبيذ العسل، فأتى صلى الله عليه وسلم بجواب عام شامل، مفاده أنه لا عبرة باختلاف الأسماء، ما دام المعنى واحداً، والحقيقة واحدة. فكل شراب أسكر، فهو خمر محرَّم، من أي نوع أخذ. وهو من جوامع كَلِمه صلى الله عليه وسلم وحسن بيانه عن ربه، ولهذا جاء من العلم في مدة بعثته بما يسعد البشرية في الدنيا والآخرة.

  • تعليق الحرمة على الإسكار، فكل مسكر حرام، ويجب على من تناوله حد الخمر ولو كان القدر الذي أخذه لا يسكر.
  • أن المفتي يجيب السائل بزيادة عن ما سأل عنه إذا كان ذلك مما يحتاج إليه السائل
  • أنه لا فرق بين قليل المسكر وكثيره في التحريم.
  • تحريم ما يسكر ولو لم يكن شرابا, فيدخل في ذلك الحشيشة وغيرها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید