حدیث

جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو انہیں حکم دیا کہ جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو جو بیٹھی ہے سلام کرو اور سنو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں، یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لما خلق الله آدم صلى الله عليه وسلم قال: اذهب فَسَلِّمْ على أولئك -نَفَرٍ من الملائكة جلوس- فاستمع ما يُحَيُّونَكَ؛ فإنها تَحِيَّتُكَ وتحية ذُرِّيتِكَ. فقال: السلام عليكم، فقالوا: السلام عليك ورحمة الله، فَزَادُوهُ: ورحمة الله».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو انہیں حکم دیا کہ جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو جو بیٹھی ہے، سلام کرو اور سنو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں، یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔چنانچہ انہوں نے کہا: السلام علیکم۔ فرشتوں نے جواب دیا:السلام علیک و رحمۃ اللہ۔ ان فرشتوں نے لفظ رحمۃ اللہ کا اضافہ کیا“۔

تشریح

حدیث کا مفہوم: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو انہیں حکم دیا کہ فرشتوں کی ایک جماعت کو جا کر سلام کریں اور وہ انہیں جو جواب دیں اسے سنیں۔ یہ باہمی سلام و جواب ان کے لیے اور ان کے بعد ان کی اولاد کے لیے، جو رسولوں کے لائے گئے دین پر قائم ہوں گے، مشروع سلام ہو گا۔ چنانچہ آدم علیہ السلام نے کہا: السلام علیکم۔ اوراس کے جواب میں فرشتوں نے کہا: السلام عليك ورحمة الله۔ فرشتوں نے ”ورحمۃ اللہ“ کے الفاظ کا اضافہ کیا۔ چنانچہ سلام کرنے اور اس کا جواب دینے کے لیے یہی الفاظ مشروع ٹھہرے۔دیگر احادیث میں ”ورحمۃ اللہ و برکاتہ“ کے الفاظ کی زیادتی آئی ہے چاہے یہ سلام کرنے میں ہو یا اس کا جواب دینے میں۔

تشریح: العربية

معنى الحديث: لما خلق الله آدم أمره الله أن يذهب إلى نَفَرٍ من الملائكة، والنفر ما بين الثلاثة والتسعة، فيحييهم بالسلام، ويستمع إلى إجابتهم عليه، فتكون تلك التحية المتبادلة بينه وبينهم هي التحية المشروعة له ولذريته من بعده ممن هم على دين الرسل، ويتبعون سنتهم. فقال: السلام عليكم، فقالوا: السلام عليك ورحمة الله ، فزادوه : "ورحمة الله"، فكانت هذه الصيغة هي المشروعة عند إلقاء السلام والرد عليه، وجاءت الأحاديث الأخرى بزيادة: "ورحمة الله وبركاته" سواء في إلقاء السلام أو رده.

  • فيه إشعار أن الملائكة المذكورين كانوا على بعد من آدم -عليه السلام-.
  • بيان أن الله -تعالى- علمه كيفية السلام.
  • بيان كيفية السلام المشروعة عند الابتداء والرد.
  • مشروعية الزيادة على المبتدئ في رد السلام وذلك كما قال تعالى: (فحيوا بأحسن منها أو ردوها) (النساء:86).
  • الأمر بتعليم العلم وأخذه عن أهله.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید