حدیث

اللہ موسی علیہ السلام پر رحم کرے، انھیں اس سے زیادہ تکلیف پہنچائی گئی، تاہم انہوں نے صبر کیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: لما كان يوم حُنين آثر رسول الله صلى الله عليه وسلم ناسًا في القِسْمَة، فأعطى الأَقْرَع بن حَابِس مئة من الإبل، وأعطى عُيينة بن حِصن مثل ذلك، وأعطى نَاسًا من أشراف العَرب وآثَرَهُم يومئذ في القِسْمَة. فقال رجل: والله إن هذه قِسْمَة ما عُدل فيها، وما أُريد فيها وجه الله، فقلت: والله لأُخبرن رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتيته فأخبرته بما قال، فتغير وجهه حتى كان كالصِّرفِ. ثم قال: «فمن يَعْدِل إذا لم يعدل الله ورسوله؟» ثم قال: «يَرحم الله موسى، قد أُوذي بأكثر من هذا فصبر». فقلت: لا جَرم لا أرفع إليه بعدها حديثًا.

ترجمہ

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ جب حنین کا معرکہ پیش آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت کی تقسیم میں کچھ لوگوں کو ترجیح دی۔ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے اور عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ کو بھی اتنا ہی مال عطا فرمایا۔ آپ نے عرب کے معزز لوگوں کو مال عطا فرمایا اور انھیں اس دن تقسیم میں ترجیح دی، تو ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ایسی تقسیم ہے، جس میں عدل نہیں کیا گیا اور اس تقسیم سے اللہ کی رضا کا قصد نہیں کیا گیا۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں یہ بات رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کروں گا۔ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو وہ بات بتائی، جو اس آدمی نے کہی تھی۔ اس پر آپ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوکر سرخ ہوگیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے، تو پھر کون عدل کرے گا؟ پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے۔ ان کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی اور انھوں نے صبر کیا! میں نے (اپنے جی میں) کہا: آئندہ میں ایسی بات آپ ﷺ کو نہیں بتایا کروں گا“۔

تشریح

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ بتا رہے ہیں کہ وہ غزوۂ حنین میں تھے۔ یہ غزوۂ طائف ہے، جو فتح مکہ کے بعد پیش آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اہل طائف کے ساتھ جنگ کی اور ان سے آپ ﷺ کو اونٹوں، بھیڑ بکریوں اور درہم و دینار کی شکل میں بہت زیادہ مال غنیمت حاصل ہوا۔ پھر آپ ﷺ نے مقام جعرانہ پر پڑاؤ کیا۔ یہ طائف کی سمت میں حرم کی حدود کے اختتام پر واقع ایک جگہ ہے۔ آپ ﷺ نے اس جگہ پڑاؤ کیا اور مال غنیمت کو اس غزوے کے شرکا کے مابین تقسییم کیا۔ آپ ﷺ نے اقرع بن حابس کو سو اونٹ دیے اور عیینہ بن حصن کو بھی سو اونٹ دیے اور عرب کے معزز لوگوں کو بھی مال سے نوازا۔ اس سے آپ ﷺ کی غرض انھیں اسلام کے ساتھ مانوس کرنا تھا؛ کیوں کہ اگر تحفے تحائف اور مال دینے سے ان لوگوں کا اسلام ٹھیک ہوجاتا، تو ان کے پیروکاروں خود بخود اسلام قبول کر لیتے اور اس سے اسلام کو قوت اور شان و شوکت حاصل ہوتی۔ جن کا ایمان مضبوط تھا انھیں آپ ﷺ نے مال نہ دیا؛ کیوں کہ آپ ﷺ کو ان کے ایمان پر اعتماد تھا۔ ایک آدمی نے جب دیکھا کہ نبی ﷺ قبائل کے سرداروں اور معززین قوم میں مال تقسیم کرتے جارہے ہیں اور کچھ لوگوں کو مال نہیں دے رہے، تو وہ کہنے لگا کہ اللہ کی قسم! اس تقسیم میں عدل نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس سے مقصود اللہ کی رضا جوئی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب یہ سنا، تو وہ جلدی سے نبی ﷺ کے پاس آئے اور آنے سے پہلے قسم کھائی کہ وہ ضرور آپ ﷺ کو اس کے بارے بتائیں گے۔ جب انھوں نے نبی ﷺ کو اس کی خبر دی، تو آپ ﷺ سخت غصے میں آگئے اور آپ ﷺ کے چہرۂ انور کا رنگ تبدیل ہو کر خالص سرخ ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے، تو پھر عدل کون کرے گا؟ یعنی آپ ﷺ نے اس کی اس بات پر ناگواری کا اظہار فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی موسی علیہ السلام پر رحم کرے، انھیں اس سے زیادہ تکلیف پہنچائی گئی، لیکن انھوں نے صبر کیا۔ ابن مسعود رضی اللہ نے جب رسول اللہ ﷺ کی یہ حالت دیکھی، تو دل ہی دل میں تہیہ کر لیا کہ اگر میں ان لوگوں سے کوئی ایسی ناگوار بات سنوں گا، تو نبی ﷺ کو ہر گز نہ بتاؤں گا؛ کیوں کہ انھوں نے دیکھ لیا تھا کہ آپ ﷺ کو اس پر بہت غصہ آیا ہے۔ بشرطے کہ کوئی ایسی بات نہ ہو، جس کی وجہ سے نبی ﷺ یا اسلام کو کوئی نقصان پہنچتا ہو۔

تشریح: العربية

يخبر عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنهم كانوا في غزوة حنين، وهي: غزوة الطائف التي كانت بعد فتح مكة، غزاهم الرسول صلى الله عليه وسلم وغنم منهم غنائم كثيرة جدا: من إبل، وغنم، ودراهم، ودنانير، ثم إن النبي صلى الله عليه وسلم نزل بالجعرانة، وهي محل عند منتهى الحرم من جهة الطائف، نزل بها وقسم صلى الله عليه وسلم الغنائم بين من حضر هذه الغزوة، فأعطى الأقرع بن حابس مائة من الإبل، وأعطى عيينة بن حصن مائة من الإبل، وأعطى ناسًا من أشراف العرب؛ يتألفهم على الإسلام؛ فإذا حسن إسلام هؤلاء بسبب العطايا والمال أسلم من وراءهم ممن يتبعهم، وكان في ذلك قوة وعزة للإسلام، وأما أقوياء الإيمان فقد تركهم صلى الله عليه وسلم اعتمادًا على ما عندهم من الإيمان. فقال رجل بعد أن رأى حال النبي صلى الله عليه وسلم في تقسيم الغنائم على رؤساء القبائل وأشراف القوم، وترك بعض القوم: والله إن هذه قسمة ما عُدل فيها وما أريد فيها وجه الله. فلما سمع ابن مسعود رضي الله عنه هذه الكلمة ذهب مسرعا إلى النبي صلى الله عليه وسلم وأقسم قبل لأن يأتيه أنه سيخبره بها، ولما أخبره بالخبر، اشتد غضبه -عليه الصلاة والسلام-، وتغير وجه حتى كان كالصبغ الأحمر الخالص، ثم قال: فمن يعدل إذا لم يعدل الله ورسوله؟ يستنكر قوله. ثم قال -عليه الصلاة والسلام-: يرحم الله موسى، لقد أوذي بأكثر من هذا فصبر. ولما رأى ابن مسعود رضي الله عنه من حال النبي -صلى الله عليه وسلم-، قال رضي الله عنه : إذا سمعتُ قولا من أولئك القوم، من الأقوال المنكرة، فلن أخبر بها النبي صلى الله عليه وسلم بذلك؛ لما رآه من شدة غضبه صلى الله عليه وسلم ، ما دام أنه لا يعود على النبي صلى الله عليه وسلم ولا على الإسلام بضرر.

  • حكمة النبي -صلى الله عليه وسلم- في تأليف القلوب.
  • فعل هذا الرجل لما تكلم بهذا الكلام على الملأ من باب نشر الفوضى بين المسلمين.
  • عداوة المنافقين للنبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • تأكيد الفعل بالقسم.
  • جواز نقل الخبر على غير وجه الإفساد، لبيان حال القائل والتحذير منه.
  • الرسول -صلى الله عليه وسلم- بشرٌ، يتأثر بما يتأثر به البشر، من غضب ونحو ذلك.
  • أعظم الناس عدلا وأشدهم خوفا من الله -تعالى- وأكثرهم علما به هم أنبياء الله ورسله.
  • سعة حلمه -صلى الله عليه وسلم-، وكذلك الأنبياء من قبله.
  • تأسي النبي -صلى الله عليه وسلم- بإخوانه الأنبياء؛ تحقيقا لقوله -تعالى-: (فبهداهم اقتده).
  • استحباب الإِعراض عن الجاهلين.
  • حرص ابن مسعود -رضي الله عنه- على عدم إغضاب النبي -صلى الله عليه وسلم-.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید