ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا حَسَدَ إلا في اثنتين: رجل آتاه الله مالا، فسَلَّطَه على هَلَكَتِهِ في الحَقِّ، ورجل آتاه الله حِكْمَة، فهو يقضي بها ويُعَلِّمَها». وعن ابن عمر رضي الله عنهما ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا حسد إلا في اثنتين: رجل آتاه الله القرآن، فهو يقوم به آناء الليل وآناء النهار، ورجل آتاه الله مالا، فهو ينفقه آناء الليل وآناء النهار».
ترجمہ
ابن مسعود رضي الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”حسد صرف دو صورتوں میں جائز ہے۔ ایک تو یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اسے اس کو راہ حق میں خرچ کرنے پر لگا دیا ہو اور دوسرا یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے حکمت ( کی دولت) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ساتھ فیصلہ کرتا ہو اور ( لوگوں کو) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو“۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حسد صرف دو صورتوں میں جائز ہے؛ ایک تو یہ کہ کسی آدمی کو اللہ تعالی قرآن سے نوازے اور وہ دن رات اس (کی تلاوت اور تعلیم و تدریس) میں لگا رہے اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ مال عطا کرے اور وہ دن رات اسے (وجوہ خیر میں) خرچ کرتا رہے“۔
تشریح
اس حدیث میں نبی ﷺ اس بات کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ حسد کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ کوئی حسد تو وہ ہوتا ہے جو مذموم اورشرعا حرام ہوتا ہے۔ اس سے مراد وہ حسد ہے جس میں آدمی یہ تمنا کرتا ہے کہ اس کے بھائی سے نعمت چھن جائے۔ ایک حسد وہ ہوتا ہے جو مباح ہے۔ اس سے مراد وہ حسد ہے جس میں آدمی کسی دوسرے کے پاس کوئی دنیاوی نعمت دیکھتا ہے اور تمنا کرتا ہے کہ اسی طرح کی نعمت اسے بھی مل جائے۔ اسی طرح ایک حسد وہ ہوتا ہے جو شرعا قابل تعریف اور مستحب ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی اور کے پاس کوئی دینی نعمت دیکھے اور خواہش کرے کہ وہ اسے بھی مل جائے۔ نبی ﷺ کی یہاں آپ ﷺ کے فرمان ”حسد صرف دوصورتوں میں جائز ہے“ میں حسد سے مراد حسد کی یہی قسم ہے۔ یعنی یہ کہ حسد کی مختلف انواع کے اعتبار سے ان کا حکم بھی مخلتف ہوتا ہے اور یہ شرعی طور پر قابل تعریف اور مستحب صرف دو ہی صورتوں میں ہوتا ہے: پہلی صورت: کوئی ایسا شخص ہو جو مالدار بھی ہو اور صاحب تقوی بھی۔ اسے اللہ نے بہت سا حلال مال دیا ہو اور وہ اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرے۔ اسے دیکھ کر آدمی تمنا کرے کہ کاش وہ بھی اس کی طرح کا ہو اور وہ اس نعمت پر اس پر رشک کرے۔ دوسری صورت: کوئی ایسا عالم شخص ہو جسے اللہ نے علم نافع سے نوازا ہو جس پر وہ خود بھی عمل کرتا ہو اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیتا ہو اور اس کے ذریعے لوگوں کے مابین فیصلے کرتا ہو۔اسے دیکھ کر آدمی خواہش کرے کہ وہ بھی اس کی طرح کا ہو جائے۔
تشریح: العربية
يُشير النبي صلى الله عليه وسلم هنا إلى أن الحَسَدَ أنواع مختلفة فمنه حسد مَذْمُوم محرم شرعًا، وهو أن يتمنى المرء زوال النعمة عن أخيه، وحسد مباح وهو أن يرى نعمة دنيوية عند غيره فيتمنى لنفسه مثلها، وحسد محمود مستحب شرعًا، وهو أن يرى نعمة دينية عند غيره فيتمناها لنفسه. وهو ما عناه النبي صلى الله عليه وسلم بقوله: "لا حَسَدَ إلا في اثنتين" أي أن الحسد تختلف أنواعه وأحكامه حسب اختلاف أنواعه ولا يكون محمودًا مستحبًا شرعيًا إلا في أمرين: الأمر الأول: أن يكون هناك رجل غني تقي، أعطاه الله مالا حلالا، فينفقه في سبيل الله تعالى، فيتمنى أن يكون مثله، ويَغْبِطَه على هذه النعمة. الأمر الثاني: أن يكون هناك رجل عالم، أعطاه الله علما نافعا يعمل به، ويعلمه لغيره، ويحكم به بين الناس، فيتمنى أن يكون مثله.
- الحَسَدُ داء خطير يجب الابتعاد عنه والحذر منه.
- حسد الغِبْطَة محمود إذا كان في وجوه الخير.
- فضل الغني الذي لا يبخل بما آتاه الله .
- الواجب شكر المُنْعِم على ما أنعم به على العبد وذلك بأن يضعها العبد في موضعها.
- استحباب الإنفاق وبذل المال والخروج عنه بالكلية في وجوه الخير ما لم يؤد إلى حرمان الورثة أو سؤال الناس ونحو ذلك مما حَرَّمَه الشرع.
- فضل العلم بأحكام الدين وتعليم الناس ودعوتهم إلى التفقه في الدين.