ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يَنَام أول اللَّيل، ويقوم آخره فَيُصلِّي.
ترجمہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کے شروع حصے میں سو جاتے اور رات کے آخری حصہ میں بیدار ہوکرنماز پڑھتے۔
تشریح
عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشا کی نماز کے بعد رات کے ابتدائی حصے میں سوتے اور آخری حصے یعنی دوسری تہائی میں قیام کرتے تھے۔ جب نماز سے فارغ ہوتے، تو اپنے بستر پر سونے کے لیے آجاتے؛ تاکہ قیام اللیل کی وجہ سے جسم کی تھکاوٹ سے بدن کو آرام مل جائے۔ یہ رات کا آخری چھٹا حصہ ہوتا۔ اس میں کار فرما مصالح میں سے ایک مصلحت یہ ہوتی کہ نماز فجر اور صبح کے اذکار کا استقبال پوری چستی اور توجہ کے ساتھ کیا جائے۔ یہ ریا و نمود کی آلائشوں سے دور رہنے کا بھی ذریعہ ہے؛ کیوں کہ جو رات کے آخری چھٹے حصے میں سو جائے گا، وہ پوری تازگی اور توانائی کے ساتھ صبح کرے گا۔ ایسے میں اس کی رات کی عبادت مخفی رہے، اس کے امکانات زیادہ رہتے ہیں۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ پہلی اذان کا مقصد سونے والے کو جگانا اور قیام کرنے والے کو لوٹانا ہے۔ یعنی قیام کرنے والا نیند کی طرف لوٹ جائے؛ تاکہ اس کا جسم قوت و نشاط حاصل کرلے۔ نیز سونے والا بیدار ہو کر نماز کی تیاری کر لے۔ نیز وتر پڑھ لے، اگر شروع رات میں نہیں پڑھا ہے۔
تشریح: العربية
تُخبر عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم كان ينام أول الليل، وذلك بعد صلاة العشاء، ويقوم آخره، وهو: الثلث الثاني من الليل، فإذا فَرَغ من صلاته، رجع إلى فراشه ليَنَام، وذلك في السُدس الأخير من الليل؛ ليستريح بَدَنه من عَنَاء قيام الليل، وفيه من المصلحة أيضاً استقبال صلاة الصبح، وأذكار النهار بنشاط وإقبال، ولأنه أقرب إلى عدم الرياء؛ لأن من نام السدس الأخير أصبح ظاهر اللون سليم القوى، فهو أقرب إلى أن يخفي عمله الماضي عمن يراه. ولهذا جاء أن الأذان الأول؛ ليوقظ النائم ويرجع القائم، فالقائم يرجع إلى النوم؛ ليَكتَسِب بدنه قوة ونشاطاً، وأما النائم، فيستيقظ حتى يَستعد للصلاة، وحتى يصلي وتره إذا لم يوتر أول الليل.
- كراهية قيام الليل كله، وأن الأفضل أن ينام جزءاً من الليل، ويقوم جزءا منه؛ دفعًا للملل والكسل.
- الأفضل أن يكون القيام في الجزء الأخير من الليل؛ ليكون أنشط في العبادة.
- آخر الليل أرْجَى في إجابة الدعاء.
- بيان الوقت الذي كان يقوم فيه -صلى الله عليه وسلم- من الليل.