حدیث

اگر کسی تکلیف یا کسی اور عذر کی بنا پر رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز رہ جاتی تو آپ ﷺ دن میں بارہ رکعات پڑھتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم إذا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنَ الليلِ مِن وَجَعٍ أَوْ غَيْرِهِ، صَلَّى من النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً.

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں:اگر کسی تکلیف یا کسی اور عذر کی بنا پر رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز رہ جاتی تو آپ ﷺ دن میں بارہ رکعات پڑھتے تھے۔

تشریح

نبی ﷺ اگر کسی تکلیف یا کسی اور وجہ سے نماز تہجد نہ پڑھ سکتے تو آپ ﷺ دن کو بارہ رکعت پڑھتے تھے؛ کیونکہ آپ ﷺ گیارہ رکعت وتر پڑھا کرتے تھے۔لھٰذا اگر رات گزر جاتی اور نیند وغیرہ کی وجہ سے آپ ﷺ وتر نہ پڑھ سکتے تو پھر آپ ﷺ اس نماز کی قضا کرتے تھے۔ لیکن چونکہ وتر کا وقت نکل چکا ہوتا اس لئے اسے (ایک رکعت کا اضافہ کرکے) جفت بنانا مشروع ہو جاتا۔

تشریح: العربية

كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا ترك قيام الليل من وجع أو غيره صلى من النهار ثنتي عشرة ركعة؛ لأنه صلى الله عليه وسلم كان يوتر بإحدى عشر ركعة، فإذا مضى الليل ولم يوتر لنوم أو شبهه؛ فإنه يقضي هذه الصلاة، لكن لما فات وقت الوتر صار المشروع أن يجعله شفعا.

  • صلاة النهار هنا عِوض عن صلاة الليل لجَبْر فضيلتها.
  • الدليل على جواز قضاء النوافل.
  • الوتر يقضى في النهار بزيادة ركعة، فيصير شفعا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید