ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن نافع: أنَّ عمرَ بنَ الخطابِ رضي الله عنه كانَ فرضَ للمهاجرينَ الأولينَ أربعةَ الآفٍ، وفَرَضَ لابنِه ثلاثةَ آلافٍ وخمسمئةٍ، فقيل له: هو من المهاجرينَ فَلِمَ نَقَصْتَهُ؟ فقالَ: إنما هَاجَرَ به أبوه. يقولُ: ليسَ هو كمن هَاجَرَ بنفسِهِ.
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اولین کے لئے چار ہزار وظیفہ مقرر کیا اور اپنے بیٹے کے لئے ساڑھے تین ہزار مقرر کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ وہ بھی تو مہاجرین میں سے ہیں، ان کا وظیفہ آپ نے کم کیوں کردیا؟۔ انہوں نے جواب دیا کہ: اس کے ساتھ اس کے باپ نے ہجرت کی تھی۔ وہ اس شخص کی طرح نہیں ہو سکتا جس نے بذات خود ہجرت کی ہو۔
تشریح
عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین کو 4000 وظیفہ دیا۔ آپ کے بیٹے (عبداللہ) بھی مہاجرین ہی میں سے تھے لیکن آپ نے انہیں 3500 وظیفہ دیا کیوں کہ ان کے بیٹے نے آپ کے ساتھ ہجرت کی تھی جب کہ وہ نابالغ تھے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ اپنے بیٹے کو بالغ مہاجرین کے ساتھ ملائیں۔ چنانچہ آپ نے ان کا وظیفہ ان مہاجرین سے کم رکھا جنہوں نے بذات خود ہجرت کی تھی۔امت کے مال کے معاملے میں اس دنیا نے نبی ﷺ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کی طرح کا کوئی زاہد و متقی حکمران نہیں دیکھا۔ ہر اس شخص پر ایسا ہی طرز عمل واجب ہے جس کے پاس مسلمانوں کے معاملات میں سے کسی معاملے کی ذمہ داری آئے کہ نہ تو وہ کسی رشتہ دارکی اس سے تعلقِ قرابت کی بنا پر طرف داری کرے اور نہ کسی امیر کی اس کی امارت کی وجہ سے اور نہ کسی غریب کی اس کی غربت کی وجہ سے طرفداری کرے بلکہ اسے چاہیے کہ ہر ایک کو اس کے مقام پر رکھے۔ ایسا کرنا عین تقوی و عدل ہے۔
تشریح: العربية
أعطى عمر للمهاجرين 4000، وابنه من المهاجرين لكنه أعطاه 3500، لأنه هاجر به أبوه وهو غير محتلم فلم ير إلحاقه بالبالغين، فلذا أنقص من عطائه عمن هاجر بنفسه من المهاجرين، فإن الدنيا لم تعرف بعد النبي –صلى الله عليه وسلم- وأبي بكر الصديق حاكماً زاهداً ورعاً في مال الأمة مثله –رضي الله عنه-، وهكذا يجب على من تولى شيئا من أمور المسلمين ألا يحابي قريبا لقرابته، ولا غنيا لغناه ولا فقيرا لفقره بل ينزل كل أحد منزلته، فهذا من الورع والعدل.
- شدة ورع عمر بن الخطاب –رضي الله عنه-.
- فضل المهاجرين الأولين الذين خرجوا بأنفسهم فراراً بدينهم يريدون وجه الله.
- للإمام أن يفرض لبعض أهل الإيمان فرضاً ليعينهم على الحياة، من التفرغ للدعوة والعلم ونحو ذلك.