حدیث

حافظ قرآن کی مثال رسی سے بندھے ہوئے اونٹ جیسی ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إنّما مَثَلُ صَاحبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ الإِبِلِ المُعَقَّلَةِ، إنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أمْسَكَهَا، وَإنْ أطْلَقَهَا ذَهَبَتْ».

ترجمہ

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حافظ قرآن کی مثال رسی سے بندھے ہوئے اونٹ جیسی ہے، اگر اس نے ان کی نگہداشت کی، تو وہ انھیں قابو میں رکھے گا اور اگر انھیں چھوڑ دے گا، تو وہ چلے جائیں گے“۔

تشریح

”صاحب قرآن کی مثال“ یعنی قرآن مجید کو یاد کرتے ہوئے دل و دماغ میں راسخ کرنے والا۔ ”رسی سے بندھے ہوئے اونٹ کے مالک جیسی ہے“ اس کے بعد آپ ﷺ نے اس تشبیہ کی وجہ شبہ واضح فرمائی کہ ”اگر وہ اس کو اپنی نگہداشت میں رکھے گا“ یعنی ہمیشہ اس کو باندھ کر رکھے گا، اس کو بار بار دیکھتا رہے گا اور اس کے حال سے باخبر و چوکنا رہے گا ”تو اسے اپنی ملکیت و قبضہ میں رکھ سکے گا“ اور اگر اس کو شتر بے مہار چھوڑ دے کا، تو وہ بھاگ جائے گا۔ یہی حال حافظ قرآن کا ہے کہ اگر وہ مداومت کے ساتھ روزانہ اس کی تلاوت کرے اور اس کو بار بار دہراتا رہے، تو یہ اس کے دل و دماغ میں راسخ و جاگزیں ہوجائے گا اور اگر اس کو طاق نسیان کی نذر کردے، تو دل و دماغ سے رخصت ہوجائے گا اور بھلا دیا جائے گا اور بعد ازاں اس کو دوبارہ حفظ کرنے کے لیے کافی مشقت اور تکان جھیلنی پڑے گی۔ چنانچہ جس قدر قرآن مجید کی حفاظت کا خیال رکھا جائے، اسی لحاظ سے وہ باقی رہے گا، جیسے اونٹ کو جب تک پابہ زنجیر رکھاجائے، محفوظ ہے۔ یہاں اونٹ کو خاص طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ گھریلو جانوروں میں سب سے زیادہ تیزی سے بدکنے والا جانور ہے اور اس کے بھاگ جانے کے بعد اس کو پانا بہت ہی مشکل امر ہے۔

تشریح: العربية

"إنما مثل صاحب القرآن" أي: الحافظ له عن ظهر قلب، "كمثل صاحب الإبل المعقلة" أي المربوطة بالعقال، وبيّن وجه شبهه، بقوله: "إن عاهد عليها" بالربط دائما وتابعها وانتبه لها "أمسكها، وإن أطلقها" بفك العقال عنها، "ذهبت"، وكذا صاحب القرآن إن داوم على تعاهده بالتلاوة والمراجعة ثبت القرآن في صدره، وإن ترك ذلك ذهب ونُسي، ولا يقدر على عوده إلا بعد مشقة وتعب، فما دام تعهده موجوداً فحفظه موجود؛ كما أن الإبل ما دامت مشدودة بالعقال فهي محفوظة، وخص الإبل بالذكر لأنها أشد حيوان إنسي نفوراً، وفي تحصيل الإبل بعد نفورها صعوبة.

  • الحث على تعاهد القرآن وتلاوته، والحذر من تعريضه للنسيان.
  • تنبيه الناشئة إلى تعاهد العلم النافع والاستمرار على ذلك؛ لأن الوصية لهم أكبر، والحفظ في الصغر أسهل وأثبت.
  • من أساليب الدعوة ضرب الأمثال.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید