حدیث

”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ عَبْدِ اللهِ بنِ عُمَر رضي الله عنهما قال: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: «بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ».

ترجمہ

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسلام کو پانچ ارکان پر کھڑی ایک عمارت کے مشابہ قرار دیا ہے۔ اسلام کے باقی کام اس عمارت کے تتمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان پانچ ارکان میں سے پہلا رکن اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لا‏ئق نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہيں۔ یہ دونوں گواہیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ایک ہی رکن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بندہ ان کو اپنی زبان سے، اللہ کے ایک ہونے اور بس اسی کے عبادت کا حق دار ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے، ان کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے، محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے رسول ہونے کا یقین رکھتے ہوئے اور آپ کا اتباع کرتے ہوئے، ادا کرے گا۔ دوسرا رکن نماز قائم کرنا ہے۔ دن اور رات میں پانچ فرض نمازیں ہيں۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔ ان پانچ نمازوں کو ان کی شرطوں، ارکان اور واجبات کے ساتھ ادا کیا جائے گا۔ تیسرا رکن فرض زکاۃ دینا ہے۔ دراصل زکاۃ ایک مالی عبادت ہے، جو شریعت کی جانب سے مال کی ایک متعینہ مقدار پر واجب ہوتی ہے اور جسے اس کے حق داروں کو دیا جاتا ہے۔ چوتھا رکن حج ہے۔ حج در اصل اللہ کی عبادت کے طور پر مناسک کی ادائیگی کے لیے مکہ کا قصد کرنے کا نام ہے۔ پانچواں رکن رمضان مہینے کے روزے رکھنا ہے۔ روزہ نام ہے کھانے، پینے اور دیگر روزہ توڑنے والی چیزوں سے فجر طلوع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک اللہ کی عبادت کی نیت سے رکے رہنے کا۔

فوائد

  • دونوں گواہیاں ایک دوسرے کے ساتھ لازمی طور پر جڑی ہوئی ہيں۔ ان میں سے ایک کو چھوڑ دیا جائے، تو دوسری صحیح نہیں ہوگی۔ اسی لیے دونوں کو ایک رکن بنایا گیا ہے۔
  • یہ دونوں گواہیاں دین کی بنیاد ہیں۔ ان کے بغیر کوئی قول اور عمل قبول نہیں ہوگا۔
تشریح: العربية

شَبَّهَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم الإسلامَ بِبِناءٍ مُحْكَمٍ بأركانه الخمسة الحاملة لذلك البُنيان، وبقية خصال الإسلام كتتمة البنيان، وأولُ هذه الأركان: الشهادتان؛ شهادة أن لا إله إلا الله وأنَّ محمدًا رسول الله، وهما ركن واحد؛ لا تنفك إحداهما عن الأخرى، ينطق العبد بهما معترفًا بوحدانية الله واستحقاقه للعبادة وحده دون ما سواه، وعاملًا بمقتضاها، ومؤمنًا برسالة محمد صلى الله عليه وسلم مُتَّبِعًا له. والركن الثاني: إقامة الصلاة، وهي الصلوات الخمس المفروضات في اليوم والليلة: الفجر، والظهر، والعصر، والمغرب، والعشاء، بشروطها وأركانها وواجباتها. والركن الثالث: إخراج الزكاة المفروضة، وهي عبادة ماليَّة واجبة في كل مال بَلَغَ قَدْرًا مُحَدّدًا في الشرع، تُعطى لمستحقيها. والركن الرابع: الحج، وهو قَصْدُ مكة لإقامة المَناسك، تَعبُّدًا لله عز وجل. والركن الخامس: صوم رمضان، وهو الإمساك عن الأكل والشرب وغيرهما من المفطرات بِنِيَّةِ التعبُّد لله، من طلوع الفجر إلى غروب الشمس.

  • تلازم الشهادتين، فلا تصح أحدهما إلا بالأخرى؛ لذا جعلهما ركنًا واحدًا.
  • الشهادتان هما أساس الدين، فلا يُقبل قولٌ ولا عملٌ إلا بهما.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید