حدیث

ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم مضبوط وتونگر نوجوان لڑکے تھے۔ چنانچہ ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا جس سے ہمارے ایمان میں مزید اضافہ ہوا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه ابن ماجه

عربی متن

عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضيَ اللهُ عنهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِتْيَانٌ حَزَاوِرَةٌ، فَتَعَلَّمْنَا الإِيمَانَ قَبْلَ أَنْ نَتَعَلَّمَ القُرْآنَ، ثُمَّ تَعَلَّمْنَا القُرْآنَ، فَازْدَدْنَا بِهِ إِيمَانًا.

ترجمہ

جُندُب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم مضبوط وتونگر نوجوان لڑکے تھے۔ چنانچہ ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا جس سے ہمارے ایمان میں مزید اضافہ ہوا۔

تشریح

جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم طاقت ور اور مضبوط، قریب البلوغ نوجوان تھے۔ چنانچہ ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے نبی ﷺ سے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا تو اس سے ہمارے ایمان میں اور اضافہ ہو گیا۔

فوائد

  • ایمان میں کمی و زیادتی کا بیان
  • نوجوان نسل کی تربیت کے وقت ترجیحات کا تعین، اور اس بات کی کوشش کہ ان کے دلوں کو ایمان سے آباد کیا جائے۔
  • قرآن ایمان میں اضافہ کرتا ہے، اس سے دل منور اور سینہ کشادہ ہوتا ہے۔
تشریح: العربية

قال جندب بن عبد الله رضي الله عنه: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ونحن فِتْيَان قاربْنا البلوغ، أقوياء أشداء، فتعلَّمنا عند النبي صلى الله عليه وسلم الإيمان قبل أن نتعلَّم القرآن، ثم تعلَّمنا القرآن؛ فازددنا به إيمانًا.

  • بيان أن الإيمان يزيد وينقص.
  • ترتيب الأولويات عند تربية النشء، والحرص على ملئهم بالإيمان.
  • القرآن يزيد الإيمانَ، ويتنوَّر به القلب، وينشرح به الصدر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید