پارہ 3

البقرة

بقرہ

286 آیاتمدنیپارہ 1
پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 253

    ۞ تِلْكَ ٱلرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ ٱللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَـٰتٍ ۚ وَءَاتَيْنَا عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ٱلْبَيِّنَـٰتِ وَأَيَّدْنَـٰهُ بِرُوحِ ٱلْقُدُسِ ۗ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقْتَتَلَ ٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَـٰتُ وَلَـٰكِنِ ٱخْتَلَفُوا۟ فَمِنْهُم مَّنْ ءَامَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقْتَتَلُوا۟ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ

    یہ رسول ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے[1] ، ان میں سے بعض وه ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی ہے اور بعض کے درجے بلند کئے ہیں، اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات عطا فرمائے اور روح القدس سے ان کی تائید کی[2]۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کے بعد والے اپنے پاس دلیلیں آجانے کے بعد ہرگز آپس میں لڑائی بھڑائی نہ کرتے، لیکن ان لوگوں نے اختلاف کیا، ان میں سے بعض تو مومن ہوئے اور بعض کافر، اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ آپس میں نہ لڑتے[3]، لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

    حواشی

    [1] قرآن نے ایک دوسرے مقام پر بھی اسے بیان کیا ہے «وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّينَ عَلَى بَعْضٍ» (بنی اسرائیل: 55) ”ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے“ اس لئے اس حقیقت میں تو کوئی شک نہیں۔ البتہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے جو فرمایا ہے«لا تُخَيِّرُونِي مِنْ بَيْنِ الأَنْبِيَاءِ» (صحيح بخاري ، كتاب التفسير ، سورة الأعراف ، باب 135 .مسلم، كتاب الفضائل، باب من فضائل موسى) ”تم مجھے انبیا کے درمیان فضیلت مت دو“، تو اس سے ایک کی دوسرے پر فضیلت کا انکار لازم نہیں آتا بلکہ یہ امت کو انبیا (عليهم السلام) کی بابت ادب واحترام سکھایا گیا ہے کہ تمہیں چونکہ تمام باتوں اور ان امتیازات کا، جن کی بنا پر انہیں ایک دوسرے سے فضیلت حاصل ہے، پورا علم نہیں ہے۔ اس لئے تم میری فضیلت بھی اس طرح بیان نہ کرنا کہ اس سے دوسرے انبیا کی کسر شان ہو۔ ورنہ بعض نبیوں کی بعض پر فضیلت اور تمام پیغمبروں پر نبی (صلى الله عليه وسلم) کی فضیلت واشرفیت مسلمہ اور اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے جو نصوص کتاب وسنت سے ثابت ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھیے فتح القدیر للشوکانی) [2] مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو دیئے گئے تھے، مثلاً احیائے موتی (مردوں کو زندہ کرنا) وغیرہ۔ جس کی تفصیل سورۂ آل عمران میں آئے گی۔ روح القدس سے مراد حضرت جبریل ہیں، جیسا کہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ [3] اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔ مطلب اس کا یہ نہیں کہ اللہ کے نازل کردہ دین میں اختلاف پسندیدہ ہے۔ یہ اللہ کو سخت ناپسند ہے، اس کی پسند (رضا) تو یہ ہے کہ تمام انسان اس کی نازل کردہ شریعت کو اپنا کر نار جہنم سے بچ جائیں۔ اسی لئے اس نے کتابیں اتاریں، انبیا (عليهم السلام) کا سلسلہ قائم کیا تاآنکہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) پر رسالت کا خاتمہ فرما دیا۔ تاہم اس کے بعد بھی خلفا اور علما ودعاۃ کے ذریعے سے دعوت حق اور امربالمعروف ونہی عن المنکر کا سلسلہ جاری رکھا گیا اور اس کی سخت اہمیت وتاکید بیان فرمائی گئی۔ کس لئے؟ اسی لئے تاکہ لوگ اللہ کے پسندیدہ راستے کو اختیار کریں۔ لیکن چونکہ اس نے ہدایت اور گمراہی دونوں راستوں کی نشان دہی کرکے انسانوں کو کوئی ایک راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ بطور امتحان اسے اختیار اور ارادہ کی آزادی سے نوازا ہے، اس لئے کوئی اس اختیار و آزادی کا صحیح استعمال کرکے مومن بن جاتا ہے اور کوئی اس اختیار وآزادی کا غلط استعمال کرکے کافر۔ یہ گویا اس کی حکمت ومشیت ہے، جو اس کی رضا سے مختلف چیز ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 253 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  2. 254

    يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَـٰكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَـٰعَةٌ ۗ وَٱلْكَـٰفِرُونَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ

    اے ایمان والو! جو ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو اس سے پہلے کہ وه دن آئے جس میں نہ تجارت ہے نہ دوستی اور شفاعت[1] اور کافر ہی ﻇالم ہیں۔

    حواشی

    [1] یہود و نصاریٰ اور کفار ومشرکین اپنے اپنے پیشواؤں یعنی نبیوں، ولیوں، بزرگوں، پیروں، مرشدوں وغیرہ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ پر ان کا اتنا اثر ہے کہ وہ اپنی شخصیت کے دباؤ سے اسے اپنے پیروکاروں کے بارے میں جو بات چاہیں اللہ سے منواسکتے ہیں اور منوا لیتے ہیں۔ اسی کو وہ شفاعت کہتے تھے۔ یعنی ان کا عقیدہ تقریباً وہی تھا جو آج کل کے جاہلوں کا ہے کہ ہماے بزرگ اللہ کے پاس اڑ کر بیٹھ جائیں گے، اور بخشوا کر اٹھیں گے۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے یہاں ایسی کسی شفاعت کا کوئی وجود نہیں۔ پھر اس کے بعد آیت الکرسی میں اور دوسری متعدد آیات واحادیث میں بتایا گیا کہ اللہ کے یہاں ایک دوسری قسم کی شفاعت بےشک ہوگی، مگر یہ شفاعت وہی لوگ کرسکیں گے۔ جنہیں اللہ اجازت دے گا۔ اور صرف اسی بندے کے بارے میں کرسکیں گے جس کے لئے اللہ اجازت دے گا۔ اور اللہ صرف اور صرف اہل توحید کے بارے میں اجازت دے گا۔ یہ شفاعت فرشتے بھی کریں گے، انبیا ورسل بھی، اور شہدا وصالحین بھی۔ مگر اللہ پر ان میں کسی بھی شخصیت کا کوئی دباؤ نہ ہوگا۔ بلکہ اس کے برعکس یہ لوگ خود اللہ کے خوف سے اس قدر لرزاں وترساں ہوں گے کہ ان کے چہروں کا رنگ اڑ رہا ہوگا۔ «وَلا يَشْفَعُونَ إِلا لِمَنِ ارْتَضَى وَهُمْ مِنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ» (الأنبياء : 28)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 254 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  3. 255

    ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْحَىُّ ٱلْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُۥ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ مَن ذَا ٱلَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذْنِهِۦ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَىْءٍ مِّنْ عِلْمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ ۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْعَظِيمُ

    اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے[1] ، اس کی کرسی کی وسعت[2] نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔

    حواشی

    [1] یہ آیت الکرسی ہے جس کی بڑی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے مثلاً یہ آیت قرآن کی اعظم آیت ہے۔ اس کے پڑھنے سے رات کو شیطان سے تحفظ رہتا ہے۔ ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے وغیرہ (ابن کثیر) یہ اللہ تعالیٰ کی صفات جلال، اس کی علو شان اور اس کی قدرت وعظمت پر مبنی نہایت جامع آیت ہے۔ [2] كُرْسِيٌّ سے بعض نے مَوْضِعُ قَدَمَيْنِ (قدم رکھنے کی جگہ)، بعض نے علم،بعض نے قدرت وعظمت، بعض نے بادشاہی اور بعض نے عرش مراد لیا ہے۔ لیکن صفات باری تعالیٰ کے بارے میں محدثین اور سلف کا یہ مسلک ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو صفات جس طرح قرآن وحدیث میں بیان ہوئی ہیں، ان کی بغیر تاویل اور کیفیت بیان کئے، ان پر ایمان رکھا جائے۔ اس لئے یہی ایمان رکھنا چاہیے کہ یہ فی الواقع کرسی ہے جو عرش سے الگ ہے۔ اس کی کیفیت کیا ہے، اس پر وہ کس طرح بیٹھتا ہے؟ اس کو ہم بیان نہیں کرسکتے کیونکہ اس کی حقیقت سے ہم بےخبر ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 255 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  4. 256

    لَآ إِكْرَاهَ فِى ٱلدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشْدُ مِنَ ٱلْغَىِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِٱلطَّـٰغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَا ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

    دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت ضلالت سے روشن ہوچکی ہے[1] ، اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے۔

    حواشی

    [1] اس کی شان نزول میں بتایا گیا ہے کہ انصار کے کچھ نوجوان یہودی یا عیسائی ہوگئے تھے، پھر جب یہ انصار مسلمان ہو گئے تو انہوں نے اپنی نوجوان اولاد کو بھی جو یہودی یا عیسائی بن چکے تھے، زبردستی مسلمان بنانا چاہا ، جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ شان نزول کے اس اعتبار سے بعض مفسرین نے اسے اہل کتاب کے لئے خاص مانا ہے یعنی مسلمان مملکت میں رہنے والے اہل کتاب، اگر وہ جزیہ ادا کرتے ہوں، تو انہیں قبول اسلام پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ لیکن یہ آیت حکم کے اعتبار سے عام ہے، یعنی کسی پر بھی قبول اسلام کے لئے جبر نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی دونوں کو واضح کردیا ہے۔ تاہم کفر وشرک کے خاتمے اور باطل کا زور توڑنے کے لئے جہاد ایک الگ اور جبرواکراہ سے مختلف چیز ہے۔ مقصد معاشرے سے اس قوت کا زور اور دباؤ ختم کرنا ہے جو اللہ کے دین پر عمل اور اس کی تبلیغ کی راہ میں روڑہ بنی ہوئی ہو۔ تاکہ ہر شخص اپنی آزاد مرضی سے چاہے تو اپنے کفر پر قائم رہے اور چاہے تو اسلام میں داخل ہوجائے۔ چونکہ روڑہ بننے والی طاقتیں رہ رہ کر ابھرتی رہیں گی اس لئے جہاد کا حکم اور اس کی ضرورت بھی قیامت تک رہے گی، جیسا کہ حدیث میں ہے«الجِهَادُ مَاضٍ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ»، ”جہاد قیامت تک جاری رہے گا“، خود نبی (صلى الله عليه وسلم) نے کافروں اور مشرکوں سے جہاد کیا ہے اور فرمایا ہے۔«أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ»، الحديث- (صحيح بخاري- كتاب الإيمان ، باب فإن تابوا وأقاموا الصلاة) ”مجھے حکم دیا گیا ہے میں لوگوں سے اس وقت تک جہاد کروں جب تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کا اقرار نہ کرلیں“۔ اسی طرح سزائے ارتداد (قتل) سے بھی اس آیت کا کوئی ٹکراؤ نہیں ہے (جیسا کہ بعض لوگ ایسا باور کراتے ہیں)۔ کیونکہ ارتداد کی سزا۔ قتل۔ سے مقصود جبرواکراہ نہیں ہے بلکہ اسلامی ریاست کی نظریاتی حیثیت کا تحفظ ہے۔ ایک اسلامی مملکت میں ایک کافر کو اپنے کفر پر قائم رہ جانے کی اجازت تو بےشک دی جاسکتی ہے لیکن ایک بار جب وہ اسلام میں داخل ہوجائے تو پھر اس سے بغاوت وانحراف کی اجازت نہیں دی جاسکتی لہذا وہ خوب سوچ کر اسلام لائے۔ کیونکہ اگر یہ اجازت دے دی جاتی تو نظریاتی اساس منہدم ہوسکتی تھی جس سے نظریاتی انتشار اور فکری انارکی پھیلتی جو اسلامی معاشرے کے امن کو اور ملک کے استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی تھی۔ اس لئے جس طرح انسانی حقوق کے نام پر، قتل، چوری ، زنا، ڈاکہ اور حرابہ وغیرہ جرائم کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اسی طرح آزادی رائے کے نام پر ایک اسلامی مملکت میں نظریاتی بغاوت (ارتداد) کی اجازت بھی نہیں دی جاسکتی۔ یہ جبر واکراہ نہیں ہے۔ بلکہ مرتد کا قتل اسی طرح عین انصاف ہے جس طرح قتل وغارت گری اور اخلاقی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سخت سزائیں دینا عین انصاف ہے۔ ایک کا مقصدملک کا نظریاتی تحفظ ہے اور دوسرے کا مقصد ملک کو شروفساد سے بچانا ہے اور دونوں ہی مقصد، ایک مملکت کے لئے ناگزیر ہیں۔ آج اکثر اسلامی ممالک ان دونوں ہی مقاصد کو نظرانداز کرکے جن الجھنوں، دشواریوں اور پریشانیوں سے دوچار ہیں، محتاج وضاحت نہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 256 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  5. 257

    ٱللَّهُ وَلِىُّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يُخْرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَـٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ ۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَوْلِيَآؤُهُمُ ٱلطَّـٰغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ ٱلنُّورِ إِلَى ٱلظُّلُمَـٰتِ ۗ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ

    ایمان ﻻنے والوں کا کارساز اللہ تعالیٰ خود ہے، وه انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے اور کافروں کے اولیاء شیاطین ہیں۔ وه انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں، یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 257 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  6. 258

    أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِى حَآجَّ إِبْرَٰهِـۧمَ فِى رَبِّهِۦٓ أَنْ ءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ٱلْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَٰهِـۧمُ رَبِّىَ ٱلَّذِى يُحْىِۦ وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا۠ أُحْىِۦ وَأُمِيتُ ۖ قَالَ إِبْرَٰهِـۧمُ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَأْتِى بِٱلشَّمْسِ مِنَ ٱلْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ ٱلْمَغْرِبِ فَبُهِتَ ٱلَّذِى كَفَرَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ

    کیا تونے اسے نہیں دیکھا جو سلطنت پا کر ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا، جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا رب تو وه ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے، وه کہنے لگا میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق کی طرف سے لے آتا ہے تو اسے مغرب کی جانب سے لے آ۔ اب تو وه کافر بھونچکا ره گیا، اور اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 258 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  7. 259

    أَوْ كَٱلَّذِى مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍ وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْىِۦ هَـٰذِهِ ٱللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۖ فَأَمَاتَهُ ٱللَّهُ مِا۟ئَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُۥ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۖ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِا۟ئَةَ عَامٍ فَٱنظُرْ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۖ وَٱنظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ ءَايَةً لِّلنَّاسِ ۖ وَٱنظُرْ إِلَى ٱلْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

    یا اس شخص کے مانند کہ جس کا گزر اس بستی پر ہوا جو چھت کے بل اوندھی پڑی ہوئی تھی، وه کہنے لگا اس کی موت کے بعد اللہ تعالیٰ اسے کس طرح زنده کرے گا؟[1] تو اللہ تعالی نے اسے مار دیا سو سال کے لئے، پھر اسے اٹھایا، پوچھا کتنی مدت تجھ پر گزری؟ کہنے لگا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ[2]، فرمایا بلکہ تو سو سال تک رہا، پھر اب تو اپنے کھانے پینے کو دیکھ کہ بالکل خراب نہیں ہوا اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ، ہم تجھے لوگوں کے لئے ایک نشانی بناتے ہیں تو دیکھ کہ ہم ہڈیوں کو کس طرح اٹھاتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں، جب یہ سب ﻇاہر ہو چکا تو کہنے لگا میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔[3]

    حواشی

    [1] أَوْ كَالَّذِي کا عطف پہلے واقعہ پر ہے اور مطلب یہ ہے کہ آپ نے (پہلے واقعہ کی طرح) اس شخص کے قصے پر نظر نہیں ڈالی جو ایک بستی سے گزرا۔۔۔ یہ شخص کون تھا؟ اس کی بابت مختلف اقوال نقل کئے گئے ہیں۔ زیادہ مشہور حضرت عزیر کا نام ہے جس کے بعض صحابہ وتابعین قائل ہیں۔ واللہ اعلم۔ اس سے پہلے کے واقعہ (حضرت ابراہیم (عليہ السلام ونمرود) میں صانع یعنی باری تعالیٰ کا اثبات تھا اور اس دوسرے واقعے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت احیائے موتی کا اثبات ہے کہ جس اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو اور اس کے گدھے کو سو سال کے بعد زندہ کردیا، حتیٰ کہ اس کے کھانے پینے کی چیزوں کو بھی خراب نہیں ہونے دیا۔ وہی اللہ تعالیٰ قیامت والے دن تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ جب وہ سو سال کے بعد زندہ کرسکتا ہے تو ہزاروں سال کے بعد بھی زندہ کرنا اس کے لئے مشکل نہیں۔ [2] کہا جاتا ہے کہ جب وہ شخص مذکور مرا تھا، اس وقت کچھ دن چڑھا ہوا تھا اور جب زندہ ہوا تو ابھی شام نہیں ہوئی تھی، اس سے اس نے یہ اندازہ لگایا کہ اگر میں یہاں کل آیا تھا تو ایک دن گزر گیا ہے اور اگر یہ آج ہی کا واقعہ ہے تو دن کا کچھ حصہ ہی گزرا ہے۔ جب کہ واقعہ یہ تھا کہ اس کی موت پر سو سال گزر چکے تھے۔ [3] یعنی یقین تو مجھے پہلے بھی تھا لیکن اب عینی مشاہدے کے بعد میرے یقین اور عمل میں مزید پختگی اور اضافہ ہوگیا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 259 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  8. 260

    وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِـۧمُ رَبِّ أَرِنِى كَيْفَ تُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ ۖ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِى ۖ قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِّنَ ٱلطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ ٱجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ٱدْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا ۚ وَٱعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

    اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پروردگار! مجھے دکھا تو مُردوں کو کس طرح زنده کرے گا؟[1] (جناب باری تعالیٰ نے) فرمایا، کیا تمہیں ایمان نہیں؟ جواب دیا ایمان تو ہے لیکن میرے دل کی تسکین ہو جائے گی، فرمایا چار پرند لو، ان کے ٹکڑے کر ڈالو، پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو پھر انہیں پکارو، تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آجائیں گے اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمتوں واﻻ ہے۔

    حواشی

    [1] یہ احیائے موتی کا دوسرا واقعہ ہے جو ایک نہایت جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم (عليه السلام) کی خواہش اور ان کے اطمینان قلب کے لئے دکھایا گیا۔ یہ چار پرندے کون کون سے تھے؟ مفسرین نے مختلف نام ذکر کئے ہیں لیکن ناموں کی تعیین کا کوئی فائدہ نہیں، اس لئے اللہ نے بھی ان کے نام ذکر نہیں کئے۔ بس یہ چار مختلف پرندے تھے۔ فَصُرْهُنَّ کے ایک معنی أَمِلْهُنَّ کئے گئے ہیں یعنی ان کو ”ہلالے“ (مانوس کرلے) تاکہ زندہ ہونے کے بعد ان کو آسانی سے پہچان لے کہ یہ وہی پرندے ہیں اور کسی قسم کا شک باقی نہ رہے۔ اس معنی کے اعتبار سے پھر اس کے بعد ثم قَطِّعْهُنَّ(پھر ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرلے) محذوف ماننا پڑے گا۔ دوسرے معنی قطعھن (ٹکڑے ٹکڑے کرلے) کئے گئے ہیں۔ اس صورت میں کچھ محذوف مانے بغیر معنی ہوجاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ٹکڑے ٹکڑے کرکے مختلف پہاڑوں پر ان کے اجزا باہم ملا کر رکھ دے، پھر تو آواز دے تو وہ زندہ ہو کر تیرے پاس آجائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ بعض جدید وقدیم مفسرین نے (جو صحابہ وتابعین کی تفسیر اور سلف کے منہج ومسلک کو اہمیت نہیں دیتے) فَصُرْهُنَّ کا ترجمہ صرف (ہلالے) کا کیا ہے۔ اور ان کے ٹکڑے کرنے اور پہاڑوں پر ان کے اجزا بکھیر نے اور پھر اللہ کی قدرت سے ان کے جڑنے کو وہ تسلیم نہیں کرتے۔ لیکن یہ تفسیر صحیح نہیں، اس سے واقعے کی ساری اعجازی حیثیت ختم ہوجاتی ہے اور مردے کو زندہ کر دکھانے کا سوال جوں کا توں قائم رہتا ہے۔ حالانکہ اس واقعہ کے ذکر سے مقصود اللہ تعالیٰ کی صفت احیائے موتی اور اس کی قدرت کاملہ کا اثبات ہے۔ ایک حدیث میں ہےنبی (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے اس واقعے کا تذکرہ کرکے فرمایا: «نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ»، (صحيح بخاري، كتاب التفسير) ”ہم ابراہیم (عليه السلام) سے زیادہ شک کرنے کے حق دار ہیں“۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ابراہیم (عليه السلام) نے شک کیا، لہذا ہمیں ان سے زیادہ شک کرنے کا حق پہنچتا ہے۔ بلکہ مطلب حضرت ابراہیم (عليه السلام) سے شک کی نفی ہے۔ یعنی ابراہیم (عليه السلام) نے احیائے موتی کے مسئلے میں شک نہیں کیا اگر انہوں نے شک کا اظہار کیا ہوتا تو ہم یقیناً شک کرنے میں ان سے زیادہ حق دار ہوتے (مزید وضاحت کے لئے دیکھیے فتح القدیر۔ للشوکانی )

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 260 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  9. 261

    مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِى كُلِّ سُنۢبُلَةٍ مِّا۟ئَةُ حَبَّةٍ ۗ وَٱللَّهُ يُضَـٰعِفُ لِمَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ

    جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سودانے ہوں، اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے[1] اور اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے۔

    حواشی

    [1] یہ انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت ہے۔ اس سے مراد اگر جہاد ہے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جہاد میں خرچ کی گئی رقم کا یہ ثواب ہوگا اور اگر اس سے مراد تمام مصارف خیر ہیں تو یہ فضیلت نفقات وصدقات نافلہ کی ہوگی اور دیگر نیکیاں «الحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا»، ”ایک نیکی کا اجر دس گنا“، کی ذیل میں آئیں گی۔ (فتح القدیر) گویا نفقات وصدقات کا عام اجر وثواب، دیگر امور خیر سے زیادہ ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ کی اس اہمیت وفضیلت کی وجہ بھی واضح ہے کہ جب تک سامان واسلحہ جنگ کا انتظام نہیں ہوگا، فوج کی کارکردگی بھی صفر ہوگی اور سامان اور اسلحہ رقم کے بغیر مہیا نہیں کئے جاسکتے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 261 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  10. 262

    ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَآ أَنفَقُوا۟ مَنًّا وَلَآ أَذًى ۙ لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

    جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں نہ ایذا دیتے ہیں[1] ، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ان پر نہ تو کچھ خوف ہے نہ وه اداس ہوں گے۔

    حواشی

    [1] انفاق فی سبیل اللہ کی مذکورہ فضیلت صرف اس شخص کو حاصل ہوگی جو مال خرچ کرکے احسان نہیں جتلاتا نہ زبان سے ایسا کلمہ تحقیر ادا کرتا ہے جس سے کسی غریب، محتاج کی عزت نفس مجروح ہو اور وہ تکلیف محسوس کرے۔ کیونکہ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے: ”قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے کلام نہیں فرمائے گا، ان میں ایک احسان جتلانے والا ہے۔“ (مسلم، كتاب الإيمان، باب غلظ تحريم إسبال الإزار والمنّ بالعطية)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 262 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  11. 263

    ۞ قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَآ أَذًى ۗ وَٱللَّهُ غَنِىٌّ حَلِيمٌ

    نرم بات کہنا اور معاف کردینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد ایذا رسانی ہو[1] اور اللہ تعالیٰ بےنیاز اور بردبار ہے۔

    حواشی

    [1] سائل سے نرمی اور شفقت سے بولنا یا دعائیہ کلمات (اللہ تعالیٰ تجھے بھی اور ہمیں بھی اپنے فضل وکرم سے نوازے وغیرہ) سے اس کو جواب دینا قول معروف ہے اور مَغْفِرَةٌ کا مطلب سائل کے فقر اور اس کی حاجت کا لوگوں کے سامنے عدم اظہار اور اس کی پردہ پوشی ہے اور اگر سائل کے منہ سے کوئی نازیبا بات نکل جائے تو اس سے چشم پوشی بھی اس میں شامل ہے۔ یعنی سائل سے نرمی وشفقت اور چشم پوشی، پردہ پوشی، اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد اس کو لوگوں میں ذلیل ورسوا کرکے اسے تکلیف پہنچائی جائے۔ اسی لئے حدیث میں کیا گیا ہے «الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ»، (صحيح مسلم كتاب الزكاة، باب بيان أن اسم الصدقة يقع على نوع من المعروف) ”پاکیزہ کلمہ بھی صدقہ ہے“، نیز نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”تم کسی بھی معروف (نیکی) کو حقیر مت سمجھو، اگرچہ اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملنا ہی ہو۔“ «لا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلِقٍ»۔ (مسلم، كتاب البرّ، باب استحباب طلاقة الوجه عند اللقاء)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 263 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  12. 264

    يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُبْطِلُوا۟ صَدَقَـٰتِكُم بِٱلْمَنِّ وَٱلْأَذَىٰ كَٱلَّذِى يُنفِقُ مَالَهُۥ رِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ ۖ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُۥ وَابِلٌ فَتَرَكَهُۥ صَلْدًا ۖ لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَىْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَـٰفِرِينَ

    اے ایمان والو! اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر برباد نہ کرو! جس طرح وه شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر، اس کی مثال اس صاف پتھر کی طرح ہے جس پر تھوڑی سی مٹی ہو پھر اس پر زوردار مینہ برسے اور وه اسے بالکل صاف اور سخت چھوڑ دے[1] ، ان ریاکاروں کو اپنی کمائی میں سے کوئی چیز ہاتھ نہیں لگتی اور اللہ تعالیٰ کافروں کی قوم کو (سیدھی) راه نہیں دکھاتا۔

    حواشی

    [1] اس میں ایک تو یہ کہا گیا ہے کہ صدقہ وخیرات کرکے احسان جتلانا اور تکلیف دہ باتیں کرنا، اہل ایمان کا شیوہ نہیں، بلکہ ان لوگوں کا وطیرہ ہے جو منافق ہیں اور ریاکاری کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ دوسرے، ایسے خرچ کی مثال صاف چٹان کی سی ہے جس پر کچھ مٹی ہو ، کوئی شخص پیداوار حاصل کرنے کے لئے اس میں بیج بو دے لیکن بارش کا ایک جھٹکا پڑتے ہی وہ ساری مٹی اس سے اتر جائے اور وہ پتھر مٹی سے بالکل صاف ہوجائے۔ یعنی جس طرح بارش اس پتھر کے لئے نفع بخش ثابت نہیں ہوئی، اسی طرح ریاکار کو بھی اس کے صدقہ کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 264 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  13. 265

    وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمُ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَـَٔاتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِن لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

    ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب میں دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ خرچ کرتے ہیں اس باغ جیسی ہے جو اونچی زمین پر ہو[1] اور زوردار بارش اس پر برسے اور وه اپنا پھل دگنا ﻻوے اور اگر اس پر بارش نہ بھی برسے تو پھوار ہی کافی ہے اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔

    حواشی

    [1] یہ ان اہل ایمان کی مثال ہے جو اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرتے ہیں، ان کا خرچ کیا ہوا مال اس باغ کی مانند ہے جو پرفضا اور بلند چوٹی پر ہو، کہ اگر زوردار بارش ہو تو اپنا پھل دگنا دے ورنہ ہلکی سی پھوار اور شبنم بھی اس کو کافی ہوجاتی ہے۔ اسی طرح ان کے نفقات بھی، چاہے کم ہو یا زیادہ، عنداللہ کئی کئی گنا اجر وثواب کے باعث ہوں گے جَنَّةٌ اس زمین کو کہتے ہیں جس میں اتنی کثرت سے درخت ہوں جو زمین کو ڈھانک لیں یا وہ باغ، جس کے چاروں طرف باڑھ ہو اور باڑھ کی وجہ سے باغ نظروں سے پوشیدہ ہو۔ یہ جن سے ماخوذ ہے، جن اس مخلوق کا نام ہے جو نظر نہیں آتی، پیٹ کے بچے کو جنین کہا جاتا ہے کہ وہ بھی نظر نہیں آتا، دیوانگی کو جنون سے تعبیر کرتے ہیں کہ اس میں بھی عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے۔ اور جنت کو بھی اس لئے جنت کہتے ہیں کہ وہ نظروں سے مستور ہے۔ ربوۃ اونچی زمین کو کہتے ہیں۔ وابل تیز بارش۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 265 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  14. 266

    أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَن تَكُونَ لَهُۥ جَنَّةٌ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ لَهُۥ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَأَصَابَهُ ٱلْكِبَرُ وَلَهُۥ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَآءُ فَأَصَابَهَآ إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَٱحْتَرَقَتْ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ

    کیا تم میں سے کوئی بھی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو، جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور ہر قسم کے پھل موجود ہوں، اس شخص کا بڑھاپا آگیا ہو، اس کے ننھے ننھے سے بچے بھی ہوں اور اچانک باغ کو بگوﻻ لگ جائے جس میں آگ بھی ہو، پس وه باغ جل جائے[1] ، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آیتیں بیان کرتا ہے تاکہ تم غوروفکر کرو۔

    حواشی

    [1] اسی ریا کاری کے نقصانات کو واضح کرنے اور اس سے بچنے کے لئے مزید مثال دی جارہی ہے کہ جس طرح ایک شخص کا باغ ہو جس میں ہر طرح کے پھل ہوں (یعنی اس سے بھرپور آمدنی کی امید ہو) ، وہ شخص بوڑھا ہوجائے اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں (یعنی وہ خود بھی ضعف پیری اور کبرسنی کی وجہ سے محنت ومشقت سے عاجز ہوچکا ہو اور اولاد بھی اس کے بڑھاپے کا سہارا تو کیا؟ خود اپنا بوجھ بھی اٹھانے کے قابل نہ ہو) اس حالت میں تیز وتند ہوائیں چلیں اور اس کا سارا باغ جل جائے۔ اب نہ وہ خود دوبارہ اس باغ کو آباد کرنے کے قابل رہا نہ اس کی اولاد۔ یہی حال ان ریاکار خرچ کرنے والوں کا قیامت کے دن ہوگا۔ کہ نفاق وریاکاری کی وجہ سے ان کے سارے اعمال اکارت چلے جائیں گے جب کہ وہاں نیکیوں کی شدید ضرورت ہوگی اور دوبارہ اعمال خیر کرنے کی مہلت وفرصت نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارا یہی حال ہو؟ حضرت ابن عباس ب اور حضرت عمر (رضي الله عنه) نے اس مثال کا مصداق ان لوگوں کو بھی قرار دیا ہے جو ساری عمر نیکیاں کرتے ہیں اور آخر عمر میں شیطان کے جال میں پھنس کر اللہ کے نافرمان ہوجاتے ہیں جس سے عمر بھر کی نیکیاں برباد ہوجاتی ہیں(صحيح بخاري، كتاب التفسير، فتح القدير، للشوكاني وتفسير ابن جرير طبري)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 266 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  15. 267

    يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنفِقُوا۟ مِن طَيِّبَـٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّآ أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا۟ ٱلْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِـَٔاخِذِيهِ إِلَّآ أَن تُغْمِضُوا۟ فِيهِ ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ حَمِيدٌ

    اے ایمان والو! اپنی پاکیزه کمائی میں سے اور زمین میں سے تمہارے لئے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو[1] ، ان میں سے بری چیزوں کے خرچ کرنے کا قصد نہ کرنا، جسے تم خود لینے والے نہیں ہو، ہاں اگر آنکھیں بند کر لو تو[2]، اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ بے پرواه اور خوبیوں واﻻ ہے

    حواشی

    [1] صدقے کی قبولیت کے لئے جس طرح ضروری ہے کہ من واذی اور ریاکاری سے پاک ہو (جیسا کہ گذشتہ آیات میں بتایا گیا ہے) اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ وہ حلال اور پاکیزہ کمائی سے ہو۔چاہے وہ کاروبار (تجارت وصنعت) کے ذریعے سے ہو یا فصل اور باغات کی پیداوار سے۔ اور یہ جو فرمایا کہ خبیث چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا قصد مت کرو)۔ تو خبیث سے ایک تو وہ چیزیں مراد ہیں جو غلط کمائی سے ہوں۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول نہیں فرماتا۔ حدیث میں ہے: «إنَّ اللهَ طَيِّبٌ لا يَقْبَلُ إِلا طَيِّبا»، ”اللہ تعالیٰ پاک ہے، پاک (حلال) چیز ہی قبول فرماتا ہے۔“ دوسرے خبیث کے معنی ردی اور نکمی چیز کے ہیں، ردی چیزیں بھی اللہ کی راہ میں خرچ نہ کی جائیں، جیسا کہ آیت «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» کا بھی مفاد ہے۔ اس کی شان نزول کی روایت میں بتلایا گیا ہے کہ بعض انصار مدینہ خراب اور نکمی کھجوریں بطور صدقہ مسجد میں دے جاتے، جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (فتح القدیر۔ بحوالہ ترمذی وابن ماجہ وغیرہ )۔ [2] یعنی جس طرح تم خود ردی چیزیں لینا پسند نہیں کرتے، اسی طرح اللہ کی راہ میں بھی اچھی چیز ہی خرچ کرو۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 267 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  16. 268

    ٱلشَّيْطَـٰنُ يَعِدُكُمُ ٱلْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِٱلْفَحْشَآءِ ۖ وَٱللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ

    شیطان تمہیں فقیری سے دھمکاتا ہے اور بےحیائی کا حکم دیتا ہے[1] ، اور اللہ تعالیٰ تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعده کرتا ہے، اللہ تعالیٰ وسعت واﻻ اور علم واﻻ ہے۔

    حواشی

    [1] یعنی بھلے کام میں مال خرچ کرنا ہو تو شیطان ڈراتا ہے کہ مفلس اور قلاش ہوجاؤ گے۔ لیکن برے کام پر خرچ کرنا ہو تو ایسے اندیشوں کو نزدیک نہیں پھٹکنے دیتا۔ بلکہ ان برے کاموں کو اس طرح سجا اور سنوار کر پیش کرتا ہے اور ان کے لئے خفتہ آرزوؤں کو اس طرح جگاتا ہے کہ ان پر انسان بڑی سے بڑی رقم بے دھڑک خرچ کر ڈالتا ہے۔ چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ مسجد، مدرسے یا اور کسی کار خیر کے لئے کوئی چندہ لینے پہنچ جائے تو صاحب مال سو، دو سو کے لئے بار بار اپنے حساب کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔ اور مانگنے والے کو بسا اوقات کئی کئی بار دوڑاتا اور پلٹاتا ہے۔ لیکن یہی شخص سینما، ٹیلی ویژن، شراب، بدکاری اور مقدمے بازی وغیرہ کے جال میں پھنستا ہے تو اپنا مال بےتحاشا خرچ کرتا ہے۔ اور اس سے کسی قسم کی ہچکچاہٹ اور تردد کا ظہور نہیں ہوتا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 268 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  17. 269

    يُؤْتِى ٱلْحِكْمَةَ مَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُؤْتَ ٱلْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِىَ خَيْرًا كَثِيرًا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ

    وه جسے چاہے حکمت اور دانائی دیتا ہے اور جو شخص حکمت اور سمجھ دیا جائے وه بہت ساری بھلائی دیا گیا[1] اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں۔

    حواشی

    [1] حِكْمَةٌ سے بعض کے نزدیک، عقل وفہم، علم اور بعض کے نزدیک اصابت رائے، قرآن کے ناسخ و منسوخ کا علم وفہم، قوت فیصلہ اور بعض کے نزدیک صرف سنت یا کتاب وسنت کا علم وفہم ہے یا سارے ہی مفہوم اس کے مصداق میں شامل ہوسکتے ہیں۔ صحیحین وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ ”دو شخصوں پر رشک کرنا جائز ہے ایک وہ جس کو اللہ نے مال دیا اور وہ اسے راہ حق میں خرچ کرتا ہے۔ دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت دی جس سے وہ فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔“ (صحيح بخارى، كتاب العلم، باب الاغتباط في العلم والحكمة - مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب فضل من يقوم بالقرآن ويعلِّمه ....)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 269 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  18. 270

    وَمَآ أَنفَقْتُم مِّن نَّفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُم مِّن نَّذْرٍ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُهُۥ ۗ وَمَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ

    تم جتنا کچھ خرچ کرو یعنی خیرات اور جو کچھ نذر مانو[1] اسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے، اور ﻇالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

    حواشی

    [1] نَذْرٍ کا مطلب ہے کہ میرا فلاں کام ہوگیا یا فلاں ابتلا سے نجات مل گئی تو میں اللہ کی راہ میں اتنا صدقہ کروں گا۔ اس نذر کا پورا کرنا ضروری ہے۔ اگر کسی نافرمانی یا ناجائز کام کی نذر مانی ہے تو اس کا پورا کرنا ضروری نہیں۔ نذر بھی، نماز روزہ کی طرح، عبادت ہے۔ اس لئے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کی نذر ماننا اس کی عبادت کرنا ہے جو شرک ہے، جیسا کہ آج کل مشہور قبروں پر نذر ونیاز کا یہ سلسلہ عام ہے، اللہ تعالیٰ اس شرک سے بچائے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 270 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  19. 271

    إِن تُبْدُوا۟ ٱلصَّدَقَـٰتِ فَنِعِمَّا هِىَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا ٱلْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّـَٔاتِكُمْ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ

    اگر تم صدقے خیرات کو ﻇاہر کرو تو وه بھی اچھا ہے اور اگر تم اسے پوشیده پوشیده مسکینوں کو دے دو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے[1] ، اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال کی خبر رکھنے واﻻ ہے،

    حواشی

    [1] اس سے معلوم ہوا کہ عام حالات میں خفیہ طور پر صدقہ کرنا افضل ہے، سوائے کسی ایسی صورت کے کہ علانیہ صدقہ دینے میں لوگوں کے لئے ترغیب کا پہلو ہو۔ اگر ریاکاری کا جذبہ شامل نہ ہو تو ایسے موقعوں پر پہل کرنے والے جو خاص فضیلت حاصل کرسکتے ہیں، وہ احادیث سے واضح ہے۔ تاہم اس قسم کی مخصوص صورتوں کے علاوہ دیگر مواقع پر خاموشی سے صدقہ وخیرات کرنا ہی بہتر ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ہے کہ جن لوگوں کوقیامت کے دن عرش الٰہی کا سایہ نصیب ہوگا، ان میں ایک وہ شخص بھی ہوگا جس نے اتنے خفیہ طریقے سے صدقہ کیا، کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی یہ پتہ نہیں چلا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ صدقے میں اخفا کی افضیلت کو بعض علما نے صرف نفلی صدقات تک محدود رکھا ہے اور زکٰوۃ کی ادائیگی میں اظہار کو بہتر سمجھا ہے۔ لیکن قرآن کا عموم صدقات نافلہ اور واجبہ دونوں کو شامل ہے (ابن کثیر) اور حدیث کا عموم بھی اسی کی تائید کرتا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 271 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  20. 272

    ۞ لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَىٰهُمْ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ ۗ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنفُسِكُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ ٱللَّهِ ۚ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ

    انہیں ہدایت پر ﻻ کھڑا کرنا تیرے ذمہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو بھلی چیز اللہ کی راه میں دو گے اس کا فائده خود پاؤ گے۔ تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہئے تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا[1] ، اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔

    حواشی

    [1] تفسیری روایات میں اس کی شان نزول یہ بیان کی گئی ہے کہ مسلمان اپنے مشرک رشتے داروں کی مدد کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ وہ مسلمان ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہدایت کے راستے پر لگا دینا یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ تم لوجہ اللہ جو بھی خرچ کرو گے، اس کا پورا اجر ملے گا جس سے یہ معلوم ہوا کہ غیر مسلم رشتے داروں کے ساتھ بھی صلۂ رحمی کرنا باعث اجر ہے۔ تاہم زکٰوۃ صرف مسلمانوں کا حق ہے یہ کسی غیر مسلم کو نہیں دی جاسکتی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 272 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  21. 273

    لِلْفُقَرَآءِ ٱلَّذِينَ أُحْصِرُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِى ٱلْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ ٱلْجَاهِلُ أَغْنِيَآءَ مِنَ ٱلتَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَـٰهُمْ لَا يَسْـَٔلُونَ ٱلنَّاسَ إِلْحَافًا ۗ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌ

    صدقات کے مستحق صرف وه غربا ہیں جو اللہ کی راه میں روک دیئے گئے، جو ملک میں چل پھر نہیں سکتے[1] نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مالدار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہچان لیں گے وه لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے[2]، تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کا جاننے واﻻ ہے۔

    حواشی

    [1] اس سے مراد وہ مہاجرین ہیں جو مکہ سے مدینہ آئے اور اللہ کے راستے میں ہر چیز سے کٹ گئے۔ دینی علوم حاصل کرنے والے طلبا اور علما بھی اس کی ذیل میں آسکتے ہیں۔ [2] گویا اہل ایمان کی صفت یہ ہے کہ فقر وغربت کے باوجود وہ تَعَفُّفْ ( سوال سے بچنا) اختیار کرتے اور الحاف (چمٹ کر سوال کرنا) سے گریز کرتے ہیں۔ بعض نے الحاف کے معنی کئے ہیں، بالکل سوال نہ کرنا کیونکہ ان کی پہلے صفت عفت بیان کی گئی ہے (فتح القدیر) اور بعض نے کہا ہے کہ وہ سوال میں الحاح وزاری نہیں کرتے اور جس چیز کی انہیں ضرورت نہیں ہے اسے لوگوں سے طلب نہیں کرتے۔ اس لئے کہ الحاف یہ ہے کہ ضرورت نہ ہونے کے باوجود (بطور پیشہ) لوگوں سے مانگے اس مفہوم کی تائید ان احادیث سے ہوتی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ «مسکین وہ نہیں ہے جو ایک ایک دو دو کھجور یا ایک ایک، دو دو لقمے کے لئے در در پر جا کر سوال کرتا ہے۔ مسکین تو وہ ہے جو سوال سے بچتا ہے»، پھر نبی (صلى الله عليه وسلم) نے آیت«لا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا» کا حوالہ پیش فرمایا (صحیح بخاری، التفسیر والزکاۃ )۔ اس لئے پیشہ ور گداگروں کی بجائے، مہاجرین، دین کے طلبا علما اور سفید پوش ضرورت مندوں کا پتہ چلا کر ان کی امداد کرنی چاہیے۔ جو سوال کرنے سے گریز کرتے ہیں، کیونکہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا انسان کی عزت نفس اور خودداری کے خلاف ہے۔ علاوہ ازیں حدیث میں آتا ہے کہ جس کے پاس ما يغني ہو «یعنی اتنا سامان ہو جو اس کی کفایت کرتا ہو»، لیکن اس کے باوجود وہ لوگوں سے سوال کرے گا، تو قیامت والے دن اس کے چہرے پر زخم ہوں گے۔ (رواه أهل السنن الأربعة - ترمذي، كتاب الزكاة) اور بخاری ومسلم کی روایت میں ہے کہ ”ہمیشہ لوگوں سے سوال کرنے والے کے چہرے پر قیامت کے دن گوشت نہیں ہوگا“۔ (بحواله مشكاة، كتاب الزكاة باب من لا تحل له المسالة ومن تحل له)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 273 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  22. 274

    ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُم بِٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

    جو لوگ اپنے مالوں کو رات دن چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں ان کے لئے ان کے رب تعالیٰ کے پاس اجر ہے اور نہ انہیں خوف ہے اور نہ غمگینی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 274 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  23. 275

    ٱلَّذِينَ يَأْكُلُونَ ٱلرِّبَوٰا۟ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِى يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيْطَـٰنُ مِنَ ٱلْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْبَيْعُ مِثْلُ ٱلرِّبَوٰا۟ ۗ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلْبَيْعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰا۟ ۚ فَمَن جَآءَهُۥ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِۦ فَٱنتَهَىٰ فَلَهُۥ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ

    سود خور[1] لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے[2] یہ اس لئے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے[3]، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام، جو شخص اپنے پاس آئی ہوئی اللہ تعالیٰ کی نصیحت سن کر رک گیا اس کے لئے وہ ہے جو گزرا[4] اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے[5]، اور جو پھر دوبارہ ﴿حرام کی طرف﴾ لوٹا، وہ جہنمی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے۔

    حواشی

    [1] رِبَا کے لغوی معنی زیادتی اور اضافے کے ہیں۔ اور شریعت میں اس کا اطلاق "رِبَا الْفَضْلِاوررِبَا النَّسِيئَةِ" پر ہوتا ہے۔ "رِبَا الْفَضْلِ"، اس سود کو کہتے ہیں جو چھ اشیا میں کمی بیشی یا نقد وادھار کی وجہ سے ہوتا ہے (جس کی تفصیل حدیث میں ہے، مثلاً گندم کا تبادلہ گندم سے کرنا ہے تو فرمایا گیا ہے کہ ایک تو برابر برابر ہو۔ دوسرے يَدًا بِيَدٍ( ہاتھوں ہاتھ) ہو۔ اس میں کمی بیشی ہوگی تب بھی اور ہاتھوں ہاتھ ہونے کی بجائے، ایک نقد اور دوسرا ادھار یا دونوں ہی ادھار ہوں، تب بھی سود ہے) "رِبَا النَّسِيئَةِ" کا مطلب ہے کسی کو (مثلاً) 6 مہینے کے لئے اس شرط پر سو روپے دینا، کہ واپسی 125 روپے ہوگی۔ 25روپے 6 مہینے کی مہلت کے لئے جائیں حضرت علی (رضي الله عنه) کی طرف منسوب قول میں اسے اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ "كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبًا" (فيض القدير شرح الجامع الصغير، ج 5، ص 28 ) ”قرض پر لیا گیا نفع سود ہے“، یہ قرضہ ذاتی ضرورت کے لئے لیا گیا ہو یا کاروبار کے لئے دونوں قسم کے قرضوں پر لیا گیا سود حرام ہے اور زمانۂ جاہلیت میں بھی دونوں قسم کے قرضوں کا رواج تھا۔ شریعت نے بغیر کسی قسم کی تفریق کے دونوں کو مطلقاً حرام قرار دیا ہے۔ اس لئے بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ تجارتی قرضہ (جو عام طور پر بنک سے لیا جاتا ہے) اس پر اضافہ، سود نہیں ہے۔ اس لئے کہ قرض لینے والا اس سے فائدہ اٹھاتا ہے جس کا کچھ حصہ وہ بنک کو یا قرض دہندہ کو لوٹا دیتا ہے تو اس میں کیا قباحت ہے؟ اس کی قباحت ان متجددین کو نظر نہیں آتی جو اس کو جائز قرار دینا چاہتے ہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں تو اس میں بڑی قباحتیں ہیں۔ مثلاً قرض لے کر کاروبار کرنے والے کا منافع تو یقینی نہیں ہے۔ بلکہ، منافع تو کجا اصل رقم کی حفاظت کی بھی ضمانت نہیں ہے۔ بعض دفعہ کاروبار میں ساری رقم ہی ڈوب جاتی ہے۔ جب کہ اس کے برعکس قرض دہندہ (چاہے وہ بنک ہو یا کوئی ساہوکار) کا منافع متعین ہے جس کی ادائیگی ہر صورت میں لازمی ہے۔ یہ ظلم کی ایک واضح صورت ہے جسے شریعت اسلامیہ کس طرح جائز قرار دے سکتی ہے؟ علاوہ ازیں شریعت تو اہل ایمان کو معاشرے کے ضرورت مندوں پر بغیر کسی دنیوی غرض ومنفعت کے خرچ کرنے کی ترغیب دیتی ہے، جس سے معاشرے میں اخوت، بھائی چارے، ہمدردی، تعاون اور شفقت و محبت کے جذبات فروغ پاتے ہیں۔ اس کے برعکس سودی نظام سے سنگ دلی اور خود غرضی کو فروغ ملتا ہے۔ ایک سرمائے دار کو اپنے سرمائے کے نفع سے غرض ہوتی ہے چاہے معاشرے میں ضرورت مند، بیماری، بھوک، افلاس سے کراہ رہے ہوں یا بےروزگار اپنی زندگی سے بیزار ہوں۔ شریعت اس شقاوت سنگ دلی کو کس طرح پسند کرسکتی ہے؟ اس کے اور بہت سے نقصانات ہیں، تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔ بہرحال سود مطلقاً حرام ہے چاہے ذاتی ضرورت کے لئے لئے گئے قرضے کا سود ہو یا تجارتی قرضے پر۔ [2] سود خور کی یہ کیفیت قبر سے اٹھتے وقت یا میدان محشر میں ہوگی۔ [3] حالانکہ تجارت میں تو نقد رقم اور کسی چیز کا آپس میں تبادلہ ہوتا ہے۔ دوسرے اس میں نفع نقصان کا امکان رہتا ہے، جب کہ سود میں یہ دونوں چیزیں مفقود ہیں، علاوہ ازیں بیع کو اللہ نے حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ پھر یہ دونوں ایک کس طرح قبول ہوسکتے ہیں؟ [4] قبول ایمان یا توبہ کے بعد پچھلے سود پر گرفت نہیں ہوگی۔ [5] کہ وہ توبہ پر ثابت قدم رکھتا ہو یا سؤ عمل اور فسادنیت کی وجہ سے اسے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔ اسی لئے اس کے بعد دوبارہ سود لینے والے کے لئے وعید ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 275 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  24. 276

    يَمْحَقُ ٱللَّهُ ٱلرِّبَوٰا۟ وَيُرْبِى ٱلصَّدَقَـٰتِ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ

    اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے[1] اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے اور گنہگار سے محبت نہیں کرتا۔

    حواشی

    [1] یہ سود کی معنوی اور روحانی مضرتوں اور صدقے کی برکتوں کا بیان ہے۔ سود میں بظاہر بڑھوتری نظر آتی ہے لیکن معنوی حساب سے یا مال (انجام) کے اعتبار سے سودی رقم ہلاکت و بربادی ہی کا باعث بنتی ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف اب یورپی ماہرین معیشت بھی کرنے لگے ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 276 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  25. 277

    إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

    بے شک جو لوگ ایمان کے ساتھ ﴿سنت کے مطابق﴾ نیک کام کرتے ہیں، نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب تعالیٰ کے پاس ہے، ان پر نہ تو کوئی خوف ہے، نہ اداسی اور غم۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 277 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  26. 278

    يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَذَرُوا۟ مَا بَقِىَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓا۟ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

    اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 278 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  27. 279

    فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا۟ فَأْذَنُوا۟ بِحَرْبٍ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَٰلِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ

    اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ[1] ، ہاں اگر توبہ کرلو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے، نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے گا[2]۔

    حواشی

    [1] یہ ایسی سخت وعید ہے جو اور کسی معصیت کے ارتکاب پر نہیں دی گئی۔ اس لئے حضرت عبداللہ بن عباس (رضي الله عنه) نے کہا ہے کہ اسلامی مملکت میں جو شخص سود چھوڑنے پر تیار نہ ہو، تو خلیفہ وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سے توبہ کرائے اور باز نہ آنے کی صورت میں اس کی گردن اڑا دے۔ (ابن کثیر ) [2] تم اگر اصل زر سے زیادہ وصول کرو گے تو یہ تمہاری طرف سے ظلم ہوگا اور اگر تمہیں اصل زر بھی نہ دیا جائے تو یہ تم پر ظلم ہوگا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 279 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  28. 280

    وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا۟ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

    اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہئے اور صدقہ کرو تو تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے[1] ، اگر تم میں علم ہو۔

    حواشی

    [1] زمانۂ جاہلیت میں قرض کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں سود در سود، اصل رقم میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا تھا، جس سے وہ تھوڑی سی رقم ایک پہاڑ بن جاتی اور اس کی ادائیگی ناممکن ہوجاتی۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ کوئی تنگ دست ہو تو (سود لینا تو درکنار اصل مال لینے میں بھی) آسانی تک اسے مہلت دے دو اور اگر قرض بالکل ہی معاف کر دو تو زیادہ بہتر ہے، احادیث میں بھی اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ کتنا فرق ہے ان دونوں نظاموں میں ؟ ایک سراسر ظلم، سنگ دلی اور خود غرضی پر مبنی نظام اور دوسرا ہمدردی، تعاون اور ایک دوسرے کو سہارا دینے والا نظام۔ مسلمان خود ہی اس بابرکت اور پررحمت نظام الٰہی کو نہ اپنائیں تو اس میں اسلام کا کیا قصور اور اللہ پر کیا الزام ؟ کاش مسلمان اپنے دین کی اہمیت و افادیت کو سمجھ سکیں اور اس پر اپنے نظام زندگی کو استوار کرسکیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 280 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  29. 281

    وَٱتَّقُوا۟ يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى ٱللَّهِ ۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

    اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤگے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔[1]

    حواشی

    [1] بعض آثار میں ہے کہ یہ قرآن کریم کی آخری آیت ہے جو نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) پر نازل ہوئی، اس کے چند دن بعد ہی آپ (صلى الله عليه وسلم) دنیا سے رحلت فرما گئے۔ (ابن کثیر )

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 281 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  30. 282

    يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰٓ أَجَلٍ مُّسَمًّى فَٱكْتُبُوهُ ۚ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِٱلْعَدْلِ ۚ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَن يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ ٱللَّهُ ۚ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ ٱلَّذِى عَلَيْهِ ٱلْحَقُّ وَلْيَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُۥ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْـًٔا ۚ فَإِن كَانَ ٱلَّذِى عَلَيْهِ ٱلْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُۥ بِٱلْعَدْلِ ۚ وَٱسْتَشْهِدُوا۟ شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَٱمْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ ٱلشُّهَدَآءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَىٰهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَىٰهُمَا ٱلْأُخْرَىٰ ۚ وَلَا يَأْبَ ٱلشُّهَدَآءُ إِذَا مَا دُعُوا۟ ۚ وَلَا تَسْـَٔمُوٓا۟ أَن تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَىٰٓ أَجَلِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَـٰدَةِ وَأَدْنَىٰٓ أَلَّا تَرْتَابُوٓا۟ ۖ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَـٰرَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا ۗ وَأَشْهِدُوٓا۟ إِذَا تَبَايَعْتُمْ ۚ وَلَا يُضَآرَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ ۚ وَإِن تَفْعَلُوا۟ فَإِنَّهُۥ فُسُوقٌۢ بِكُمْ ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱللَّهُ ۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ

    اے ایمان والو! جب تم آپس میں ایک دوسرے سے میعاد مقرر پر قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو[1] ، اور لکھنے والے کو چاہئے کہ تمہارا آپس کا معاملہ عدل سے لکھے، کاتب کو چاہئے کہ لکھنے سے انکار نہ کرے جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے سکھایا ہے، پس اسے بھی لکھ دینا چاہئے اور جس کے ذمہ حق ہو[2] وہ لکھوائے اور اپنے اللہ تعالیٰ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور حق میں سے کچھ گھٹائے نہیں، ہاں جس شخص کے ذمہ حق ہے وہ اگر نادان ہو یا کمزور ہو یا لکھوانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی عدل کے ساتھ لکھوا دے اور اپنے میں سے دو مرد گواہ رکھ لو، اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گوہوں میں سے پسند کر لو[3] تاکہ ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلا دے[4] اور گواہوں کو چاہئے کہ وہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں اور قرض کو جس کی مدت مقرر ہے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو لکھنے میں کاہلی نہ کرو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات بہت انصاف والی ہے اور گواہی کو بھی درست رکھنے والی اور شک و شبہ سے بھی زیادہ بچانے والی ہے[5]، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ معاملہ نقد تجارت کی شکل میں ہو جو آپس میں تم لین دین کر رہے ہو تو تم پر اس کے نہ لکھنے میں کوئی گناہ نہیں۔ خرید و فروخت کے وقت بھی گواہ مقرر کر لیا کرو[6] اور ﴿یاد رکھو کہ﴾ نہ تو لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے نہ گواہ کو[7] اور اگر تم یہ کرو تو یہ تمہاری کھلی نافرمانی ہے، اللہ تعالیٰ سے ڈرو[8]، اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے

    حواشی

    [1] جب سودی نظام کی سختی سے ممانعت اور صدقات وخیرات کی تاکید بیان کی گئی تو پھر ایسے معاشرے میں دیون (قرضوں) کی بہت ضرورت پڑتی ہے۔ کیونکہ سود تو ویسے ہی حرام ہے اور ہر شخص صدقہ وخیرات کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اسی طرح ہر شخص صدقہ لینا پسند بھی نہیں کرتا۔ پھر اپنی ضروریات وحاجات پوری کرنے کے لئے قرض ہی باقی رہ جاتا ہے۔ اسی لئے احادیث میں قرض دینے کا بڑا ثواب بیان کیا گیا ہے۔ تاہم قرض جس طرح ایک ناگزیر ضرورت ہے، اس میں بےاحتیاطی یا تساہل جھگڑوں کا باعث بھی ہے۔ اس لئے اس آیت میں، جسے آیہ الدین کہا جاتا ہے اور جو قرآن کی سب سے لمبی آیت ہے، اللہ تعالیٰ نے قرض کے سلسلے میں ضروری ہدایات دی ہیں تاکہ یہ ناگزیر ضرورت لڑائی جھگڑے کا باعث نہ بنے۔ اس کے لئے ایک حکم یہ دیا گیا ہے کہ مدت کا تعین کرلو، دوسرا یہ کہ اسے لکھ لو، تیسرا یہ کہ اس پر دو مسلمان مرد کو، یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا لو۔ [2] اس سے مراد مقروض ہے یعنی وہ اللہ سے ڈرتا ہوا رقم کی صحیح تعداد لکھوائے، اس میں کمی نہ کرے۔ آگے کہا جا رہا ہے کہ یہ مقروض اگر کم عقل یا کمزور بچہ یا مجنون ہے تو اس کے ولی کو چاہیے کہ انصاف کےساتھ لکھوالے تاکہ صاحب حق (قرض دینے والے) کو نقصان نہ ہو۔ [3] یعنی جن کی دین داری اور عدالت پر تم مطمئن ہو۔ علاوہ ازیں قرآن کریم کی اس نص سے معلوم ہوا کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے۔ نیز مرد کے بغیر صرف اکیلی عورت کی گواہی بھی جائز نہیں، سوائے ان معاملات کے جن پر عورت کے علاوہ کوئی اور مطلع نہیں ہوسکتا۔ اس امر میں اختلاف ہے کہ مدعی کی ایک قسم کے ساتھ دو عورتوں کی گواہی پر فیصلہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ جس طرح ایک مرد گواہ کے ساتھ فیصلہ کرنا جائز ہے جب کہ دوسرے گواہ کی جگہ مدعی قسم کھا لے۔ فقہائے احناف کے نزدیک ایسا کرنا جائز نہیں، جب کہ محدثین اس کے قائل ہیں، کیونکہ حدیث سے ایک گواہ اور قسم کے ساتھ فیصلہ کرنا ثابت ہے اور دو عورتیں جب ا یک مرد گواہ کے برابر ہیں تو دو عورتوں اور قسم کے ساتھ فیصلہ کرنا بھی جائز ہوگا۔ (فتح القدیر )۔ [4] یہ ایک مرد کے مقابلے میں دو عورتوں کو مقرر کرنے کی علت وحکمت ہے۔ یعنی عورت عقل اور یادداشت میں مرد سے کمزور ہے (جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں بھی عورت کو ناقص العقل کہا گیا ہے) اس میں عورت کے استخفاف اور فروتری کا اظہار نہیں ہے (جیسا کہ بعض لوگ باور کراتے ہیں) بلکہ ایک فطری کمزوری کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت ومشیت پر مبنی ہے۔مُكَابَرَةًکوئی اس کو تسلیم نہ کرے تو اور بات ہے۔ لیکن حقائق وواقعات کے اعتبار سے یہ ناقابل تردید ہے۔ [5] یہ لکھنے کے فوائد ہیں کہ اس سے انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے، گواہی بھی درست رہے گی (کہ گواہ کے فوت یا غائب ہونے کی صورت میں بھی تحریر کام آئے گی) اور شک وشبہہ سے بھی فریقین محفوظ رہیں گے۔ کیونکہ شک پڑنے کی صورت میں تحریر دیکھ کر شک دور کر لیا جاسکتا ہے۔ [6] یہ وہ خرید وفروخت ہے جس میں ادھار ہو یا سودا طے ہوجانے کے بعد بھی انحراف کا خطرہ ہو۔ ورنہ اس سے پہلے نقد سودے کو لکھنے سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔ بعض نے اس بیع سے مکان دکان، باغ یا حیوانات کی بیع مراد لی ہے۔ (ایسرالتفاسیر) [7] ان کو نقصان پہچانا یہ ہے کہ دور دراز کے علاقے میں ان کو بلایا جائے کہ جس سے ان کی مصروفیات میں حرج یا کاروبار میں نقصان ہو یا ان کو جھوٹی بات لکھنے یا اس کی گواہی دینے پر مجبور کیا جائے۔ [8] یعنی جن باتوں کی تاکید کی گئی ہے، ان پر عمل کرو اور جن چیزوں سے روکا گیا ہے، ان سے اجتناب کرو۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 282 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  31. 283

    ۞ وَإِن كُنتُمْ عَلَىٰ سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا۟ كَاتِبًا فَرِهَـٰنٌ مَّقْبُوضَةٌ ۖ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُم بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ ٱلَّذِى ٱؤْتُمِنَ أَمَـٰنَتَهُۥ وَلْيَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُۥ ۗ وَلَا تَكْتُمُوا۟ ٱلشَّهَـٰدَةَ ۚ وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُۥٓ ءَاثِمٌ قَلْبُهُۥ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ

    اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے واﻻ نہ پاؤ تو رہن قبضہ میں رکھ لیا کرو[1] ، ہاں اگر آپس میں ایک دوسرے سے مطمئن ہو تو جسے امانت دی گئی ہے وه اسے ادا کردے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے[2]۔ اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو اسے چھپالے وه گنہگار دل واﻻ ہے[3] اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔

    حواشی

    [1] اگر سفر میں قرض کا معاملہ کرنے کی ضرورت پیش آجائے اور وہاں لکھنے والا یا کاغذ پنسل وغیرہ نہ ملے تو اس کی متبادل صورت بتلائی جا رہی ہے کہ قرض لینے والا کوئی چیز دائن (قرض دینے والے) کے پاس رہن (گروی) رکھ دے۔ اس سے گروی کی مشروعیت اور اس کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی رکھی تھی۔ (صحیحین) تاہم اگرمَرْهُونَةٌ (گروی رکھی ہوئی چیز) ایسی ہے جس سے نفع موصول ہوتا ہے تو اس نفع کا حق دار مالک ہوگا نہ کہ دائن۔ البتہ اس پر دائن کا اگر کچھ خرچ ہوتا ہے تو اس سے وہ اپنا خرچہ وصول کرسکتا ہے۔ باقی نفع مالک کو ادا کرنا ضروری ہے۔ [2] یعنی اگر ایک دوسرے پر اعتماد ہو تو بغیر گروی رکھے بھی ادھار کا معاملہ کرسکتے ہو۔ امانت سے مراد یہاں قرض ہے، اللہ سے ڈرتے ہوئے اسے صحیح طریقے سے ادا کرے۔ [3] گواہی کا چھپانا کبیرہ گناہ ہے، اس لئے اس پر سخت وعید یہاں قرآن میں اور احادیث میں بھی بیان کی گئی ہے۔ اسی لئے صحیح گواہی دینے کی فضیلت بھی بڑی ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: ”وہ سب سے بہتر گواہ ہے جو گواہی طلب کرنے سے قبل ہی از خود گواہی کے لئے پیش ہوجائے“، «أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ؟ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِه قَبْل أَنْ يُسْأَلَهَا»، (صحيح مسلم، كتاب الأقضية، باب بيان خير الشهود) ایک دوسری روایت میں بدترین گواہ کی نشان دہی بھی فرما دی گئی ہے۔ «أَلا أُخْبِرُكُمْ بِشَرّ الشُّهَدَاءِ؟ الَّذِي يَشْهَدُونَ قَبْلَ أنْ يُسْتَشْهَدُوا»، (صحيح بخاري، كتاب الرقاق- مسلم، كتاب فضائل الصحابة) ”کیا میں تمہیں وہ گواہ نہ بتلاؤں جو بدترین گواہ ہے؟ یہ وہ لوگ ہیں جو گواہی طلب کرنے سے قبل ہی گواہی دیتے ہیں۔“، مطلب ہے یعنی جھوٹی گواہی دے کر گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ نیز آیت میں دل کا خاص ذکر کیا گیا ہے، اس لئے کہ کتمان دل کا فعل ہے۔ علاوہ ازیں دل تمام اعضا کا سردار ہے اور یہ ایسا مضغۂ گوشت ہے کہ اگر یہ صحیح رہے تو سارا جسم صحیح رہتا اور اگر اس میں فساد آ جائے تو سارا جسم فساد کا شکار ہوجاتا ہے۔ «أَلا! وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلا! وَهِيَ الْقَلْبُ»۔ (صحيح بخاري، كتاب الإيمان، باب فضل من استبرأ لدينه)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 283 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  32. 284

    لِّلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَإِن تُبْدُوا۟ مَا فِىٓ أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ ٱللَّهُ ۖ فَيَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

    آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے۔ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے تم ﻇاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تعالیٰ اس کا حساب تم سے لے گا[1] ۔ پھر جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

    حواشی

    [1] احادیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام بڑے پریشان ہوئے۔ انہوں نے دربار رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! نماز، روزہ، زکٰوۃ وجہاد وغیرہ یہ سارے اعمال، جن کا ہمیں حکم دیا گیا ہے، ہم بجا لاتے ہیں۔ کیونکہ یہ ہماری طاقت سے بالا نہیں ہیں۔ لیکن دل میں پیدا ہونے والے خیالات اور وسوسوں پر تو ہمارا اختیار ہی نہیں ہے اور وہ تو انسانی طاقت سے ہی ماورا ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر بھی محاسبہ کا اعلان فرما دیا ہے۔ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا۔ فی الحال تم«سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا»ہی کہو۔ چنانچہ صحابہ (رضي الله عنهم) کے جذبہ سمع وطاعت کو دیکھتے ہوئےاللہ تعالے نے اسے آیت «لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا» ”اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا“، سے منسوخ فرما دیا (ابن کثیر وفتح القدیر) صحیحین وسنن اربعہ کی یہ حدیث بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ «إِنَّ اللهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي مَا وَسْوَسَتْ بِهِ صُدُورُهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّمْ»۔ (صحيح بخاري، كتاب العتق ، باب الخطأ والنسيان في العتاقة... ومسلم، كتاب الإيمان، باب تجوز أمته عن حديث النفس ....) ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے جی میں آنے والی باتوں کو معاف کردیا ہے۔ البتہ ان پر گرفت ہوگی جن پر عمل کیا جائے یا جن کا اظہار زبان سے کردیا جائے“، اس سے معلوم ہوا کہ دل میں گزرنے والے خیالات پر محاسبہ نہیں ہوگا، صرف ان پر محاسبہ ہوگا جو پختہ عزم وارادہ میں ڈھل جائیں یا عمل کا قالب اختیار کرلیں۔ اس کے برعکس امام ابن جریر طبری کا خیال ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے کیونکہ محاسبہ معاقبہ کو لازم نہیں ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کا بھی محاسبہ کرے، اس کو سزا بھی ضرور دے، بلکہ اللہ تعالیٰ محاسبہ تو ہر ایک کا کرے گا ، لیکن بہت سے لوگ ہوں گے کہ محاسبہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دے گا بلکہ بعض کے ساتھ تو یہ معاملہ فرمائے گا کہ اس کا ایک ایک گناہ یاد کراکے ان کا اس سے اعتراف کروائے گا اور پھر فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں ان پر پردہ ڈالے رکھا، جاآج میں ان کو معاف کرتا ہوں (یہ حدیث صحیح بخاری، مسلم وغیرہما میں ہے بحوالہ ابن کثیر) اور بعض علما نے کہا ہے کہ یہاں نسخ اصطلاحی معنی میں نہیں ہے بلکہ بعض دفعہ اسے وضاحت کے معنی میں بھی استعمال کرلیا جاتا ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام کے دل میں جو شبہ اس آیت سے پیدا ہوا تھا، اسے آیت«لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا» اور حدیث «إِنَّ اللهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي...»، وغیرہ سے دور کردیا گیا۔ اس طرح ناسخ منسوخ ماننے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 284 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  33. 285

    ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَـٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِۦ ۚ وَقَالُوا۟ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ ٱلْمَصِيرُ

    رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے،

    حواشی

    - اس آیت میں پھر ان ایمانیات کا ذکر ہے جن پر ا ہل ایمان کو ایمان رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے اگلی آیت «لا يُكَلِّفُ اللَّهُ» میں اللہ تعالیٰ کی رحمت وشفقت اور اس کے فضل وکرم کا تذکرہ ہے کہ اس نے انسانوں کو کسی ایسی بات کا مکلف نہیں کیا ہے جو ان کی طاقت سے بالا ہو۔ ان دونوں آیات کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: «جو شخص سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں رات کو پڑھ لیتا ہے تو یہ اس کو کافی ہوجاتی ہیں»۔ (صحیح بخاری۔ ابن کثیر) یعنی اس عمل کی بدولت اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتا ہے۔ دوسری حدیث میں ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کو معراج کی رات جو تین چیزیں ملیں، ان میں سے ایک سورۂ بقرہ کی یہ آخری دو آیات بھی ہیں۔ (صحیح مسلم، باب فی ذکر سدرۃ المنتہی) کئی روایت میں یہ بھی وارد ہے کہ اس سورہ کی آخری آیات آپ (صلى الله عليه وسلم) کو ایک خزانے سے عطا کی گئیں جو عرش الٰہی کے نیچے ہے۔ اور یہ آیات آپ کے سوا کسی اور نبی کو نہیں دی گئیں (أحمد، نسائي ، طبراني، بيهقي، حاكم دارمي وغيره-در منثور) حضرت معاذ (رضي الله عنه) اس سورت کے خاتمے پر آمین کہا کرتے تھے۔ (ابن کثیر)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 285 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  34. 286

    لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا ٱكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ إِن نَّسِينَآ أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِۦ ۖ وَٱعْفُ عَنَّا وَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَآ ۚ أَنتَ مَوْلَىٰنَا فَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَـٰفِرِينَ

    اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈاﻻ تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 286 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

آل عمران

آل عمران

200 آیاتمدنیپارہ 3
پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)

تفسیر سورۂ آل عمران

اس کی شروع کی اسی (۸۰) سے زیادہ آیات عیسائیوں سے مباحثہ، ان کے مذہب کی تردید اور انھیں سچے دین یعنی اسلام کو قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل ہیں۔ جس طرح سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات یہود سے مناظرہ پر مشتمل ہیں۔

تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 1

    الٓمٓ

    الم[1]

    حواشی

    [1] مُحْكَمَاتٌ سے مراد وہ آیات ہیں جن میں اوا مر ونواہی، احکام ومسائل اور قصص وحکایات ہیں جن کا مفہوم واضح اور اٹل ہے، اور ان کے سمجھنے میں کسی کو اشکال پیش نہیں آتا۔ اس کے برعکس آيَاتٌ مُتَشَابِهَاتٌ ہیں مثلاً اللہ کی ہستی، قضا وقدر کے مسائل، جنت دوزخ، ملائکہ وغیرہ یعنی ماورا عقل حقائق جن کی حقیقت سمجھنے سے عقل انسانی قاصر ہو یا ان میں ایسی تاویل کی گنجائش ہو یا کم از کم ایسا ابہام ہو جس سے عوام کو گمراہی میں ڈالنا ممکن ہو۔ اسی لئے آگے کہا جا رہا ہے کہ جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے وہ آیات متشابہات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کے ذریعے سے (فتنے) برپا کرتے ہیں۔ جیسے عیسائی ہیں۔ قرآن نےحضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو عبداللہ اور نبی کہا ہے یہ واضح اور محکم بات ہے۔ لیکن عیسائی اسے چھوڑ کر قرآن کریم سے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ جوکہا گیا ہے، اس سے اپنے گمراہ کن عقائد پر غلط استدلال کرتے ہیں۔ یہی حال اہل بدعت کاہے۔ قرآن کے واضح عقائد کے برعکس اہل بدعت نے جو غلط عقائد گھڑ رکھے ہیں، وہ انہی مُتَشَابِهَاتٌ کو بنیاد بناتے ہیں۔ اور بسا اوقات مُحْكَمَاتٌ کوبھی اپنے فلسفیانہ استدلال کے گورکھ دھندے سے مُتَشَابِهَاتٌ بناتے ہیں۔ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهم نہ ان کے برعکس صحیح العقیدہ مسلمان محکمات پرعمل کرتا ہے اورمُتَشَابِهَاتٌ کے مفہوم کو بھی (اگر اس میں اشتباہ ہو) محکمات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ قرآن نے انہی کو (اصل کتاب) قرار دیا ہے۔ جس سے وہ فتنے سے بھی محفوظ رہتا ہے اور عقائد کی گمراہی سے بھی۔جَعَلَنَا اللهُ منْهُمْ - تاویل کے ایک معنی تو ہیں (کسی چیز کی اصل حقیقت) اس معنی کے اعتبار سےإِلا اللهُ پر وقف ضروری ہے۔ کیونکہ ہر چیز کی اصل حقیقت واضح طورپرصرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ تاویل کے دوسرے معنی ہیں ”کسی چیزکی تفسیر وتعبیر اوربیان وتوضیح“ اس اعتبار سے الا اللہ پر وقف کے بجائے «وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ» پر بھی وقف کیا جاسکتاہے کیونکہ مضبوط علم والے بھی صحیح تفسیر وتوضیح کا علم رکھتے ہیں۔ ”تاویل“ کے یہ دونوں معنی قرآن کریم کے استعمال سے ثابت ہیں۔ (ملخص ازابن کثیر)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 1 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  2. 2

    ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْحَىُّ ٱلْقَيُّومُ

    اللہ تعالیٰ وه ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو زنده اور سب کا نگہبان ہے۔[1]

    حواشی

    [1] حَيّ اور قَيُّومٌ اللہ تعالیٰ کی خاص صفات ہیں حی کا مطلب وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا، اسے موت اور فنا نہیں۔ قیوم کا مطلب ساری کائنات کا قائم رکھنے والا، محافظ اور نگران، ساری کائنات اس کی محتاج وہ کسی کا محتاج نہیں۔ عیسائی حضرت عیسیٰ کو اللہ یا ابن اللہ یا تین میں سے ایک مانتےتھے۔ گویا ان کو کہا جا رہا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (عليه السلام) بھی اللہ کی مخلوق ہیں، وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے اور ان کا زمانۂ ولادت بھی تخلیق کائنات سے بہت عرصے بعد کا ہے تو پھر وہ اللہ، یا اللہ کا بیٹا کس طرح ہو سکتے ہیں؟ اگر تمہارا عقیدہ صحیح ہوتا تو انہیں مخلوق کے بجائے الوہی صفات کا حامل اور قدیم ہونا چاہیےتھا۔ نیز ان پر موت بھی نہیں آنی چاہیے لیکن ایک وقت آئے گا کہ وہ موت سے بھی ہمکنار ہوں گے۔ اور عیسائیوں کے بقول ہمکنار ہو چکے۔ احادیث میں آتا ہے کہ تین آیتوں میں اللہ کا اسم اعظم ہے جس کے ذریعے سے دعا کی جائے تو وہ رد نہیں ہوتی۔ ایک یہی آل عمران کی آیت، دوسری آیت الکرسی میں «اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» اور تیسری سورء طٰہ میں «وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ» (ابن کثیر۔ تفسیر آیت الکرسی )

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 2 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  3. 3

    نَزَّلَ عَلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ بِٱلْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنزَلَ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ

    جس نے آپ پر حق کے ساتھ اس کتاب کو نازل فرمایا ہے[1] ، جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے، اسی نے اس سے پہلے تورات اور انجیل کو اتارا تھا۔

    حواشی

    [1] یعنی اس کے منزل من اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔ کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 3 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  4. 4

    مِن قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَأَنزَلَ ٱلْفُرْقَانَ ۗ إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ ذُو ٱنتِقَامٍ

    اس سے پہلے، لوگوں کو ہدایت کرنے والی بنا کر[1] ، اور قرآن بھی اسی نے اتارا[2]، جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے، بدلہ لینے واﻻ ہے۔

    حواشی

    [1] اس سے پہلے انبیاء پرجو کتابیں نازل ہوئیں۔ یہ کتاب اس کی تصدیق کرتی ہے یعنی جوباتیں ان میں درج تھیں، ان کی صداقت اور ان میں بیان کردہ پیش گوئیوں کا اعتراف کرتی ہے۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ یہ قرآن کریم بھی اسی ذات کا نازل کردہ ہے جس نے پہلے بہت سی کتابیں نازل فرمائیں۔ اگر یہ کسی اور کی طرف سے یا انسانی کاوشوں کا نتیجہ ہوتا تو ان میں باہم مطابقت کے بجائے مخالفت ہوتی۔ [2] یعنی اپنے اپنے وقت میں تورات اور انجیل بھی یقیناً لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ تھیں، اس لئے کہ ان کے اتارنے کا مقصد ہی یہی تھا۔ تاہم اس کے بعد وَأَنْزَلَ الْفُرْقَانَ دوبارہ کہہ کر وضاحت فرما دی۔ کہ مگر اب تورات وانجیل کادور ختم ہو گیا، اب قرآن نازل ہو چکا ہے، وہ فرقان ہے اور اب صرف وہی حق وباطل کی پہچان ہے، اس کو سچا مانے بغیر عنداللہ کوئی مسلمان اور مومن نہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  5. 5

    إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَخْفَىٰ عَلَيْهِ شَىْءٌ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِى ٱلسَّمَآءِ

    یقیناً اللہ تعالیٰ پر زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیده نہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 5 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  6. 6

    هُوَ ٱلَّذِى يُصَوِّرُكُمْ فِى ٱلْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَآءُ ۚ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

    وه ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے[1] ۔ اس کے سواکوئی معبود برحق نہیں وه غالب ہے، حکمت واﻻ ہے۔

    حواشی

    [1] خوبصورت یا بدصورت، مذکر یا مونث، نیک بخت یا بدبخت، ناقص الخلقت یا تام الخلقت۔ جب رحم مادر میں یہ سارے تصرفات صرف اللہ تعالیٰ ہی کرنے والا ہے تو حضرت عیسیٰ (عليه السلام) الٰہ کس طرح ہو سکتے ہیں جو خودبھی اسی مرحلۂ تخلیق سے گزر کر دنیا میں آئے ہیں جس کا سلسلہ اللہ نے رحم مادر میں قائم فرمایا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 6 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  7. 7

    هُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ عَلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ مِنْهُ ءَايَـٰتٌ مُّحْكَمَـٰتٌ هُنَّ أُمُّ ٱلْكِتَـٰبِ وَأُخَرُ مُتَشَـٰبِهَـٰتٌ ۖ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَـٰبَهَ مِنْهُ ٱبْتِغَآءَ ٱلْفِتْنَةِ وَٱبْتِغَآءَ تَأْوِيلِهِۦ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُۥٓ إِلَّا ٱللَّهُ ۗ وَٱلرَّٰسِخُونَ فِى ٱلْعِلْمِ يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِۦ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ

    وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری جس میں واضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں اوربعض متشابہ آیتیں ہیں[1] ۔ پس جن کے دلوں میں کجی ہے وه تواس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی مراد کی جستجو کے لئے، حاﻻنکہ ان کے حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا[2] اور پختہ ومضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان ﻻچکے، یہ ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں۔

    حواشی

    [1] مُحْكَمَاتٌ سے مراد وہ آیات ہیں جن میں اوا مر ونواہی، احکام ومسائل اور قصص وحکایات ہیں جن کا مفہوم واضح اور اٹل ہے، اور ان کے سمجھنے میں کسی کو اشکال پیش نہیں آتا۔ اس کے برعکس آيَاتٌ مُتَشَابِهَاتٌ ہیں مثلاً اللہ کی ہستی، قضا وقدر کے مسائل، جنت دوزخ، ملائکہ وغیرہ یعنی ماورا عقل حقائق جن کی حقیقت سمجھنے سے عقل انسانی قاصر ہو یا ان میں ایسی تاویل کی گنجائش ہو یا کم از کم ایسا ابہام ہو جس سے عوام کو گمراہی میں ڈالنا ممکن ہو۔ اسی لئے آگے کہا جا رہا ہے کہ جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے وہ آیات متشابہات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کے ذریعے سے (فتنے) برپا کرتے ہیں۔ جیسے عیسائی ہیں۔ قرآن نےحضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو عبداللہ اور نبی کہا ہے یہ واضح اور محکم بات ہے۔ لیکن عیسائی اسے چھوڑ کر قرآن کریم سے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ جوکہا گیا ہے، اس سے اپنے گمراہ کن عقائد پر غلط استدلال کرتے ہیں۔ یہی حال اہل بدعت کاہے۔ قرآن کے واضح عقائد کے برعکس اہل بدعت نے جو غلط عقائد گھڑ رکھے ہیں، وہ انہی مُتَشَابِهَاتٌ کو بنیاد بناتے ہیں۔ اور بسا اوقات مُحْكَمَاتٌ کوبھی اپنے فلسفیانہ استدلال کے گورکھ دھندے سے مُتَشَابِهَاتٌ بناتے ہیں۔ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهم نہ ان کے برعکس صحیح العقیدہ مسلمان محکمات پرعمل کرتا ہے اورمُتَشَابِهَاتٌ کے مفہوم کو بھی (اگر اس میں اشتباہ ہو) محکمات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ قرآن نے انہی کو (اصل کتاب) قرار دیا ہے۔ جس سے وہ فتنے سے بھی محفوظ رہتا ہے اور عقائد کی گمراہی سے بھی۔جَعَلَنَا اللهُ منْهُمْ [2] تاویل کے ایک معنی تو ہیں (کسی چیز کی اصل حقیقت) اس معنی کے اعتبار سےإِلا اللهُ پر وقف ضروری ہے۔ کیونکہ ہر چیز کی اصل حقیقت واضح طورپرصرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ تاویل کے دوسرے معنی ہیں ”کسی چیزکی تفسیر وتعبیر اوربیان وتوضیح“ اس اعتبار سے الا اللہ پر وقف کے بجائے «وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ» پر بھی وقف کیا جاسکتاہے کیونکہ مضبوط علم والے بھی صحیح تفسیر وتوضیح کا علم رکھتے ہیں۔ ”تاویل“ کے یہ دونوں معنی قرآن کریم کے استعمال سے ثابت ہیں۔ (ملخص ازابن کثیر)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 7 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  8. 8

    رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْوَهَّابُ

    اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کردے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے واﻻ ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 8 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  9. 9

    رَبَّنَآ إِنَّكَ جَامِعُ ٱلنَّاسِ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُخْلِفُ ٱلْمِيعَادَ

    اے ہمارے رب! تو یقیناً لوگوں کوایک دن جمع کرنے واﻻ ہے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ وعده خلافی نہیں کرتا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 9 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  10. 10

    إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَٰلُهُمْ وَلَآ أَوْلَـٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمْ وَقُودُ ٱلنَّارِ

    کافروں کوان کے مال اور ان کی اوﻻد اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے چھڑانے میں کچھ کام نہ آئیں گی، یہ تو جہنم کا ایندھن ہی ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 10 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  11. 11

    كَدَأْبِ ءَالِ فِرْعَوْنَ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

    جیسا آل فرعون کاحال ہوا، اور ان کا جو ان سے پہلے تھے، انہوں نے ہماری آیتوں کوجھٹلایا، پھر اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا، اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 11 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  12. 12

    قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ ۚ وَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ

    کافروں سے کہہ دیجئے! کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے[1] اور جہنم کی طرف جمع کئے جاؤ گے اور وه برا ٹھکانا ہے۔

    حواشی

    [1] یہاں کافروں سے مراد یہودی ہیں۔ اور یہ پیش گوئی جلدہی پوری ہوگئی۔ چنانچہ بنو قینقاع اور بنو نضیر جلا وطن کیے گئے، بنو قریظہ قتل کیے گئے۔ پھر خیبر فتح ہوگیا اور تمام یہودیوں پر جزیہ عائد کر دیا گیا (فتح القدیر)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 12 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  13. 13

    قَدْ كَانَ لَكُمْ ءَايَةٌ فِى فِئَتَيْنِ ٱلْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَـٰتِلُ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْىَ ٱلْعَيْنِ ۚ وَٱللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِۦ مَن يَشَآءُ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُو۟لِى ٱلْأَبْصَـٰرِ

    یقیناً تمہارے لئے عبرت کی نشانی تھی ان دو جماعتوں میں جو گتھ گئی تھیں، ایک جماعت تو اللہ تعالیٰ کی راه میں لڑ رہی تھی اور دوسرا گروه کافروں کا تھا وه انہیں اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا دیکھتے تھے[1] اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی مدد سے قوی کرتا ہے۔ یقیناً اس میں آنکھوں والوں کے لئے بڑی عبرت ہے۔

    حواشی

    [1] یعنی ہر فریق، دوسرے فریق کو اپنے سے دوگنا دیکھتا تھا۔ کافروں کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی، انہیں مسلمان دو ہزار کے قریب دکھائی دیتے تھے۔ مقصد اس سے ان کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھانا تھا۔ اور مسلمانوں کی تعداد تین سو سے کچھ اوپر (یا 313 ) تھی، انہیں کافر 600 اور 700 کے درمیان نظر آتے تھے۔ دراں حالیکہ ان کی اصل تعداد ہزار کے قریب (تین گنا) تھی مقصد اس سے مسلمانوں کے عزم وحوصلہ میں اضافہ کرنا تھا۔ اپنے سے تین گنا دیکھ کر ممکن تھا مسلمان مرعوب ہو جاتے۔ جب وہ تین گنا کے بجائے دو گنا نظر آئےتو ان کا حوصلہ پست نہیں ہوا۔ لیکن یہ دگنا دیکھنے کی کیفیت ابتدا میں تھی، پھر جب دونوں گروہ آمنے سامنے صف آرا ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے برعکس دونوں کو ایک دوسرے کی نظروں میں کم کرکے دکھایا تاکہ کوئی بھی فریق لڑائی سے گریز نہ کرے بلکہ ہر ایک پیش قدمی کی کوشش کرے (ابن کثیر) یہ تفصیل سورۃ الانفال۔ آیت 44 میں بیان کی گئی ہے۔ یہ جنگ بدر کا واقعہ ہے جو ہجرت کے بعد دوسرے سال مسلمانوں اور کافروں کے درمیان پیش آیا۔ یہ کئی لحاظ سے نہایت اہم جنگ تھی۔ ایک تو اس لیے کہ یہ پہلی جنگ تھی۔ دوسرے، یہ جنگی منصوبہ بندی کے بغیر ہوئی۔ مسلما ن ابو سفیان کے قافلے کے لئے نکلے تھے جو شام سے سامان تجارت لے کر مکہ جا رہا تھا، مگر اطلاع مل جانے کی وجہ سے وہ اپنا قافلہ تو بچا کر لے گیا، لیکن کفار مکہ اپنی طاقت وکثرت کے گھمنڈ میں مسلمانوں پر چڑھ دوڑے اور مقام بدر میں یہ پہلا معرکہ برپا ہوا۔ تیسرے، اس میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد حاصل ہوئی، چوتھے، اس میں کافروں کو عبرت ناک شکست ہوئی، جس سے آئندہ کے لئے کافروں کے حوصلے پست ہوگئے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 13 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  14. 14

    زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ ٱلشَّهَوَٰتِ مِنَ ٱلنِّسَآءِ وَٱلْبَنِينَ وَٱلْقَنَـٰطِيرِ ٱلْمُقَنطَرَةِ مِنَ ٱلذَّهَبِ وَٱلْفِضَّةِ وَٱلْخَيْلِ ٱلْمُسَوَّمَةِ وَٱلْأَنْعَـٰمِ وَٱلْحَرْثِ ۗ ذَٰلِكَ مَتَـٰعُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسْنُ ٱلْمَـَٔابِ

    مرغوب چیزوں کی محبت لوگوں کے لئے مزین کر دی گئی ہے، جیسے عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشاندار گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی[1] ، یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور لوٹنے کا اچھا ٹھکانا تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔

    حواشی

    [1] شَهَوَاتٌ سے مراد یہاں مُشْتَهَيَاتٌ ہیں یعنی وہ چیزیں جوطبعی طور پر انسان کو مرغوب اورپسندیدہ ہیں۔ اسی لئے ان میں رغبت اور ان کی محبت ناپسندیدہ نہیں ہے۔ بشرطیکہ اعتدال کے اندر اور شریعت کے دائرے میں رہے۔ ان کی تزیین بھی اللہ کی طرف سے بطور آزمائش ہے۔ «إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الأَرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ» (الكهف: 7) ”ہم نے زمین پر جو کچھ ہے، اسے زمین کی زینت بنایاہے تاکہ ہم لوگوں کو آزمائیں“ سب سے پہلے عورت کا ذکر کیا ہے کیونکہ یہ ہر بالغ انسان کی سب سے بڑی ضرورت بھی ہے اور سب سے زیادہ مرغوب بھی۔ خود نبی (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے: ”حُبِّبَ إِلَيَّ النِّسَاءُ وَالطِّيبُ“ (مسند احمد) ”عورت اور خوشبو مجھے محبوب ہیں“۔ اسی طرح نبی (صلى الله عليه وسلم) نے نیک عورت کو ”دنیا کی سب سے بہتر متاع“ قرار دیا ہے ”خَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ“ اس لئے اس کی محبت شریعت کے دائرے سے تجاوز نہ کرے تو یہ بہترین رفیق زندگی بھی ہے اور زاد آخرت بھی۔ ورنہ یہی عورت مرد کے لئے سب سے بڑا فتنہ ہے۔ فرمان رسول (صلى الله عليه وسلم) ہے: ”مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجِالِ مِنَ النِّسَاءِ“ (صحيح بخاري كتاب النكاح، باب ما يتقى من شؤم المرأة)(میرے بعد جو فتنے رونما ہوں گے، ان میں مردوں کے لئے سب سے بڑا فتنہ عورتوں کا ہے۔) اسی طرح بیٹوں کی محبت ہے۔ اگر اس سے مقصد مسلمانوں کی قوت میں اضافہ اور بقا وتکثیر نسل ہے تو محمود ہے ورنہ مذموم۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے ”تَزَوَّجُوا الوَدُودَ الْوَلُودَ؛ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ (بہت محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو، اس لئے کہ میں قیامت والے دن دوسری امتوں کے مقابلے میں اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا) اس آیت سے رھبانیت کی تردیداور تحریک خاندانی منصوبہ بندی کی تردید بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ بَنِينٌ جمع ہے۔ مال ودولت سے بھی مقصود قیام معیشت، صلۂ رحمی، صدقہ وخیرات اور اسے امور خیر میں خرچ کرنا اور سوال سے بچنا ہے تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو، تو اس کی محبت بھی عین مطلوب ہے ورنہ مذموم۔ گھوڑوں سے مقصد جہاد کی تیاری، دیگر جانوروں سے کھیتی باڑی اور باربرداری کا کام لینا اور زمین سےاس کی پیداوار حاصل کرنا ہو تو یہ سب پسندیدہ ہیں اور اگر مقصود محض دنیا کمانا اور پھر اس پرفخر وغرور کا اظہار کرنا اور یاد الٰہی سے غافل ہو کر عیش وعشرت سے زندگی گزارنا ہے تو یہ سب مفید چیزیں اس کے لئے وبال جان ثابت ہوں گی۔ قَنَاطِيرُ قِنْطَارٌ (خزانہ) کی جمع ہے۔ مراد ہے خزانے یعنی سونے چاندی اورمال ودولت کی فراوانی اور کثرت۔ االمُسَوَّمَةِ وہ گھوڑے جو چراگاہ میں چرنے کے لئے چھوڑے گئے ہوں۔ یاجہاد کےلئے تیار کئے گئے ہوں یا نشان زدہ، جن پر امتیاز کے لئے کوئی نشان یانمبرلگادیا جائے (فتح القدیر وابن کثیر)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 14 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  15. 15

    ۞ قُلْ أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيْرٍ مِّن ذَٰلِكُمْ ۚ لِلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّـٰتٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَٰجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَرِضْوَٰنٌ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِٱلْعِبَادِ

    آپ کہہ دیجئے! کیا میں تمہیں اس سے بہت ہی بہتر چیز بتاؤں؟ تقویٰ والوں کے لئے ان کے رب تعالیٰ کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ رہیں گے[1] اور پاکیزه بیویاں[2] اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے، سب بندے اللہ تعالیٰ کی نگاه میں ہیں۔

    حواشی

    [1] اس آیت میں اہل ایمان کو بتلایا جا رہا ہے کہ دنیاکی مذکورہ چیزوں میں ہی مت کھو جانا، بلکہ ان سے بہتر تو وہ زندگی اور اس کی نعمتیں ہیں جو رب کے پاس ہیں، جن کے مستحق اہل تقویٰ ہی ہوں گے۔ اس لئے تم تقویٰ اختیار کرو۔ اگر یہ تمہارے اندر پیدا ہو گیا تو یقیناً تم دین ودنیاکی بھلائیاں اپنے دامن میں سمیٹ لو گے۔ [2] پاکیزہ، یعنی وہ دنیاوی میل کچیل، حیض ونفاس اور دیگر آلودگیوں سے پاک ہوں گی اورپاک دامن ہونگی۔ اس سے اگلی دو آیات میں اہل تقویٰ کی صفات کا تذکرہ ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 15 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  16. 16

    ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ إِنَّنَآ ءَامَنَّا فَٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ

    جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان ﻻ چکے اس لئے ہمارے گناه معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 16 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  17. 17

    ٱلصَّـٰبِرِينَ وَٱلصَّـٰدِقِينَ وَٱلْقَـٰنِتِينَ وَٱلْمُنفِقِينَ وَٱلْمُسْتَغْفِرِينَ بِٱلْأَسْحَارِ

    جو صبر کرنے والے اور سچ بولنے والے اور فرمانبرداری کرنے والے اور اللہ کی راه میں خرچ کرنے والے اور پچھلی رات کو بخشش مانگنے والے ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 17 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  18. 18

    شَهِدَ ٱللَّهُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ وَأُو۟لُوا۟ ٱلْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِٱلْقِسْطِ ۚ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

    اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں[1] اور وه عدل کو قائم رکھنے واﻻ ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں۔

    حواشی

    [1] شہادت کے معنی بیان کرنے اور آگاہ کرنے کے ہیں،یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا، اور بیان کیا، اس کے ذریعے سے اس نےاپنی وحدانیت کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی۔ (فتح القدیر) فرشتے اوراہل علم بھی اس کی توحید کی گواہی دیتے ہیں۔ اس میں اہل علم کی بڑی فضیلت اور عظمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اور فرشتوں کے ناموں کے ساتھ ان کا ذکر فرمایا ہے تاہم اس سے مراد صرف وہ اہل علم ہیں جو کتاب وسنت کے علم سے بہرہ ور ہیں۔ (فتح القدیر)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 18 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  19. 19

    إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلْإِسْلَـٰمُ ۗ وَمَا ٱخْتَلَفَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

    بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے[1] ، اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے[2] اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے[3] اللہ تعالیٰ اس کا جلد حساب لینے واﻻ ہے۔

    حواشی

    [1] اسلام وہی دین ہے جس کی دعوت وتعلیم ہر پیغمبر اپنے اپنے دور میں دیتے رہے ہیں اور اب اس کی کامل ترین شکل وہ ہے جسے نبی آخرالزمان حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) نے دنیا کے سامنے پیش کیا، جس میں توحید ورسالت اور آخرت پر اس طرح یقین وایمان رکھنا ہے جس طرح نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے بتلایا ہے۔ اب محض یہ عقیدہ رکھ لینا کہ اللہ ایک ہے یا کچھ اچھے عمل کر لینا، یہ اسلام نہیں نہ اس سے نجات آخرت ہی ملے گی۔ ایمان واسلام اوردین یہ ہے کہ اللہ کوایک مانا جائے اور صرف اسی ایک معبود کی عبادت کی جائے، محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) سمیت تمام انبیاء پر ایمان لایا جائے۔ اور نبی (صلى الله عليه وسلم) کی ذات پر رسالت کا خاتمہ تسلیم کیاجائے اورایمانیات کے ساتھ ساتھ وہ عقائد واعمال اختیار کئے جائیں جو قرآن کریم میں یا حدیث رسول (صلى الله عليه وسلم) میں بیان کئے گئے ہیں۔ اب اس دین اسلام کے سوا کوئی اور دین عنداللہ قبول نہیں ہو گا۔ «وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ» (آل عمران: 85) نبی (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت پوری انسانیت کے لئے ہے۔ «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» (الأعراف: 158) ”کہہ دیجئے! اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں“، «تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا» (الفرقان: 1) ”برکتوں والی ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ جہانوں کا ڈرانے والا ہو“ اور حدیث میں ہے، نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو یہودی یا نصرانی مجھ پرایمان لائے بغیر فوت ہوگیا، وہ جہنمی ہے۔“ (صحیح مسلم) مزید فرمایا ”بُعِثْتُ إِلَى الأَحْمَرِ وَالأَسْوَدِ“ ”میں احمرواسود (یعنی تمام انسانوں کے لئے نبی بناکربھیجا گیاہوں“ اسی لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اپنے وقت کے تمام سلاطین اور بادشاہوں کوخطوط تحریر فرمائے جن میں انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی (صحیحین۔ بحوالہ ابن کثیر ) [2] ان کے اس باہمی اختلاف سے مراد وہ اختلاف ہے جو ایک ہی دین کے ماننے والوں نے آپس میں برپا کر رکھا تھا مثلاً یہودیوں کے باہمی اختلافات اور فرقہ بندیاں۔ اسی طرح عیسائیوں کے باہمی اختلافات اور فرقہ بندیاں، پھر وہ اختلاف بھی مراد ہے جواہل کتاب کے درمیان آپس میں تھا۔ اور جس کی بناپر یہودی نصرانیوں کو اورنصرانی یہودیوں کوکہاکرتے تھے (تم کسی چیز پر نہیں ہو۔) نبوت محمدی (صلى الله عليه وسلم) اور نبوت عیسیٰ (عليه السلام) کے بارے میں اختلاف بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ سارے اختلافات دلائل کی بنیاد پر نہیں تھے، محض حسد اوربغض وعناد کی وجہ سے تھے یعنی وہ لوگ حق کو جاننے اورپہچاننے کے باوجود محض اپنے خیالی دنیاوی مفاد کے چکر میں غلط بات پر جمے رہتے اور اس کو دین باور کراتے تھے۔ تاکہ ان کی ناک بھی اونچی رہے اور ان کاعوامی حلقۂ ارادت بھی قائم رہے۔ افسوس آج مسلمان علما کی ایک بڑی تعداد ٹھیک انہی غلط مقاصد کے لئے ٹھیک اسی غلط ڈگر پر چل رہی ہے۔ -هَدَاهُمُ اللهُ وَإِيَّانَا- [3] یہاں ان آیتوں سے مراد وہ آیات ہیں جو اسلام کے دین الٰہی ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 19 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  20. 20

    فَإِنْ حَآجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِىَ لِلَّهِ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِ ۗ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْأُمِّيِّـۧنَ ءَأَسْلَمْتُمْ ۚ فَإِنْ أَسْلَمُوا۟ فَقَدِ ٱهْتَدَوا۟ ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ ٱلْبَلَـٰغُ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِٱلْعِبَادِ

    پھر بھی اگر یہ آپ سے جھگڑیں توآپ کہہ دیں کہ میں اور میرے تابعداروں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کر دیا ہے اور اہل کتاب سے اور انپڑھ لوگوں[1] سے کہہ دیجیئے! کہ کیا تم بھی اطاعت کرتے ہو؟ پس اگر یہ بھی تابعدار بن جائیں تو یقیناً ہداہت والے ہیں اور اگر یہ روگردانی کریں، تو آپ پر صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھ بھال رہا ہے۔

    حواشی

    [1] ان پڑھ لوگوں سے مراد مشرکین عرب ہیں جو اہل کتاب کے مقابلے میں بالعموم ان پڑھ تھے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 20 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  21. 21

    إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ وَيَقْتُلُونَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ ٱلَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِٱلْقِسْطِ مِنَ ٱلنَّاسِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

    جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں اورناحق نبیوں کو قتل کر ڈالتے ہیں اور جو لوگ عدل وانصاف کی بات کہیں انہیں بھی قتل کر ڈالتے ہیں[1] ، تو اے نبی! انہیں دردناک عذاب کی خبردے دیجئے۔

    حواشی

    [1] یعنی ان کی سرکشی وبغاوت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ صرف نبیوں کو ہی انہوں نے ناحق قتل نہیں کیابلکہ ان تک کو بھی قتل کر ڈالاجو عدل وانصاف کی بات کرتے تھے۔ یعنی وہ مومنین مخلصین اور داعیان حق جو امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کافریضہ انجام دیتے تھے۔ نبیوں کے ساتھ ان کا تذکرہ فرما کر اللہ تعالیٰ نے ان کی عظمت وفضیلت بھی واضح کردی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 21 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  22. 22

    أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ حَبِطَتْ أَعْمَـٰلُهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ

    ان کے اعمال دنیا وآخرت میں غارت ہیں اور ان کا کوئی مددگار نہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 22 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  23. 23

    أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبًا مِّنَ ٱلْكِتَـٰبِ يُدْعَوْنَ إِلَىٰ كِتَـٰبِ ٱللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٌ مِّنْهُمْ وَهُم مُّعْرِضُونَ

    کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں ایک حصہ کتاب کا دیا گیا ہے وه اپنے آپس کے فیصلوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف بلائے جاتے ہیں، پھر بھی ایک جماعت ان کی منھ پھیر کر لوٹ جاتی ہے۔[1]

    حواشی

    [1] ان اہل کتاب سے مراد مدینے کے وہ یہودی ہیں جن کی اکثریت قبول اسلام سے محروم رہی اوروہ اسلام، مسلمانوں اور نبی (صلى الله عليه وسلم) کے خلاف مکروہ سازشوں میں مصروف رہے تاآنکہ ان کے دوقبیلے جلا وطن اورایک قبیلہ قتل کردیا گیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 23 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  24. 24

    ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا۟ لَن تَمَسَّنَا ٱلنَّارُ إِلَّآ أَيَّامًا مَّعْدُودَٰتٍ ۖ وَغَرَّهُمْ فِى دِينِهِم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

    اس کی وجہ ان کا یہ کہنا کہ ہمیں تو گنے چنے چند دن ہی آگ جلائے گی، ان کی گڑھی گڑھائی باتوں نے انہیں ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔[1]

    حواشی

    [1] یعنی کتاب اللہ کے ماننے سے گریز واعراض کی وجہ ان کایہ زعم باطل ہے کہ اول تووہ جہنم میں جائیں گے ہی نہیں، اوراگرگئے بھی تو صرف چند دن ہی کے لئے جائیں گے۔ اور انہی من گھڑت باتوں نے انہیں دھوکےاور فریب میں ڈال رکھا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 24 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  25. 25

    فَكَيْفَ إِذَا جَمَعْنَـٰهُمْ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيهِ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

    پس کیا حال ہوگا جبکہ ہم انہیں اس دن جمع کرینگے؟ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں اور ہر شخص اپنا اپنا کیا پورا پورا دیاجائے گا اور ان پر ﻇلم نہ کیا جائے گا۔[1]

    حواشی

    [1] قیامت والے دن ان کے یہ دعوے اور غلط عقائد کچھ کام نہ آئیں گے اور اللہ تعالیٰ بے لاگ انصاف کے ذریعے سے ہر نفس کو، اس کے کیے کاپورا پورا بدلہ دے گا،کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 25 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  26. 26

    قُلِ ٱللَّهُمَّ مَـٰلِكَ ٱلْمُلْكِ تُؤْتِى ٱلْمُلْكَ مَن تَشَآءُ وَتَنزِعُ ٱلْمُلْكَ مِمَّن تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُ ۖ بِيَدِكَ ٱلْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

    آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اورجسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں[1] ، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

    حواشی

    [1] اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی بے پناہ قوت وطاقت کا اظہار ہے، شاہ کو گدا بنا دے، گدا کو شاہ بنا دے، تمام اختیارات کا مالک وہی ہے الْخَيْرُ بِيَدِكَ کی بجائے بِيَدِكَ الْخَيْرُ (خبر کی تقدیم کے ساتھ) سے مقصود تخصیص ہے یعنی تمام بھلائیاں صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہیں۔ تیرے سوا کوئی بھلائی دینے والا نہیں۔ ”شر“ کا خالق بھی اگرچہ اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن ذکر صرف خیر کا کیا گیا ہے، شر کا نہیں۔ اس لئے کہ خیر اللہ کا فضل محض ہے، بخلاف شر کے کہ یہ انسان کے اپنے عمل کا بدلہ ہے جو اسے پہنچتا ہے یا اس لئے کہ شر بھی اس کے قضا وقدر کا حصہ ہے جو خیر کو متضمن ہے، اس اعتبار سے اس کے تمام افعال خیر ہیں۔ فَأَفْعَالُهُ كُلُّهَا خَيْرٌ (فتح القدير)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 26 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  27. 27

    تُولِجُ ٱلَّيْلَ فِى ٱلنَّهَارِ وَتُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِى ٱلَّيْلِ ۖ وَتُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَىِّ ۖ وَتَرْزُقُ مَن تَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ

    تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں لے جاتا ہے[1] ، تو ہی بے جان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے[2]، تو ہی ہے کہ جسے چاہتا ہے بے شمار روزی دیتا ہے۔

    حواشی

    [1] رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے کا مطلب موسمی تغیرات ہیں۔ رات لمبی ہوتی ہے تو دن چھوٹا ہو جاتا ہے اور دوسرے موسم میں اس کے برعکس دن لمبا اور رات چھوٹی ہو جاتی ہے۔ یعنی کبھی رات کا حصہ دن میں اور کبھی دن کا حصہ رات میں داخل کردیتا ہے جس سے رات اور دن چھوٹے یا بڑے ہوجاتے ہیں۔ [2] جیسے نطفہ (مردہ) پہلے زندہ انسان سے نکالتا ہے پھر اس مردہ (نطفہ) سے انسان۔ اسی طرح مردہ انڈے سے پہلے مرغی اور پھر زندہ مرغی سے انڈہ (مردہ) یا کافر سے مومن اور مومن سے کافر پیدا فرماتا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت معاذ (رضي الله عنه) نے نبی (صلى الله عليه وسلم) سے اپنے اوپر قرض کی شکایت کی تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ ”تم آیت «قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ» (آل عمران) پڑھ کر یہ دعا کرو ”رَحْمَنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَرَحِيمَهُمَا تُعْطِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُمَا وَتَمْنَعُ مَنْ تَشَاءُ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ، اللَّهُمَّ أغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ، وَاقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ“ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”یہ ایسی دعا ہے کہ تم پر احد پہاڑ جتنا قرض بھی ہو تواللہ تعالیٰ اس کی ادائیگی کا تمہارے لئے انتظام فرما دے گا۔“ (مجمع الزوائد: 10/186- رجاله ثقات)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 27 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  28. 28

    لَّا يَتَّخِذِ ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلْكَـٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۖ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ ٱللَّهِ فِى شَىْءٍ إِلَّآ أَن تَتَّقُوا۟ مِنْهُمْ تُقَىٰةً ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفْسَهُۥ ۗ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلْمَصِيرُ

    مومنوں کو چاہئے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں[1] اور جوایسا کرے گا وه اللہ تعالیٰ کی کسی حمایت میں نہیں مگر یہ کہ ان کے شر سے کسی طرح بچاؤ مقصود ہو[2]، اور اللہ تعالیٰ خود تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ جانا ہے۔

    حواشی

    [1] اولیا ولی کی جمع ہے۔ ولی ایسے دوست کو کہتے ہیں جس سے ولی محبت اورخصوصی تعلق ہو۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو اہل ایمان کا ولی قرار دیا ہے۔ «للَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا» ( البقرۃ: 257) یعنی ”اللہ اہل ایمان کا ولی ہے“۔ مطلب یہ ہوا کہ اہل ایمان کو ایک دوسرے سے محبت اور خصوصی تعلق ہے اور وہ آپس میں ایک دوسرے کے ولی (دوست) ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں اہل ایمان کو اس بات سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے کہ وہ کافروں کو اپنا دوست بنائیں۔ کیونکہ کافر اللہ کے بھی دشمن ہیں اور اہل ایمان کے بھی دشمن ہیں۔ تو پھر ان کو دوست بنانے کا جواز کس طرح ہو سکتا ہے؟ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو قرآن کریم میں کئی جگہ بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے تاکہ اہل ایمان کافروں کی موالات (دوستی) اور ان سے خصوصی تعلق قائم کرنے سے گریز کریں۔ البتہ حسب ضرورت ومصلحت ان سے صلح ومعاہدہ بھی ہو سکتا ہے اور تجارتی لین دین بھی۔ اسی طرح جو کافر، مسلمانوں کے دشمن نہ ہوں، ان سے حسن سلوک اور مدارات کا معاملہ بھی جائز ہے (جس کی تفصیل سورۂ ممتحنہ میں ہے) کیونکہ یہ سارے معاملات، موالات (دوستی ومحبت) سے مختلف ہے۔ [2] یہ اجازت ان مسلمانوں کے لئے ہے جو کسی کافر حکومت میں رہتے ہوں کہ ان کے لئے اگر کسی وقت اظہار دوستی کے بغیر ان کے شر سے بچنا ممکن نہ ہو تو وہ زبان سے ظاہری طور پر دوستی کا اظہار کرسکتے ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 28 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  29. 29

    قُلْ إِن تُخْفُوا۟ مَا فِى صُدُورِكُمْ أَوْ تُبْدُوهُ يَعْلَمْهُ ٱللَّهُ ۗ وَيَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

    کہہ دیجئے! کہ خواه تم اپنے سینوں کی باتیں چھپاؤ خواه ﻇاہر کرو اللہ تعالیٰ (بہرحال) جانتا ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسے معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 29 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  30. 30

    يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوٓءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُۥٓ أَمَدًۢا بَعِيدًا ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفْسَهُۥ ۗ وَٱللَّهُ رَءُوفٌۢ بِٱلْعِبَادِ

    جس دن ہر نفس (شخص) اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا، آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 30 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  31. 31

    قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ ٱللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

    کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو[1] ، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا[2] اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے۔

    حواشی

    [1] یہود اور نصاریٰ دونوں کا دعویٰ تھا کہ ہمیں اللہ سے اور اللہ تعالیٰ کو ہم سے محبت ہے، بالخصوص عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ومریم علیھما السلام کی تعظیم ومحبت میں جو اتنا غلو کیا کہ انہیں درجۂ الوہیت پر فائز کر دیا، اس کی بابت بھی ان کا خیال تھا کہ ہم اس طرح اللہ کا قرب اور اس کی رضا ومحبت چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے دعوؤں اور خود ساختہ طریقوں سے اللہ کی محبت اور اس کی رضا حاصل نہیں ہو سکتی۔ اسکا تو صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ میرے آخری پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کا اتباع کرو۔ اس آیت نے تمام دعوے داران محبت کے لئے ایک کسوٹی اور معیار مہیا کر دیا ہے کہ محبت الٰہی کا طالب اگر اتباع محمد (صلى الله عليه وسلم) کے ذریعے سے یہ مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے، تو پھر تو یقیناً وہ کامیاب ہے اور اپنے دعوے میں سچا ہے، ورنہ وہ جھوٹا بھی ہے اور اس مقصد کے حصول میں ناکام بھی رہے گا۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کا بھی فرمان ہے”مَنْ عَمِلَ عَمَلا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدُّ“ (متفق علیہ) جس نے ایسا کام کیا جس پر ہمارا معاملہ نہیں ہے یعنی ہمارے بتلائے ہوئے طریقے سے مختلف ہے تو وہ مسترد ہے۔ [2] یعنی اتباع رسول (صلى الله عليه وسلم) کی وجہ سے تمہارے گناہ ہی معاف نہیں ہوں گے بلکہ تم محب سے محبوب بن جاؤ گے۔ اور یہ کتنا اونچا مقام ہے کہ بارگاہ الٰہی میں ایک انسان کو محبوبیت کا مقام مل جائے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 31 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  32. 32

    قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْكَـٰفِرِينَ

    کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کرو، اگر یہ منھ پھیر لیں تو بے شک اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔[1]

    حواشی

    [1] اس آیت میں اللہ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اطاعت رسول (صلى الله عليه وسلم) کی پھر تاکید کرکے واضح کر دیا کہ اب نجات اگر ہے تو صرف اطاعت محمدی میں ہے اوراس سے انحراف کفر ہے اور ایسے کافروں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا۔ چاہے وہ اللہ کی محبت اور قرب کے کتنے ہی دعوے دار ہوں۔ اس آیت میں حجیت حدیث کے منکرین اور اتباع رسول (صلى الله عليه وسلم) سے گریز کرنے والوں دونوں کے لئے سخت وعید ہے کیونکہ دونوں ہی اپنے اپنے انداز سے ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جسے یہاں کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهُ.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 32 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  33. 33

    ۞ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰٓ ءَادَمَ وَنُوحًا وَءَالَ إِبْرَٰهِيمَ وَءَالَ عِمْرَٰنَ عَلَى ٱلْعَـٰلَمِينَ

    بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام جہان کے لوگوں میں سے آدم (علیہ السلام) کو اور نوح (علیہ السلام) کو، ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان اور عمران کے خاندان کو منتخب فرما لیا۔[1]

    حواشی

    [1] انبیا (عليهم السلام)کے خاندانوں میں دو عمران ہوئے ہیں۔ ایک حضرت موسیٰ وہارون علیھما السلام کے والد اور دوسرے حضرت مریم علیہا السلام کے والد۔ اس آیت میں اکثر مفسرین کے نزدیک یہی دوسرے عمران مراد ہیں اور اس خاندان کو بلند درجہ حضرت مریم علیہا السلام اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کی وجہ سے حاصل ہوا اور حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ کا نام مفسرین نے حنَّة بِنْت فَاقُوذ لکھا ہے (تفسیر قرطبی وابن کثیر) اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے آل عمران کے علاوہ مزید تین خاندانوں کا تذکرہ فرمایا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے وقت میں جہانوں پر فضیلت عطافرمائی۔ ان میں پہلے حضرت آدم (عليه السلام) ہیں، جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی،انہیں مسجود ملائک بنایا،اسما کا علم انہیں عطا کیا اور انہیں جنت میں رہائش پذیر کیا، جس سے پھر انہیں زمین میں بھیج دیا گیا جس میں اس کی بہت سی حکمتیں تھیں۔ دوسرے حضرت نوح (عليه السلام) ہیں، انہیں اس وقت رسول بنا کر بھیجا گیا جب لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو معبود بنا لیا، انہیں عمر طویل عطا کی گئی، انہوں نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی، لیکن چند افراد کے سوا، کوئی آپ پر ایمان نہیں لایا۔ بالآخر آپ کی بددعا سے اہل ایمان کے سوا، دوسرے تمام لوگوں کو غرق کر دیا گیا۔ آل ابراہیم کو یہ فضیلت عطا کی کہ ان میں انبیا وسلاطین کاسلسلہ قائم کیا اور بیشتر پیغمبر آپ ہی کی نسل سے ہوئے۔ حتیٰ کہ علی الاطلاق کائنات میں سب سے افضل حضرت محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اسماعیل (عليه السلام) کی نسل سے ہوئے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 33 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  34. 34

    ذُرِّيَّةًۢ بَعْضُهَا مِنۢ بَعْضٍ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

    کہ یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں[1] اور اللہ تعالیٰ سنتا جانتا ہے۔

    حواشی

    [1] یا دوسرے معنی ہیں دین میں ایک دوسرے کے معاون اور مددگار۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 34 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  35. 35

    إِذْ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ عِمْرَٰنَ رَبِّ إِنِّى نَذَرْتُ لَكَ مَا فِى بَطْنِى مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّىٓ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

    جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے میرے رب! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے، اسے میں نے تیرے نام آزاد کرنے[1] کی نذر مانی، تو میری طرف سے قبول فرما! یقیناً تو خوب سننے واﻻ اور پوری طرح جاننے واﻻ ہے۔

    حواشی

    [1] مُحَرَّرًا (تیرے نام آزاد) کا مطلب تیری عبادت گاہ کی خدمت کے لئے وقف۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 35 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  36. 36

    فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّى وَضَعْتُهَآ أُنثَىٰ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ ٱلذَّكَرُ كَٱلْأُنثَىٰ ۖ وَإِنِّى سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّىٓ أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ ٱلشَّيْطَـٰنِ ٱلرَّجِيمِ

    جب بچی کو جنا تو کہنے لگیں کہ پروردگار! مجھے تو لڑکی ہوئی، اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اوﻻد ہوئی ہے اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں[1] میں نے اس کا نام مریم رکھا[2]، میں اسے اور اس کی اوﻻد کو شیطان مردود سے تیری پناه میں دیتی ہوں۔[3]

    حواشی

    [1] اس جملے میں حسرت کا اظہار بھی ہےاور عذر بھی۔ حسرت، اس طرح کہ میری امید کے برعکس لڑکی ہوئی ہے اور عذر، اس طرح کہ نذرسے مقصود تو تیری رضا کے لئے ایک خدمت گار وقف کرنا تھا اوریہ کام ایک مرد ہی زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتا ہے۔ اب جو کچھ بھی ہے تو اسے جانتا ہی ہے۔ (فتح القدیر ) [2] حافظ ابن کثیر نے اس سے اور احادیث نبوی سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بچے کا نام ولادت کے پہلے روز رکھنا چاہئے اور ساتویں دن نام رکھنے والی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔ لیکن حافظ ابن القیم نے تمام احادیث پر بحث کر کے آخر میں لکھا ہے کہ پہلے روز، تیسرے روز یا ساتویں روز نام رکھا جا سکتاہے،اس مسئلے میں گنجائش ہے۔ والأَمْرُ فِيهِ وَاسِعٌ( تحفۃ المودود) [3] اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی۔ چنانچہ حدیث صحیح میں ہے کہ جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کو مس کرتا (چھوتا) ہے جس سے وہ چیختا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس مس شیطان سے حضرت مریم علیہا السلام اور ان کے بیٹے (عیسیٰ عليه السلام) کو محفوظ رکھا ہے۔ ”مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلا مَسَّهُ الشَّيْطَانُ حِينَ يُولَدُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّهِ إِيَّاهُ ، إِلا مَرْيَمَ وَابْنَهَا“ (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، مسلم، کتاب الفضائل)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 36 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  37. 37

    فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ۖ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا ٱلْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا ۖ قَالَ يَـٰمَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَـٰذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ

    پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا اور اسے بہترین پرورش دی۔ اس کی خیر خبر لینے واﻻ زکریا (علیہ السلام) کو بنایا[1] ، جب کبھی زکریا (علیہ السلام) ان کے حجرے میں جاتے ان کے پاس روزی رکھی ہوئی پاتے[2]، وه پوچھتے اے مریم! یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی؟ وه جواب دیتیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے ہے، بے شک اللہ تعالیٰ جسے چاہے بے شمار روزی دے۔

    حواشی

    [1] حضرت زکریا (عليه السلام) ، حضرت مریم علیہا السلام کے خالو بھی تھے، اس لئے بھی، علاوہ ازیں اپنے وقت کے پیغمبر ہونے کے لحاظ سے بھی وہی سب سے بہتر کفیل بن سکتے تھے جو حضرت مریم علیہاالسلام کی مادی ضروریات اور علمی واخلاقی تربیت کے تقاضوں کا صحیح اہتمام کر سکتے تھے۔ [2] مِحْرَابٌ سے مراد حجرہ ہے جس میں حضرت مریم علیہا السلام رہائش پذیر تھیں۔ رزق سے مراد پھل۔ یہ پھل ایک تو غیر موسمی ہوتے، گرمی کے پھل سردی کے موسم میں اور سردی کے گرمی کے موسم میں ان کے کمرے میں موجود ہوتے، دوسرے حضرت زکریا (عليه السلام) یا کوئی اور شخص لا کر دینے والا نہیں تھا۔ اس لئے حضرت زکریا (عليه السلام) نے از راہ تعجب وحیرت پوچھا کہ یہ کہاں سے آئے؟ انہوں نے کہا اللہ کی طرف سے۔ یہ گویا حضرت مریم علیہا السلام کی کرامت تھی۔ معجزہ اور کرامت خرق عادت امور کو کہا جاتا ہے یعنی جو ظاہری اور عادی اسباب کے خلاف ہو۔ یہ کسی نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو اسے معجزہ اور کسی ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو اسے کرامت کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں برحق ہیں۔ تاہم ان کا صدور اللہ کے حکم اور اس کی مشیت سے ہوتا ہے۔ نبی یا ولی کے اختیار میں یہ بات نہیں کہ وہ معجزہ اور کرامت، جب چاہے صادر کر دے۔ اس لئے معجزہ اور کرامت اس بات کی تو دلیل ہوتی ہے کہ یہ حضرات اللہ کی بارگاہ میں خاص مقام رکھتے ہیں لیکن اس سے یہ امر ثابت نہیں ہوتا کہ ان مقبولین بارگاہ کے پاس کائنات میں تصرف کرنے کا اختیار ہے، جیسا کہ اہل بدعت اولیا کی کرامتوں سے عوام کو یہی کچھ باور کرا کے انہیں شرکیہ عقیدوں میں مبتلا کر دیتے ہیں اس کی مزید وضاحت بعض معجزات کے ضمن میں آئے گی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 37 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  38. 38

    هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُۥ ۖ قَالَ رَبِّ هَبْ لِى مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ ٱلدُّعَآءِ

    اسی جگہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی، کہا کہ اے میرے پروردگار! مجھے اپنے پاس سے پاکیزه اوﻻد عطا فرما، بے شک تو دعا کا سننے واﻻ ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 38 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  39. 39

    فَنَادَتْهُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ وَهُوَ قَآئِمٌ يُصَلِّى فِى ٱلْمِحْرَابِ أَنَّ ٱللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَىٰ مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ ٱللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ

    پس فرشتوں نے انہیں آواز دی، جب کہ وه حجرے میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، کہ اللہ تعالیٰ تجھے یحيٰ کی یقینی خوشخبری دیتا ہے جو[1] اللہ تعالیٰ کے کلمہ کی تصدیق کرنے واﻻ[2]، سردار، ضابط نفس اور نبی ہے نیک لوگوں میں سے۔

    حواشی

    [1] بے موسمی پھل دیکھ کر حضرت زکریا (عليه السلام) کے دل میں بھی (بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود) یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش اللہ تعالیٰ انہیں بھی اسی طرح اولاد سے نواز دے۔ چنانچہ بے اختیار دعا کے لئےہاتھ بارگاہ الٰہی میں اٹھ گئے،جسے اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت سے نوازا۔ [2] اللہ کے کلمے کی تصدیق سے مراد حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کی تصدیق ہے۔ گویا حضرت یحییٰ، حضرت عیسی علیہما السلام سے بڑے ہوئے۔ دونوں آپس میں خالہ زاد تھے۔ دونوں نے ایک دوسرے کی تائید کی۔ سیداً کے معنی ہیں سردار حصوراً کے معنی ہیں، گناہوں سے پاک یعنی گناہوں کے قریب نہیں پھٹکتے گویا کہ ان کو ان سے روک دیا گیا ہے۔ یعنی حَصُورٌبمعنی مَحْصُورٌ، بعض نے اس کے معنی نامرد کے کئے ہیں۔ لیکن یہ صحیح نہیں، کیونکہ یہ ایک عیب ہے جب کہ یہاں ان کا ذکر مدح اور فضیلت کے طور پر کیا گیا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 39 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  40. 40

    قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِى غُلَـٰمٌ وَقَدْ بَلَغَنِىَ ٱلْكِبَرُ وَٱمْرَأَتِى عَاقِرٌ ۖ قَالَ كَذَٰلِكَ ٱللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ

    کہنے لگے اے میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا؟ میں بالکل بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے، فرمایا، اسی طرح اللہ تعالیٰ جو چاہے کرتا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 40 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  41. 41

    قَالَ رَبِّ ٱجْعَل لِّىٓ ءَايَةً ۖ قَالَ ءَايَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ ٱلنَّاسَ ثَلَـٰثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزًا ۗ وَٱذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِٱلْعَشِىِّ وَٱلْإِبْكَـٰرِ

    کہنے لگے پروردگار! میرے لئے اس کی کوئی نشانی مقرر کر دے، فرمایا، نشانی یہ ہے کہ تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کر سکے گا، صرف اشارے سے سمجھائے گا، تو اپنے رب کا ذکر کثرت سے کر اور صبح وشام اسی کی تسبیح بیان[1] کرتا ره!

    حواشی

    [1] بڑھاپے میں معجزانہ طور پر اولاد کی خوشخبری سن کر اشتیاق میں اضافہ ہوا اورنشانی معلوم کرنی چاہی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ تین دن کے لئے تیری زبان بند ہو جائے گی۔ جو ہماری طرف سے بطور نشانی ہوگی لیکن تو اس خاموشی میں کثرت سے صبح وشام اللہ کی تسبیح بیان کیا کر۔ تاکہ اس نعمت الہ۔ کا جو تجھے ملنے والی ہے، شکر ادا ہو۔ یہ گویا سبق دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری طلب کے مطابق تمہیں مزید نعمتوں سے نوازے تو اسی حساب سے اس کاشکر بھی زیادہ سے زیادہ کرو۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 41 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  42. 42

    وَإِذْ قَالَتِ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ يَـٰمَرْيَمُ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰكِ وَطَهَّرَكِ وَٱصْطَفَىٰكِ عَلَىٰ نِسَآءِ ٱلْعَـٰلَمِينَ

    اور جب فرشتوں نے کہا، اے مریم! اللہ تعالیٰ نے تجھے برگزیده کر لیا اور تجھے پاک کر دیا اور سارے جہان کی عورتوں میں سے تیرا انتخاب کر لیا۔[1]

    حواشی

    [1] حضرت مریم علیہا السلام کا یہ شرف وفضل ان کے اپنے زمانے کے اعتبار سے ہے کیونکہ صحیح احادیث میں حضرت مریم علیہا السلام کے ساتھ حضرت خدیجہ (رضی الله عنها) کو بھی خَيْرُ نِسَائِهَا (سب عورتوں میں بہتر) کہا گیا ہے۔ اور بعض احادیث میں چار عورتوں کو کامل قراردیا گیا ہے۔ حضرت مریم، حضرت آسیہ (فرعون کی بیوی)، حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ (رضي الله عنهن)۔ اور حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کی بابت کہا گیا ہے کہ انکی فضیلت دیگر تمام عورتوں پر ایسے ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر فوقیت حاصل ہے۔ (ابن کثیر) اور ترمذی کی روایت میں حضرت فاطمہ (رضی الله عنها) بنت محمد (صلى الله عليه وسلم) کو بھی فضیلت والی عورتوں میں شامل کیا گیا ہے (ابن کثیر) اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ مذکورہ خواتین ان چند عورتوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دیگر عورتوں پر فضیلت اور بزرگی عطا فرمائی یا یہ کہ اپنے اپنے زمانے میں فضیلت رکھتی ہیں۔ واللہ اعلم۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 42 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  43. 43

    يَـٰمَرْيَمُ ٱقْنُتِى لِرَبِّكِ وَٱسْجُدِى وَٱرْكَعِى مَعَ ٱلرَّٰكِعِينَ

    اے مریم! تو اپنے رب کی اطاعت کر اور سجده کر اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 43 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  44. 44

    ذَٰلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۚ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَـٰمَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ

    یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں، تو ان کے پاس نہ تھا جب کہ وه اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پالے گا؟ اور نہ تو ان کے جھگڑنے کے وقت ان کے پاس تھا۔[1]

    حواشی

    [1] آج کل کے اہل بدعت نے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی شان میں غلو عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، ان کے اللہ تعالیٰ کی طرح عالم الغیب اور ہر جگہ حاضر وناظر ہونے کا عقیدہ گھڑ رکھا ہے۔ اس آیت سے ان دونوں عقیدوں کی واضح تردید ہوتی ہے۔ اگر آپ نبی (صلى الله عليه وسلم) عالم الغیب ہوتے، تو اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ ہم غیب کی خبریں آپ کو بیان کر رہے ہیں کیونکہ جس کو پہلے ہی علم ہو، اس کو اس طرح نہیں کہا جاتا اور اسی طرح حاضر وناظر کو یہ نہیں کہا جاتا کہ آپ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے جب لوگ قرعہ اندازی کے لئے قلم ڈال رہے تھے۔ قرعہ اندازی کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ حضرت مریم علیہا السلام کی کفالت کے اور بھی کئی خواہش مند تھے۔ ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ سے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت اور آپ کی صداقت کا اثبات بھی ہے جس میں یہودی اور عیسائی شک کرتے تھے کیونکہ وحی شریعت پیغمبر پر ہی آتی ہے،غیر پیغمبر پر نہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 44 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  45. 45

    إِذْ قَالَتِ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ يَـٰمَرْيَمُ إِنَّ ٱللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ ٱسْمُهُ ٱلْمَسِيحُ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ وَمِنَ ٱلْمُقَرَّبِينَ

    جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے[1] کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن[2] مریم ہے جو دنیا اور آخرت میں ذیعزت ہے اور وه میرے مقربین میں سے ہے۔

    حواشی

    [1] حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو کلمہ یعنی کلمہ اللہ اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ ان کی ولادت اعجازی شان کی مظہر اور عام انسانی اصول کے برعکس، باپ کے بغیر، اللہ کی خاص قدرت اوراسکے کلمہ کن کی تخلیق ہے۔ [2] مَسِيحٌ مسح سے ہےأي: مَسَحَ الأَرْضَ یعنی کثرت سے زمین کی سیاحت کرنے والا، یا اس کے معنی ہاتھ پھیرنے والا ہے، کیونکہ آپ ہاتھ پھیر کر مریضوں کو باذن اللہ شفایاب فرماتے تھے۔ ان دونوں معنوں کے اعتبار سے یہ فَعِيلٌ بمعنی فاعل ہے اور قیامت کے قریب ظاہر ہونے والے دجال کو جو مسیح کہا جاتا ہے وہ یا تو بمعنی مفعول یعنی مَمْسُوحُ الْعَينِ( اس کی ایک آنکھ کانی ہوگی) کے اعتبار سے ہے یا وہ بھی چونکہ کثرت سے دنیا میں پھرے گا اور مکہ اور مدینہ کے سوا ہر جگہ پہنچے گا، (بخاری ومسلم) اور بعض روایات میں بیت المقدس کا بھی ذکر ہے اس لئے اسے بھی الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ کہا جاتا ہے۔ عام اہل تفسیر نے عموماً یہی بات درج کی ہے۔ کچھ اور محققین کہتے ہیں کہ مسیح یہود ونصاریٰ کی اصطلاح میں بڑے مامور من اللہ پیغمبر کو کہتے ہیں، یعنی ان کی یہ اصطلاح تقریباً اولوالعزم پیغمبر کے ہم معنی ہے۔ دجال کو مسیح اس لئے کہا گیا ہے کہ یہود کو جس انقلاب آفریں مسیح کی بشارت دی گئی ہے۔ اور جس کے وہ غلط طور پر اب بھی منتظر ہیں، دجال اسی مسیح کے نام پر آئے گا یعنی اپنے آپ کو وہی مسیح قرار دے گا۔ مگر وہ اپنے اس دعویٰ سمیت تمام دعوؤں میں دجل وفریب کا اتنا بڑا پیکر ہوگا کہ اولین وآخرین میں اس کی کوئی مثال نہ ہوگی اس لئے وہ الدجال کہلائے گا۔ اور عیسیٰ عجمی زبان کا لفظ ہے۔ بعض کے نزدیک یہ عربی اورعَاسَ يَعُوسُ سے مشتق ہے جس کے معنی سیاست وقیادت کے ہیں (قرطبی وفتح القدیر)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 45 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  46. 46

    وَيُكَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِى ٱلْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ

    وه لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی[1] اور وه نیک لوگوں میں سے ہوگا۔

    حواشی

    [1] حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کےمَهْدٌ( گہوارے) میں گفتگو کرنے کا ذکر خود قرآن کریم کی سورۂ مریم میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ صحیح حدیث میں دو بچوں کا ذکر اور ہے۔ ایک صاحب جریج اور ایک اسرائیلی عورت کا بچہ (صحیح بخاری، کتاب الانبیاء، باب واذکرفی الکتاب مریم) اس روایت میں جن تین بچوں کا ذکر ہے، ان سب کا تعلق بنو اسرائیل سے ہے، کیونکہ ان کے علاوہ صحیح مسلم میں اصحاب الاخدود کے قصے میں بھی شیر خوار بچے کے بولنے کا ذکر ہے۔ اور حضرت یوسف کی بابت فیصلہ کرنے والے شاہد کے بارے میں جو مشہور ہے کہ وہ بچہ تھا، صحیح نہیں ہے۔ بلکہ وہ ذُو لِحْيَةٍ( داڑھی والا) تھا (الضعیفہ۔ رقم 881) كَهْلٌ (ادھیڑ عمر) میں کلام کرنے کا مطلب بعض نے یہ بیان کیا ہے کہ جب وہ بڑے ہو کر وحی اور رسالت سے سرفراز کئے جائیں گے اور بعض نے کہا ہے کہ آپ کا قیامت کے قریب جب آسمان سے نزول ہوگا جیسا کہ اہل سنت کا عقیدہ ہے جو صحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے، تو اس وقت جو وہ اسلام کی تبلیغ کریں گے، وہ کلام مراد ہے۔ (تفسیر ابن کثیر وقرطبی)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 46 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  47. 47

    قَالَتْ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِى وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِى بَشَرٌ ۖ قَالَ كَذَٰلِكِ ٱللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۚ إِذَا قَضَىٰٓ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ

    کہنے لگیں الٰہی مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟ حاﻻنکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ بھی نہیں لگایا، فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ تعالیٰ جو چاہے پیدا کرتا ہے، جب کبھی وه کسی کام کو کرنا جاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہو جا! تو وه ہو جاتا ہے۔[1]

    حواشی

    [1] تیرا تعجب بجا،لیکن قدرت الٰہی کے لئے یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے، وہ تو جب چاہے اسباب عادیہ واہریہ کا سلسلہ ختم کرکے حکم کن سے پلک جھپکتے میں، جو چاہے کر دے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 47 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  48. 48

    وَيُعَلِّمُهُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ

    اللہ تعالیٰ اسے لکھنا[1] اور حکمت اور توراة اورانجیل سکھائے گا۔

    حواشی

    [1] كِتَابٌ سے مراد کتابت (لکھنا) ہے۔ جیسا کہ ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے یا انجیل وتورات کے علاوہ کوئی اور کتاب ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا (قرطبی) یاتورات وانجیل،الْكِتَابُ اورالْحِكْمَةُکی تفسیر ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 48 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  49. 49

    وَرَسُولًا إِلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَنِّى قَدْ جِئْتُكُم بِـَٔايَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ أَنِّىٓ أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ ٱلطِّينِ كَهَيْـَٔةِ ٱلطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًۢا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۖ وَأُبْرِئُ ٱلْأَكْمَهَ وَٱلْأَبْرَصَ وَأُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۖ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِى بُيُوتِكُمْ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

    اور وه بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا، کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی ﻻیا ہوں، میں تمہارے لئے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرنده بناتا ہوں[1] ، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وه اللہ تعالیٰ کے حکم سے پرنده بن جاتاہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے میں مادرزاد اندھے کو اور کوڑھی کو اچھا کر دیتا ہوں اور مرددوں کو زندہ کرتا ہوں[2] اور جو کچھ تم کھاؤ اور جو اپنے گھروں میں ذخیره کرو میں تمہیں بتا دیتا ہوں، اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے، اگر تم ایمان ﻻنے والے ہو۔

    حواشی

    [1] أَخْلُقُ لَكُمْ- أَي: أُصَوِّرُ وَأُقَدِّرُ لَكُمْ (قرطبی) یعنی خلق یہاں پیدائش کے معنی میں نہیں ہے، اس پر تو صرف اللہ تعالیٰ ہی قادر ہے کیونکہ وہی خالق ہے۔ یہاں اس کے معنی ظاہری شکل وصورت گھڑنے اور بنانے کے ہیں۔ [2] دوبارہ باذن اللہ (اللہ کے حکم سے) کہنے سے مقصد یہی ہے کہ کوئی شخص اس غلط فہمی کا شکار نہ ہو جائے کہ میں خدائی صفات یا اختیارات کا حامل ہوں۔ نہیں، میں تو اس کا عاجز بندہ اور رسول ہی ہوں۔ یہ جو کچھ میرے ہاتھ پر ظاہر ہو رہا ہے، معجزہ ہے جو محض اللہ کے حکم سے صادر ہو رہا ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کے زمانے کے حالات کے مطابق معجزے عطا فرمائے تاکہ اس کی صداقت اور بالا تری نمایاں ہو سکے۔ حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے زمانے میں جادوگری کا بڑا زور تھا، انہیں ایسا معجزہ عطا فرمایا گیا جس کے سامنے بڑے بڑے جادوگر اپنا کرتب دکھانے میں ناکام رہے جس سے ان پر حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی صداقت واضح ہوئی اور وہ ایمان لے آئے۔ حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے زمانے میں طب کا بڑا چرچہ تھا، چنانچہ انہیں مردہ کو زندہ کر دینے، مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کر دینے کا معجزہ عطا فرمایا گیا جو کوئی بھی بڑا سے بڑا طبیب اپنے فن کے ذریعے سے کرنے پر قادر نہیں تھا۔ ہمارے پیغمبر نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کے دور میں شعر وادب اور فصاحت وبلاغت کا زور تھا، چنانچہ انہیں قرآن جیسا فصیح وبلیغ اور پر اعجاز کلام عطا فرمایا گیا، جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا بھر کے فصحا وبلغا اور ادبا وشعرا عاجز رہے اور چیلنج کے باوجود آج تک عاجز ہیں اور قیامت تک عاجز رہیں گے۔ (ابن کثیر)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 49 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  50. 50

    وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ ٱلَّذِى حُرِّمَ عَلَيْكُمْ ۚ وَجِئْتُكُم بِـَٔايَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ

    اور میں توراة کی تصدیق کرنے واﻻ ہوں جو میرے سامنے ہے اور میں اس لئے آیا ہوں کہ تم پر بعض وه چیزیں حلال کروں جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں[1] اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی ﻻیا ہوں، اس لئے تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو!

    حواشی

    [1] اس سے مراد یا تو وہ بعض چیزیں ہیں جو بطور سزا اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام کر دی تھیں یا پھر وہ چیزیں ہیں جو ان کے علما نےاجہتاد کے ذریعے سے حرام کی تھیں اور اجتہاد میں ان سے غلطی کا ارتکاب ہوا، حضرت عیسیٰ (عليه السلام) نے اس غلطی کا ازالہ کرکے انہیں حلال قرار دیا۔ (ابن کثیر)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 50 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  51. 51

    إِنَّ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ ۗ هَـٰذَا صِرَٰطٌ مُّسْتَقِيمٌ

    یقین مانو! میرا اور تمہارا رب اللہ ہی ہے، تم سب اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راه ہے۔[1]

    حواشی

    [1] یعنی اللہ کی عبادت کرنے میں اور اس کے سامنے ذلت وعاجزی کے اظہار میں میں اور تم دونوں برابر ہیں۔ اس لئے سیدھا راستہ صرف یہ ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کی الوہیت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 51 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  52. 52

    ۞ فَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنْهُمُ ٱلْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِىٓ إِلَى ٱللَّهِ ۖ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَٱشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ

    مگر جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کا کفر محسوس کر لیا[1] تو کہنے لگے اللہ تعالیٰ کی راه میں میری مدد کرنے واﻻ کون کون ہے؟[2] حواریوں[3] نے جواب دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی راه کے مددگار ہیں، ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اور آپ گواه رہئے کہ ہم تابعدار ہیں۔

    حواشی

    [1] یعنی ایسی گہری سازشیں اور مشکوک حرکتیں جو کفر یعنی حضرت مسیح کی رسالت کے انکار پر مبنی تھیں۔ [2] بہت سے نبیوں نے اپنی قوم کے ہاتھوں تنگ آکر ظاہری اسباب کے مطابق اپنی قوم کے باشعورلوگوں سے مدد طلب کی ہے۔ جس طرح خود نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی ابتدا میں، جب قریش آپ کی دعوت کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے، تو آپ موسم حج میں لوگوں کو اپنا ساتھی اور مددگاربننے پر آمادہ کرتے تھے تاکہ آپ رب کا کلام لوگوں تک پہنچا سکیں، جس پر انصار نے لبیک کہا اور نبی (صلى الله عليه وسلم) کی انہوں نے قبل ہجرت اور بعد ہجرت مدد کی۔ اسی طرح یہاں حضرت عیسیٰ (عليه السلام) نے مدد طلب فرمائی۔ یہ وہ مدد نہیں ہے جو مافوق الاسباب طریقے سے طلب کی جاتی ہے کیونکہ وہ تو شرک ہے اور ہر نبی شرک کے سدباب ہی کے لئے آتا رہا ہے، پھر وہ خود شرک کا ارتکاب کس طرح کر سکتے تھے؟ لیکن قبر پرستوں کی غلط روش قابل ماتم ہے کہ وہ فوت شدہ اشخاص سے مدد مانگنے کے جواز کے لئے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے قول من انصاری الی اللہ سے استدلال کرتے ہیں؟ فَإِنَّا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت نصیب فرمائے۔ [3] حواریون، حواری کی جمع ہے بمعنی انصار (مددگار) جس طرح نبی (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے ”إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَحَوَارِيِّ الزُّبَيْرُ“ (صحيح بخاري كتاب الجهاد، باب فضل الطليعة) ”ہر نبی کا کوئی مددگار خاص ہوتا ہے اور میرا مددگار زبیر (رضي الله عنه) ہے۔“

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 52 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  53. 53

    رَبَّنَآ ءَامَنَّا بِمَآ أَنزَلْتَ وَٱتَّبَعْنَا ٱلرَّسُولَ فَٱكْتُبْنَا مَعَ ٱلشَّـٰهِدِينَ

    اے ہمارے پالنے والے معبود! ہم تیری اتاری ہوئی وحی پر ایمان ﻻئے اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی، پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 53 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  54. 54

    وَمَكَرُوا۟ وَمَكَرَ ٱللَّهُ ۖ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلْمَـٰكِرِينَ

    اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی (مکر) خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے۔[1]

    حواشی

    [1] حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے زمانے میں شام کا علاقہ رومیوں کے زیر نگیں تھا، یہاں ان کی طرف سے جو حکمران مقرر تھا،وہ کافر تھا۔ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے خلاف اس حکمراں کے کان بھر دیئے کہ یہ نَعُوذُ بِاللهِ بغیر باپ کے اور فسادی ہے وغیرہ وغیرہ۔ حکمران نے ان کے مطالبے پر حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو سولی دینے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن اللہ نے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو بحفاظت آسمان پر اٹھا لیا اور ان کی جگہ ان کے ہم شکل ایک آدمی کو انہوں نے سولی دے دی، اور سمجھتے رہے کہ ہم نے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو سولی دی ہےمَكْرٌعربی زبان میں لطیف اور خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں اور اس معنی میں یہاں اللہ تعالیٰ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ کہا گیا ہے۔ گویا یہ مکر، سئی (برا) بھی ہو سکتا ہے، اگر غلط مقصد کے لئے ہو اور خیر (اچھا) بھی ہو سکتا ہے اگر اچھے مقصد کے لئے ہو۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 54 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  55. 55

    إِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَـٰعِيسَىٰٓ إِنِّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَجَاعِلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوكَ فَوْقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۖ ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

    جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے واﻻ ہوں[1] اور تجھے اپنی جانب اٹھانے واﻻ ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے واﻻ ہوں[2] اور تیرے تابعداروں کو کافروں کے اوپر غالب کرنے واﻻ ہوں قیامت کے دن تک[3]، پھر تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے میں ہی تمہارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا

    حواشی

    [1] المتوفی کا مصدر توفی اور مادہ وفی ہے جس کے اصل معنی پورا پورا لینے کے ہیں، انسان کی موت پر جو وفات کا لفظ بولا جاتا ہے تو اسی لئے کہ اس کے جسمانی اختیارات مکمل طور پر سلب کر لئے جاتے ہیں۔ اس اعتبار سے موت اس کے معنی کی مختلف صورتوں میں سے محض ایک صورت ہے۔ نیند میں بھی چونکہ انسانی اختیارات عارضی طور پرمعطل کر دیئے جاتے ہیں اس لئے نیند پر بھی قرآن نے وفات کے لفظ کا اطلاق کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ اس کے حقیقی اور اصل معنی پورا پورا لینے کے ہی ہیں۔ «إِنِّي مُتَوَفِّيكَ» میں یہ اسی اپنے حقیقی اور اصلی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی میں اے عیسیٰ (عليه السلام) تجھے یہودیوں کی سازش سے بچا کر پورا پورا اپنی طرف آسمانوں پر اٹھالوں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور بعض نے اس کے مجازی معنی کےشہرت استعمال کے مطابق موت ہی کے معنی کئے ہیں لیکن اس کے ساتھ انہوں نے کہا ہے کہ الفاظ میں تقدیم وتاخیر ہے یعنی رافعک (میں اپنی طرف اٹھانے والا ہوں) کے معنی مقدم ہیں اور مُتَوَفِّيكَ (فوت کرنے والا ہوں) کے معنی متاخر، یعنی میں تجھے آسمان پر اٹھالوں گا اور پھر جب دوبارہ دنیا میں نزول ہوگا تو اس وقت موت سے ہمکنار کروں گا۔ یعنی یہودیوں کے ہاتھوں تیرا قتل نہیں ہوگا بلکہ تجھے طبعی موت ہی آئے گی۔ (فتح القدیر وابن کثیر) [2] اس سے مراد ان الزامات سے پاکیزگی ہے جن سے یہودی آپ کو متہم کرتے تھے، نبی (صلى الله عليه وسلم) کے ذریعے سے آپ کی صفائی دنیا کے سامنے پیش کر دی گئی۔ [3] اس سے مراد یا تو نصاریٰ کا وہ دنیاوی غلبہ ہے جو یہودیوں پر قیامت تک رہے گا، گو وہ اپنے غلط عقائد کی وجہ سے نجات اخروی سے محروم ہی رہیں گے۔ یا امت محمدیہ کے افراد کا غلبہ ہے جو درحقیقت حضرت عیسیٰ (عليه السلام) اور دیگر تمام انبیا کی تصدیق کرتے اور ان کے صحیح اور غیر محرف دین کی پیروی کرتے ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 55 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  56. 56

    فَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَأُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ

    پھر کافروں کو تو میں دنیا اور آخرت میں سخت تر عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 56 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  57. 57

    وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلظَّـٰلِمِينَ

    لیکن ایمان والوں اور نیک اعمال والوں کو اللہ تعالیٰ ان کا ﺛواب پورا پورا دے گا اور اللہ تعالیٰ ﻇالموں سے محبت نہیں کرتا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 57 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  58. 58

    ذَٰلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ ٱلْـَٔايَـٰتِ وَٱلذِّكْرِ ٱلْحَكِيمِ

    یہ جسے ہم تیرے سامنے پڑھ رہے ہیں آیتیں ہیں اور حکمت والی نصیحت ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 58 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  59. 59

    إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ ٱللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَ ۖ خَلَقَهُۥ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ

    اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال ہو بہو آدم (علیہ السلام) کی مثال ہے جسے مٹی سے بنا کر کے کہہ دیا کہ ہو جا! پس وه ہو گیا!

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 59 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  60. 60

    ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُن مِّنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

    تیرے رب کی طرف سے حق یہی ہے خبردار شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 60 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  61. 61

    فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا۟ نَدْعُ أَبْنَآءَنَا وَأَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ ٱللَّهِ عَلَى ٱلْكَـٰذِبِينَ

    اس لئے جو شخص آپ کے پاس اس علم کے آجانے کے بعد بھی آپ سے اس میں جھگڑے تو آپ کہہ دیں کہ آو ہم تم اپنے اپنے فرزندوں کو اور ہم تم اپنی اپنی عورتوں کواور ہم تم خاص اپنی اپنی جانوں کو بلالیں، پھر ہم عاجزی کے ساتھ التجا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں۔[1]

    حواشی

    [1] یہ آیت مباہلہ کہلاتی ہے۔ مباہلہ کے معنی ہیں دو فریق کا ایک دوسرے پر لعنت یعنی بددعا کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ جب دو فریقوں میں کسی معاملے کے حق یا باطل ہونے میں اختلاف ونزاع ہو اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہو تو دونوں بارگاہ الہیٰ میں یہ دعا کریں کہ یااللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے، اس پر لعنت فرما۔ اس کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ ہجری میں نجران سے عیسائیوں کا ایک وفد نبی (صلى الله عليه وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے بارے میں وہ جو غلو آمیز عقائد رکھتے تھے اس پر بحث ومناظرہ کرنے لگا۔ بالآخر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی (صلى الله عليه وسلم) نے انہیں مباہلہ کی دعوت دی۔ حضرت علی س، حضرت فاطمہ اور حضرت حسن وحسین (رضي الله عنهم) کو بھی ساتھ لیا، اور عیسائیوں سے کہا کہ تم بھی اپنے اہل وعیال کو بلالو اور پھر مل کر جھوٹے پر لعنت کی بددعا کریں۔ عیسائیوں نے باہم مشورہ کے بعد مباہلہ کرنے سے گریز کیا اور پیش کش کی کہ آپ ہم سے جو چاہتے ہیں ہم دینے کے لئے تیار ہیں، چنانچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے ان پر جزیہ مقرر فرما دیا جس کی وصولی کے لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح (رضي الله عنه) کو، جنہیں آپ (صلى الله عليه وسلم) نے امین امت کا خطاب عنایت فرمایا تھا، ان کے ساتھ بھیجا (ملخص از تفسیر ابن کثیر وفتح القدیر وغیرہ) اس سے اگلی آیت میں اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) کو دعوت توحید دی جا رہی ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 61 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  62. 62

    إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ ٱلْقَصَصُ ٱلْحَقُّ ۚ وَمَا مِنْ إِلَـٰهٍ إِلَّا ٱللَّهُ ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

    یقیناً صرف یہی سچا بیان ہے اور کوئی معبود برحق نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے اور بے شک غالب اور حکمت واﻻ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 62 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  63. 63

    فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِٱلْمُفْسِدِينَ

    پھر بھی اگر قبول نہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی صحیح طور پر فسادیوں کو جاننے واﻻ ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 63 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  64. 64

    قُلْ يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ تَعَالَوْا۟ إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا ٱللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِۦ شَيْـًٔا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ ٱللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقُولُوا۟ ٱشْهَدُوا۟ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ

    آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آو جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں[1] ، نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں[2]۔ پس اگر وه منھ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواه رہو ہم تو مسلمان ہیں۔[3]

    حواشی

    [1] کسی بت کو نہ صلیب کو، نہ آک کو اور نہ کسی اور چیز کو، بلکہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں جیسا کہ تمام انبیاء کی دعوت رہی ہے۔ [2] یہ ایک تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم نے حضرت مسیح اور حضرت عزیر علیہما السلام کی ربوبیت (رب ہونے) کا جو عقیدہ گھڑ رکھا ہے یہ غلط ہے، وہ رب نہیں ہیں انسان ہی ہیں۔ دوسرا، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم نے اپنے احبار ورہبان کو حلال وحرام کرنے کا جو اختیار دے رکھا ہے، یہ بھی ان کو رب بنانا ہے جیسا کہ آیت اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ اس پر شاہد ہے، یہ بھی صحیح نہیں ہے، حلال وحرام کا اختیار بھی صرف اللہ ہی کو ہے۔ (ابن کثیر وفتح القدیر ) [3] صحیح بخاری میں ہے کہ قرآن کریم کے اس حکم کے مطابق آپ (صلى الله عليه وسلم) نے ہرقل شاہ روم کو مکتوب تحریر فرمایا اور اس میں اسے اس آیت کے حوالے سے قبول اسلام کی دعوت دی اور اسے کہاکہ تو مسلمان ہو جائے گا تو تجھے دہرا اجر ملے گا، ورنہ ساری رعایا کا گناہ بھی تجھ پر ہوگا۔ ”فَأَسْلِمْ تَسْلَمْ، يَؤْتِكَ اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ، فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الأَرِيسِيِّينَ“(صحيح بخاري، كتاب بدء الوحي نمبر) ”اسلام قبول کر لے، سلامتی میں رہے گا۔ اسلام لے آ، اللہ تعالیٰ تجھے دوگنا اجر دے گا۔ لیکن اگر تو نے قبول اسلام سے اعراض کیا تو رعایا کا گناہ بھی تجھ پر ہی ہو گا“۔ کیونکہ رعایا کے عدم قبول اسلام کاسبب تو ہی ہوگا۔ اس آیت میں مذکور تین نکات یعنی (1) صرف اللہ کی عبادت کرنا۔(2) اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔(3) اورکسی کو شریعت سازی کا خدائی مقام نہ دینا وہ کلمۂ سواء ہے جس پر اہل کتاب کو اتحاد کی دعوت دی گئی۔ لہٰذا اس امت کے شیرازہ کو جمع کرنے کے لئے بھی ان ہی تین نکات اور اس کلمۂ سواء کو بدرجہ اولیٰ اساس وبنیاد بنانا چاہئے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 64 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  65. 65

    يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَمَآ أُنزِلَتِ ٱلتَّوْرَىٰةُ وَٱلْإِنجِيلُ إِلَّا مِنۢ بَعْدِهِۦٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

    اے اہل کتاب! تم ابراہیم کی بابت کیوں جھگڑتے ہو حاﻻنکہ تورات وانجیل تو ان کے بعد نازل کی گئیں، کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے؟[1]

    حواشی

    [1] حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے بارے میں جھگڑنے کا مطلب یہ ہے کہ یہودی اور عیسائی دونوں دعویٰ کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) ان کے دین پر تھے، حالانکہ تورات، جس پر یہودی ایمان رکھتے تھے،اور انجیل جسے عیسائی مانتے تھے، دونوں حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے سینکڑوں برس بعد نازل ہوئیں، پھر حضرت ابراہیم (عليه السلام) یہودی یا عیسائی کس طرح ہو سکتے تھے؟ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) اور موسیٰ (عليه السلام) کے درمیان ایک ہزار سال کا اور حضرت ابراہیم وعیسیٰ علیہما السلام کے درمیان دو ہزار سال کا فاصلہ تھا۔ (قرطبی)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 65 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  66. 66

    هَـٰٓأَنتُمْ هَـٰٓؤُلَآءِ حَـٰجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِۦ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِۦ عِلْمٌ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

    سنو! تم لوگ اس میں جھگڑ چکے جس کا تمہیں علم تھا پھر اب اس بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں؟[1] اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،

    حواشی

    [1] تمہارے علم ودیانت کا تو یہ حال ہے کہ جن چیزوں کا تمہیں علم ہے یعنی اپنے دین اور اپنی کتاب،کا اس کی بابت تمہارے جھگڑے (جس کا ذکر پچھلی آیت میں کیا جا چکا ہے) بے اصل بھی ہیں اور بے عقلی کا مظہر بھی۔ توپھر تم اس بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں سرے سے علم ہی نہیں ہے یعنی حضرت ابراہیم (عليه السلام) کی شان اور ان کی ملت حنیفیہ کے بارے میں، جس کی اساس توحید واخلاص پر ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 66 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  67. 67

    مَا كَانَ إِبْرَٰهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

    ابراہیم تو نہ یہودی تھے نہ نصرانی تھے بلکہ وه تو یک طرفہ (خالص) مسلمان تھے[1] ، وه مشرک بھی نہیں تھے،

    حواشی

    [1] حَنِيفًا مُسْلِمًا ( یک طرفہ خالص مسلمان) یعنی شرک سے بیزار اور صرف خدائے واحد کے پرستار۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 67 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  68. 68

    إِنَّ أَوْلَى ٱلنَّاسِ بِإِبْرَٰهِيمَ لَلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ وَهَـٰذَا ٱلنَّبِىُّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ وَلِىُّ ٱلْمُؤْمِنِينَ

    سب لوگوں سے زیاده ابراہیم سے نزدیک تر وه لوگ ہیں جنہوں نے ان کا کہا مانا اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان ﻻئے[1] ، مومنوں کا ولی اور سہارا اللہ ہی ہے،۔

    حواشی

    [1] اسی لئے قرآن کریم میں نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو ملت ابراہیمی کا اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ «أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا» ( النحل: 123) علاوہ ازیں حدیث میں ہے رسول (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: ”إِنَّ لِكُلِّ نَبِيّ وُلاةً مِنَ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ وَلِـيِّي مِنْهُمْ أَبِي وَخَلِيلُ رِبِّي عَزّ وَجَلّ“ (ہر نبی کے نبیوں میں سے کچھ دوست ہوتے ہیں، میرے ولی (دوست) ان میں سے میرے باپ اور میرے رب کے خلیل (ابراہیم عليه السلام ہیں)۔ پھر آپ (صلى الله عليه وسلم) نے یہی آیت تلاوت فرمائی (ترمذی بحوالہ ابن کثیر )

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 68 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  69. 69

    وَدَّت طَّآئِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

    اہل کتاب کی ایک جماعت چاہتی ہے کہ تمہیں گمراه کر دیں۔ دراصل وه خود اپنے آپ کو گمراه کر رہے ہیں اور سمجھتے نہیں۔[1]

    حواشی

    [1] یہ یہودیوں کے اس حسد وبغض کی وضاحت ہے جو وہ اہل ایمان سے رکھتے تھے اور اسی عناد کی وجہ سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس طرح وہ خود ہی بے شعوری میں اپنے آپ کو گمراہ کر رہے ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 69 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  70. 70

    يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ

    اے اہل کتاب تم (باوجود قائل ہونے کے پھر بھی) دانستہ اللہ کی آیات کا کیوں کفر کر رہے ہو؟[1]

    حواشی

    [1] قائل ہونے کا مطلب ہے کہ تمہیں نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی صداقت وحقانیت کا علم ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 70 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  71. 71

    يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ لِمَ تَلْبِسُونَ ٱلْحَقَّ بِٱلْبَـٰطِلِ وَتَكْتُمُونَ ٱلْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

    اے اہل کتاب! باوجود جاننے کے حق وباطل کو کیوں خلط ملط کر رہے ہو اور کیوں حق کو چھپا رہے ہو؟[1]

    حواشی

    [1] اس میں یہودیوں کے دو بڑے جرائم کی نشاندہی کرکے انہیں ان سے باز رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ پہلا جرم حق وباطل اور سچ اور جھوٹ کو خلط ملط کرنا تاکہ لوگوں پر حق اور باطل واضح نہ ہو سکے۔ دوسرا کتمان حق۔ یعنی نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کے جو اوصاف تورات میں لکھے ہوئے تھے، انہیں لوگوں سے چھپانا، تاکہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی صداقت کم از کم اس اعتبار سے نمایاں نہ ہو سکے۔ اور یہ دونوں جرم جانتے بوجھتے کرتے تھے جس سے ان کی بدبختی دو چند ہوگئی تھی۔ ان کے جرائم کی نشان دہی سورۂ بقرہ میں بھی کی گئی ہے «وَلا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ» (البقرة: 42) ”حق کو باطل کے ساتھ مت ملاؤ اور حق مت چھپاؤ اور تم جانتے ہو۔“ اہل کتاب کے لفظ کو بعض مفسرین نے عام رکھا ہے، جس میں یہودو نصاریٰ دونوں شامل ہیں۔ یعنی دونوں کو ان جرائم مذکورہ سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے اور بعض کے نزدیک اس سے مراد صرف وہ قبائل یہود ہیں جو مدینے میں رہائش پذیر تھے۔ بنو قریظہ، بنو نضیر، اور بنو قینقاع۔ زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کابراہ راست انہی سے معاملہ تھا اور یہی نبی (صلى الله عليه وسلم) کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 71 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  72. 72

    وَقَالَت طَّآئِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ ءَامِنُوا۟ بِٱلَّذِىٓ أُنزِلَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَجْهَ ٱلنَّهَارِ وَٱكْفُرُوٓا۟ ءَاخِرَهُۥ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

    اور اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا کہ جو کچھ ایمان والوں پر اتارا گیا ہے اس پر دن چڑھے تو ایمان ﻻؤ اور شام کے وقت کافر بن جاؤ، تاکہ یہ لوگ بھی پلٹ جائیں۔[1]

    حواشی

    [1] یہ یہودیوں کے ایک اور مکر کا ذکر ہے۔ جس سے وہ مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے تھے کہ انہوں نے باہم طے کیا کہ صبح کو مسلمان ہو جائیں تاکہ مسلمانوں کے دلوں میں بھی اپنے اسلام کے بارے میں شک پیدا ہو کہ یہ لوگ قبول اسلام کے بعد دوبارہ اپنے دین میں واپس چلے گئے ہیں تو ممکن ہے کہ اسلام میں ایسے عیوب اورخامیاں ہوں جو ان کے علم میں آئی ہوں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 72 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  73. 73

    وَلَا تُؤْمِنُوٓا۟ إِلَّا لِمَن تَبِعَ دِينَكُمْ قُلْ إِنَّ ٱلْهُدَىٰ هُدَى ٱللَّهِ أَن يُؤْتَىٰٓ أَحَدٌ مِّثْلَ مَآ أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَآجُّوكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ ۗ قُلْ إِنَّ ٱلْفَضْلَ بِيَدِ ٱللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ

    اور سوائے تمہارے دین پر چلنے والوں کے اور کسی کا یقین نہ کرو[1] ۔ آپ کہہ دیجئے کہ بے شک ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے[2] (اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اس بات کا بھی یقین نہ کرو) کہ کوئی اس جیسا دیا جائے جیسا تم دیئے گئے ہو[3]، یا یہ کہ یہ تم سے تمہارے رب کے پاس جھگڑا کریں گے، آپ کہہ دیجئے کہ فضل تو اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے، وه جسے چاہے اسے دے، اللہ تعالیٰ وسعت واﻻ اورجاننے واﻻ ہے۔

    حواشی

    [1] یہ آپس میں انہوں نے ایک دوسرے کو کہا۔ کہ تم ظاہری طور پر تو اسلام کا اظہار ضرور کرو لیکن اپنے ہم مذہب (یہود) کے سوا کسی اور کی بات پر یقین مت رکھنا۔ [2] یہ ایک جملہ معترضہ ہے جس کا ماقبل اور ما بعد سے تعلق نہیں ہے۔ صرف ان کے مکر وحیلہ کی اصل حقیقت اس سے واضح کرنا مقصود ہے کہ ان کے حیلوں سے کچھ نہیں ہوگا کیونکہ ہدایت تو اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ جس کو ہدایت دے دے یا دینا چاہے، تمہارے حیلے اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ [3] یہ بھی یہودیوں کا قول ہے اور اس کا عطف ”وَلا تُؤْمِنُوا“ پر ہے۔ یعنی یہ بھی تسلیم مت کرو کہ جس طرح تمہارے اندر نبوت وغیرہ رہی ہے، یہ کسی اور کو بھی مل سکتی ہے اور اس طرح یہودیت کے سوا کوئی اور دین بھی حق ہو سکتا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 73 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  74. 74

    يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِۦ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ

    وه اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے مخصوص کر لے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل واﻻ ہے۔[1]

    حواشی

    [1] اس آیت کے دو معنی بیان کئے جا تے ہیں۔ ایک یہ کہ یہودکے بڑے بڑے علما جب اپنے شاگردوں کو یہ سکھاتے کہ دن چڑھتے ایمان لاؤ اور دن اترتے کفر کرو تاکہ جو لوگ فی الواقع مسلمان ہیں وہ بھی مذبذب ہو کر مرتد ہو جائیں تو ان شاگردوں کو مزید یہ تاکید کرتے تھے کہ دیکھو صرف ظاہراً مسلمان ہونا، حقیقتاً اور واقعتہً مسلمان نہ ہو جانا، بلکہ یہودی ہی رہنا۔ اور یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ جیسا دین،جیسی وحی وشریعت اور جیسا علم وفضل تمہیں دیا گیا ہے ویسا ہی کسی اور کو بھی دیا جا سکتا ہے،یا تمہارے بجائے کوئی اور حق پر ہے جو تمہارے خلاف اللہ کے نزدیک حجت قائم کر سکتا ہے۔ اور تمہیں غلط ٹھہرا سکتا ہے۔ اس معنی کی رو سے جملہ معترضہ کو چھوڑ کر عندربکم تک کل کا کل یہودکا قول ہوگا۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ اے یہودیو ! تم حق کو دبانے اور مٹانے کی یہ ساری حرکتیں اور سازشیں اس لئے کر رہے ہو کہ ایک تمہیں اس بات کا غم اور جلن ہے کہ جیسا علم وفضل، وحی وشریعت اور دین تمہیں دیا گیا تھا اب ویسا ہی علم وفضل اور دین کسی اور کو کیوں دے دیا گیا۔ دوسرا تمہیں یہ اندیشہ اور خطرہ بھی ہے کہ اگر حق کی یہ دعوت پنپ گئی،اور اس نے اپنی جڑیں مضبوط کر لیں تو نہ صرف یہ کہ تمہیں دنیا میں جو جاہ ووقار حاصل ہے وہ جاتا رہے گا۔ بلکہ تم نے جو حق چھپا رکھا ہے اس کا پردہ بھی فاش ہو جائے گا۔ اور اس بنا پر یہ لوگ اللہ کے نزدیک بھی تمہارے خلاف حجت قائم کر بیٹھیں گے۔ حالانکہ تمہیں معلوم ہونا چاہئیے کہ دین وشریعت اللہ کا فضل ہے۔ اور یہ کسی کی میراث نہیں۔ بلکہ وہ اپنا فضل جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ اور اسے معلوم ہے کہ یہ فضل کس کو دینا چاہیئے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 74 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  75. 75

    ۞ وَمِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ مَنْ إِن تَأْمَنْهُ بِقِنطَارٍ يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيْكَ وَمِنْهُم مَّنْ إِن تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لَّا يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيْكَ إِلَّا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَآئِمًا ۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا۟ لَيْسَ عَلَيْنَا فِى ٱلْأُمِّيِّـۧنَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

    بعض اہل کتاب تو ایسے ہیں کہ اگر انہیں تو خزانے کا امین بنا دے تو بھی وه تجھے واپس کر دیں اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ اگر تو انہیں ایک دینار بھی امانت دے تو تجھے ادا نہ کریں۔ ہاں یہ اوربات ہے کہ تو اس کے سر پر ہی کھڑا رہے، یہ اس لئے کہ انہوں نے کہہ رکھا ہے کہ ہم پر ان جاہلوں (غیر یہودی) کے حق کاکوئی گناه نہیں، یہ لوگ باوجود جاننے کے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ کہتے ہیں۔[1]

    حواشی

    [1] أُمِّيِّينَ( ان پڑھ، جاہل) سے مراد مشرکین عرب ہیں یہود کے خائن لوگ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ یہ چونکہ مشرک ہیں اس لئے ان کا مال ہڑپ کر لینا جائز ہے، اس میں کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ کس طرح کسی کا مال ہڑپ کر جانے کی اجازت دے سکتا ہے ؟ اور بعض تفسیری روایات میں ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی یہ سن کر فرمایا کہ ”اللہ کے دشمنوں نے جھوٹ کہا، زمانۂ جاہلیت کی تمام چیزیں میری قدموں تلے ہیں، سوائے امانت کے کہ وہ ہر صورت میں ادا کی جائے گی، چاہے وہ کسی نیکو کار کی ہو یا بدکار کی۔“ (ابن کثیر وفتح القدیر) افسوس ہے کہ یہود کی طرح آج بعض مسلمان بھی مشرکین کا مال ہڑپ کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ دارالحرب کا سود جائز ہے۔ اور حربی کے مال کے لئے کوئی عصمت نہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 75 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  76. 76

    بَلَىٰ مَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِۦ وَٱتَّقَىٰ فَإِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَّقِينَ

    کیوں نہیں (مواخذہ ہوگا) البتہ جو شخص اپنا قرار پورا کرے اور پرہیزگاری کرے، تو اللہ تعالیٰ بھی ایسے پرہیز گاروں سے محبت کرتاہے۔[1]

    حواشی

    [1] (قرار پورا کرے) کا مطلب، وہ عہد پورا کرے جو اہل کتاب سے یا ہر نبی کے واسطے سے ان کی امتوں سے نبی (صلى الله عليه وسلم) پر ایمان لانے کی بابت لیا گیا ہے اور (پرہیزگاری کرے) یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم سے بچے اور ان باتوں پرعمل کرے جونبی (صلی اللہ علیہ وسلم) بیان فرمائیں۔ ایسے لوگ یقیناً مواخذۂ الہٰی سے نہ صرف محفوظ رہیں گے بلکہ محبوب باری تعالیٰ ہوں گے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 76 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  77. 77

    إِنَّ ٱلَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ ٱللَّهِ وَأَيْمَـٰنِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُو۟لَـٰٓئِكَ لَا خَلَـٰقَ لَهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ وَلَا يَنظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

    بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ تعالیٰ نہ تو ان سے بات چیت کرے گا نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔[1]

    حواشی

    [1] مذکورہ افرادکے برعکس دوسرے لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے۔ اور یہ دو طرح کے لوگوں کو شامل ہے ایک تو وہ لوگ جو عہد الٰہی اور اپنی قسموں کو پس پشت ڈال کر تھوڑے سے دینی مفادات کے لئے نبی (صلى الله عليه وسلم) پر ایمان نہیں لائے۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا سودا بیچتے یا کسی کا مال ہڑپ کر جاتے ہیں جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔ مثلاً نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ ”جو شخص کسی کا مال ہتھیانے کے لئے جھوٹی قسم کھائے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضب ناک ہوگا“ (صحيح بخاري، كتاب المساقاة، باب الخصومة في البئر والقضاء فيها- مسلم، كتاب الإيمان، باب وعيد من اقتطع حق مسلم...) نیز فرمایا: ”تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ نہ کلام کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا، ان میں ایک وہ شخص ہے جو جھوٹی قسم کے ذریعے سے اپنا سودا بیچتا ہے“۔ (صحيح مسلم، كتاب الإيمان ، باب بيان غلظ تحريم إسبال الإزار...) متعدد احادیث میں یہ باتیں بیان کی گئی ہیں۔ (ابن کثیر وفتح القدیر)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 77 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  78. 78

    وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا يَلْوُۥنَ أَلْسِنَتَهُم بِٱلْكِتَـٰبِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ ٱلْكِتَـٰبِ وَمَا هُوَ مِنَ ٱلْكِتَـٰبِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ وَيَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

    یقیناً ان میں ایسا گروه بھی ہے جو کتاب پڑھتے ہوئے اپنی زبان مروڑتا ہے تاکہ تم اسے کتاب ہی کی عبارت خیال کرو حاﻻنکہ دراصل وه کتاب میں سے نہیں، اور یہ کہتے بھی ہیں کہ وه اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے حاﻻنکہ در اصل وه اللہ تعالی کی طرف سے نہیں، وه تو دانستہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں۔[1]

    حواشی

    [1] یہ یہود کے ان لوگوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے کتاب الٰہی (تورات) میں نہ صرف تحریف وتبدیلی کی بلکہ دو جرم اور بھی کئے کہ ایک تو زبان کو مروڑ کر کتاب کے الفاظ پڑھتے جس سے عوام کو خلاف واقعہ تاثر دینے میں وہ کامیاب رہتے۔ دوسرے، وہ اپنی خود ساختہ باتوں کو من عنداللہ باور کراتے۔ بدقسمتی سے امت محمدیہ کے مذہبی پیشواؤں میں بھی، نبی (صلى الله عليه وسلم) کی پیشگوئی”لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ“ (تم اپنے سے پہلی امتوں کی قدم بہ قدم پیروی کرو گے) کے مطابق بکثرت ایسے لوگ ہیں جو دنیوی اغراض، یا جماعتی تعصب یا فقہی جمود کی وجہ سے قرآن کریم کے ساتھ بھی یہی معاملہ کرتے ہیں۔ پڑھتے قرآن کی آیت ہیں اور مسئلہ اپنا خود ساختہ بیان کرتے ہیں۔ عوام سمجھتے ہیں کہ مولوی صاحب نے مسئلہ قرآن سے بیان کیا ہے دراں حالیکہ اس مسئلے کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یا پھر آیات میں معنوی تحریف وملمع سازی سے کام لیا جاتا ہے تاکہ باور یہی کرایا جائے کہ یہ من عنداللہ ہے۔أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهُ۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 78 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  79. 79

    مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ ٱللَّهُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحُكْمَ وَٱلنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا۟ عِبَادًا لِّى مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَـٰكِن كُونُوا۟ رَبَّـٰنِيِّـۧنَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ ٱلْكِتَـٰبَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ

    کسی ایسے انسان کو جسے اللہ تعالیٰ کتاب وحکمت اور نبوت دے، یہ ﻻئق نہیں کہ پھر بھی وه لوگوں سے کہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ[1] ، بلکہ وه تو کہے گا کہ تم سب رب کے ہو جاؤ، تمہارے کتاب سکھانے کے باعﺚ اور تمہارے کتاب پڑھنے کے سبب۔[2]

    حواشی

    [1] یہ عیسائیوں کے ضمن میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو خدا بنایا ہوا ہے حالانکہ وہ ایک انسان تھے جنہیں کتاب وحکمت اور نبوت سے سرفراز کیا گیا تھا، اور ایسا کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے پجاری اور بندے بن جاؤ، بلکہ وہ تو یہی کہتا ہے کہ رب والے بن جاؤ۔ رَبَّانِيٌّ رب کی طرف منسوب ہے، الف اور نون کا اضافہ مبالغہ کے لئے ہے۔ (فتح القدیر ) [2] یعنی کتاب اللہ کی تعلیم وتدریس کے نتیجےمیں رب کی شناخت اور رب سے خصوصی ربط وتعلق قائم ہونا چاہیئے۔ اسی طرح کتاب اللہ کا علم رکھنے والے کے لئے ضرور ی ہے کہ وہ لوگوں کو بھی قرآن کی تعلیم دے۔ اس آیت سے واضح ہے کہ جب اللہ کے پیغمبروں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی عبادت کرنے کا حکم دیں، تو کسی اور کو یہ حق کیوں کر حاصل ہو سکتا ہے؟ (تفسیر ابن کثیر)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 79 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  80. 80

    وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُوا۟ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةَ وَٱلنَّبِيِّـۧنَ أَرْبَابًا ۗ أَيَأْمُرُكُم بِٱلْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ

    اور یہ نہیں (ہو سکتا) کہ وه تمہیں فرشتوں اورنبیوں کو رب بنا لینے کا حکم کرے، کیا وه تمہارے مسلمان ہونے کے بعد بھی تمہیں کفر کا حکم دے گا۔[1]

    حواشی

    [1] یعنی نبیوں اور فرشتوں (یا کسی اور کو) رب والی صفات کا حامل باور کرانا یہ کفر ہے۔ تمہارے مسلمان ہو جانے کے بعد ایک نبی یہ کام بھلا کس طرح کر سکتا ہے؟ کیونکہ نبی کا کام تو ایمان کی دعوت دینا ہے جو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کا نام ہے۔ بعض مفسرین نے اس کی شان نزول میں یہ بات بیان کی ہے کہ بعض مسلمانوں نے نبی (صلى الله عليه وسلم) سے اس بات کی اجازت مانگی کہ وہ آپ کو سجدہ کریں۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (فتح القدیر) اوربعض نے اس کی شان نزول میں یہ کہا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے جمع ہو کر نبی (صلى الله عليه وسلم) سے کہا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی اس طرح عبادت وپرستش کریں جس طرح عیسائی حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کی کرتے ہیں آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا۔ اللہ کی پناہ، اس بات سے کہ ہم اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کریں یا کسی کو اس کا حکم دیں، اللہ نے مجھے نہ اس لئے بھیجا ہے نہ اس کا حکم ہی دیا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر۔ بحوالہ سیرۃ ابن ہشام)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 80 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  81. 81

    وَإِذْ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَـٰقَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ لَمَآ ءَاتَيْتُكُم مِّن كِتَـٰبٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِۦ وَلَتَنصُرُنَّهُۥ ۚ قَالَ ءَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَىٰ ذَٰلِكُمْ إِصْرِى ۖ قَالُوٓا۟ أَقْرَرْنَا ۚ قَالَ فَٱشْهَدُوا۟ وَأَنَا۠ مَعَكُم مِّنَ ٱلشَّـٰهِدِينَ

    جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب وحکمت دوں پھر تمہارے پاس وه رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمہارے لئے اس پر ایمان ﻻنا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے[1] ۔ فرمایا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا کہ ہمیں اقرار ہے، فرمایا تو اب گواه رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔

    حواشی

    [1] یعنی ہر نبی سے یہ وعدہ لیا گیا کہ اس کی زندگی اور دور نبوت میں اگر دوسرا نبی آئے گا تو اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہوگا، جب نبی کی موجودگی میں آنے والے نئے نبی پر خود اس نبی کو ایمان لانا ضروری ہے تو ان کی امتوں کے لئے تو اس نئے نبی پر ایمان لانا بطریق اولیٰ ضروری ہے۔ بعض مفسرین نے رَسُولٌ مُصَدِّقٌ سے الرَّسُولُ کا مفہوم مراد لیا ہے یعنی حضرت محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی بابت تمام نبیوں سے عہد لیا گیا کہ اگر ان کے دور میں وہ آجائیں تو اپنی نبوت ختم کرکے ان پر ایمان لانا ہوگا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ پہلے معنی میں ہی یہ دوسرا مفہوم از خود آجاتا ہے۔ اس لئے الفاظ قرآن کے اعتبار سے پہلا مفہوم ہی زیادہ صحیح ہے اور اس مفہوم کے لحاظ سے بھی یہ بات واضح ہے کہ نبوت محمدی کے سراج منیر کے بعد کسی بھی نبی کا چراغ نہیں جل سکتا۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رضي الله عنه) تورات کے اوراق پڑھ رہے تھے تو نبی (صلى الله عليه وسلم) یہ دیکھ کر غضب ناک ہوئے اور فرمایا کہ (قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (صلى الله عليه وسلم) کی جان ہے کہ اگر موسیٰ (عليه السلام) بھی زندہ ہو کر آجائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کے پیچھے لگ جاؤ تو یقیناً گمراہ ہو جاؤ گے) (مسنداحمد، بحوالہ ابن کثیر) بہرحال اب قیامت تک واجب الاتباع صرف محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ہیں اور نجات انہی کی اطاعت میں منحصر ہے نہ کہ کسی امام کی اندھی تقلید یا کسی بزرگ کی بیعت میں۔ جب کسی پیغمبر کا سکہ اب نہیں چل سکتا تو کسی اور کی ذات غیر مشروط اطاعت کی مستحق کیوں کر ہو سکتی ہے؟ اصر بمعنی عہد اور ذمہ ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 81 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  82. 82

    فَمَن تَوَلَّىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ

    پس اس کے بعد بھی جو پلٹ جائیں وه یقیناً پورے نافرمان ہیں۔[1]

    حواشی

    [1] ﯾﮧ ﺍﮨﻞ ﻛﺘﺎﺏ (ﯾﮩﻮﺩ ونصاریٰ) ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﮨﻞ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﻛﻮ ﺗﻨﺒﯿﮧ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺑﻌﺜﺖ ﻣﺤﻤﺪﯼ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ﻛﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ, ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺬﮨﺐ ﭘﺮ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮨﻨﺎ ﺍﺱ ﻋﮩﺪ ﻛﮯ ﺧﻼﻑ ﮨﮯ ﺟﻮ اللہ تعالیٰ ﻧﮯ ﻧﺒﯿﻮﮞ ﻛﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺍﻣﺖ ﺳﮯ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻋﮩﺪ ﺳﮯ ﺍﻧﺤﺮﺍﻑ ﻛﻔﺮ ﮨﮯ ۔ ﻓﺴﻖ ﯾﮩﺎﮞ ﻛﻔﺮ ﻛﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﻛﯿﻮﻧﻜﮧ ﻧﺒﻮﺕ ﻣﺤﻤﺪﯼ ﺳﮯ انکار ﺻﺮﻑ ﻓﺴﻖ ﻧﮩﯿﮟ, ﺳﺮﺍﺳﺮ ﻛﻔﺮﮨﮯ۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 82 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  83. 83

    أَفَغَيْرَ دِينِ ٱللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُۥٓ أَسْلَمَ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ

    کیا وه اللہ تعالیٰ کے دین کے سوا اور دین کی تلاش میں ہیں؟ حاﻻنکہ تمام آسمانوں والے اور سب زمین والے اللہ تعالیٰ ہی کے فرمانبردار ہیں خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے[1] ، سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

    حواشی

    [1] جب آسمان اور زمین کی کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی قدرت ومشیت سے باہر نہیں، چاہے خوشی سے یا ناخوشی سے۔ توپھرتم اس کے سامنے قبول اسلام سے کیوں گریز کرتے ہو؟ اگلی آیات میں ایمان لانے کا طریقہ بتلا کر (کہ ہر نبی اور ہر منزل کتاب پر بغیر تفریق کے ایمان لانا ضروری ہے) پھر کہا جا رہا ہے کہ اسلام کے سوا کوئی اور دین قبول نہیں ہوگا، کسی اور دین کے پیروکاروں کے حصے میں سوائے گھاٹے کے اور کچھ نہیں آئے گا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 83 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  84. 84

    قُلْ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ عَلَيْنَا وَمَآ أُنزِلَ عَلَىٰٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْمَـٰعِيلَ وَإِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ وَٱلْأَسْبَاطِ وَمَآ أُوتِىَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَٱلنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ

    آپ کہہ دیجئے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اوران کی اوﻻد پر اتارا گیا اور جو کچھ موسیٰ وعیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیئے گئے، ان سب پر ایمان ﻻئے[1] ، ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں۔

    حواشی

    [1] یعنی تمام سچے نبیوں پر ایمان لانا کہ وہ اپنے اپنے وقت میں اللہ کی طرف سے مبعوث تھے، نیز ان پر جو کتابیں اورصحیفے نازل ہوئے ان کی بابت بھی یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ آسمانی کتابیں تھیں جو واقعی اللہ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں۔ ضروری ہے۔ گو اب عمل صرف قرآن کریم ہی پر ہوگا، کیونکہ قرآن نے پچھلی کتابوں کو منسوخ کر دیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 84 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  85. 85

    وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ ٱلْإِسْلَـٰمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ مِنَ ٱلْخَـٰسِرِينَ

    جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 85 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  86. 86

    كَيْفَ يَهْدِى ٱللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا۟ بَعْدَ إِيمَـٰنِهِمْ وَشَهِدُوٓا۟ أَنَّ ٱلرَّسُولَ حَقٌّ وَجَآءَهُمُ ٱلْبَيِّنَـٰتُ ۚ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ

    اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جو اپنے ایمان ﻻنے اور رسول کی حقانیت کی گواہی دینے اور اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد کافر ہو جائیں، اللہ تعالیٰ ایسے بے انصاف لوگوں کو راه راست پرنہیں ﻻتا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 86 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  87. 87

    أُو۟لَـٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ ٱللَّهِ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ

    ان کی تو یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 87 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  88. 88

    خَـٰلِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ ٱلْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ

    جس میں یہ ہمیشہ پڑے رہیں گے، نہ تو ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 88 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  89. 89

    إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

    مگرجو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لیں تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔[1]

    حواشی

    [1] انصار میں سے ایک مسلمان مرتد ہوگیا اورمشرکوں سے جا ملا، لیکن جلد ہی اسے ندامت ہوئی اور اس نے لوگوں کے ذریعے سے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) تک پیغام بھجوایا کہ ”هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ“ (کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟) اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ ان آیات سے معلوم ہوا کہ مرتد کی سزا اگرچہ بہت سخت ہے کیونکہ اس نے حق کو پہچاننے کے بعد بغض وعناد اور سرکشی سے حق سے اعراض وانکار کیا۔ تاہم اگر کوئی خلوص دل سے توبہ اوراپنی اصلاح کر لے تو اللہ تعالیٰ غفور ورحیم ہے، اس کی توبہ قابل قبول ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 89 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  90. 90

    إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بَعْدَ إِيمَـٰنِهِمْ ثُمَّ ٱزْدَادُوا۟ كُفْرًا لَّن تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلضَّآلُّونَ

    بے شک جو لوگ[1] اپنے ایمان ﻻنے کے بعد کفر کریں پھر کفر میں بڑھ جائیں، ان کی توبہ ہرگز ہرگز قبول نہ کی جائے گی[2]، یہی گمراه لوگ ہیں.

    حواشی

    [1] اس آیت میں ان کی سزا بیان کی جا رہی ہے جو مرتد ہونے کے بعد توبہ کی توفیق سے محروم رہیں اور کفر پر ان کا انتقال ہو۔ [2] اس سے وہ توبہ مراد ہے جو موت کے وقت ہو۔ ورنہ توبہ کا دروازہ تو ہر ایک کے لئے ہر وقت کھلا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں بھی قبولیت توبہ کا اثبات ہے۔ علاوہ ازیں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بار بار توبہ کی اہمیت اور قبولیت کوبیان فرمایا ہے«وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» (الشوریٰ: 25)۔ «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» (التوبہ:104)۔ ”کیا انہوں نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے“، اور احادیث میں بھی یہ مضمون بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے۔ اس لئے اس آیت سے مراد آخری سانس کی توبہ ہے جو نامقبول ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم کے ایک اور مقام پر ہے«وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الآنَ» (النساء:18)۔ ”ان کی توبہ (قبول) نہیں ہے جو برائی کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے ایک کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے میری توبہ“۔ حدیث میں بھی ہے «إنَّ اللهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ» (مسنداحمد،ترمذی،بحوالہ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر) ”اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتاہے جب تک اسے موت کا اچھو نہ لگے“، یعنی جان کنی کے وقت کی توبہ قبول نہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 90 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  91. 91

    إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَمَاتُوا۟ وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ ٱلْأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ ٱفْتَدَىٰ بِهِۦٓ ۗ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ

    ہاں جو لوگ کفر کریں اور مرتے دم تک کافر رہیں ان میں سے کوئی اگر زمین بھر سونا دے، گو فدیئے میں ہی ہو تو بھی ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے تکلیف دینے واﻻ عذاب ہے اور جن کا کوئی مددگار نہیں.[1]

    حواشی

    [1] حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ایک جہنمی سے کہے گا کہ اگر تیرے پاس دنیا بھر کا سامان ہو تو کیا تو اس عذاب نار کے بدلے اسے دینا پسند کرے گا ؟ وہ کہے گا (ہاں) اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے دنیا میں تجھ سے اس سے کہیں زیادہ آسان بات کا مطالبہ کیا تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا، مگر تو شرک سے باز نہیں آیا۔ (مسند احمد وھکذا اخرجہ البخاری ومسلم، ابن کثیر) اس سے معلوم ہوا کہ کافر کے لئے جہنم کا دائمی عذاب ہے۔ اس نے اگر دنیا میں کچھ کام بھی کئے ہوں گے تو کفر کی وجہ سے وہ بھی ضائع ہی جائیں گے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ عبداللہ بن جدعان کی بابت پوچھا گیا کہ وہ مہمان نواز، غریب پرور تھا اور غلاموں کو آزاد کرنے والا تھا، کیا یہ اعمال اسے نفع دیں گے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا (نہیں) کیونکہ اس نے ایک دن بھی اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں مانگی (صحیح مسلم، کتاب الایمان )۔ اسی طرح اگر کوئی شخص وہاں زمین بھر سونا بطور فدیہ دے کر یہ چاہے کہ وہ عذاب جہنم سے بچ جائے، تو یہ ممکن نہیں ہو گا۔ اول تو وہاں کسی کے پاس ہوگا ہی کیا ؟ اور اگر بالفرض اس کے پاس دنیا بھر کے خزانے ہوں اور انہیں دے کر عذاب سے چھوٹ جانا چاہے تو یہ بھی نہیں ہوگا، کیونکہ اس سے وہ معاوضہ یا فدیہ قبول ہی نہیں کیا جائے گا۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا «وَلا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ» ( البقرۃ: 123) ”اس سے کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ کوئی سفارش اسے فائدہ پہنچائے گی“۔ «لا بَيْعٌ فِيهِ وَلا خِلالٌ» ( سورۂ ابراہیم: 31) ”اس دن میں کوئی خرید وفروخت ہوگی نہ کوئی دوستی (ہی کام آئے گی)“۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 91 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  92. 92

    لَن تَنَالُوا۟ ٱلْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا۟ مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِن شَىْءٍ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌ

    جب تک تم اپنی پسندیده چیز سے اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ نہ کروگے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے[1] ، اور تم جو خرچ کرو اسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے.[2]

    حواشی

    [1] بر (نیکی بھلائی) سے مراد یہاں عمل صالح یا جنت ہے (فتح القدیر) حدیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابو طلحہ انصاری (رضي الله عنه) جو مدینہ میں اصحاب حیثیت میں سے تھے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ! بیرحا باغ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، میں اسے اللہ کی رضا کے لئے صدقہ کرتا ہوں۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا وہ تو بہت نفع بخش مال ہے، میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دو۔ چنانچہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے مشورے سے انہوں نے اسے اپنے اقارب اور عم زادوں میں تقسیم کر دیا (مسند أحمد) اسی طرح اور بھی متعدد صحابہ نے اپنی پسندیدہ چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کیں۔مِمَّا تُحِبُّونَ میں مِنْ تَبْعِيض کے لئے ہے یعنی ساری پسندیدہ چیزیں خرچ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ بلکہ پسندیدہ چیزوں میں سے کچھ۔ اس لئے کوشش یہی ہونی چاہیئے کہ اچھی چیز صدقہ کی جائے۔ یہ افضل اور اکمل درجہ حاصل کرنے کا طریقہ ہے جس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کمتر چیز یا اپنی ضرورت سے زائد فالتو چیز یا استعمال شدہ پرانی چیز کا صدقہ نہیں کیا جا سکتا یا اس کا اجر نہیں ملے گا۔ [2] تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے، اچھی یا بری چیز، اللہ اسے جانتا ہے، اس کے مطابق جزا سے نوازے گا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 92 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید